ہندوستان کی آزادی اور تعمیر میں مسلمانوں کا کردار

جنگ آزادی میںمسلمانوں نے اہم کردار نبھایا ہے۔ جب دنیا بھر میں تاریخ کو مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے،ایسے میںآپ کو اپنے بزرگوںکی تاریخ خود بچانی ہے۔ جب آپ گوگل پر کانگریو راکٹ یا میسورین راکٹ سرچ کریںگے تب پتہ چلے گا کہ یہ ہندوستان کی پہلی میزائل تھی۔ اس میسورین راکٹ کو حیدر علی اور ان کے بیٹے ٹیپو سلطان لائے تھے۔ اس میسورین راکٹ کو گوگل میںکانگریو راکٹ بتایا گیا ہے۔ سر ولیم کانگریو لکھتے ہیں کہ 1799 میںٹیپو سلطان مارے گئے اور 1801 میں ان سے ضبط کی گئی میزائلوں کو انگلینڈ بھیج دیا گیا۔ 1801 سے 1805تک کانگریو نے ان میزائلوںپر ریسرچ کی لیکن وہ میزائلوں کے ڈیزائن کو سمجھ نہیںپائے۔ ایسا نہیںتھا کہ انگلینڈ میں میزائلیںنہیںتھیں لیکن میسورین راکٹیں دو کلو میٹر سے زیادہ دور تک وار کرتی تھیں۔ جب انگریز اس میزائل کو سمجھنے میںناکام رہے تب انھوں نے یہاںکتاب بھجوائی جوآج پیرس کے میوزیم میںرکھی ہوئی ہے۔ اس کتاب کا نام ’فتح المجاہدین‘ ہے۔ کتاب لکھنے والے کا نام ٹیپو سلطان ہے۔ اس کتاب میںٹیپو سلطان نے راکٹ کے پورے ڈیزائن کو سمجھایا ہے۔ ولیم کانگریو لکھتے ہیںکہ ان میسورین راکٹ کو تبدیل کرکے میںنے پہلی کانگریو میزائل بنائی جو دو کلو میٹر سے زیادہ وار کرتی تھی۔
’ہم‘ یعنی ’ہندو اور مسلم‘
انڈیا میںپہلی توپ لانے والا ظہیرالدین محمد بابر تھا۔ ملک میںپہلی بار پکی سڑک بنوانے والا شیرشاہ سوری تھا۔ پہلا ر اکٹ لانے والاشیر میسور ٹیپو سلطان تھا اور ہندوستان کو اگنی میزائل ، پرتھوی میزائل بناکر دینے والے بھی اے پی جے عبد الکلام تھے۔ انگریزوں نے اس فلسفے کو سمجھا کہ جس کے پاس تعلیم ہے، دنیا اس کے قدموں میںہے۔
ہندوستان میںپہلی بغاوت 1773 میںہوئی تھی۔ اس بغاوت کا نام فقیر ریبیلین تھا۔ اس بغاوت کو کتابوںمیں آج بھی فقیر اینڈ سنیاسی ریبیلین کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس پر بنکم چندر چٹرجی نے پوری ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام آنند مٹھ ہے۔ اس آندولن میںسنیاسی سادھو سنت اور صوفی کندھے سے کندھا ملاکر ایک بڑی بھیڑ کے ساتھ انگریزوںکے گودام تک جاتے تھے۔ اس وقت بھکمری چل رہی تھی لیکن گوداموں میںاناج بھرا ہوا تھا۔ اس اناج کے گودام کو لوٹ کر غریب ہندو اور مسلمانوں میںبانٹ دیا جاتا تھا۔
آرکیالیوجیکل سروے آف انڈیا کے موجودہ ڈائریکٹر آنند بھٹا چاریہ نے 2013 میںایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میںذکر ہے کہ بنگال اور بہار کے گھنے جنگلوں کا فائدہ اٹھاکر سنیاسیوں اور فقیروں نے اس بغاوت کو پچاس سال تک جاری رکھا۔ ایل ایس ایس اومیلی نام کے انگریز مصنف نے ’ہسٹری آف بنگال بہار اینڈ اڑیسہ‘ میں لکھا ہے کہ 1763 میںمسلم فقیروں نے مجنوں شاہ فقیر کی قیادت میںپہلی بغاوت کی تھی۔ سنیاسی لیڈر بھوانی پاٹھک ان کے بہت گہرے دوست تھے۔ مجنوں شاہ کی موت کے بعد موسیٰ شاہ ، چراغ علی اور نورمحمد نے اس بغاوت کو 1803 تک جاری رکھا۔ یعنی یہ وہ دن تھے جب ’ہ‘ اور ’م‘ کندھے سے کندھا ملاکر جنگ آزادی کے لیے لڑے تھے۔ ’ہ‘ اور ’م‘ کو ملا دو تو ’ہم‘ ہوجاتا ہے یعنی ہندو اور مسلم۔
1857 کے آندولن کو انگریز (Sepoy Mutiny) بغاوت کہتے ہیں اور ہم اسے 1857 کی جنگ آزادی کہتے ہیں۔ گائے اور سور کی چربی کارتوسوں میںلگانے کی وجہ سے پورے انڈیا میںبڑے پیمانے پر یہ لڑائی لڑی گئی تھی۔ 1857 کی بغاوت میںدلاور جنگ احمداللہ شاہ مدراسی کا بھی نام آتا ہے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی کتاب میںدلاور جنگ احمد اللہ شاہ مدراسی کا ذکر ملتا ہے۔ ان کے بارے میںلکھا ہے کہ یہ ٹیپو سلطان کے درباری نواب محمد علی کے بیٹے تھے۔ وہ مہراب شاہ قلندر پیر کے کہنے پر انگریزوں کو اپنے ملک سے ہٹانا چاہتے تھے۔ اسی سلسلے میںانھوںنے دہلی، پٹنہ، فیض آباد، کلکتہ اور ملک کے کونے کونے کا دورہ کیا۔انھوںنے انگریزوں کے خلاف ماحول کو اتنا گرما دیا کہ انگریزوں نے ان کے سر پر پچاس ہزار روپے کا پہلا سب سے بڑا انعام رکھ دیا۔ انگریزوں نے اعلان کردیا کہ احمد اللہ شاہ مدراسی کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لانے والے کو پچاس ہزار روپے دیے جائیںگے۔ راجہ آف پوئی نے احمد اللہ شاہ کا سر کاٹ کر انگریزوںکو دیا تب انگریزوں نے کہا کہ یہ اس انسان کا سر پڑا ہے جو آج تک ہمارا سب سے طاقتور دشمن تھا۔ 1857 کے علماء کی فہرست میںمولانا لیاقت علی خان، مولانا بخت خان، خان بہادر خان اور حکمت اللہ خان جیسے کئی نام شامل ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

’ٹوپی والے جہاںبھی دکھیں، لٹکادو‘
جنگ آزادی کا پہلا فتویٰ علامہ فضل حق خیرآبادی نے دیا تھا۔ علامہ فضل حق خیر آبادی نے جب یہ فتویٰ دیا اور دہلی آزاد ہوئی تو دہلی کو واپس پانے کے لیے انگریزوںنے بہت محنت کی۔ لیفٹیننٹ ہاڈ سن ہی وہ شخص تھے، جنھوںنے دہلی کو دوبارہ جیتا۔ لیفٹیننٹ ہاڈسن کی ایک کتاب ہے، جس میںوہ لکھتے ہیںکہ انھیں انگلینڈ سے ٹیلی گرام آیا تھا،۔ اس میںلکھا تھا کہ 1857 کی بغاوت دراصل مسلمان علماء کی بغاوت ہے۔ ٹوپی اور داڑھی والوں کو جہاںبھی دیکھو، انھیںبغیر مقدمے کے لٹکادو۔ آگے لکھتے ہیںکہ پھر کیا تھا۔ ہم داڑھی اور ٹوپی والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نشانہ بناتے۔ ہم ان سے یہ نہیںپوچھتے کہ تم نے کیا کیا ہے؟
کرنل نیل پٹنہ، الہ آباد اور کانپور کو دوبارہ انگریزوں کے قبضے میںلایا تھا۔ وہ اپنی کتاب میںلکھتے ہیں ، انھیںاس بات پر فخر ہے کہ انھوں نے سیکڑوں لوگوں کو بغیر مقدمے کے ہی پھانسی دے دی۔ ان دنوںدہلی میںایک بہترین مؤرخ درگا داس بندوپادھیائے رہا کرتے تھے۔ 1857 میںبغاوت کے دوران درگا داس بندوپادھیائے الہ آباد میںتھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ الہ آباد میں1857 کے بعد کئی سالوں تک ایک جھاڑ بھی نہیںملتا تھا۔ مرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ یا تو وہ لکڑی قبر میںپٹہ بنا کے لگادی گئی یا پھر چتا پر لکڑی بناکر جلادی گئی۔ 1857 کی بغاوت کے دوران ہم انگریزوںکے ظلم و ستم کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ 18جنوری 1861 کو انگلینڈ سے شائع ’دی ٹائمز‘ اخبار میںرسیل نے لکھا ہے کہ انگریز سرکار علماء کے دل میںہمیشہ کے لیے ڈر بٹھانا چاہتی تھی، اس لیے نفیس علماؤ کو سور کی چمڑی کے ساتھ زندہ سی دیا گیا۔ سور کی چربی کے خلاف فتویٰ دینے والے مسلم علماء کو زبردستی سور کھلایا گیا۔
گنگا سے نچوڑا، تھیمس میںبہی دولت
سر جیمس آلڑم اور ایڈورڈ ٹمس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جن 51,200 لوگوںکو پھانسی ہوئی، ان میںصرف علماء کی تعداد 27 ہزار تھی۔ تاریخ میں یہ ریکارڈ درج ہے ، جو اب دم توڑ رہا ہے۔
گروور اینڈ گروور اپنی کتاب میںلکھتے ہیں کہ جب بھگت سنگھ پر مقدمہ چل رہا تھا تب بھری عدالت میںایک انگریز نے ان سے پوچھاکہ مسلمانوںنے آٹھ سو سال تک آپ لوگوںپر حکومت کی، تب آپ نے بم نہیںپھینکا۔ ہمیںتو صرف ڈیڑھ سو سال ہوئے ہیںاور آپ نے سینٹرل لیجسلیٹو اسمبلی میںبم پھینک دیا۔ اس پر بھگت سنگھ نے کہا، سر مسلمانوں نے ہم پر ایسا راج کیا کہ ہمارے ملک کا نام سونے کی چڑیا پڑگیا۔ یہ سونے کی چڑیا کی چہک تھی، جوآپ کو سات سمندر پار سے یہاںکھینچ لائی۔اگر آپ کے ڈیڑھ سو سالہ راج کے بارے میںایک لائن میںکہوںتو یہی کہوںگا کہ آپ نے ایک اسپنج کی طرح ہم پر راج کیا۔ یہ اسپنج گنگا کے کنارے سے ہیرے موتی چوس کر لے جاتی تھی۔ جب اسے تھیمس کے کنارے نچوڑا جاتا، تب وہاں دولت برسنے لگتی۔ یہ دولت جو آپ یہاںسے بھگو بھگو کر لے گئے ہیں، آپ کے یہاںسارے کل کارخانے اور صنعتی انقلاب اسی سے آیا ہے جبکہ پٹھانوںاور مغلوں نے ہندوستان کو ہی اپنا گھر بنا لیا۔ اسی کی دھول میں اپنے آپ کو ملا دیا۔ جو پیسہ یہاںسے لیا،یہیںپر خرچ کردیا۔ اس کے بعد بھگت سنگھ مسکرا کر کہتے ہیں کہ سر، بم میںنہ چھرا تھا اور نہ ہی کیمیکل۔ ہم آپ کو مارنا نہیںچاہتے تھے۔ جج نے کہا، تب پھر بم کیوں پھینکا؟ انھوں نے کہا، بہروںکو سنانے کے لیے دھماکے کی ضرورت ہوتی ہے۔
بہادر شاہ ظفر کی بدنصیبی
ویر ساورکر کہتے ہیں کہ 1857 میںسب سے بڑا نقصان آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ہوا تھا۔ ویر ساورکر لکھتے ہیںکہ میںجان نکلسن کی کتاب سے یہ بات کہہ رہاہوں۔ جان نکلسن نے لکھا ہے کہ ہم نے صبح کے وقت بہادر شاہ ظفر پر ناشتہ کرنے کے لیے زور ڈالا۔ بہادر شاہ نے کہا، ہمیںکھانے کی خواہش نہیں ہے۔ جان نکلسن لکھتے ہیںکہ ہم نے بہادر شاہ ظفر کی آنکھوں میں پائزنس آئنٹمنٹ ڈال دیاتھا۔ پائزنس آئنٹمنٹ لگانے سے وہ دھیرے دھیرے اندھے ہونے شروع ہوگئے تھے۔ اسلامک لاء کے مطابق، ایک اندھا انسان راجا نہیںہو سکتا ہے۔ ہم نے پھر ناشتہ کرنے کے لیے زور ڈالا، جب ان کی مرضی کے خلا ف ناشتہ لایا گیا تو پلیٹ میںلال رنگ کے مخمل سے ڈھکے تین کٹے ہوئے سررکھے تھے۔ ان میںدو سر ان کے بیٹے کے تھے اور ایک ان کے پوتے کا تھا۔کیا اتنا ظلم وستم سہنے کے بعد جنگ آزادی میںمسلمانوں کی شراکت کے بارے میں پوچھناکس لحاظ سے مناسب ہے؟

 

 

 

 

 

 

 

 

رانی لکشمی بائی کا سیکولرزم
ویر ساورکر کی کتاب میںجھانسی کی رانی لکشمی بائی کا بھی ذکر ہے۔ لکشمی بائی کے کمانڈر اِن چیف کا نام میر بخشش تھا۔ میر بخشش علی اور رانی کو جب قلعہ سے نکال دیا گیا، تب یہ دوبارہ جھانسی کے قلعہ پر قبضہ کرنے میںجٹ گئے۔ میر بخشش علی نے رانی کو صلاح دی کہ اگر میںتوپ سے گیٹ کو اڑا دوں تو گیٹ کے دوسری طرف انگریزوںکو بہت نقصان ہوگا۔ رانی نے کہا، آپ جلدی کریے، گیٹ کو اڑا دیجئے۔ تب میر بخشش علی نے کہا، بس ایک مسئلہ ہے۔ گیٹ کے ایک طرف مندر ہے اور دوسری طرف مسجد۔ گیٹ کو اڑاتے وقت ان دونوںمیںسے کسی ایک کو اڑانا ہوگا۔ رانی نے بغیردیر کیے کہا، میر بخشش علی، آپ مندر کو اڑا دیجئے۔ میر بخشش علی کھڑے ہوئے۔ انھوں نے اپنے لوگوںکے لیے یہ خطاب کیا تھا کہ اے مسلمانو! رانی نے تمہاری مسجد کو بچانے کے لیے مندر کو اڑانے کا حکم دیا ہے۔ آؤ قسم لیں کہ جب تک خون کی آخری بوندباقی ہوگی، ہم رانی پر آنچ نہیںآنے دیں گے۔ کتاب میںلکھا ہے کہ پہلے میر بخشش علی مرے۔ اس کے بعد جھانسی کی رانی بھی شہید ہوئیں۔
مردولا مکھرجی اینڈ آدتیہ مکھرجی کی کتاب کا نام ہے ’انڈیاز اسٹرگل فار انڈپینڈینس‘۔ اس میںلکھا ہے کہ نانا صاحب پیشوا کی لڑائی کی باگ ڈور ان کے کمانڈر عظیم اللہ خان کے ہاتھ میںتھی۔ جھانسی میں پہلی شہید عورت کے کمانڈر ان چیف میر بخشش علی تھے اور نانا صاحب پیشوا، جنھوں نے اتنی بڑی لڑائی لڑی کہ ان کا نام آج تک تاریخ میںموجود ہے، وہاںبھی کمانڈر اِن چیف عظیم اللہ خان ہیں۔
پھندہ ایک تھا اور گردنیںدو
’ہسٹری آف اترپردیش‘ کے گزٹ میںسب چیپٹر 37 میں’ہسٹری آف ایودھیا‘ کا بھی ذکر ہے۔ اس میںلکھا ہے کہ 1857 میںایودھیا میںسب سے پہلے انقلاب کا بگل پھونکنے والے بابا رام شرن داس تھے۔ جیسے ہی انھوںنے انقلاب کا بگل پھونکا، مولوی عامر علی نے سب سے پہلے ان کی حمایت کی۔ بابا رام شرن داس اور مولوی عامر علی نے مل کر انگریزوںکی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ جب انھیںپکڑا گیا تب انگریز چاہتے تھے کہ انھیںایسی سزا ملے، جسے دیکھ کر آنے والی نسلوں کی ہمت ٹوٹ جائے۔ بابا رام شرن داس اور مولوی عامر علی کو ایک ہی پھانسی کے پھندے سے لٹکا دیا گیا۔ پھانسی کا پھندہ ایک تھااور گردنیںدو تھیں۔ ایک بابا رام شرن داس کی تھی اور دوسری مولوی عامر علی کی تھی۔ ایودھیا میںایک مشہور جگہ ہے، جہاںآج بھی املی کا جھاڑ موجود ہے۔ اسے کُبیر کا ٹیلہ کہتے ہیں۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے یہ ہسٹری لکھ کر کُبیر کے ٹیلے کے پاس ایک بورڈ میںلٹکائی ہوئی ہے۔
ہریانہ میںایک جگہ ہے ہانسی۔ وہاں کی ہسٹری ہے کہ یہاں کبھی دو دوست رہا کرتے تھے۔ ایک کا نام حکم چند جین اور دوسرے کا نام منیر بیگ تھا۔ ہسٹری میںلکھا ہے کہ حکم چند جین اور منیر بیگ دونوں نے انگریزوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انھوں نے انگریزوںسے اتنا لوہا لیا کہ نابھا، کپورتھلہ، کشمیر اور پٹودی کے راجاؤں کی مدد سے انھیںپکڑ کر انگریزوں کو سونپا جاسکا۔ انگریز چاہتے تھے کہ ہانسی کے لوگ ہمیشہ کے لیے ڈر جائیں، ان کی ہمت ٹوٹ جائے۔ حکم چند جین اور منیر بیگ کو ساتھ لایا گیا۔ حکم چند جین کو ان کے مذہب کے خلاف زندہ دفنا دیا گیا اور منیر بیگ کو ان کے مذہب کے خلاف چتا پر زندہ جلا دیا گیا۔
بطخ میاں نے دی خاندان کی قربانی
موتیہاری میںہمارے بیچ ایک انسان تھا، جس نے کبھی گاندھی جی کی جان بچائی تھی۔ اس انسان کا نام بطخ میاں انصاری تھا۔ بطخ میاں انصاری کو یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ گاندھی جی کو چمپارن ستیہ گرہ کے دوران دونوںوقت کھانا کھلاتے رہیں۔ انگریزوں نے بطخ میاں انصاری کے پورے خاندان کو کڈنیپ کرلیا اور ان پر یہ دباؤ بنایا کہ بطخ میاں گاندھی جی کے کھانے میںزہر ملا دیں۔ بطخ میاں انصاری نے ان کے دباؤ میں یہ کیامگر گاندھی کے نوالہ توڑنے سے ٹھیک پہلے بطخ میاں انصاری نے ان کے ہاتھ سے نوالہ چھین کر پھینک دیا۔ جب گاندھی جی نے پوچھا، تب وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور پورا واقعہ بتایا۔ آئیے، اب میںآپ کے سامنے ہندوستان کے اولین صدر بابو راجندر پرساد کی موتیہاری میںکی گئی ایک تقریر کا ایک چھوٹا سا حصہ پیش کرتا ہوں:
’ا ے موتیہاری کے لوگو! میںاس وقت وہاںموجود تھا۔ آج میںآپ کے بیچ صدر بن کر آیا ہوں اور گاندھی جی کی جان بچانے والے بطخ میاں انصاری کو اس کے عوض میں موتیہاری میںپچاس ایکڑ زمین دینا چاہتا ہوں۔‘ انھوں نے 1950 میںبطخ میا ں انصاری کو زمین کا پچاس ایکڑ کا ٹکڑا دینا چاہا۔یہ زمین 1957میں الاٹ ہو پائی مگر تب تک بطخ میاںانصاری اس دنیا میں نہیںرہے۔
موپیلاؤں کاقتل عام
موپیلا کیرل کے مسلمانوں کے لیے ایک لفظ ہے موپیلا۔ آپ یہ جانتے ہیں کہ انڈیا میںمسلمان افغانستان کی طرف سے داخل نہیںہوئے ہیں۔ ریسرچ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ پہلے مسلمان کیرل میںآئے تھے۔ اگر آپ وکی پیڈیا پر سرچ کریںگے تو انڈیا کی سب سے پرانی مسجد کیرل میںملے گی، افغانستان میں نہیںملے گی۔ کیرل کے مسلمانوں کو موپیلا مسلمان کہا جاتا ہے۔ گاندھی جی کی عدم تعاون تحریک میںموپیلا مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ گاندھی جی کی عدم تعاون تحریک میں حصہ لینے کے سبب انگریزوں نے انھیںزور زبردستی سے کچلا۔
عیاں رہے کہ جلیانوالہ باغ میںجنرل ڈائر کی گولیوں سے 379لوگ مارے گئے تھے۔ جلیانوالہ باغ میں379 نہتے عورتوں،بچوںاور بوڑھوں پر گولیاںچلائی گئی تھیں۔ اس کا ذکر جب بھی ہوتا ہے، ہماری آنکھوں میںآنسو آجاتے ہیں۔ بپن چندرا کی تاریخ کی کتابیںکیمبرج اور آکسفورڈ میں پڑھائی جاتی ہیں۔ ان کی ’ موپیلا ریبیلین‘ نام کی کتاب میں17 چیپٹر ہیں۔
موپیلا ریبیلین میںوہ لکھتے ہیں کہ موپیلا مسلمانوں کو گاندھی جی کا ساتھ دینے کی قیمت 1921 میںچکانی پڑی تھی۔ انگریزوںکے ریکارڈ کے مطابق، 2337 موپیلا مسلمانوں کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ان کے لیڈر کا نام حاجی کل محمد تھا۔ انھوں نے بتایا ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں45,404 موپیلا کے نام ہیں۔ اس میں بیلاری ویگن ٹریجڈی کا ذکر ضروری ہے۔ 127 انقلابی مسلمانوں کو بغیر کھڑکی والی ایک ویگن میں بھر کر تھرور سے بیلاری بھیجا جارہا تھا۔ کوئمبٹور پہنچتے پہنچتے 70 مسلمانوں نے دم توڑ دیا۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میںلکھا ہے کہ انٹالرییل سفوکیشن یعنی ناقابل برداشت گھٹن کی وجہ سے ان کی موتیںہوئیں۔
ایک اور انقلابی اشفاق اللہ خان کے بارے میںبتانا چاہوں گا۔ اشفاق اللہ خان زبردست انقلابی تھے۔ کاکوری میںچندر شیکھر آزاد اور رام پرساد بسمل کا ساتھ دینے کی وجہ سے انھیںپہلے انڈمان نکوبار میںکالے پانی کی سزا اور بعد میںوہیں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ جب اشفاق اللہ خان کو کالا پانی کی سزا کے لیے بھیجا جا رہا تھا تو ان کا خاندان سزا سے ایک دن پہلے ان سے ملنے اترپردیش پہنچا۔ ان کے خاندان کے لوگ بے تحاشا رونے لگے۔ اشفاق اللہ خان نے ان کے بہتے آنسوؤں کو دیکھا ۔ انھوں نے ان کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ’’ تم ان آنسوؤں کو روک لو۔ کیا تمھیںاس بات کی خوشی نہیں ہے کہ جب آزادی کا دن آئے گا ، تب ہر سال رام پرساد بسمل، کنہیا لال او رکھودی رام بوس کے ساتھ اسی سانس میں تمہارے بھائی اشفاق اللہ خان کا بھی نام لیا جائے گا۔ ‘‘

 

 

 

 

 

 

 

 

 

غفار خان نے گاندھی جی سے وعدے کی پابندی کی
دانڈی مارچ کے دوران گاندھی جی سے پوچھا گیا کہ اگر انگریز آپ کو دانڈی مارچ پورا ہونے سے پہلے گرفتار کرلیںتو آپ کی جگہ کون لے گا؟ گاندھی جی نے کہا کہ اگر دانڈی پہنچنے سے پہلے مجھے انگریز سرکار گرفتار کر لے تو میری جگہ عباس طیب جی لیںگے۔ گاندھی جی عباس سے کہتے ہیںکہ جب میںجیل چلا جاؤں تب دیکھنا کہ تمہاری مٹھی سے نمک نہ چھوٹے۔
گاندھی جی کو 1932 میں نمک آندولن کے لیے اریسٹ کیا گیا ، تب ہزاروںکی تعداد میںپٹھان نکل کر آئے او رکھڑے ہوگئے۔ ہزاروں کی تعداد دیکھ کر انگریز ڈر گئے اور وہ پشاور سے بھاگ گئے۔ دو دن بعد انگریز گڑھ والی رجمنٹ لے کر لوٹے، تب بھی قصہ خوانی بازار میںسارے کے سارے پٹھان ٹس سے مس نہیںہوئے۔ انگریزوں نے گڑھ والی رجمنٹ سے ان پر گولیاں چلانے کے لیے کہا۔ گڑھ والی رجمنٹ کے جوانوں نے بندوق لوڈ کی ۔ انھوں نے دیکھا کہ سب سے سامنے کی قطار میں پٹھانوںکے بچے کھڑے ہیں اور ان بچوںکے بیچ میںن کا لیڈر خان عبدالغفار خان کھڑا تھا۔ انگریزوں نے ان سے پوچھا کہ خان عبد الغفار خان ہتھیار تو پٹھانوںکا زیور ہوتے ہیں۔ تمہارے ہتھیار کہاںہیں؟ انھوںنے کہا کہ ہم نے گاندھی جی سے وعدے کے چلتے اپنے زیور اتار پھینکے ہیں۔ گاندھی جی سے وعدہ کیا ہے، اس لیے ہتھیار تو چھوڑو، ہم ہاتھ تک نہیں اٹھائیںگے۔ وہاں جمع لوگوںکے فوٹو آج بھی گوگل اور وکی پیڈیا پر موجود ہیں۔ سامنے کی دو قطاروں میں بچے کھڑے ہیں اور پیچھے ہزاروںپٹھان کھڑے ہیں۔ گڑھ والی رجمنٹ نے یہ کہہ کر اپنی بندوقیں پھینک دیںکہ ہمارے ملک میںایک جلیانوالہ باغ کافی ہے۔ ہم نہتوں پر گولی نہیںچلائیںگے۔ اس کے بعد انگریزوں نے خود بندوقیں اٹھاکر گولیاںچلائیں، جس میں207 لوگ مارے گئے۔
حکومت ہند نے خان عبدالغفار خان کو مرنے کے بعد ’بھارت رتن‘ سے نوازا ہے۔ خان عبد الغفار کا ٹائٹل ہے سرحدی گاندھی یعنی فرنٹیئر گاندھی۔ ان کو انڈیا کا سب سے بڑا اعزاز بھارت رتن ملاتھا، جب کہ وہ افغانی تھے۔ افغانستان اس وقت انڈیا کا حصہ تھا۔ اس میںحکومت ہند نے لکھا ہے کہ قصہ خوانی بازار کے دن اپنی بہادری، دلیری اور گاندھی جی سے کیے وعدے کے مطابق تشدد کے خلاف اپنے ہتھیاروں کو پھینک دینے اور نوے سال کی اپنی زندگی میںسے 45 سال جیل میںگزارنے کی وجہ سے سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان کو حکومت ہند نے بھارت رتن سے نوازا۔
نظام حیدرآباد نے دیا سب سے بڑا چندہ
ممبئی سے شائع انگریزی روزنامہ’ ڈی این اے‘ کے آفٹر نون ایڈیشن میںلکھا ہے کہ 1965 میں پاکستان سے لڑائی کے وقت انڈیا کے پاس پیسے کی کمی پڑ گئی تھی۔ تب ہندوستان کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے لوگوں سے نیشنل ڈیفنس فنڈ میںآگے بڑھ کر چندہ دینے کی اپیل کی تھی۔ اس وقت میر عثمان علی سابق نظام حیدرآباد زندہ تھے۔ انھوں نے جب لال بہادر شاستری کی اپیل کو سنا تو فون کیا اور لال بہادر شاستری سے کہا کہ’ سر میںآپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ آپ ہمارے حیدر آباد میںآئیے۔‘ شاستری جی نے کہا، دیکھتے نہیں ہیں، وار چل رہی ہے۔ میر عثمان نے کہا کہ سر اسی کے بارے میںملنا ہے۔ عیاں رہے کہ 1965 میںپاکستان کے خلاف لڑائی کے لیے انڈیا کی تاریخ کا سب سے بڑا چندہ دیا گیا تھا۔ وہ ریکارڈ اب تک ٹوٹا نہیںہے۔
انڈیا کا سب سے بڑا چندہ میر عثمان علی نے پانچ ہزار کلو سونے کی شکل میںدیا تھا۔ لال بہاد ر شاستری کے ہوائی جہاز میںبیگم پیٹ ایئرپورٹ حیدر آباد میںپانچ ٹن سونا لادتے ہوئے ایک فوٹو ڈی این اے اخبار نے چھاپا ہے۔ اس رپورٹ کو 13 اپریل 2015 کو’ دی ہندو‘ اخبار نے اپنے فرنٹ پیچ پر چھاپا۔ اس اخبار کی ہیڈنگ تھی، کلوز پیس اوپن ہینڈڈ میر عثمان علی۔ پانچ ٹن یعنی پانچ ہزار کلو سونا، یہ وہ چندہ ہے، جس سے زیادہ چندہ آج تک کسی نے نہیں دیا ہے۔ یہ چندہ ملک کی حفاظت کے لیے دیا گیا۔ ’جے ہند‘ نعرہ لکھنے والے آندھرا پردیش کے ایک مسلمان کا نام معین الدین حسن حق تھا۔ جس پلین کریش میںنیتا جی سبھاش چندر بوس مارے گئے، ان کے ساتھ مرنے والے کرنل حبیب الرحمان تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *