سرکاری اسکولوں میں اردو اساتذہ کی زبردست کمی

اردو زبان حکومت ہند کی جانب سے منظور شدہ22زبانوں میں سے ایک ہے اوراسے ملک کی کئی ریاستوں میں دوسری سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے ۔مگر کیا اسے اس کا واقعی حق مل سکا ہے ؟زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک کے کئی شعبوں میں اس کی حق تلفی ہوئی ہے۔ تدریسی اداروں سے لے کر سرکاری محکمہ جات تک ریاستی سطح پر اس کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہر جگہ یہ زبان اپنے حق سے محروم ہے ۔ قومی راجدھانی دہلی میں اردو زبان کی تعلیم کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ نہ صرف اردو میڈیم اسکولوںکی تعداد کم ہوئی ہے بلکہ اردو اساتذہ کی کمی وجہ سے دو تہائی مسلم طلبہ اردو زبان پڑھ نہیں پارہے ہیں۔ دہلی میں 1027 اسکول دہلی حکومت کے ماتحت چلتے ہیں ، جن میں اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد کم ہوکر اب صرف 24 رہ گئی ہے۔ تاہم 1027 میں سے صرف 272 اسکولوں میں ہی اردو کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مگر ان میں بھی اساتذہ کی وجہ سے اردو کے طلبہ کا کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی حکومت کے ماتحت چلنے والے اسکولوں میں تقریباً 284975 مسلم طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ تاہم اردو زبان کو تیسری زبان کے طور پر پڑھنے والے بچوں کی تعداد صرف 95402 ہے۔ یعنی 190000 مسلم طلباء وہ ہیں ، جن کو اردو آفر ہی نہیں کی جارہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اصل مسئلہ
اردو ٹیچر کی کمی کا مسئلہ کافی سالوں سے اٹھایا جارہاہے مگر کہیں محکمہ تعلیم تو کہیں اسکول انتظامیہ کی غیر منصفانہ رویہ حائل ہوجاتا ہے جس کا خمیازہ طلبہ کو اٹھانا پڑتا ہے۔ 2017 میں دہلی حکومت نے گیسٹ ٹیچروں کے لئے پوسٹ نکالی تھی لیکن ابھی تک تقرری کا عمل پورا نہیں ہوا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچوں کا کتنا نقصان ہورہا ہے ۔ دہلی حکومت کے 1027 اسکولوں میں مجموعی طورپر 35 ہزار سے زائد ٹیچروں کی اسامی خالی پڑی ہے۔ ان میں سے بہت سے پوسٹ اردو کی ہیںجس کی وجہ سے اسکولوں میں پڑھائی نہیں ہو پارہی ہے۔ ٹیچرکے نہ ہونے سے بہت سارے پیریڈ خالی جاتے ہیں۔
جہاں تک مضمون کا سوال ہے تو دوسرے مضمون کے ٹیچر کچھ نہ کچھ پڑھاتے رہتے ہیں لیکن اردو انہیں نہیں آتی اس لئے اردو کے بچوں کا بہت نقصان ہوتاہے۔ پی جی ٹی اردو کی کل سیشن پوسٹ 79 ہیںجس میں سے مستقل ٹیچر اور گیسٹ ٹیچر کو ملا کر کل 30 ٹیچر ہی اسکولوں میں پڑھا رہے ہوں گے ۔باقی پوسٹ خالی پڑی ہیں۔ بہت سے اسکول ایسے ہیںجہاں کوئی بھی اردو کا ٹیچر نہیں ہے۔ ان اسکولوں میں بچے خود گھر میں تیاری کرکے امتحان دیتے ہیں مگر اس سے بھی برا حال ٹی جی ٹی اردو کا ہے ، ٹی جی ٹی اردو کی دہلی میں کل پوسٹ 1283 ہیں جس میں سے مستقل اردو اکادمی اور ٹیسٹ ٹیچر ملا کر تقریباً پانچ سو پوسٹ پر ہی ٹیچر پڑھارہے ہیں باقی 783 پوسٹ خالی ہیں ۔کچھ ایسے بھی اسکول ہیں جہاں اردو کی پوسٹ تو ہے مگر ٹیچرنہیں ہیں۔ ظرف ایجوکیشن اینڈ ویلفیرء سوسائٹی کے صدر اور آرٹی آئی کارکن منظر علی خان کا کہنا ہے کہ ایک طرف دہلی حکومت تعلیم پر بڑے بڑے دعوے کرتی ہے مگر تعلیم کے اصلاح پر دھیان نہیں دیتی۔
بات صرف دہلی تک ہی محدود نہیں ہے ۔دوسری ریاستوں کی حالت زار بھی یہی ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے ریاست کے 175سرکارامداد سے چلنے والے اردومیڈیم اسکولوں کو کم داخلے کے مدنظر بند کرنے اور ان اسکولوں کے بچوں کو مراٹھی اسکولوں میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس طرح حکومت طالبعلم کو رائٹ ٹو ایجوکیشن (آرٹی ای)کے تحت اس کی مادری زبان میں تعلیم دینے کے حق کی سراسرخلاف ورزی کررہی ہے۔ ریاستی حکومت نے 4093اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا،جن میں 10یا اس سے کم بچے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ان میں سے 1314اسکول بند کیے جائیں گے۔ان پرائمری اسکولوں کو ایک کلومیٹر دائرے میں واقع دیگر اسکولوں میں منتقل کیا جائے گا۔جبکہ سیکنڈری اسکولوں کے بچوں کو تین کلومیٹرکے دائرے میں منتقل کیا جائے گا۔حکومت اور ضلع پریشد نے یہ منتقلی بغیر لسانی بھید بھائو کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،اس لیے دھولیہ ضلع انتظامیہ نے ضلع پریشد اردواسکول نمبر 4کو بوکنڈ کے ضلع پریشد مراٹھی اسکول نمبر 3میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جوکہ اسی گائوں میں واقع ہے۔
اسی طرز پر ناسک کے پانچ اردوذریعہ تعلیم کے تحت اسکولوں کو مراٹھی اسکولوں میں ضم کردیا گیا ہے۔اکھیل بھارتیہ اردوششھک سنگھ (اے بی یوایس ایس )نامی اردومیڈیم اساتذہ کی تنظیم نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ اردومیڈیم کے کم تعداد والے اسکولوں کو آرٹی ای کے تحت کھلا رکھا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم مادری زبان میں حاصل کرسکیں۔آرٹی ای کے تحت 20طلبا والے بچوں کے اسکول کو بھی جاری رکھنے کا حق دیا گیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

اردو سے بیزاری کیوں؟
اردو زبان سے بیزاری کے پیچھے کی وجہ کیا ہے ؟یہ ایک بڑا سوال ہے ۔ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کے پیچھے کے اسباب کیا ہیں۔ عام طور پر سرکار کوتاہیوں کو اس کا سبب بتایا جاتا ہے اور اس میں کسی حد تک سچائی بھی ہے مگر اردو سے ہمدردی کرنے والے بھی اس کے کم ذمہ دار نہیں ہیں۔پہلے فکشن پڑھنے والوں کو اچھی کتابوں کی تلاش رہتی یا انتظار رہا کرتا تھا۔ اردو اخبارات پڑھنے کے لئے لائبریر ی کے ممبر بن جایا کرتے تھے ، ٹرین میں دوران سفر لوگوں کے ہاتھوں میں کوئی اخبار ، میگزین یا ناول ہوا کرتا تھا ، مگر اب لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل آ گیا ہے ، جس کی وجہ سے اردو سے دھیرے دھیرے رجحان ختم ہوتا جارہا ہے ۔ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اردو کا رونا رونے والے اسٹیج پر اردو کی باتیں تو کرتے ہیں مگر خود ان کے گھر میں اردو کاماحول نہیں ہوتا ہے ۔ جو لوگ اردو کے نام پر کھاتے پیتے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم دیتے ہیں اور اپنے یہاں اردو کی جگہ انگریزی جرائد منگواکر دیش دنیا کی خبریں پڑھتے ہیں۔ظاہر ہے جب اس زبان کو پڑھنے والے ہی نہیں ہیں تو اس کا دھیرے دھیرے منظر سے غائب ہوجانا فطری بات ہے۔اس لئے یہ کہنا بجا ہے کہ اگر اردو پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی تو مستقبل میں حالات اس سے بھی بد تر سکتے ہیں۔
حیرت تو تب ہوتی ہے جب کرناٹک جیسی تعلیم یافتہ ریاست میں بھی اردو دم توڑ رہی ہے ۔ ریاست میں بہت سے اردو اسکولوں پر تالا لگ گیا ہے جبکہ کئی اسکول طلبہ کی کمی کی وجہ سے تالا لگنے کے دہانے پر ہیں۔ انہیں میں سے ایک بھٹکل کا 145 سالہ قدیم اردو سرکاری اسکول بھی ہے جو ماضی کی اپنی شان و شوکت پر آنسو بہا رہا ہے۔یہ اسکول کسی زمانے میں ہزاروں طلبہ کی توجہات کا مرکز تھا ، لیکن بدلتے وقت اور اردو کے تئیں لاپروائی کے باعث اب یہ اسکول خستہ حالی کا شکار ہوگیا ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بھٹکل بلکہ ریاست کرناٹک کی عظیم سیاسی اور ملی شخصیات اسی اسکول کے فیض یافتہ ہیں۔
جہاں تک بہار کی بات ہے تو اردو اسکول کیا یہاں تو تمام سرکاری اسکولوں میں ایک بڑا مسئلہ اساتذہ کی تعداد کاہے۔ یہ سچ ہے کہ نتیش حکومت میں بڑے پیمانے پر اساتذہ بحال کیے گئے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں اب بھی اساتذہ کا فقدان ہے۔وہاں اکثر اسکولوں میں اتنے بھی ٹیچر نہیں ہوتے کہ ہر جماعت میں ہمہ وقت ایک استاد موجود رہ سکے۔ نتیجتاً زیادہ تر اسکولوں میں دو دو، تین تین جماعت کے بچوں کو ایک ساتھ بیٹھا کر پڑھایا جاتا ہے۔غور طلب ہے کہ بہار میں 73 ہزار پرائمری اور مڈل اسکول ہیں جبکہ انٹر اور سیکنڈری اسکولوں کی تعداد تقریباً چار ہزار ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سبھی اسکولوں میں ایک ایک اردو ٹیچروں کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اب تک 50 فیصدی سیٹوں پر بھی بحالی نہیں ہوسکی ہے۔ اعداد وشمار پر غور کریں تو قریب 77 ہزار اسکولوں میں 77 ہزار اردو کے اساتذہ کی بحالی ہونی ہے جبکہ نتیش حکومت 2005 سے لیکر اب تک محض30 ہزار اساتذہ کی بحالی کرسکی ہے۔ ظاہر ہے اس صورت حال میں اردو پڑھنے والے کیسے پیدا ہوں گے اور جب پڑھیں گے ہی نہیں تو پھر اردو زبان زندہ کیسے رہے گی۔
اردو ادب کے بہتر مستقبل کے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے اردو کے قاری تیار کرنے ہوں گے ، جس کے لیے اردو میڈیم اسکولوں کے علاوہ دیگر زبانوں کے اسکولوں میں اردو کو بھی لازم مضمون قرار دیا جائے، کیونکہ جب اچھا قاری پیدا ہوگا ، تو اسی میں سے اچھا تخلیق کار منظر پر آئے گا۔ اردو کسی ایک ریاست کی نہیں پڑوسی ملک کی نہیں ہمارے ملک کی زبان ہے۔ اردو ادب کی ترقی و ترویج کے لیے ریاستی اور مرکزی حکومت کو بھی ایک ایک قدم آگے بڑھانا ہوگا۔ اس پر غور کر نے کی اور اس مسئلے کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *