عدم رواداری کا ماحول تشویشناک

تکثیریت ، تحمل اور روادری ہمارے ملک کی سب سے بڑی خصوصیت اورپہچان ہے۔اس خصوصیت نے ہندوستان کی خوبصورتی میں چار چاند لگائے ہیں۔ کثرت میں وحدت کی یہ مثال ہندوستان کے علاوہ کسی دیگر ملک میں خال خال ہی نظر آتی ہے۔اس سلسلہ میں ہندوستان کے سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے اسرائیلی دورے کے دوران ’ اسرائیلی ہیبرو یونیورسٹی ‘میں جو باتیں کہی تھیں وہ ہمارے ملک ہندوستان میں تکثیریت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔انہوں نے کہا تھاکہ ’’تکثیریت باہم جوڑنے والا عنصر ہے اور ہندوستان کی طاقت اس کی کثرت میں وحدت کے پہلو میں مضمر ہے‘‘۔تکثیریت کی اہمیت پر موجودہ نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو نے وگیان بھون میں منعقد ’اہنسا وشو بھارتی ‘کے 12 ویں یوم تاسیس کے موقع پربولتے ہوئے اشارہ کیا تھا کہ عدم تشدد کے فقدان سے معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کمزور ہوتی ہے ۔ ترقی کے لئے معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کا ماحول ضروری ہے۔ہم آہنگی ہماری شان ہے اور پہچان بھی‘‘۔
کھوتی ہوئی شناخت
مگر ادھر کچھ برسوں میں یہ پہچان کہیں کھوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں اسکی بہت سی مثالیں سامنے آئی ہیں مگر حالیہ دنوںمیں یہ مثال کاس گنج کے واقعہ سے دی جاسکتی ہے،جہاں بجرنگ دل کے کچھ لوگوںنے یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کررہے مسلم نوجوانوںپر حملہ کیا اور’’ ہندی ،ہندو ،ہندوستان ،مسلمان بھاگو پاکستان،ہندوستان میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہوگا ‘‘جیسے اشتعال انگیز نعرے لگائے جبکہ کاس گنج کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں 1993 میں ایک چھوٹی سی جھڑپ کے علاوہ نہ کبھی ذات پات کی لڑائی ہوئی اور نہ ہی فرقہ وارانہ فساد ۔پولیس حیران ہے کہ آخر یہاں کی بھائی چارگی کو کس کی نظر لگ گئی؟ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ ہمارے ملک میں روادی نام کی جڑ کمزور ہوئی ہے ۔امنیسٹی انٹرنیشنل بھی اپنی سالانہ رپورٹ میں ہندوستان میں عدم رواداری، اختلاف رائے رکھنے والوں کی گرفتاری، آزادئی رائے پرقدغن اور فرقہ واریت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہارکرچکا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ہمارے ملک کے اندر تکثیریت کی بنیاد کمزور ہوئی ہے جو اس وقت پورے ملک کے اندر موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔محمد حامد انصاری نے بطور نائب صدر جمہوریہ راجیہ سبھا کو دیئے گئے اپنے آخری انٹرویو میں ملک میں جاری عدم رواداری اور لوگوں خاص طو ر پر اقلیتی طبقہ سے آنے والے شہریوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے خود ساختہ گئو رکشکوں کی طرف سے ماب لنچنگ ور زبردستی ’بھارت ماتا کی جئے‘بلوانے جیسے حساس موضوعات کو پریشان کن قرار دیاتھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تکثیریت ہمارے ملک سے گم ہوتی جارہی ہے جبکہ ہم ہمیشہ سے اسی پر فخر کرتے رہے ہیں اور پوری دنیا میں اس کا تذکرہ ہوتا رہا ہے اور جب بھی اس تکثیریت کو چوٹ پہنچتی ہے تو اس کی ٹیس پوری دنیا میں محسوس کیجاتی ہے۔جیسا کہ موجودہ یوم جمہوریہ کے موقع پر لندن میں دیکھنے کو ملا۔ 26 جنوری کو جس وقت لندن میں انڈیا ہائوس میں جھنڈا لہرانے کی تقریب منعقد ہورہی تھی تو اسی وقت ایک ہجوم انڈیا ہائوس کے باہر ہندوستان میں مسلمانوں اور دلتوںپر ہورہے مظالم ، عدم رواداری اور ملک میں بڑھتے ہندوتوا کے خلاف نعرہ بلند کررہا تھا۔مظاہرین اپنے ہاتھوں میں گوری لنکیش، اخلاق، پہلو خاں،جنید روہت ویمولا ،اور ظلم کے شکار بہت سے دیگر افراد جن میں جسٹس لویا کے پوٹریٹ شامل ہیں،اٹھائے ہوئے انصاف مانگ رہے تھے۔

 

 

 

 

 

 

ہم اپنی روایتی سیاست سے کس طرح پیچھے ہٹتے جارہے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب سے پہلے ہندوستان نے کبھی بھی اسرائیلی پالیسی کو انتہائی سنجیدہ زمرے میں نہیں رکھا۔بلکہ اندرا گاندھی نے تو ایک آزاد ریاست فلسطین کا اعلان تک کر دیا تھا۔حالانکہ جزوی طور پر یہ رشتہ قائم تھا اور اسرائیل کی کونسل ممبئی میں کھلی ہوئی تھی مگر سفارتی سطح پر یہ تعلقات قائم نہیںتھے۔البتہ 1992 میں جب پی وی نرسمہا رائو کی حکومت تھی تو اس وقت یہ تعلقات قائم ہوئے۔لیکن رشتے میں وہ گرماہٹ نہیں تھی جو مودی قیادت کے دور میں اب دیکھی جارہی ہے۔
ابھی کچھ ماہ قبل دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی سلور جوبلی کی تقریب کے موقع پر ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل گئے۔پھر وہاں کے وزیراعظم بنیامین نتین یاہو چھ روزہ دورے پر ہندوستان آئے۔اس طرح ہم اسرائیل سے قریب ہوتے چلے گئے اور جوں جوں اسرائیل سے قریب ہورہے ہیں،فلسطین سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ وزیر اعظم مودی نے اسرائیل سے رشتے کو ایک نئی شکل دی ہے۔ وہ پہلے ہندوستانی وزیر اعظم ہیں جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا اور انسداد دہشت گردی، انٹلی جینس گیدرنگ اور سرحدی نگرانی پر باہمی معاہدے کئے جبکہ اس سے پہلے کوئی بھی ایسے وزیر اعظم نہیں تھے جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا اور وہاں سے فلسطین نہ گئے ہوں۔
گزشتہ دو برسوں میں ملک کی پالیسی نے ایک نئی کروٹ لی ہے اور یکساں سول کوڈ عوامی بحث کا موضوع بنگیا ہے۔بی جے پی یونیفارم سول کوڈ کی حمایت کرتی ہے ۔یہ’ ون نیشن اینڈ ون لاء ‘کی حامی پارٹی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی کی برسراقتدار حکومت اگر ملک کی روایت سے ہٹ کر اسرائیل سے رشتہ استوار کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تواسے یکساں سول کوڈ کے معاملے میں بھی اسرائیل کے طریقہ عمل کو دیکھنا چاہئے اوراس کے تکثیری قوانین کا مطالعہ کرنا چاہئے کہ وہ اسے کیسے مینیج کرتا ہے۔
اسرائیل کی تکثیریت
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل ایک مذہبی ریاست ہے اور اگرچہ اس کی باضابطہ تحریر شدہ کوئی آئینی کتاب موجود نہیں ہے مگر اس نے اپنے یہاں سیکولرازم کے لئے امریکہ یافرانس کا طریقہ اختیار نہیں کیا جس نے اسٹیٹ اور چرچ کے درمیان دیوار کھڑی کردی ہے بلکہ اس نے اپنا یہ دائرہ عمل انگلینڈ کے طرز پر کھینچاہے اور اپنے یہاں اقلیت کو مکمل آئینی حق اور مذہبی آزادی دے رکھی ہے۔81لاکھ کی آبادی میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی تعداد1.354 ملین ہے۔یعنی یہودی اکثریت میں ہیں۔ اکثریت کے باوجود دیگر مذاہب کو اپنے مذہب کے تئیں نہ صرف قانونی آزادی حاصل ہے بلکہ ان کی مذہبی شناخت کی حفاظت کی گارنٹی کے ساتھ انتظامی اور مذہبی انسٹی ٹیوٹ کوبڑی مالی امداد بھی دی جاتی ہے۔ نکاح، طلاق و دیگر تمام معاملے مذہبی طور طریقوں سے انجام دیئے جانے پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی اسرائیلی حکومت کبھی یکساں سول کوڈ کے بارے میں سوچتی ہے ۔
اسرائیل ایک مذہبی ریاست ہونے کے باجود اپنے یہاں سیکولرازم کی افادیت کو پوری طرح رائج کررکھا ہے ۔ اس طریقہ عمل سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہئے جو ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں یہاں کے آئین میں سیکولرازم سے سخت نفرت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ(سیکولرازم ) ایک ناپسندیدہ لفظ ہے جو 1975 تا 1977 ایمرجینسی کے دور ان قومی آئین میں شامل کردیا گیا ہے جس کو بنیادی قانون ماننا ہمارے اوپر ضروری نہیں ہے۔ابھی حال ہی میں ایک بی جے پی لیجسلیچر نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان 2024 میں ہندو راشٹریہ بن جائے گا۔ انہیں ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ سوچ ہماری تکثیری تہذیب کے خلاف ہے اور اگربالفرض ان کے مطالبے کو مان بھی لیا جائے اور آئین سے سیکولر ازم کا لفظ نکال دیا جائے تو بھی مذہبی معاملوں سے اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ جس دن یہ مذہب سے نکل گیا ، اس دن مذہب میں دی گئی تمام آزادی سلب ہوجائے گی اور مذہب چند لوگوںکے ہاتھوں کا کھلونا بن کر رہ جائے گا۔اب آپ ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر بنا بھی دیتے ہیں تو (ہندو راشٹر ہونے کے ناطے)ہندو ازم کے ذیل میں سیکولرازم ملک کے اندر موجود رہے گاکیونکہ مذہب ہمیشہ سیکولر ہوتا ہے اور بقول مشہور صنعتکار و بلاگر کمل مرارکا ہندوازم اور سیکولرازم باہم مترادف لفظ ہیں ،لہٰذا ہندو ازم سے سیکولرازم کو باہر کیا ہی نہیں جاسکتا ۔لہٰذا ہندو راشٹر کی مانگ کرنے والوں کوسمجھنا چاہئے کہ آپ کو سیکولر ازم سے بیر ہے تو پھر آپ اس ملک کو ہندو راشٹر بنائیں گے کیسے؟۔ خاص طور پر ہندوستان جیسے معاشرے میں جہاں سیکولرازم اور مذہبی آزادی اس کی شناخت رہی ہے ،یہاں تو ایسا کچھ سوچا ہی نہیں جاسکتا۔

 

 

 

 

 

 

تکثیریت قدیم نظریہ
ملک میں تکثیریت کا اعتراف ہندو تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت بھی کرچکے ہیں۔چنانچہ گزشتہ سال سدی ونائک مندر میں منعقدہ جلسہ میںانہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھاکہ’ کثرت میں وحدت ہماری میراث ہے اور خارجیوں نے ہمیشہ حیرت کا اظہار کیا ہے کہ آخر ہندوستانی عوام اس طرح کے کثیر الوجود معاشرہ میں کس طرح رہتے ہیں؟ یہاں تک کہ برطانیہ کو بھی لگتا تھا کہ اگر انہیں آزادی دی گئی تو وہ آپس میںجھگڑیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا‘۔بہر کیف ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور جو لوگ یہاں ہندو راشٹر کی بات کرتے ہیں، حقیقت میں وہ اس سرزمین کی تاریخ سے نابلد ہیں۔یہاں تب سے جمہوریت ہے جب دنیا کی بیشتر مملکتیں جمہوریت کے مفہوم سے ناآشنا تھیں۔سو سال قبل عیسیٰ مسیح اور گوتم بدھ کی پیدائش سے قبل ہندوستان میں جمہوری ریاستیں موجود تھیںاور ان کو جاناپداس “janapadas”کہا جاتا تھا((reality of democracy p. 7)۔ یونان میں بھی جمہوریت موجود رہی ہے ،لیکن وہاں جمہوریت کا تصور سادہ اور محدود تھا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ تکثیریت اور کثیر الوجود نعمت کو سب سے پہلے اسی سرزمین سے متعارف کرایا گیا جس کو کچھ لوگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔
ہم اس کثیر الوجود معاشرہ کو ایک نعمت سمجھ کر جشن مناتے ہیںاورسچائی یہی ہے کہ ہم سب کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہی ہے۔ یہی ہندوستان کی شناخت ہے ۔ آج ہم اسرائیل کی مہمان نوازی پر خوش ہوتے ہیںاور اس کے ساتھ دوستی بڑھانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔محض 81لاکھ آبادی پر مشتمل اس ملک سے ہم بڑے پیمانے پر دفاعی معاہدہ کرتے ہیںمگر جب اسی ملک کا سربراہ یا کوئی رہنما ہمارے ملک کی تکثیریت کی تعریف کرتا ہے تو اسے ہم نظر انداز کردیتے ہیں۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتین یاہو اور اپوزیشن لیڈر ایزاک ہرزوگ نے 2015 میں منعقد ایک تقریب میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ہندوستان نے مختلف نوعیت کے مذاہب کے لوگوں کی آبادی پر مشتمل ملک کی حیثیت سے ترقی کی ہے ۔ ا سرائیل کی پارلیمنٹ نیسٹ میں ہرزوگ نے اپنی تقریر میں کہا تھاکہ ہندوستان سے سیکھنا چاہئے کہ کس طرح وہ کئی اقلیتی گروپوں میں پرامن بقائے باہم کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ ان اقلیتی گروپوں کی زندگی کے ہر شعبہ میں نمائندگی ہے‘۔ہرزوگ کے الفاظ پر غور کریں تو ہندوستان اسرائیل جیسے ملک کے لئے مشعل راہ بن سکتا ہے بشرطیکہ ہم اپنے یہاں تکثیریت کی روایت کو کمزورہونے سے بچائے رکھیں۔لیکن گزشتہ چند برسوں میں جس طرح سے ہماری یہ تکثیری روایت کمزور ہوئی ہے اور اقلیت جس میں مسلم اور دلت بطور خاص شامل ہیں،کو نشانہ بنایا گیا ہے، افسوسناک ہے۔
اقلیت کی محکمہ جات میں نمائندگی کی زمینی حقیقت کیا ہے ، اس سے قطع نظر، اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہاں کی تکثیریت ہی اس ملک کا حسن ہے۔قومی یگانگت کے فروغ کے لئے حکومت ہند اقلیتوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ اور ان کے نفاذ کو بے حد اہمیت دیتی رہی ہے۔ ہمارے بانیان نے اس بات کوتسلیم کیاتھا کہ مرکزی اور ریاستی قوانین میں اور سرکارکی پالیسیوں اور انتظامی اسکیموں میں اقلیتوں کو دیے گئے تمام تحفظات کے نفاذ اور ان پر عمل آوری کے لئے ادارہ جاتی انتظامات کا ہونا لازمی ہے۔ اس سلسلے میںایمرجینسی کے بعد قومی اقلیتی کمیشن (این سی ایم ) قائم کیاگیا۔ لسانی اقلیتوں کے لئے قومی کمیشن(این سی ایل ایم ) بھی 1957میں قائم کیا گیا تھا تاکہ لسانی اقلیتوں کو دئیے گئے آئینی تحفظات پر عمل آور ی کی نگرانی کی جاسکے۔ اس کے علاوہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ، قومی کمیشن برائے خواتین، قومی کمیشن برائے شیڈولڈ کاسٹس اینڈ شیڈولڈ ٹرائبس، قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات جیسی تنظیموں کا جال بھی سرکار نے قائم کیا، تاکہ اقلیتوں کا تحفظ کیاجاسکے اور ہماری تکثیریت اجاگر ہوسکے۔
تکثیریت کی مضبوط بنیاد
مگر گزشتہ کچھ برسوں سے جو کچھ بھی ہمارے ملک میں ہورہا ہے ،اس سے ہماری روایت کو شدید جھٹکا لگ رہاہے جس کے بارے میں سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے شری چیتنیا مہا پربھو کی 500 ویں جینتی تقاریب کے دوران کہا تھا کہ’’ ہمارے مہذب معاشرہ کی شان کثیر الوجود میں پنہاں ہے اور ملک میں دن بہ دن بڑھتی عدم رواداری اس مہذب معاشرہ کے اقدار کے خلاف ہے۔ کثیرالوجود معاشرہ میں رہتے ہوئے عوام صدیوں سے کثرت میں وحدت کے جذبہ پر عمل پیرا ہیں۔ اس لئے عوام کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں عدم رواداری پیدا ہورہی ہے تو وہ حیران ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آخر ہندوستان میں یہ کس طرح ممکن ہے۔ یہاں ایک نظم و نسق کا نظام کام کررہا ہے۔ یہاں ایک طاقتور دستور ہے اور قانونی حدیں مقرر ہیں۔‘‘
پرنب مکھرجی کی تشویش کی تائید امنیسٹی کی رپورٹ سے بھی ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں ماورائے قانون قتل، ذات پات اور نسلی امتیاز کے تحت انسانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور آزادئی رائے کی خلاف ورزی جیسے انسانی حقوق کی سنگین پامالی کے متعدد واقعات ہوئے ہیںجس سے متاثر ہوکر ملک کے اندر سول سوسائٹی نے مظاہرہ بھی کیا۔ درجنوں ہندوستانی مصنفین، مورخین اور فلمی صنعت کی نامور شخصیات نے اْن قومی اعزازات کو واپس کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا جنہیں حکومت نے انہیں کبھی نہایت شان کے ساتھ پیش کیا تھا۔ اس کے باوجود ہندوستان میں مظاہرے کرنے والے طلبا کی گرفتاریوں، اسکالرز کے قتل اور گائے کے ذبیحہ کی افواہ پر ہونے والی ’ماب کلنگ‘ یا ’ہجوم میں قتل‘ کے واقعات رونما ہوتے رہے جو اس بات کا

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *