جامعہ طبیہ دیوبندمیں ’یونانی ڈے‘منعقد

 Unani-Day
جی ٹی روڈ پرواقع جامعہ طبیہ دیوبندمیں مسیح الملک حکیم اجمل خاں کی 150 ویں یوم پیدائش پر شاندار انداز میں ’’یونانی ڈے‘‘ منایا گیا۔ اس موقع پر جامعہ طبیہ دیوبند کے سیکریٹری ڈاکٹر انور سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکیم اجمل خاں اپنے وقت کے بڑے مشہور و معروف یونانی حکیم تھے، ساتھ ہی ساتھ ایک اعلیٰ درجہ کے سماجی خدمتگار اورمجاہد جنگ آزادی بھی رہے ہیں۔ حکیم اجمل خاں صاحب نے طب یونانی کو فروغ و تقویت بخشی اور اسے عالم میں شہرت دلوائی۔ وہ خاندان یونانی کے تئیں ایک انمول اثاثہ ہیں۔ یونانی سے متعلق لوگوں کو نہ صرف اس اثاثہ کی حفاظت کرنی چاہئے بلکہ اس کے فروغ میں مسیح الملک کے بنائے ہوئے راستوں پر چلتے ہوئے یونانی علاج کو کامیابی کی بلندیوں پر بھی پہنچانا ہے۔ ڈاکٹر انور سعید نے اس موقع پر ہسپتال جامعہ طبیہ دیوبند میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد کرایا اور انہوں نے کہا کہ ہر سال ’’یونانی ڈے‘‘ کے اس موقع پر یہ رسم اسی طرح جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح وطن پرستی اور غرباء کی خدمت میں مسیح الملک نے خود کو وقف کیایونانی کے فرزندان کو اسی طرح اپنے ہر کام سے وطن پرستی اور خاص طور پر یونانی کے فروغ کے لئے تن من دھن سے خدمت میں لگنا چاہئے۔
مرکزی وزارت صحت کے وزارت آیوش نے ان کے یوم پیدائش کو ’’یونانی ڈے‘‘ کے طور پر منانے کا جو تہیہ کیا اس کے لئے بھی ڈاکٹرانور سعید نے وزارت آیوش کو شکریہ ادا کیا۔ جامعہ طبیہ دیوبند کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اختر سعید نے اس بات پر زور دیا کہ طب یونانی ملک بھر کے رہن سہن اور اس کی غریب عوام کے مزاج کے بالکل منافی ہے اور اس طریقہ علاج میں دوائیوں کے کوئی نقصانات بھی نہیں ہیں۔ اس لئے اس کے فروغ میں طبیبوں کو بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ کالج میں طلبہ و طالبات اور اساتذۂ کرام نے ملکر ’’یونانی ڈے‘‘ منایا اور طلباء اور اساتذہ نے مسیح الملک حکیم اجمل خاں کی زندگی اور کاموں پر روشنی ڈالی۔ ’’یونانی ڈے‘‘ کے اس موقع پر جامعہ طبیہ دیوبند کے طاہر ہال میں کلچرل پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈاکٹر انور سعید کے ذریعہ اول ،دوم اور سوم پوزیشن لانے والے طلباء وطالبات کو انعامات اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے گئے۔دریں اثناء طلباء وطالبات نے شاندار انداز میں ثقافتی پروگرام پیش کئے۔ پروگرام کی صدارت پرنسپل ڈاکٹر سلیم احمد خان نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر احتشام الحق صدیقی نے کی۔
پروگرام میں ڈاکٹر محمد فصیح، ڈاکٹر محمد یونس، ڈاکٹر عرفان الحق، ڈاکٹر فخر الاسلام، ڈاکٹر ناصر علی خان، ڈاکٹر ریحانہ علوی، ڈاکٹر شائستہ پروین، ڈاکٹر رفعت علی، ڈاکٹر اعزاز، ڈاکٹر آمنہ خان، ڈاکٹر ثنا، ڈاکٹر جویریہ ہاشمی، ڈاکٹر صالحہ، ڈاکٹر محمد اعظم عثمانی، ڈاکٹر مزمل، ڈاکٹر محمد صابر، ڈاکٹر فرقان، ڈاکٹر محمد آصف، ڈاکٹر محمد مونس، ڈاکٹر امتیاز، ڈاکٹر رضوان احمد وغیرہ موجود رہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *