ملک کے ادارے خطرے میں ہیں

ملک میںابھی جو صورت حال ہے، اس کے دو پہلوئوں پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ پہلا، لوک سبھا الیکشن سوا سال دور ہے۔فطری بات ہے ،سب لوگ الیکشن کی بات کرتے ہیں، کون لڑے گا، کون نہیں لڑے گا،کونسی پارٹی کس کے ساتھ گٹھ بندھن کرے گی ،نہیں کرے گی، میں اس کو زیادہ اہم نہیں سمجھتا ہوں ۔کیوں؟ اس لئے کہ گجرات الیکشن کے رزلٹ کے بعد ملک کا ماحول بدل گیا ہے۔وزیراعظم بھی جانتے ہیں کہ کیا ہوا ہے؟ جاننا ایک بات ہے اور ماننا دوسری بات ہے۔ پالٹیکل پریشر ہوتے ہیں۔،وہ خود کیسے کہیں کہ یہ ہماری ناکامی تھی، لیکن گجرات ان کا گڑھ تھا، جہاں بارہ سال وزیر اعلیٰ رہے ۔ وہاں سے وزیراعظم بنے ۔ گجرات کوئی پسماندہ ریاست نہیں ہے، وہاں پر اکثریت پانے کے لئے پسینے چھوٹ گئے۔ 92سیٹ اکثریت کے لئے ہوتی ہیں، ان کو 99سیٹیں ملیں۔یہ کیا صورت حال ہے؟کس بات کی فلیشنگ ہے ؟اس بات کی فلیشنگ ہے کہ آپ کے گجرات ماڈل پر کسی کو بھروسہ نہیں ہے۔
کانگریس پارٹی جس کی آپ ’کانگریس مکت بھارت‘ کہہ کر ہنسی اڑاتے تھے، راہل گاندھی کو پپو بولتے تھے۔ ایک دن راہل گاندھی نے سومناتھ مندر میںانٹری کی کہ آپ کے سارے وکٹ اڑ گئے۔کیوں؟سومناتھ مندر تو عوامی جگہ ہے۔ کیونکہ آپ کا جو نیریٹیو تھا کہ یہ نہرو فیملی لادین ہے، ہندوازم کے خلاف ہے، مسلمانوں کو سر پر چڑھا کر رکھتی ہے اور ہم لوگ ہندوئوں کے محافظ ہیں، وہ منہدم ہو گیا۔ بی جے پی ایلائنس کے ایک سینئر لیڈر میرے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ کمل بھائی گجرات میں یہ لوگ جیت تو گئے لیکن آپ دیکھیں گے احمد آباد کے آس پاس ہار گئے ہیں۔ سورت میں جیتے ہیں،بغل میں ہار گئے ہیں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ ای وی ایم میں گڑبڑی ہوئی ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ میں تو یو پی الیکشن سے کہہ رہا ہوں کہ ٹیکنالوجی کا مس یوز کرکے جیتے ہیں۔ بیلٹ پیپر پر الیکشن ہو تو یہ جیت نہیں سکتے۔ بدقسمتی سے اپوزیشن کے لیڈر میری بات سے متفق نہیں ہیں۔صرف ایک لیڈر مایاوتی نے کہا کہ اگلا الیکشن 2019 کا بیلٹ پیپر پر کیجئے،میں دعوے کے ساتھ کہتی ہوں کہ بی جے پی نہیں جیتے گی۔ میں ایک قدم اور آگے جاتا ہوں یو پی اے سرکار اور ان کے طریقہ کار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بدعنوانی کی بات لیجئے۔ بدعنوانی تب دور ہوگی جب معیشت بدلے گی، اچانک نہیں۔کوئی بھی محکمہ لے لیجئے۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ لے لیجئے۔ کسٹم لے لیجئے، ایکسائز لے لئے ،اچانک یہاںکے ملازم اور آفیسر یہ سوچ کر کہ مودی جی آگئے ہیں، پیسہ لینا تو بند نہیں کر دیں گے یہ نہیں ہوسکتا۔ سسٹم تو چینچ ہوا نہیں ،سسٹم وہی ہے، پروسیزر وہی ہے، اس لئے کرپشن بھی وہی ہے بلکہ بدعنوانی بڑھ گئی ہے ۔ایسا لوگ کہہ رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

لوگوں کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کم نہیں ہوئی ہے۔ لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی چینچ نہیں ہے۔ میں نہیںکہتا کہ نریندر مودی خراب وزیراعظم ہیں۔وہ ویسے ہی ہیں جیسے وزیراعظم ہوتے ہیں۔ دائوس سوئٹزرلینڈ میں ایک چھوٹا سا شہر ہے،جہاں 1971 میں پہلی کانفرنس شروع کی گئی تھی۔ پہلے اسے دائوس سمپوزیم بولتے تھے۔ آج کل ورلڈ اکانومک فورم کی میٹنگ کہتے ہیں۔ تین سال 1985,1986اور 1987 میں میں بھی وہاںگیا تھا۔ جاپانی کمپنی کے سارے بڑے سی ای او وہاں آتے ہیں۔ کمپنی چھٹی پر اسکینگ کرنے آتی ہیں۔ اکانومی پر تھوڑا ڈسکشن بھی ہوجاتاہے۔ تب سے میں دیکھ رہا ہوں ،سال در سال ہر ملک کا صدر یا کوئی نہ کوئی آتا ہے۔ اس سال نریندر مودی گئے۔یہ ایسی بات کر رہے ہیں،جیسے کچھ بے مثال ہونے جارہا ہے۔بیس سال پہلے ایچ ڈی گوڑا بھی وہاں گئے تھے۔ جو دیو گوڑ اپہلے کر کے آئے تھے،وہی کرنے آپ بھی گئے تھے۔ صورت حال بدل گئی۔ 20 سال پہلے جو دنیا کی حالت تھی،وہ آج نہیں ہے۔ آج دنیا میں سب جگہ مندی ہے۔ سب لوگ دیکھ رہے ہیںکہ کہاں انوسٹمنٹ کریں کہ انکم ہو۔ اس میں ہندوستان کا نمبر اول ہے۔ آج چین ہے، لیکن لوگ سوچتے ہیں کہ ہندوستان میں انوسٹمنٹ کرنے سے کمائی ہوگی۔ اس لئے ان کا فائدہ ہے۔یہ اثر ہے خود غرضی کا ۔آج سرکار نے دیوالیہ قانون بنا دیا ۔اس کے آفیسر کہتے ہیں کہ غیر ملکی کمپنیاں ہندوستان کی کمپنیوںکو خریدنے میں کافی دلچسپی رکھتی ہیں۔’ میک ان انڈیا‘ ایک طرف اور جو کمپنیاں چل رہی ہیں،وہ غیر ملکیوں کو بیچ دیجئے، یہ کون سی پالیسی ہے؟
ملک کا جو مسئلہ ہے،اس سے اس سرکار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اپنا مسئلہ ہے غریبی کا، بے روزگاری کا،یہ دونوں جڑے ہیں۔ بے روزگاری کی وجہ سے غریبی ہے۔ روزگار پر لوگوں کو لگا دیں۔ جیسے آج کوئیتنخواہ نہیں کماتا ہے،اسے ہزار ،دو ہزار، دس ہزار کی ایک نوکری دے دیجئے۔پیسہ کما کر لائے گا تو اپنے خاندان کا پیٹ پالے گا۔ اس مسئلے پر کوئی دھیان نہیں ہے۔ بی جے پی الیکشن موڈ میں ہے۔ 2014 کا الیکشن جیت گئے۔ تب سے ہر سال الیکشن ہی جیتتے آرہے ہیں ہارتے ہیں لیکن جیتنا ڈکلیئر کردیتے ہیں۔ گوا میں ہار گئے، منی پور میں ہار گئے، جو کانگریس دوسرے پارٹیوں کو پیسہ دے کر کرتی تھی، ویسا ہی کام کیا ۔ کچھ دن پہلے مودی جی کا ٹائمس نائو پر ایک انٹرویو ہوا۔ ایک سوال پوچھا کہ آپ نے کانگریس مکت بھارت کا ذکر کیا تھا۔ آپ اس پر کیا کہنا چاہتے ہیں؟مودی جی نے کہا کہ آپ نے بہت اچھا سوال پوچھا، مجھے خوشی ہے کہ جب میں نے لفظ یوز کیا تو یہ چل پڑا۔ اس کا مطلب کیا تھا، کسی نے مجھ سے پوچھا نہیں ۔کانگریس مکت کا مطلب کانگریس تنظیم یا کانگریس پارٹی سے مطلب نہیں تھا۔ کانگریس کلچر سے ہم کو مکت ہونا ہے۔ مودی جی نے یہ اچھی بات کہی۔ میں تو کہتا ہوں کہ کانگریس کو بھی کانگریس کلچر سے مکت ہونا چاہئے۔ میں سمجھ گیا کہ بی جے پی کے لئے گجرات کے بعد کانگریس مکت کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ جس کی آپ ہنسی اڑاتے تھے، اس نے قریب قریب آپ کو پچھاڑ دیا تھا۔ میرے حساب سے مئی 2014 نریندر مودی کا سب سے خوش بخت وقت تھا۔ اس کے بعد نیچے جاتے گئے۔ 8نومبر 2016 کے بعد تیز گراوٹ آئی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد، جی ایس ٹی کے بعد ، گجرات کے بعد گراوٹ ہی آئی ہے۔یہ تو الیکشن کی بات ہوئی۔ اس سے زیادہ بڑ اخطرہ ملک میں ہے۔
ملک کے دو ادارے اور ایک آدمی کی بات کرتے ہیں۔ ایک انسٹی ٹیوشن سپریم کورٹ، جو آزاد ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا نے جو قدم اٹھائے ہیں، اس کی جتنی مذمت کی جائے ،اتنی کم ہے۔چار سینئر جج کو پریس کانفرنس کرکے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری سنتے ہی نہیں۔ چار جج میں سے ایک چیف جسٹس بننے والے ہیں۔ ان کے خلاف توہین آمیز لفظ استعمال کئے گئے۔ اس سے مجھے ایک شعر یاد آگیا کہ’ تم سے پہلے جو شخص یہاں تخت شاہی تھا، اسے بھی اپنے خدا ہونے کا اتنا ہی یقیں تھا‘۔ سرکار ی یاآدمی مستقل نہیں ہے، لیکن انسٹی ٹیوشن مستقل ہے۔ اگر سپریم کورٹ کو نقصان پہنچے گا تو ملک کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس کو قدم اٹھانے پڑیںگے اور اگر نہیں کر سکے تو ان کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ دوسرے تھے چیف الیکشن کمشنر ، سرکار نے ایک ایسے آدمی کو چیف الیکشن کمشنر بنایا تھا جو گجرات کا چیف سکریٹری تھا۔ مودی کے آدمی تھے۔ لیکن یہ ہندوستان ہے، اس میں بہت دم ہے۔ احمد پٹیل کو الیکشن ہرانے کے لئے سرکار نے پوری طاقت لگا دی لیکن نہیں ہو پایا۔ اب جاتے جاتے عام آدمی پارٹی کے بیس ایم ایل ایز کو نااہل قرار دے دیا۔ کوئی پان والابھی مجھے کہہ دیتا ہے کہ غلط ہو رہا ہے، کیونکہ ہر اسٹیٹ میں ایسے پارلیمنٹری سکریٹری ہیں۔ آپ پاور کا بے جا استعمال کر کے کب تک عوام کی آواز دبائیں گے ۔الیکشن کمیشن بھی خطرے میں ہے۔ سپریم کورٹ بھی خطرے میں ہے۔ تیسرے ایک آدمی ہیں جو اس وقت چیف آف آرمی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر چیز کو آپ ہندو مسلمان کی نظر سے دیکھیں گے تو ملک چلے گا ہی نہیں۔ اب پاکستان میں کسی نے کچھ بیان دیا، اس کا جواب آرمی چیف دے رہا ہے۔یہ کیا ہے؟یہ تو ہم پہلے پاکستان کے خلاف شکایت کرتے تھے کہ وہاں وزیراعظم کی چلتی ہے یا آرمی چیف کی چلتی ہے۔ یہاں تو پرائم منسٹر پاور میں ہیں ،ڈیفنس منسٹر ہے، لیکن آرمی چیف بیان دیتا ہیتو اس کو کوئی ٹوکتا نہیں ہے۔ اس کو کوئی ڈانٹتا بھی نہیں ہے۔ ابھی ڈیفنس منسٹر ایک خاتون کو بنا دیا گیا ہے۔وہ آرمی چیف کو تو روکیں کہ تمہارا کام سیاسی بیان دینا نہیں ہے۔ کشمیر کو لے کر آرمی چیف بیان دیتا ہے کہ یہاں کی ایجوکیشن ٹھیک نہیں ہے۔ اس سے آرمی کا کیا لینا دینا ہے؟آپ کو لگتا ہے کہ کشمیر کی حالت سرکار کی پالیسیوں سے بگڑی ہے تو آپ جاکر وزیراعظم سے بات کیجئے، وزیر دفاع سے بات کیجئے،پریس کانفرنس کیوں؟یہ سویلین کنسٹی ٹیوشنل سرکا ر میں نہیں ہو سکتاہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مجھے خطرہ یہ نہیں لگ رہا ہے کہ الیکشن کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔مودی جی جیتیں ۔عوام انہیں ووٹ دیں گے تو وہ جیتیں گے لیکن مودی جی دو کام کریں۔ایک بیلٹ پر الیکشن کرائیں۔تاکہ شک نہ رہے۔ ای وی ایم سے کرائیں گے تو ہمارے جیسے لوگ تو بولیں گے ہی کہ غلط ہوا۔ نمبر دو، آپ آدھار بالکل ہٹادیجئے۔یہ دونوں ٹکنالوجی پرمبنی ہیں۔ٹکنالوجی کا استعمال بھی ہو سکتاہے اور بے جا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ انسا ن کا دماغ شیطان ہوتا ہے۔ ایک چاقو بنایا ، جس سے سرجری بھی ہو سکتی ہے اور خون بھی ہو سکتاہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک سنگین صورت حال سے گزر رہاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟حل یہ ہے کہ سارا اپوزیشن ایک ہو جائے کہ بیلٹ پر الیکشن نہیں ہوگا تو ہم الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے۔ عوام سڑک پر آئیںگے تو نہ الیکشن کمیشن بچے گا اور نہ سپریم کورٹ بچے گا۔ یہ مجھے کہنا پڑے گا کہ چیف جسٹس مشرا اس پریس کانفرس کے بعد خود سمجھ گئے ہیں۔ ارون مشرا، جن کے سامنے جسٹس لویا کی موت کا معاملہ تھا، انہوں نے اگلے دن کہہ دیا کہ کیس کو مناسب بینچ کے پاس بھیج دیا جائے۔ اس کیس سے جسٹس ارون مشرا الگ ہو گئے۔ بہت اچھا کام کیا۔ انہوں نے بہت ہی شفافیت دکھائی اور چیف جسٹس کو بھی چاہئے کہ جتنے اہم کیس ہیں، جو سرکار سے تعلق رکھتے ہیں ،انھیںپانچ سینئر جج کو سننے چاہئیں۔ ایک اور سوال آتا ہے کہ ایک سدھار کے بارے میں سپریم کورٹ کو بھی سوچنا چاہئے۔ امریکہ کے سپریم کورٹ میں گیارہ جج ہیں۔ ہر کیس گیارہ جج ساتھ میں بیٹھ کر سنتے ہیں۔ بینچ نہیں ہے۔ گیارہ جج ایک ساتھ جو بولتے ہیں، وہی ہوتا ہے۔ انڈیا میں بھی یہ بینچ سسٹم ہٹانا چاہئے۔ اگر پچیس جج ہیں تو نو نو جج کی تین بینچ بنا دیجئے۔ نو آدمی ساتھ میں کیس سنیں۔ آپ ایک یا دو جج کو کیس الاٹ کر دیتے ہیں۔ انسان تو کمزور ہی ہوتا ہے۔ کوئی کہے کہ آدمی ، بھگوان ہے تو ایسا نہیں ہے۔ ملک میں انسٹی ٹیوشنل کرائسس آرہا ہے۔ مودی جی کو فکر ہے وزیر اعظم بننے کی۔ امیت شاہ کو فکر ہے سائوتھ میں جیتنے کی۔ اگر راہل گاندھی مقبول نہیں ہیں تو نہیں جیتیں گے اور اگر ہیں تو آپ روک نہیںپائیں گے۔ جمہوریت یہی تو ہے۔ لیکن شفاف الیکشن ہونا چاہئے ۔ اپوزیشن کے ایک سنجیدہ لیڈر، ہمارے دوست ہیں یشونت سنہا، بی جے پی میں ہیں۔ انہوں نے شیشہ دکھایا بی جے پی کو کہ ملک کی صورت حال کیا ہے تو بی جے پی ان سے ناراض ہو گئی۔ سرکار کیا چھوڑ کر جائے گی۔ ملک برباد کر کے جائیں گے تو تاریخ میں نام کیسے ہوگا آپ کا؟پاکستان اور ہم ساتھ ساتھ آزاد ہوئے تھے۔ پہلے گیارہ سال میں پاکستان میں سات وزراء اعظم بدل گئے ۔انڈیا میں پاکستان جیسی صورت حال مت پید اکیجئے۔ ابھی تک ٹھیک ہے۔ الیکشن جیتنے کے لئے نقصان مت کیجئے ملک کا۔ دائوس سے اس ملک کا کوئی بھلا نہیں ہونا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری اپنی رفتار سے آئے گی ۔یہ بجٹ ارون جیٹلی صاحب کا آخری بجٹ ہے، اس سرکار کا۔ایک موقع ہے کہ کچھ کریں کسانوں کے لئے۔ کسان بہت تکلیف میں ہیں۔اب ایک سال میں نیا روزگار پیدا تو نہیں ہو سکتا۔ لیکن کسانوں کو کچھ راحت دیجئے۔ چھوٹے صنعتکاروں کو، کیرانہ دکانوں کو کچھ راحت دیجئے۔ انہیں جی ایس ٹی نے مار دیا ہے۔ کل ملاکر یہ کہ ملک خطرے کی طرف بڑھ رہاہے ۔جمہوریت جس کو 70 سال سے سینچ کر یہاں تک لایا گیاہے، وہ خطرے میں ہے۔ آر ایس ایس کو کچھ اعتراض نہیں، کیونکہ جمہوریت میں اس کا بھروسہ ہی نہیں ہے۔ آر ایس ایس والے سمجھتے ہیں کہ ہندو راج آگیا ہے، ہندواشٹر آگیا ہے۔ وہ سمجھ ہی نہیں رہے ہیں کہ ہندو راشٹر کیا ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکاہوں اور دوبارہ کہتاہوں ہندو میںسناتن دھرم ہے۔رگوید ہماری بنیادی دستاویز ہے، اس کے ایک اشلوک کا مطلب ہے کہ اچھے خیال ہر طرف سے آنے دو۔ ہر کھڑکی دروازہ کھلا رکھو۔ یہ لوگ ہندوئوں کا ووٹ بینک بناتے ہیں اور رڈرا کر بناتے ہیں کہ مسلمان کی آبادی بڑھ جائے گی ،ہماری کم ہو جائے گی۔ اب اس ملک میں انگریزوں کی بانٹو اور راج کرو کی پالیسی نہیں چلے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *