وی وی آئی پی بھی ہماری ہمدردی کا مستحق ہے

عام لوگ سمجھتے ہیںکہ صرف وہی پریشان یا دکھی ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ جو طاقتور ہیں، جو لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں، وہ بھی پریشان، دکھی اور ستم ظریفی کی زندگی جیتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میری پریشانیاں لوگوںکے سامنے آتی ہیں تب یا تو ہمدردی ملتی ہے یا پھر ان کا مذاق اڑتا ہے۔ جنھیں ہم وی آئی پی یا وی وی آئی پی کہتے ہیں، ان کے دکھ، درد، ان کے بنگلے کی چار دیواری کے اندر سسکتے رہتے ہیں۔ آج ہم آپ کے سامنے ایک ایسے طاقتور شخص کی لعنت بھری زندگی کا درد سامنے رکھ رہے ہیں، جس کے اشارے پر جیتے جاگتے شخص کو موت کی سزا مل جاتی ہے یا پھر موت کی سزا پایا شخص پھر سے زندگی جینے لگتا ہے۔
ملک کے جو لوگ وی آئی پی اور وی وی آئی پی کہلاتے ہیں، ان کی سیکورٹی بہت سخت ہوتی ہے۔ ان کی سیکورٹی میںلگے جوان دن بھر کی سرگرمیوں کی جانکاری راجناتھ سنگھ کے محکمے کو باقاعدہ طور پر دیتے ہیں۔ ان میںسے انتہائی اہم لوگوں کے بارے میںرپورٹ راجناتھ سنگھ کے پاس بھی جاتی ہے۔ وزارت داخلہ کا انتہائی اہم سیکشن ان کا تجزیہ کرتا رہتا ہے، تاکہ اگر کہیںان سے ملنے والے کسی مشتبہ شخص کی جانکاری ملے تو ان وی وی آئی پی صاحب کو ہوشیار کیا جا سکے۔ اسی رپورٹ کے انبار میں سے ایک جانکاری ہمارے ہاتھ لگی، جسے ہم آپ کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔
ملک کی سب سے بڑی عدالت کے 3 سب سے سینئر ججوں میں سے ایک، کس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں، یہ بہت پریشانکن ہے۔ ان ججوں سے ملنے ایک شخص پہنچے۔ جج انھیںپہلے سے جانتے تھے۔ شام کا وقت تھا۔ ملنے کی جگہ جج کی اپنی رہائش گاہ تھی۔ جج اپنے ایک شناسا دوست کو ڈرائنگ روم کی جگہ لان میںلے گئے،جہاںدرخت تھے۔ وہاںپڑی کرسیوں پر دونوں بیٹھ گئے۔ ملاقاتی شخص نے جج سے کہا کہ ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھا جائے لیکن جج نے کہا کہ نہیں،باہر بیٹھیںگے۔ لان میںجہاںیہ لوگ بیٹھے،وہاںمچھر اور اڑنے والے کیڑے تھے۔ دونوں نے 30 منٹ تک بات چیت کی۔ اس کے بعد وہاں چائے آئی۔ دونوں نے چائے پینی شروع کی۔ بنگلے سے جج کی بیوی آئیں۔ انھوں نے اپنی زبان میںجج سے کچھ کہا، جس کا جواب جج نے انھیںدیا۔ ملنے آئے شخص کو لگا کہ جج اپنی بیوی سے کہہ رہے ہیںکہ میںبات کر لوں، پھر ان سے بات کرتا ہوں۔ اچانک ان کی بیوی نے چائے کا کپ اٹھایا اور جج کے سر پر انڈیل دیا۔ ملنے آئے شخص ہکا بکا رہ گئے۔ چائے جج کے سرپر انڈیلنے کے ساتھ جج کی بیوی زور زور سے کچھ بولنے لگیں اور پھر بنگلے کے اندر چلی گئیں۔ جج شرم و جھجک کے ساتھ اپنے ملنے والے کے ساتھ وہیںبیٹھے رہے۔تھوڑی دیرکے بعد جج کے فون پر ایک گھنٹی بجی اور دوسری طرف سے کسی لڑکی کی زور سے چلانے کی آواز سنائی دی۔ آج کل کے اسمارٹ فون سے آوازیں بہت باہر نکلتی ہیں۔ ملاقاتی شخص کافی سنکوچ میںتھا۔جج نے کہا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو ان کی لڑکی کو بازار لے جاسکے،وہ کچھ ساڑیاںخریدنا چاہتی ہے۔ ملنے والے شخص نے کہا کہ وہ اپنی خاتون دوست کو ان کی لڑکی کے ساتھ بازار بھیج دے گا۔ وہ خود لڑکی کے ساتھ بازار جانے میںڈر محسوس کرنے لگا۔ اس نے وہیں سے اپنی کسی خاتون دوست سے کہا کہ وہ جج کی لڑکی کے ساتھ بازار چلی جائے۔ اس خاتون دوست کو لگا کہ قسمت اس پر مہربان ہے اور وہ ایک بڑے جج کے ساتھ رابطہ بڑھا سکتی ہے۔
اگلے دن جج کی لڑکی اس خاتون دوست کے ساتھ کناٹ پلیس میںساڑی کی ایک بڑی دکان میںگئی۔ وہاںانھوںنے 23 لاکھ کی ساڑیاں خرید لیں۔ اس خاتون دوست کی حالت خراب ہوگئی، کیونکہ وہ یہ سوچ کر گئی تھی کہ چار یا پانچ لاکھ کی شاپنگ ہوگی اور اتنے ہی روپے وہ ساتھ لے گئی تھی۔ انھوں نے اپنے دوست کو فون کیا کہ اتنا پیسہ ان کے پاس نہیں ہے۔ ان دوست نے جج کو فون کیا۔ اس کے بعد جج نے 23 لاکھ روپے کی ادائیگی کیسے کی یا کس سے کرائی،یہ پتہ نہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جج سے ملنے والے شخص کی واقفیت وزارت داخلہ کے اعلیٰ ترین لوگوں سے ہے۔ انھوں نے اس واقعہ کی جانکاری وزارت داخلہ کے انتہائی اہم شخص کو دی۔ وزارت داخلہ کے اس انتہائی اہم شخص نے بتایا کہ اس کے پاس روزانہ عجیب طرح کی جانکاریاںآتی ہیں۔ سیکورٹی میںلگے لوگوںکے مطابق، ان جج صاحب کو تقریباً روزانہ ان کی بیوی یا ان کی بیٹی جسمانی طور پر ستاتی ہیں۔ اس اہم شخص نے تبصرہ کیا کہ ایشوران جج کو پتہ نہیںکیوں اتنی لعنت بھری زندگی جینے کی سزا دے رہا ہے۔ جج کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ وہ اپنا درد ، اپنی تکلیف کسی سے کہہ بھی نہیںسکتے۔ ان کی سسکیاں ، ان کا درد اس سرکاری بڑے بنگلے کے اندر ہی گھٹ کر رہ جاتا ہے۔
شاید ان جج کے کئی فیصلوںکے پیچھے ان کی اس انسانی المیہ کی پرچھائیںہوسکتی ہے۔ بہت سارے لوگوںکو حیرت ہوتی ہے کہ ایسا فیصلہ ایک جج کیسے لے سکتا ہے، لیکن ایک جج بھی تو انسان ہوتا ہے۔ اسے بھی درد ہوتا ہے، ذہنی تناؤ ہوتا ہے۔ وہ بھی غصہ اور دکھ کے ماحول کو برداشت نہیںکرپانے کی وجہ سے کئی ایسے کام کرسکتا ہے، جنھیںغیر متوقع کے زمرے میںرکھا جاسکتا ہے۔
ایسے حالات بہتوںکے ساتھ ہوں گے لیکن ہم انھیںاپنے دوستوں کے ساتھ بانٹ کراپنا تناؤ کم کرلیتے ہیں۔ ہم باہر گھومنے چلے جاتے ہیں، آرام کرلیتے ہیں، ناراض ہولیتے ہیں اور پھر سے زندگی جینے لگتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جن کے دوست نہیں ہوتے۔ وہ اپنے خاندان کی وجہ سے ملنے والے درد کو اپنی ایلیٹ عزت کی وجہ سے کسی سے کچھ نہیںکہتے۔ بس گھٹتے رہتے ہیں، سسکتے رہتے ہیں اور اندر ہی اندر روتے رہتے ہیں۔جب وہ باہر اپنے معینہ پروگرام پر نکلتے ہیں تو ان کے کپڑے چاق و چوبند ہوتے ہیں اور چہرہ مسکراتا ہوا ہوتا ہے۔ ان کے اندر کا طوفان ان سے ایسے کام انجانے میںکرا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ تنقید کے حقدار بن جاتے ہیں۔
میںبغیر کسی کا نام لیے یہ لکھ رہا ہوں۔ یہ ایک انسانی واقعہ ہے، اس لیے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ بدقسمتی، لعنت اور درد بھری زندگی ان کا دروازہ بھی کھٹکھٹاتی ہے۔ ان کے گھر کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیتی ہے، جنھیں ہم سکھی، سپریم پاور اور اعلیٰ درجے کا وی وی آئی پی مانتے ہیں۔ آپ جب بھی کسی انتہائی اہم شخص میںغیر معمولی رویہ پائیںتو سمجھ لیںکہ یہ شخص اندر سے بہت ٹوٹا ہوا ہے اور لعنت کی زندگی گزار رہا ہے۔ وہ غصے کا نہیں، ہماری ہمدردی کا مستحق ہے۔ نانک دکھیاسب کا سنسار۔۔۔ریٹائرمنٹ کے بعد ان ججوںکی زندگی کیسے گزرے گی، یہ سوچ کر جھرجھری آجاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ اپنے خاندان سے الگ ہوجائیں، سادھو ہوجائیں یا پھر ایسی ہی لعنت بھری زندگی جیتے رہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *