چسپاں پوسٹر میں بنگلہ دیشیوں کو ایک ماہ میں دیوبند چھوڑنے کاانتباہ

Postar
ممتاز دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کے اطراف میں شرارتی عناصر کے ذریعہ بنگلہ دیشیوں کی مخالفت میں چسپاں کیاگیا پوسٹر بحث کا موضوع بنا ہواہے، یہ پوسٹر ایسے وقت میں سامنے آیا جب دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی بنگلہ دیش کے دس روزہ دورہ پر ہیں،ان پوسٹروں کو لیکر خفیہ محکمہ مستعد ہوگیا۔سنیچر کی رات کو دارالعلوم دیوبند کے علاقہ میں واقع کئی مساجد میں کے باہر کسی نامعلوم شخص نے یہ پوسٹر چسپاں کئے ہیں،حالانکہ ان پوسٹروں میں نہ تو پریس لائن ہے اور نہ ہی کسی خاص شخص کا نام درج ہے۔
پوسٹر میں یہ تحریر کیاگیاہے کہ ’تمام بنگلہ دیشی لڑکوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر دیوبند چھوڑ کر بھاگ جائیں یا اپنی بیہودہ حرکتوں سے باز آئیں،ورنہ ایسا حال کرونگا کہ آخری سانس تک یاد رہے گا،بنگلہ دیش سے چوری چھپے یہاں آنے کا مطلب ہم تم کو ضرور بتائینگے،پوسٹر میں بنگلہ دیشیوں کے لئے غیر مہذب زبان کا بھی استعمال کیا گیاہے‘۔مذکورہ پوسٹر کو جب اتوار کی صبح لوگوں نے دیکھا تو ان پوسٹروں کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ حالانکہ یہ پوسٹر آج دن بھر بحث کا موضوع بنا رہاہے۔ حضرت نظام الدین دہلی میں واقع تبلیغی مرکز کے ایک گروپ کے سربراہ مولانا سعد کاندھلوی کو کچھ لوگوں کے ذریعہ گزشتہ دنوں بنگلہ دیش سے نکالے جانے کے بعد اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی کے بنگلہ دیش کے دورہ پر ہونے کے سبب امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ یہ پوسٹر ایسے لوگوں کی جانب سے چسپاں کئے گئے ہیں جو دارالعلوم دیوبند اور تبلیغی جماعت کی وقتی تلخیاں کو دور نہیں ہونے دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اردو زبان میں تحریر اس پوسٹر میں اردو کی کئی لفظی غلطیاں ہونے کی وجہ سے اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ اردو زبان کی کم معلومات رکھنے والے کسی شخص نے شرارت کے طورپر اس پوسٹر کو تحریر کرکے چسپاں کیا ہے ۔بہر حال پوسٹر کے سامنے آنے کے بعد خفیہ محکمہ کے کان کھڑے ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ دیوبند میں درجنوں میں تعلیمی ادارہ ہیں جہاں تعلیمی ویزا لیکر بنگلہ دیش کے طلباء تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں،یہ بھی قیاس لگائے جارہے ہیں دیوبند میں لیگل ویزا لیکر زیر تعلیم طلباء کو اس پوسٹر کے ذریعہ نشانہ بنایا گیاہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *