بچیوں کی عصمت دری کا جاری رہنا شرمناک

بے رحمی کی کوئی بھی حد نہیں ہوتی ہے۔ نفسیات جو بربریت کی طرف لے جاتی ہے، وہ کسی بھی مذہب سے متعلق نہیں ہوتی ہے۔ پاکستان کے پنجاب صوبہ کے قصور، جموں و کشمیر کے کٹھوا اور ہریانہ کے پانی پت کے تین بھیانک حادثات سے یہ ثابت ہوتا ہے۔ قصور میں8 سال کی ایک لڑکی زینب کی عصمت دری کی گئی اور اس کا قتل کرد یا گیا۔ اس حادثہ نے پورے پاکستان کو جھنجھور دیا۔ جموں و کشمیر میں بھی آصفہ کے ساتھ ایسا ہی حادثہ ہوا۔ 15جنوری کو پانی پت ضلع کے ارلنا گائوں کے باہری علاقے میں ایک دلت لڑکی جو کلاس 7 کی طالبہ تھی، مردہ پائی گئی۔ پولیس نے کہا کہ 11 سالہ طالبہ کو پہلے قتل کر دیا گیا تھا اور پھر اس کے دو پڑوسی نے مبینہ طور پر عصمت دری کی۔
یہ تین واقعات اس طرز فکر کا ایک پیٹرن دکھاتے ہیں جو نام نہاد انسانوںکو الگ نہیں کرتے۔ جب زینب کی تصویریں سوشل میڈیا پر آئیں تو اس کی معصوم آنکھیں انصاف مانگ رہی تھیں۔ان تصویروں کو دیکھنے والا خود کو قصوروار مان رہے تھے۔ جموں و کشمیر میں بھی آصفہ کے لئے انصاف کی مانگ ہوئی۔ ہریانہ میں بھی مخالفت ہوئی اور جس طرح سے دلت لڑکی کے ساتھ بدسلوکی ہوئی،اس نے لوگوں کا دھیان مبذول کیا۔ حالانکہ اس معاملے میں اگلے ہی دن گرفتاریاں ہوئیں ِ لیکن اس سے اس لڑکی کا وقار اور اس کی زندگی واپس نہیں لائی جاسکتی۔ ماضی میں ہندوستان میں اس طرح کے معاملوں سے جیسے نمٹا گیا، اس سے بھی کئی اہم سوالات اٹھتے ہیں۔ دسمبر 2013 میں نربھیا معاملے میں جو ہوا، وہ بے مثال تھا۔اس حادثہ نے ملک کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ عوام نے عصمت دری قوانین کو سدھارنے کے لئے سرکار کو مجبور کردیا۔ ایسے بھیانک حادثات کو پھر سے واقع ہونے کو روکنا آسان نہیں تھا لیکن پیغام واضح تھا۔ اس حادثے نے عورتوں کے خلاف تشدد کے مسئلے پر ہندوستان کو متحد کیالیکن یہ ایک اہم بدلائو نہیں لا سکا۔یہ اس لئے بھی کیونکہ متاثر اقلیت طبقہ سے تھا،تب قانون نے صحیح قدم نہیں اٹھائے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جموں و کشمیر میں آصفہ کے معاملے نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ایسے حادثات عموماً نہیں ہوتے اور اس حادثہ کو لے کر ایک خاص طبقہ سے آئے رد عمل بھی غیر معمولی تھے۔ جس طرح سیاسی نقطہ نظر سے ایک نظریاتی تقسیم دیکھا گیا تھا ،وہ زیادہ پریشان کرنے والا تھا۔ آصفہ ایک چھوٹی لڑکی تھی جو خانہ بدوش خاندان سے آتی تھی۔ اسے ایک ایسا غنڈہ اٹھا کر لے گیا جس کا باپ ایک سیاسی پارٹی کا قریبی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پولیس نے رپورٹ درج کرنے کے بعد بھی کارروائی نہیں کی اور آصفہ کا پتہ لگانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اسمبلی میں ہنگامہ ہونے کے بعد پولیس انسپکٹر کو معطل کردیا گیا۔اگر اسمبلی سیشن نہیں چل رہاہوتا تو شاید یہ معاملہ بھی سیاسی دبائو میں دفن ہو جاتا۔ بعد میں یہ کیس کرمنل برانچ کو سونپ دیا گیا۔
بدقسمتی سے قتل اور عصمت دری کے اس معاملے کو مذہب کے چشمے سے دیکھا گیا۔ جموں میں اس حادثہ کو لے کر کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ جب راقم الحروف نے رائٹس وینگ لیڈروں سے رابطہ کیا تو تقریباً سب کا رد عمل بے حسی سے بھرا ہوا تھا۔ تصور کیجئے کہ اگر ’’لو جہاد ‘‘ کا مسئلہ ہوتا تو یہ لیڈر کیا کرتے، کیا کہتے ؟آصفہ بے قصور تھی اور اسے ابھی یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اس کا مذہب کیا ہے؟ لیکن جس طرح سے اس کی ٹریجڈی کو نظر انداز کیا گیا تھا، وہ بتاتی ہے کہ ایک طبقہ کس حالت میں جیتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جب ایک سماجی کارکن اور وکیل طالب حسین آصفہ کے لئے انصاف کی مہم چلا رہے تھے تو انہیں سرکار نے گرفتا ر کرلیا۔ رائٹس وینگ لیڈروںنے آصفہ کو مقامی قبرستان میں دفن تک نہیں کرنے دیا۔ یہ بتاتا ہے کہ ریاستی سرکار کس سمت میں جارہی ہے۔
انتظامیہ اور خاص طور پر پولیس کے ذریعہ دکھائی گئی ڈھیلائی بھی اس حقیقت کو بتاتی ہے کہ جموں میں بی جے پی کے ذریعہ حکومت کی جاری ہے اور وہاں وہ جو بھی کرنا چاہتی ہے، آسانی سے کر سکتی ہے۔ جب جموں کی بات آتی ہے تو ریاست کی حکومت کا کوئی نظریہ نہیں دکھائی دیتا ہے۔ گٹھ بندھن سرکاریں خطہ کے لئے اور خطوں کی بنیاد پر نہیں بنتی ، بلکہ ایک سرکار بنانے کے نظریہ سے بنائی جاتی ہے۔ جموں کی سوسل سوسائٹی، جموں چیمبر آف کامرس اور دیگر اکائیاں کسی بھی سیاسی ایشو میں شامل ہونے میں کوئی وقت نہیں لگاتیں لیکن ان کے لئے آصفہ ایک انسانی ایشو نہیں تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بھی خاموش رہا، شاید جموں کو خوش رکھنے کے لئے۔ آخر مالی مفاد سے جڑے اتحاد کا جو سوال تھا۔
جموں وکشمیر میں عورتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں بھاری اضافہ دیکھا گیاہے۔ 2016 میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو ( این سی آر بی ) نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں عورتوں کے خلاف پین انڈین ریٹ کے مقابلے جرائم کا اوسط زیادہ ہے۔یہ 53.9 کے مقابلے 57 تھا۔ ریاست کی ویمن کمیشن کی صدر نعیمہ محضور نے 22 نومبر کو مجھے بتایا کہ عورتوں کے خلاف جرائم دو سال میں بڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کو 3000 شکایتیں ملیں۔ اس حقیقت کو بھی دھیان میں رکھنا چاہئے کہ قانون تو کئی ہے لیکن نفسیات ایسے ہیں جن کی وجہ سے صرف قانون کے سہارے اس کا سامنا نہیں کیا جاسکتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اس خطرے کے خلاف اٹھنے کی بڑی ذمہ داری سماج کی ہے۔ مزاج یہ ہے کہ انسان کا معمول ان واقعات کو کُور کردیتا ہے۔ کشمیر کے سلسلے میں ڈینائل موڈ ( انکار کرتے رہنے کی صورت حال ) ایک ایسا فیکٹر ہے جو عورتوں کو ایسے مسائل کی طرف دھکیلتا ہے۔ مثال کے لئے جائے واردات پر ہراساں کرنا ایک عام بات ہے اور بدقسمتی سے اسے قبول کرلیا گیا ہے۔ سماجی احتجاج کے علاوہ ایسی صورت حال سے نمٹنے کا افسروں کا طریقہ بھی اسے عام حادثہ بنا دیتا ہے جبکہ اس سے نمٹنے کے لئے ایک جامع نقطہ نظر ہونا چاہئے ۔
قصور، پانی پت اور کٹھوا کے جرائم کے نیچر میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن جس نقطہ نظر کے ساتھ مسئلے کو ڈیل کیا گیا، اس نے یقینی طور سے اسے الگ کر دیا ہے۔مثال کے طور پر سزا مختلف نہیں ہونی چاہئے اور سماج کے دبائو سے ہی اس ہدف کو حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ آصفہ کے معاملے میں ہمارا چیلنج کئی گنا زیادہ ہے۔ لوگ یہ سمجھے کہ آصفہ بھی انسان تھی اور اسے بھی انصاف چاہئے،یہ کیسے یقینی ہوگا؟لیکن پھر یہ حقیقت بھی ہے کہ ریاستی فرقہ وارانہ لائن پر منقسم ہے اور بدقسمتی سے ریاستی نظام نے ان رنگ کو اپنا لیا ہے۔ جموں ڈویژن کے انتظامیہ کو اس نقطہ نظرسے دور رہنا چاہئے اور ایسا رویہ اختیار کرنا چاہئے جو بالکل انسانی معیار کے مطابق ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *