عدم تحمل کا بری طرح شکار ہوا کاس گنج

یوم جمہوریہ پر راشٹر بھکتی کے خبط کے مظاہرے کے دوران ہوئے فساد کے بعد اترپردیش کا کاس گنج شہر جل اٹھا۔ شہر کے بڈو نگر میںواقع ویرعبدالحمید تراہا پر ہندو تنظیموں اور مسلم فرقہ کے نوجوان آمنے سامنے آگئے۔ جس کے بعد شروع ہوئی پتھراؤ،فائرنگ اور آتشزنی کی وارداتوں میںایک نوجوان چندن کی جان چلی گئی۔ مسلم فرقہ کا ایک نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ ایک درجن دکانوں کو فسادیوں نے آگ کے حوالے کردیا اور درجنوں گاڑیوںمیںتوڑ پھوڑ و آگزنی کی وارداتیںہوئیں۔ انتظامی لاپرواہی سے فساداتنا بڑھ گیا کہ شہر کے حالات بے قابو ہوتے چلے گئے۔ ان وارداتوں کے لیے ذمہ دار مانتے ہوئے سرکار نے کاس گنج کے ایس پی سنیل کمار سنگھ کا تبادلہ کردیا ہے۔
کیسے شروع ہوا فساد؟
پولیس کے مطابق یوم جمہوریہ کے دن قریب دس بجے ہندو تنظیموں کے نوجوان قریب چار درجن بائیکوں پر سوار ہوکر ترنگا یاترا نکال رہے تھے۔ ترنگا یاترا جب بڈو نگر کے ویر عبدالحمید تراہا پر پہنچی تو وہاں یوم جمہوریہ کی تیاریوںمیں لگے مسلم فرقہ کے نوجوانون سے ان کا سامنا ہوگیا۔ اس کے بعد یاترا تراہا سے گزارنے کو لے کر تنازع شروع ہوگیا۔ دونوںفرقوںکے نوجوانوں کی ضد کے بعد تنازع بڑھ گیااور مارپیٹ و پتھراؤ شروع ہوگیا۔ اس دوران نوجوان تین درجن بائیک موقع پر ہی چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ تنازع کی اطلاع جیسے ہی شہر میں لوگوںکو ہوئی تو بلرام گیٹ چوراہا پر نوجوانوں نے آدھی درجن گاڑیوں میںتوڑ پھوڑ کردی۔
یوم جمہوریہ کی پریڈ میںموجود ڈی ایم آرپی سنگھ اور ایس پی سنیل کمار سنگھ جھگڑا شروع ہونے کی اطلاع پر جب موقع پر پہنچے، اس وقت تک شہر میںتشدد شروع ہوگیا تھا۔ شہر کے بلرام گیٹ اور تحصیل روڈ پر فساد شروع ہوچکا تھا۔پولیس کی کمی سے افسران سمجھ ہی نہیںپارہے تھے کہ اس جھگڑے کو کیسے روکیں؟قریب 11.30 بجے دونوں فرقوں کے نوجوان تحصیل روڈ پر پھر آمنے سامنے آگئے۔ اس تصادم میںپتھراؤ اور فائرنگ شروع ہوگئی اور فائرنگ میںچندن عرف ابھیشیک اور نوشاد کے گولی لگی۔ پولیس چندن کو ضلع اسپتال لے گئی جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیاااور نوشاد کے علاج کے لیے علی گڑھ میڈیکل کالج ریفر کردیا گیا۔
شہر کے صاحب والا پینچ میںرہنے رہنے والے چندن عرف ابھیشیک ولد سشیل گپتا کی موت کے اطلاع جیسے ہی مقامی لوگوںکو ہوئی، شہر میں اشتعال پھیل گیا۔ یوم جمہوریہ کے دن سے شروع ہوئے تشدد نے خطرناک صورت حال اختیار کر لی۔ شہر کی بارہ دواری پر فسادیوں نے پولیس کی موجودگی کے بعد بھی مسلم فرقے کی پانچ دکانوں کو آگ کے حوالے کردیا ۔کاس گنج میںہوئے تشدد میں مسلم فرقے کے تین مذہبی مقامات کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی اور ان میںتوڑ پھوڑ کی گئی۔ تشدد پورے شہر میںپھیل گیا تھا اور غیر اعلانیہ کرفیو کے باوجود فسادی پولیس کو چکما دے کر آتش زنی کی وارداتوں کو انجام دیتے رہے۔
شہر میںہوئے تشدد میںدو درجن چھوٹی او ربڑی دکانوں کو آگ لگائی گئی۔ شہر کی منوٹا گلی میںدو مکانوں میںآگزنی ، تین نجی بسوں اوردرجن بھر دیگر گاڑیوںمیں توڑ پھوڑ ہوئی۔ شہر میںعلی گڑھ منڈل کے کمشنر سبھاش چندر شرما، اے ڈی جی اجے آنند، چار ضلعوںکے ایس پی، درجن بھر اے ایس پی اور دو درجن ڈی ایس پی نے ڈیرا ڈال دیا۔ فساد کو روکنے کے لیے شہر میںتین کمپنی آر اے ایف، پانچ کمپنی پی اے سی اور آس پاس کے اضلاع کا پولیس فورس بھی تعینات کیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

مقتول چندن’ ہیرو ‘بنے
یوم جمہوریہ پر ہوئے فساد میںچندن گپتا کی موت کی اطلاع کے بعد شہر میںہاہا کار مچ گیا۔ چندن کے متعلقین اور ہندو تنظیموں نے اسے شہید کا درجہ دیے جانے اور ملزمان کی گرفتاری کی مانگ شروع کردی۔ فساد کے تیسرے دن سرکار نے چندن کے متعلقین کو 20 لاکھ روپے کا چیک اماںپور کے رکن اسمبلی پرتاپ سنگھ کے زریعہ بھجوایا۔ متعلقین نے پہلے تو چیک لینے سے انکار کردیا لیکن مقامی لیڈروں کے سمجھانے کے بعد چیک قبول کرلیا۔ متعلقین کی دیگر مانگیں ابھی بھی باقی ہیں۔ چندن کے متعلقین اس کی موت کو شہید کی موت مان رہے ہیں اور سرکار سے مانگ کررہے ہیںکہ اسے شہید کا درجہ دیا جائے۔ چندن کی موت کے بعد رکن پارلیمنٹ راجویر سنگھ نے بھی ایک لاکھ روپے نقد اس کے متعلقین کو بھجوائے۔ اماں پور کے رکن اسمبلی ممتیش شاکیہ نے بھی انھیںایک لاکھ روپے کا چیک دیا۔
چندن کے والد کا کہنا ہے کہ چندن بی کام فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا۔ ا س کا خواب سی اے بن کر متعلقین او رکاس گنج کا نام روشن کرنے کا تھا۔ چندن سماجی کاموں میںبھی وہ آگے رہتا تھا اور اس میںدیش بھکتی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے چندن یوم جمہوریہ کے دن یاترا میںشامل ہونے گیا تھا۔ اسی دوران تحصیل روڈ پر ہوئی فائرنگ میںاسے گولی لگ گئی اور اس کی موت واقع ہوگئی۔ چندن کے والد کہتے ہیںکہ چندن ’سنکلپ‘ نام کی سماجی خدمت کرنے والی تنظیم سے جڑا تھا۔ اسی تنظیم کے ذریعہ غریبوں کی خدمت کے لیے وہ ہمیشہ تیار رہتا تھا۔ چندن کے فیس بک اکاؤنٹ پر اس کی سماجی خدمت سے متعلق تصاویر اس بات کی تصدیق کررہی ہیں۔ چندن کی موت کے بعد متعلقین اس کی موت بھلا نہیںپارہے ہیں۔ جس ترنگے جھنڈے کو لے کر چندن یاترا میںگیا تھا، اس کی ماںسنگیتا گپتا کے لیے اب وہی ترنگا جھنڈا اس کی یاد دلا رہا ہے۔ ترنگا دیکھ کر وہ رونے لگتی ہیں۔ چندن کی ماںو بہن کا کہنا ہے کہ چندن مرا نہیں ہے۔ وہ ملک کے لیے شہید ہوا ہے، اس لیے سرکار کو اسے شہید کادرجہ دینا چاہیے۔
کاس گنج کو کس کی نظر لگ گئی؟
شہر میںتنائو کئی بار ہوا لیکن کاس گنج کے لوگوںنے کبھی صبر کا دامن نہیںچھوڑا۔ سبھی کمیونٹی کے لوگوںنے مل کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خیر سگالی کی مثال پیش کی۔ گنگا جمنی تہذیب اور ادبی انداز میں زندگی جینے والا شہر آخر کیسے جل اٹھا؟ اسے کس کی نظر لگ گئی؟ شہر میںآگ کس نے لگائی؟ یہ سوال لوگوںکو ابھی بھی کچوٹ رہے ہیں۔ جن کا جواب ابھی ملنا باقی ہے۔ ضلع کی پہچان صوفی سنت امیرخسرو ، گوسوامی تلسی داس اور بلویر سنگھ رنگ کے روپ میںہوتی ہے۔ فرقہ وارانہ تشددکا مزاج اس شہر کا کبھی نہیںرہا ہے۔ شہر کو جو نقصان ہوا ہے،اس کی بھرپائی میں وقت تو لگے گا ،اس کے لیے سبھی کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔ لائنس کلب انٹرنیشنل کے سابق چیئرمین ویکانت سکسینہ کہتے ہیںکہ یوم جمہوریہ کے دن ہوا واقعہ تکلیف دہ ہے۔ برے دور کو بھولنا پڑے گا اور سمجھداری سے امن بحالی کی کوشش کرنی ہوگی، جس سے کاس گنج کی کاروباری اور خیرسگالی کی پہچان بنائے رکھی جا سکے۔
کاس گنج دہلی سے قریب ڈھائی سو کلومیٹر اور لکھنؤ سے ساڑھے تین سو کلو میٹر کی دوری پر متھرا اور بریلی کے بیچ میںواقع ہے۔ پہلے یہ ایٹہ ضلع میںآتا تھالیکن 2008 میںبی ایس پی کے دور حکومت میںاسے الگ ضلع بنا دیا گیا۔ مایا وتی نے اس کا نام کانشی رام نگر کر دیا تھالیکن 2012 میں سماجوادی پارٹی کی سرکار نے اس شہر کا پرانا نام واپس لوٹا دیا۔
کاس گنج میںمسلمانوں کی آبادی 10-12 فیصد ہے۔ انتخابی سیاست میںان کا کوئی فیصلہ کن رول نہیں ہے۔ کاس گنج ضلع کی تینوں اسمبلی سیٹوں پر ابھی بی جے پی کا قبضہ ہے۔ کاس گنج میں1993 میں کچھ فرقہ وارانہ جھڑپیںہوئی تھیں لیکن اس کے بعد ایسا کبھی نہیںہوا۔یہاںکی صوفی فضامیںفرقہ پرستی کا زہر کیسے گھلا؟ اس بات سے سبھی حیران ہیں۔
مقامی لوگ کیا کہتے ہیں؟
کاس گنج کے مسلم فر قہ کے لوگوںکا کہنا ہے کہ انھوںنے ترنگے کی کوئی مخالفت نہیںکی۔ ترنگا تو ان کا بھی جھنڈا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ہندو تنظیموں کے لوگ ترنگا نہیں بلکہ بھگوا جھنڈا لہرانا چاہ رہے تھے جبکہ ودیارتھی پریشد کا کہنا تھا کہ ان کی ترنگا یاترا کی مخالفت کی گئی تھی جو بعد میںپرتشدد ہوگئی۔
مقامی شہری فہیم احمد کہتے ہیںکہ مسلمانوںنے عبد الحمید چوک پر جھنڈالہرانے کا پروگرام رکھا تھا۔ دیش بھکتی کا ماحول تھا۔ اوپر ترنگا لہرا رہا تھا اور نیچے ایک خوبصورت رنگولی بنی ہوئی تھی۔ دیش بھکتی کے گیت بج رہے تھے۔ اچانک ہندو تنظیم کی ایک ٹیم آئی، جس میںلگ بھگ 50 موٹر سائیکلیں تھیں۔ ان لوگوں کے پاس بھگوا جھنڈٖا تھا۔ وہ سیدھے مسلمانوںکے پروگرام میںگھس گئے۔ مناظر کہتے ہیں کہ بائک سوار نوجوان رنگولی کو بائیک سے بگاڑ نے لگے اور بھگوا جھنڈے کو ترنگے سے اونچا کرنے لگے۔ ہم نے انھیںایسا کرنے سے منع کیا اورخود مقامی کوتوال کو خبر کی لیکن انھیںآنے میںدیر ہوئی۔ ا س بیچ ہندو تنظیموں کے لڑکے’ وندے ماترم کہنا ہوگا‘ کے نعرے لگانے لگے۔ اس پر مسلمانوں نے ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ مسلم فرقہ کے لوگوں کے پاس اس کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی ہے۔ اس کے بعد وہ جھگڑے پر آمادہہوگئے اور معاملہ تشدد پر اتر آیا۔
شہر کے باشندے چاہتے ہیںکہ کاس گنج میںہوئے فساداتوں کی عدالتی جانچ ہو اور امن و چین کی فوری طور پر بحالی ہو۔ مسلم فرقہ کے لوگ بھی مقتول چندن کے گھر جاکر تعزیت کرنا چاہتے ہیں لیکن شہر کے ماحول کے بیچ ایک بڑی لکیر کھنچ گئی ہے،جس کی وجہ سے لوگوںکے میل جول میںدقتیں پیش آرہی ہیں۔
سماجی خدمت گار ڈاکٹر لائق علی خان کہتے ہیںکہ آگزنی کی عدالتی جانچ ہونی چاہیے، جس سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔ فساد کا سچ شہر کے لوگوں کے سامنے آنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعہ میںجن خاندانوںکے جان و مال کا نقصان ہوا ہے،انھیںسرکار معاوضہ بھی دے۔ پولیس کو شہر میںامن و چین قائم کرنے کے لیے محلوں کے ایس پی او کی مدد لینی چاہیے۔ افسران ان لوگوں کو ذمہ داری دیں کہ سبھی ایس پی او اپنے محلے میںامن چین قائم کریں۔
ڈاکٹر محمد فاروق نے کہا کہ ہم سبھی مقتول چندن کے تئیںتعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ یوم جمہوریہ کے دن جو کچھ بھی ہوا، وہ بے حد افسوسناک ہے۔ پولیس کو کاروباریوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنانی ہوگی۔ جن تاجروںکو شہر میںآگزنی کے دوران کاروباری اور گھریلو املاک کو نقصان پہنچا ہے، انتظامیہ ان کی غیر جانبداری کے ساتھ اندازہ لگائے اور ان کاروباریوں و چھوٹے دوکانداروں کو بھی معاوضہ دلائے۔
ایڈووکیٹ حاجی شان محمد کہتے ہیںکہ یہ وقت الزام تراشیوںکا نہیںہے۔ شہر میںجمہوریہ کے دن ہوئی واردات سے شہر، ریاست اور سرکارسبھی کی شبیہ کو دھکا لگا ہے۔ مقتول کے خاندان کے تئیںسبھی کو ہمدردی ہے۔ کچھ شرارتی عناصر کی وجہ سے پورے فرقہ کو قصوروار نہیںٹھہرایا جاسکتا۔ پولیس اس واقعہ کی غیر جانبداری سے جانچ کرائے۔ جس سے مجرمانہ شبیہ کے لوگوں کی لگام کسی جاسکے۔ ہم سبھی یوم جمہوریہ کے دن ہوئے واقعہ کی مذمت کرتے ہیں
حاجی محمد اسلم کہتے ہیںکہ کاس گنج ضلع تہذیب و تمدن کے لیے جانا گیا ہے۔ برے وقت میںبھی لوگوں نے تحمل رکھا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کو چاہیے کہ غیر جانبداری کے تحت قانون کی تعمیل یقینی بنائے۔یوم جمہوریہ کے دن رونما ہونے والے واقعہ کی غیر جانبداری سے جانچ ہونی چاہیے۔ کسی بھی حالت میںبے گناہوںکو پریشان نہیںکیا جانا چاہیے، جس سے امن چین کی بحالی میںمدد مل سکے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

دو کروڑ روپے کا مالی نقصان
شہر میںآگزنی ہونی شروع ہوئی توفسادیوںنے دونوںہی فرقوںکی دکانوںکو نشانہ بنایا۔ شہر میںبارہ دواری سے لے کر چاروںطرف کے علاقوں میںآتشزنی ہوئی۔ اس آگزنی میںدو کروڑ سے زیادہ کی املاک جل کر تباہ ہوگئی۔ جلی ہوئی دکانوں کو دیکھ کر دوکانداروں کا کلیجہ ہل گیا۔منوٹا گلی میںرہنے والے حسین بیگ فتح پور مافی گاؤں میںواقع پریشد کے اسکول میںہیڈ ماسٹر ہیں۔ حسین بیگ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اپنو ںکے بیچ بیگانے ہو جائیںگے۔ سماج کے بیچ لکیر اتنی لمبی کھنچ جائے گی کہ سماجی سروکار بھی تار تار ہوجائیںگے۔ یوم جمہوریہ پر ہوئے فساد کے بعد حسین بیگ خاندان کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ گھر پر تالہ لگا ہوا تھا اور سونا گھر دیکھ کر فسادیوں نے ان کے گھر میںآگ لگادی، جس سے ان کے گھر میںرکھا ہوا سامان جل کر راکھ ہوگیا۔
محسن کی جوتے کی دکان سے آگزنی کی شروعات ہوئی۔ فساد کی شروعات کے بعد رات کو ان کے پڑوسیوں کے فون آنا شروع ہو گئے تھے۔ پولیس و فائر بریگیڈ محکمہ کی گاڑی موقع پر ہے اور دکان کا شٹر نہیںکھل رہا ہے۔ اس اطلاع پر محسن گلی منیہاران میںواقع گھر سے چابی لے کر چلے۔ انھوںنے تحصیل روڈ گپّو چوراہے پر کھڑے داروغہ اور پولیس والوںسے دکان تک چابی لے جانے کی فریاد بھی کی لیکن پولیس اہلکاروں نے ان کی بات ان سنی کردی۔
محسن کہتے ہیںکہ سی او صدر وی ایس ویر سنگھ کا فون جب ان کے پاس آیا تو انھوں نے پولیس والوںسے ان کی بات کرائی۔ جس کے بعد ان کی دکان پر چابی پہنچ سکی لیکن جب تک چابی ان کی دکان پر پہنچی، تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور ان کی دکان میںرکھا قریب آٹھ لاکھ روپے کا سامان اور تقریباً 35 ہزار روپے نقد جل کر تباہ ہوگیا۔ محسن کی سمجھ میںنہیںآرہا کہ ا ن کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ یوم جمہوریہ کے دن تک ان کا شمار کاروباریوںمیںہوتاتھا لیکن اب اس کاروبار کو سرے سے کھڑا کرنا ایک چیلنج ہے۔
بارہ دواری پر فسادیوں کا اگلا نشانہ دوسرے دن محمد طاہر کی دکان بنی۔ طاہر کی جوتے ، بیگ اور دیگر سامان کی دکان ہے۔ انھیںدکان جلنے کی اطلاع صبح 10 بجے کے قریب ملی۔ فسادیوں نے صبح کے وقت ہی ان کی دکان میںآگ لگا دی تھی جبکہ بارہ دواری پر ہر وقت پیکٹ موجود رہتی ہے۔ کہرے کا فائدہ فسادیوں نے اٹھایا۔ ان کے پاس دکان جلنے کے فون آرہے تھے اور طاہر خود دکان تک پہنچ نہیںپارہے تھے۔ شہر میںخوف کا منظر تھا اور اس بیچ بارہ دواری تک ان کا پہنچنا مشکل کام تھا۔ طاہر کی دکان میںرکھا تقریباً 12لاکھ روپے کا سامان اور فرنیچر جل کر تباہ ہوگیا۔پولیس و لیکھ پال انھیںلے کر دکان پر گئے تو ان کا کلیجہ ہل گیا۔ دکان پوری طرح سے جل کر تباہ ہوگئی ہے اور خاندان و مستقبل کو لے کر انھیںفکر کھائے جارہی ہے۔
بلرام گیٹ پر واقع ممتاز میڈیکل میںآگزنی کی واردات ہوئی۔ ا ن کی دکان کے قریب دیو مستری اور رادھے آٹوپارٹس کی دکان ہیں۔ دیو بائیک کی مرمت کرنے کا کام کرتے ہیں۔ فسادیوں نے ان دونوں کی دکانوں میںآگ لگا دی۔ جس وقت آگزنی ہورہی تھی تو دیو کی دکان میںگاہکوں کی بائیکیںٹھیک کرانے کے لیے رکھی ہوئی تھیں۔ گاہکوں کی بائیکیںبھی بھی اس آگزنی میںجل کر راکھ ہوچکی ہیں۔ دیو کہتے ہیںکہ گاہک اب ان سے بائیک کے روپے مانگ رہے ہیں۔ دیو کی دقت یہ ہے کہ سب کچھ جل گیا، ان گاہکوںکوان کی بائیک یا پھر ان کی قیمت کیسے ادا کریں؟
ملزم سلیم کی گرفتاری
اے ڈی جی اجے آنند اور ضلع افسر آر پی سنگھ نے پریس کانفرنس کے دوران یہ جانکاری دی کہ چندن گپتا کے قتل کے 20 ملزموں میںسے اہم ملزم سلیم ولد برکت اللہ ساکن تحصیل والی گلی، اسکو ل کے سامنے، کاس گنج کو پولیس نے دبشدے کر گرفتار کرلیا ہے۔ سلیم سے چندن کے قتل اور فساد کے بارے میںپولیس معلومات کررہی ہے۔ پولیس نے سلیم سے آلہ قتل بھی برآمد کیا ہے۔ جو ملزمان فرار ہیں،ان کی گرفتاری بھی پولیس جلدی ہی کرے گی۔ پولیس نے فساد کے بعد قریب نو معاملے درج کیے ہیں۔ ان معاملوںمیں82 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں نو لوگوںکو نقص امن اور بلوا کی دفعات میںگرفتاری ہوئی ہے۔
پولیس نے کئی لوگوںکو نقص امن اور پوچھ تاچھ کے لیے حراست میںلیا ہے۔ جو معاملے درج کیے گئے ہیں ، ان میںچندن گپتا کی موت کے معاملے میںوالد سشیل گپتا نے کاس گنج کوتوالی میںجرم نمبر 60/2018 کے تحت 20 نامزد لوگوںپردفعہ 147,148,149,341,336,307,302,504,506, اور 124 اے اور نیشنل فلیگ ایکٹ 1950-3میںجرم رجسٹر کرایا ہے۔ اتر پردیش پولیس کے لاء اینڈ آرڈر اے ڈی جی آنند کمار کے مطابق سلیم ہی وہ شخص ہے، جس نے اپنے گھر کی بالکنی سے چندن پر گولی چلائی تھی۔انھو ں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوںمیںانھوںنے کئی ہتھیار برآمد کیے ہیں۔ وہ اب چندن کے جسم سے ملی گولی کا ان ہتھیاروںسے میلان کررہے ہیں۔
کاس گنج کے ضلع افسر آر پی سنگھ نے پہلے بھی کہا تھا کہ ایک گھر کی چھت سے چندن گپتا پر گولی چلائی گئی تھی۔ سنگھ نے کہا تھا کہ کاس گنج کا واقعہ دنگا نہیں بلکہ فرقہ وارانہ جھگڑا ہے۔ کاس گنج شہر کے اس پورے فرقہ وارانہ تشدد آگزنی توڑ پھوڑ میںکل سات الگ الگ الزام درج کیے گئے ہیں۔ معلوم ونام معلوم افراد کو حراست میںلیا گیا ہے، جن کے خلاف ضروری دفعات میںکارروائی کی جارہی ہے۔ کاس گنج تشدد کی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی گئی ہے۔ وہیںایس ٹی ایف، ایس او جی اور سرولانس ٹیمیںبھی مطلوبین کی تلاش میںدبش دے رہی ہیں۔ کاس گنج کوتوالی انچارج کے مطابق 12 ملزمان کے گھر پر منادی کے بعد قرقی کے نوٹس چسپاں کردیے گئے ہیں۔
بریلی کے ڈی ایم کا فیس بک بیان
کاس گنج کے فساد پر بریلی کے ضلع افسر راگھویندر وکرم سنگھ کا فیس بک بیان آگ میں گھیکا کام کررہا ہے۔ اترپردیش سرکار نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ حالانکہ کچھ لوگوںکا یہ بھی کہنا ہے کہ بریلی کے ضلع افسر کی فیس بک پوسٹ سے کاس گنج فساد کی وجہوں کا اندازہ لگتا ہے۔ آئی اے ایس راگھویندر وکرم سنگھ نے لکھا ہے ، ’عجب رواج بن گیا ہے، مسلم محلوں میںزبردستی جلوس لے جاؤ اور پاکستان مرداباد کے نعرے لگاؤ، کیوںبھائی وہ پاکستانی ہیںکیا؟یہی یہاںبریلی کے کھیلم میںہواتھا۔پھر پتھراؤ ہوا،مقدمے لکھے گئے۔‘
ضلع افسر کی اس فیس بک پوسٹ کا نوٹس لیتے ہوئے اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ ضلع افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بی جے پی لیڈر ونے کٹیار نے کہا کہ ضلع افسر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *