بجٹ میں اضافہ سے مسلم پسماندگی میں کوئی فرق نہیں

یکم فروری 2018کو 2018-19 کے مرکزی بجٹ میں اقلیتی امورکیلئے 505کروڑ روپے کے اضافہ پر مسلمانوں میں عمومی طورپرکوئی خوشی یاجوش وخروش نہیں پایا جارہا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظریہ اضافہ توہرسال کم وبیش ہوتاہی رہتاہے۔ مثال کے طورپر کانگریس قیادت والی یوپی اے سرکارکے دورمیں یہ 2010-11 میں 2600کروڑروپے، 2011-12میں 2800کروڑ روپے، 2012-13میں 3100 کروڑروپے، 2013-14 میں11 35کروڑروپے تھا اوراسی طرح بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے مرکزمیں آنے کے بعد یہ 2014-15میں 3711 کروڑروپے، 2015-16میں 3713کروڑروپے، 2016-17 میں 3800کروڑروپے ، 2017-18میں 4145 کروڑ روپے ہوگیاتھا اوراس بار 2018-19میں 4700کروڑ روپے کردیاگیاہے۔
اس لحاظ سے بیشتر مسلم اکابرین ودانشوروں کا کہناہے کہ یہ بات بالکل بے معنیٰ ہے کہ بجٹ میں اقلیتوں کے کوٹا میں اضافہ ہواہے اوراس کا فائدہ مجموعی طورپر اقلیتوں بشمول ملک کی سب سے بڑی اقلیت کوہوگا۔ ان شخصیات کایہ بھی کہناہے کہ پورے بجٹ میں ’مسلم‘ لفظ سے پرہیزکیا گیا ہے۔مسلمانوں میں یہ تاثربھی پایاجارہا ہے کہ ہرسال اقلیتی امورکے بجٹ میں لگاتارکم وبیش اضافہ کے باوجود ہندوستان کی مسلم کمیونٹی جسے 2006میں سچرکمیٹی نے پسماندہ قرار دیاتھا اورجسے خودمرکزی حکومت خواہ یوپی اے کی رہی ہو یااب این ڈی اے کی ہو، نے اس حیثیت میں تسلیم بھی کیا ہے، آج تک یعنی 12برس بعد بھی اسی حالت میں کیوں ہے اوراس کی پسماندگی ہنوزکیوں دورنہیں ہوئی ہے؟
اسی کے ساتھ ساتھ تب یہ سوال بھی بڑااہم ہے کہ مرکزی حکومت سچرکمیٹی رپورٹ کی روشنی میں اقدامات کادعویٰ کرتی رہتی ہے مگرکبھی ان اقدامات کا نتیجہ نہیں بتاتی ہے۔ یہی حال سابقہ یوپی اے حکومت کے دورمیں وزراء اقلیتی امور سلمان خورشید اورکے رحمان خاں کا تھا اورپھراین ڈی اے کے دورمیں وزراء اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ اورمختارعباس نقوی کا رہا۔ دونوں ادوارکے ان وزراء نے نہ کبھی مرکزی بجٹ میں اقلیتی امورکے بڑھتی ہوئی رقم کے مثبت اثرات سے ملک کوباخبرکیا اورنہ ہی سچررپورٹ پر نفاذسے اعلان برأت کیا۔اس کا نتیجہ صاف ہے کہ مسلم کمیونٹی سچررپورٹ کے نفاذ کے 12برس بعد بھی پسماندگی کا ہنوزشکارہے۔

 

 

 

 

 

 

اس طرح معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیواسٹڈیز( آئی او ایس ) کے چیئرمین اورآل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظورعالم جوکہ ماہراقتصادیات بھی ہیں کی یہ بات معقول لگتی ہے بجٹ میں اس طرح کے اضافہ کومحض لالی پاپ ہی سمجھناچاہئے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ شایداسی وجہ سے اقلیتی امور کیلئے بجٹ میں اضافہ کاکوئی مثبت اثر اقلیتوں بشمول مسلمانوں پر نہیں ہوپاتاہے اوروہ پسماندہ کے پسماندہ بنے رہتے ہیں اوران کی مجموعی دیگرگوں حیثیت پرکوئی فرق نہیں پڑتاہے۔ ان کایہ بھی کہناہے کہ محض بجٹ کے اضافہ سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ ان کے خیال میں جب تک کسی بھی اسکیم کوزمینی سطح پرپہنچنے کیلئے کوئی عملی میکنزم نہیں بنے گا، کوئی مانیٹرنگ سسٹم نہیں قائم ہوگا تب تک کوئی بھی حکومت خواہ وہ کسی بھی پارٹی یامحاذکی ہو، پسماندگی دور نہیں کرسکتی ہے اورخراب صورتحال میں مثبت تبدیلی نہیں لاسکتی ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد کا کہناہے کہ پورابجٹ 2019کے آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر تیار کیاگیاہے اوریہی وجہ ہے کہ روایتی طورپر اقلیتی امورکے بجٹ میں کچھ اضافہ تو کردیاگیاہے مگرپورے بجٹ میں لفظ ’مسلمان‘ غائب ہے۔ ان کا سوال ہے کہ کیا ’مسلم‘ لفظ سے احتیاط ووٹ کوپولرائز کرنے کیلئے تونہیں ہے؟ مسجدفتح پوری کے شاہی امام ڈاکٹر مفتی محمدمکرم احمد بھی اقلیتی امور میں بجٹ کے اضافہ کواہمیت نہیں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرحکومت سچے دل سے اقلیتوں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کام کرنا چاہتی ہے تواسے جوبجٹ ملاہے وہ اسے ایمانداری سے خرچ کرے۔

 

 

 

 

 

 

 

عیاں رہے کہ 2018-19کے یونین بجٹ میں اقلیتوں کیلئے 15نئی اسکیموں کا اعلان کیاگیاہے۔اسی لئے تعلیم اوراسکل ڈپولپمنٹ کوٹارگیٹ کرتے ہوئے مرکزی وزارت اقلیتی امور نے فنڈنگ کو62فیصدبڑھایا ہے۔ وزیراقلیتی امورمختار عباس نقوی کا کہناہے کہ یہ اقلیتی امورکیلئے کسی بجٹ میں سب سے بڑاضافہ ہے اوریہ منہ بھرائی یعنی اپینرمنٹ کے بغیروقار اورامپاورمنٹ کے ساتھ ترقی پر مرکوز ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں تعلیم میں مسلم خواتین کی تعلیم پرفوکس کیا گیا ہے جس سے مسلم خواتین کے سوشل اکانومک امپاورمنٹ اور تعلیم کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پہلی مرتبہ 2ہزار 453 کروڑروپے تعلیمی امپاورمنٹ کی خاطر 7نئی اسکیموں کے لئے مختص کیا گیاہے جن میں میٹرک سے قبل اسکالر شپ کیلئے 980کروڑ روپے، میٹرک کے بعد طلباء کیلئے 692کروڑ روپے اورپروفیشنل کے ساتھ ٹیکنیکل کورسزکیلئے شامل ہے۔ علاوہ ازیں اقلیتی طلباء کیلئے مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کی مدمیں 153کروڑ روپے دئے گئے ہیں۔ نیزفری کوچنگ اورالائیڈ اسکیموں اورغیرملک میں اعلیٰ تعلیم کیلئے جانے والوں کیلئے تعلیم قرضوں پرسود سبسڈی کا اہتمام ہے۔
اعلانات کی حدتک یہ سب کچھ ہمیشہ ٹھیک اورلبھاؤنا معلوم پڑتاہے مگرسب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ اسکیمیں زمینی سطح تک آخرکیوں نہیں پہنچ پاتی ہیں؟ وزارت اقلیتی امورکو چاہئے کہ وہ ہر سال ان اسکیموں کی تفصیلات اس طرح باضابطہ پیش کرے جس سے یہ اندازہ لگایاجاسکے کہ سچر کمیٹی نے مسلم کمیونٹی کی پسماندگی کا جوکچّاچٹھّا پیش کیاتھا، اس میں کوئی کمی ہوئی ہے یانہیں اوراگرنہیں ہوئی ہے توپھر کیوں نہیں ہوئی ہے ؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *