ملک دو پارٹی سسٹم کی جانب بڑھ رہا ہے

ایک بہت عجیب سوال دماغ میں بار بار کوندھ رہا ہے۔ کیا راجستھان میں بی جے پی کے امیدواروں کی ہار کے بعد کاس گنج جیسے واقعات ملک میں بڑھیں گے؟ویسے کاس گنج کے واقعہ کا راجستھان میں بی جے پی کو کوئی فائدہ نہیں ملا، لیکن یہ لوگوں کا ڈر ہے۔ ڈر اس لئے ہے کیونکہ اس پورے پیغام میں یا روایت میں ،جو آج کل سرکار کا لفظ ہے، اس میں فرقہ وارانہ اعتماد ، مذہبی غیر جانبداریت اور مسلمان غائب ہیں ۔بھلے ہی وہ 15 یا 20 فیصد ہوں، لیکن اقتدار کے لئے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جتنی اسکیمیں بنتی ہیں، اب وہ اسکیمیں سب کے نام پر بنتی ہیں، لیکن سب میں سے کچھ کو نہیں مل پاتاہے۔یہ آج کا موضوع نہیں ہے۔ آج کا موضوع ہے کہ کیا بی جے پی نے گجرات کی ہار سے کوئی سبق سیکھا؟ہم نے گجرات الیکشن کے بعد لکھا تھا کہ شاید بی جے پی سبق نہیں سیکھے گی اور اس نے سبق نہیں سیکھا۔ راجستھان کا انتہائی اہم گڑھ بی جے پی کے ہاتھ سے نکل گیا۔ الیکشن کے درمیان میں ریفائنری کا افتتاح ہوا اور یہ کہا گیاکہ راجستھان میں کانگریس نے صرف پتھر لگائے، ہم ان اسکیموں کو پورا کریں گے ۔انہوں نے اس اجلاس میں یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ کب اس کا افتتاح کریں گے؟ توقع ہے ،بی جے پی اس وعدے کا دھیان رکھے گی۔
بی جے پی کی ایم ایل اے کیرتی کماری کی موت کے بعد خالی ہوئی سیٹ نگریس کو چلی گئی۔ الور میں بلکہ اجمیر میں لوک سبھا سیٹ پر کانگریس کا مقابلہ بی جے پی کے وفات پائے ممبر پارلیمنٹ کے بیٹے سے تھا۔ انہیں شاید اس لئے کھڑ اکیا گیا تھا کہ انہیں لوگوں کی اس ہمدردی کا فائدہ ملے گا لیکن بی جے پی امیدوار کو والد کی موت کی ہمدردی کا کوئی فائدہ نہیںملا ۔ سوال کون ،کتنے سے جیتا، یہ نہیں ہے۔حالانکہ جیت و ہار ہی معنی رکھتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ جو سیٹیں 2014 میں کانگریس کتنے لمبے فرق سے ہاری تھی، اس بار کی سیٹیں وہ آسانی سے جیت گئی۔
گجرات کے بعد بی جے پی کے سامنے یہ موقع تھاکہ وہ جنگی سطح پر اپنی پالیسیوں میں بدلائو کرے اور کسانوں کے لئے خاص طور پر اسکیمیں بنائے۔ بی جے پی نے اپنے بجٹ میں کسانوں کے لئے سیدھے نئے راستے نہیں کھولے۔ کسانوں کی سب سے بڑی مانگ، جو پورے ملک کے ساتھ راجستھان میں بھی اہم ہے، سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ کو لاگو کیا جائے۔ الیکشن میں بھی وزیراعظم نے اس کا وعدہ کیا تھا کہ لاگت میں 50 فیصد جوڑ کر کسانوں کو اس کی قیمت ملے گی۔ وہ وعدہ تب بھی پورا نہیں ہوا اور اب بھی یہ وعدہ صرف وعدہ ہی ہے۔ 2019 میں اگر بی جے پی پھر سے مرکز میں سرکار بناتی ہے، تب شاید اس وعدے کے پورا ہونے کی باری آئے۔

 

 

 

 

 

 

 

کسانوں کی پیداوار کس طریقے سے صحیح قیمت پر بکے؟کیسے وہ بغیر دلالوں کے بازار میں پہنچے؟کیسے کسانوں کے بچے اپنی زندگی میں مایوسی کی جگہ امید کا اجالا دیکھیں؟ان سب چیزوں پر یہ بجٹ بالکل خاموش ہے۔ ایک طرف وزیر خزانہ کے ذریعہ بجٹ پڑھا جارہا تھا، دوسری طرف راجستھان کے الیکشن کے نتیجے آرہے تھے۔راجستھان کے کسانوں میں بی جے پی کی سرکار کو لے کر بہت غصہ ہے۔ وہ اپنے وزیراعلیٰ سے بہت ناراض ہیں۔ ہم نے اپنی دو رپورٹ میں یہ بتایا تھا کہ اس بار کی وسندھرا سرکار انتظامی سطح پر بھی لگ بھگ ناکام ہو چکی ہے ۔ ہم نے نام لے کر وجہ بھی بتائے تھے کہ کیسے وہاں کی بیوکریسی میں ایک منفی، مایوسی کا اثر ہے۔مایوسی اپنے آپ میں منفی ہوتی ہے، لیکن یہ خطرناک مایوسی ہے۔ اس وجہ سے لوگ وسندھرا راجے سندھیا سے بری طرح ناراض ہیں۔ ہم نے گجرات کے بعد اپنے تجزیہ میں یہ بھی رائے رکھی تھی کہ اس ہار سے، جسے کانگریس جیت میں بدل سکتیتھی ، کانگریس بھی کوئی سبق نہیں سیکھے گی۔ کانگریس نے سچ مچ کوئی سبق نہیں سیکھا ۔راجستھان میں اسمبلی اور لوک سبھا میں بی جے پی کی ہار کانگریس کی جیت نہیںہے ۔ یہ بی جے پی کی عوام سے ہار ہے۔ راجستھان میں بی جے پی کے خلاف عوام ہوگئے۔ اس لئے اس نے دوسرے دستیاب ہتھیار کانگریس کو اپنا سپورٹ دیا۔ ظاہر ہے کانگریس اس جیت سے باغ باغ ہو جائے گی اور وہ راجستھان میں اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے کی جگہ استقبال کے دور میں گھس جائے گی۔ نتیجے کے طور پر لوک سبھا الیکشن یا ابھی آنے والے معمول کے اسمبلی الیکشن میں کانگریس کو بہت مشکلیں آسکتی ہیں۔ ابھی راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کا بھی الیکشن ہونا ہے۔
کانگریس کی مشکلیں ایک طرف ہیں لیکن بی جے پی کو کیا ہو گیا، جو زمین سے اٹھتی ہوئی آواز کو بھی نہیں سن رہی ہے، جو اپنے وعدوں کو زمین پر اتارنے میں پس و پیش کررہی ہے۔ بی جے پی کو لوک سبھااور ریاستوں کی اسمبلی کے انتخابات میں سب سے زیادہ سپورٹ اس لئے ملا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ہر جگہ اپنے نام پر ووٹ مانگے تھے۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ریاستوں کی وکاس کے لئے میں ذمہ دار ہوں۔ لوگوں نے دیکھا کہ ریاستوں کے وکاس کے نام پر وزیراعظم کی مداخلت کسی بی جے پی کی ریاستی حکومت میں نہیں ہے۔ وزیراعظم راجستھان کی انتظامی لاپرواہی پر آبکھیں بند کئے رہے۔ راجستھان میں بی جے پی کے ایم ایل اے امیت شاہ سے مل کر جتنی شکایت کر سکتے تھے، انہوں نے کی لیکن وہ شکایت صرف امیت شاہ تک رہی۔ اگر وزیراعظم مودی کو وہ شکایت ملی بھی ہوگی تو انہوں نے اس پر دھیان نہیں دیا، اسی لئے راجستھان میں یہ الیکشن کے نتائج سامنے آئے۔ میں اپنی اس سوچ کو پھر سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ راجستھان میں یہ کانگریس کی جیت نہیں ہے۔یہ بی جے پی کی عوام کے ہاتھوں ہار ہے۔ کانگریس جتنی خوش فہمیاں پالے گی، بی جے پی کے لئے لوک سبھاالیکشن اتنا ہی آسان ہو جائے گا۔
مغربی بنگال کی تو میں بات ہی نہیں کرتا ہوں۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی نے ایک بار پھر یہ بتا دیاکہ وہ اب بھی بنگال کی لاڈلی ہیں اور بنگال کے لوگ انہیں ہی اپنا لیڈر مانتے ہیں۔دہلی میں ممتا بنرجی کو جتنا بھی الگ تھلگ سمجھا جائے، بنگال کے لوگ تو ممتابنرجی کو ہی حمایت دے رہے ہیں۔
سب سے افسوسناک صورت حال کمیونسٹ پارٹی کی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کو اولوبیریا لوک سبھاسیٹ پر صرف 8576 ووٹ ملے، جبکہ ٹی ایم سی کو 40829 ووٹ ملے۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کو بی جے پی کے مقابلے کافی کم ووٹ ملے ۔ بی جے پی کو 17625 ووٹ ملے ۔وہ دوسرے نمبر پر رہی لیکن اس میں اور ٹی ایم سی میں کافی فرق دکھائی دیا۔ راجستھان میں سچن پائلٹ کا کہنا ہے کہ عوام سرکار کے خلاف ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری بڑھوتری برقرار رہے گی۔ سچن پائلٹ بھی کچھ زیادہ خوش فہمی میں ہیں۔

 

 

 

 

 

 

سب سے افسوسناک صورت حال تیسرے فریق کی ہے۔ یشونت سنہا نے ’راشٹر فرنٹ‘ بنایا۔ باقی جتنی بھی کانگریس اور بی جے پی سے باہر کی پارٹی ہیں، جو کبھی تیسرے مورچے کے اتحاد مانے جاتے تھے ،وہ سارے اپنا ایک گٹھ بندھن نہیں بنا پارہے ہیں۔ جب میں نے راجستھان کے لوگوں سے پوچھا تو ان لوگوں نے صاف کہا کہ کوئی متبادل ہی نہیں ہے۔ اگر متبادل ہوتا تو وہ شاید اس متبادل کو ووٹ دیتے ۔یہ بات ہر اسمبلی اور لوک سبھاسے اٹھ کر آرہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کا آپس میں کسی طرح کا رابطہ نہیں ہے۔ انتخابی رابطہ تو بہت دور کی بات ہے۔ شاید اسی لئے یشونت سنہا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم الیکشن نہیں لڑنے والے ہیں، ہم مہم چلائیں گے، ہم آندولن کریںگے۔ وہ اب بھی بی جے پی میںبنے ہوئے ہیں۔ شتروگھن سنہا بھی بی جے پی میں بنے ہوئے ہیں۔یہ سیاست کی جو عجیب و غریب صور تحال ہے، اسے عوام سمجھ رہے ہیں۔ شاید اس لئے وہ اس وقت آزاد امیدواروں کے حق میں نہیں ہیں۔ اگر آزاد جیتے تو پھر وہی پراناآیا رام ،گیا رام کا کھیل شروع ہو جائے گا۔ جو مضحکہ خیز صورت حال ہے ،وہ یہ کہ یا تو کانگریس یا بی جے پی۔عوام کے سامنے کوئی متبادل ہے ہی نہیں کہ وہ کسی تیسرے کو چنیں۔ نتیش کمار اپوزیشن کو چھوڑ کر برسراقتدار پارٹی کے ساتھ جابیٹھے۔وہی اپوزیش کی اکیلی توقع تھے۔ انہیں وزیر اعظم مودی نے اپنی ٹیم میں شامل کرلیا۔
راجستھان الیکشن سبھی کے لئے اشارے ہیں۔ بی جے پی کے لئے کہ وہ پھر سے ساری اسکیموں کا اعلان چھوڑ کر ان میں سے جو بھی عمل میں آسکتی ہے، انہیں عمل میں لے آئیں۔ کسانوں کو اندیکھی نہ کریں۔ ان کے لئے سچ مچ وہ قدم اٹھائیں جو ان کی زندگی میں بدلائو لا سکتے ہیں۔ نہ کہ کسان بیمہ جیسے قدم جو ویسے ہی فلاپ ہو جائے گا ،جیسا کہ فصل بیمہ فلاپ ہوئی۔ کانگریس خوش فہمی میں رہے گی اور اپوزیشن کے لوگ اپنی آنکھوں میں آنسو لئے کبھی کانگریس کے دروازے جاتے دکھائی دیں گے تو کبھی بی جے پی کے۔
لیڈروں کی کاہلی سے ملک دو پارٹی کے طریقہ کار کی طرف بڑھ رہاہے۔ اگر دو پارٹی کا طریقہ کار رہاتو پھر ملک میں صدر راج کے طریقہ کار جیسی صورت حال کبھی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ لوگوں کو تھوڑ اڈر ہے کہ مرکزی سرکار اسی پالیسی کے اوپر چل رہی ہے۔ راجستھان کی سرکار ، راجستھان کا اپوزیشن اور راجستھان کے عوام ان تینوں نے ملک کو اشارے تو کافی دیئے ہیں۔انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *