’ذرائع ابلاغ کی اہمیت ومسائل وامکانات‘کے موضوع پرمسابقہ منعقد

phulat
تنظیم ابنائے جامعہ کے شعبہ صحافت کے زیر انتظام جامعہ امام ولی اللہ اسلامیہ پھلت کے لیکچر ہال میں ’’ذرائع ابلاغ کی اہمیت ومسائل وامکانات‘کے موضوع پرمسابق�ۂ خطابت کا انعقاد عمل میں آیا ۔صدارت مہتمم جامعہ مولانا ڈاکٹر محمد طاہر ندوی نے کی ،مہمان خصوصی کی حیثیت سے’ روز نامہ خبریں‘ کے ایڈیٹر ان چیف اور ملک کے مایہ ناز صحافی قاسم سید نے شرکت کی۔ا جلاس کو صدارتی خطاب میں مولاناڈاکٹر محمد طاہر ندوی نے کہاکہ جھوٹ اور خیانت سب سے بڑا سماجی جرم ہے ،خواہ میڈیا کے ذریعہ بولا جائے یا کسی فرد واحد کے ذریعہ ،میدان صحافت میں امین بن کر سچائیوں کو سامنے لانا ضروری ہے ، ہمیں موجودہ نہج کو تبدیل کرنے کے لئے صحافت میں افراد کی ذہن سازی کرنی چاہئے ،تاکہ سماج حقیقت سے واقف ہو ،سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق آگے نہ بھیجا جائے یہی آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ بنتا جا رہا ہے ۔مولانامحمد طاہر ندوی نے مزیدکہا کہ سوشل میڈیا کو مثبت طریقہ پر استعمال کریں تاکہ ایک بہتر سماج کی تشکیل ہوسکے۔ نفرتیں ختم ہوں اور محبت کو پروان چڑھایاجائے ، مذہبی رواداری کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیاجاسکے۔ ہمیں اپنے اکابر کے آثار زندگی کو نشانِ راہ بنانے کی ضرورت ہے۔میڈیا کے ذریعہ جوکردار کشی کی جارہی ہے اس کے تعلق سے ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔
مہمان خصوصی قاسم سید نے کہا میڈیا ہمارے ملک میں سیاسی اور سماجی سطح پر مکمل طور سے اثر انداز ہورہاہے، انسانی زندگی سے جڑے ہوئے مثبت اور منفی پہلوؤں پر میڈیا کی اثر انگیزی جگ ظاہر ہے، مگر آج ہمارے ملک ہی میں نہیں عالمی سطح پر سوشل میڈیا نے جو انقلاب برپا کیا ہے اس کو ہمیں ایماندارانہ صحافت کے ذریعہ طاقت ور بنانے کی ضرور ت ہے، سوشل میڈیا کی اہمیت اس لئے بھی مسلم ہے کیونکہ آج مین اسٹریم میڈیا کا کردار مشکوک ہوتا جارہاہے، وہ پلاننگ کے تحت فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش میں لگا ہواہے، ایسے میں سوشل میڈیا کے ذریعہ ہم اپنی بات کو صحیح طریقہ پر سامنے لاکر عوام کو حقیقت کا آئینہ دکھا سکتے ہیں، جہاں تک مین اسٹریم میڈیا کا سوال ہے اس میں بہت سے میڈیا سینٹر اور صحافی عوام کے مسائل کو بلا کسی تفریق کے سامنے لاتے ہیں، ہزار خطروں کے باوجود وہ سچائی کو سامنے لانے سے نہیں چوکتے ہمیں انکا احترام کرنا چاہئے۔ اس پروگرام میں میرٹھ سے تشریف لائے وسیم اکرم تیاگی نے کہا کہ آج مذہبی منافرت پھیلانے میں میڈیا اہم رول ادا کررہا ہے جبکہ سماج کے اہم مسائل بے روزگاری اور تعلیم جیسے اہم مسائل میڈیا کی سرخیاں نہیں بن پاتے ۔ اقلیتوں کو ڈرا کر ملک میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی ہر وقت کوشش کی جارہی ہے ، ضرورت ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان ایماندارانہ صحافت کا آغاز کرے اور سوشل میڈیا اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ مین اسٹریم میڈیا اگر کسی خبرکو نہیں دکھاتا ہے تو ہم عوام کے سامنے سچائی ایمانداری کے ساتھ پیش کریں۔ قبل ازیں مولاناموسی قاسمی مظفر نگراور نثار احمد صدیقی اور مولانا صابر حسین قاسمی میوات نے طلباء کوخطاب میں میڈیا کی تعریف ، حقیقت اور صحافت کی باریکیوں سے روشناس کراتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی بات کہنے کے لئے کسی سے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔مسابقہ خطابت کا آغاز طالب علم محمد زکریا کی تلاوت قرآنی اور عبدالرب حماد ندوی کی نعت سے ہوا ،جبکہ اعظم صدیقی ندوی نے ترجمہ آیات بیان کیا،نظامت کے فرائض شعبہ صحافت کے ذمہ دار سید حفظ القدیر ندوی نے انجام دئیے اور سوشل میڈیا میں علماء کی ذمہ داریوں پر مفصل روشنی ڈالی ۔
حکم کے فرائض عالی جناب قاسم سید ،موسی قاسمی اور ذیشان اسرار ندوی نے انجام دئیے ۔ مولانا وصی سلیمان ندوی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا صحافت کے شعبہ کے تحت یہ مسابقہ ایک نئی ابتدا ہے جو تنظیم ابنائے جامعہ کے شعبہ صحافت کا ایک انقلابی اقدام ہے ، عالمی سطح پر ہماری دینی دعوتی اور سماجی ذمہ داری ہے کہ جامعہ سے تعلق کی بنا پر ہم حقیقت سے عوام کو واقف کرانے کی پیش رفت کا حصہ بنیں ۔تنظیم کے کنوینرڈاکٹر محمد عاشق صدیقی ندوی نے استقبالیہ پیش کیااور پروگرام کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی ۔جامعہ کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر محمد سلیم صدیقی نے مہمانوں کو اعزازیہ پیش کیا ۔معتمدشعبہ صحافت ولی الدین ولی شمالی ندوی نے کلمات تشکر میں میڈیا کی معنویت اورضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی خبر کو آگے بیان کردے ،اس لئے ضروری ہے کہ ہم بغیر تحقیق کے کوئی بات آگے نہ کہیں یہی آج کے سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کی شاہ کلید ہے ،اسی سے امتیاز پیدا ہوگا۔اس موقع پر مسابقہ خطابت میں اول پوزیشن طالب علم عثمان عباس سہارنپوری ،دوم واصل احمدپانی پت اور سوم عبدالسمیع نے حاصل کی،جنہیں توصیفی سند ،نقد انعام اورشیلڈعطا کی گئی جبکہ دو درجن کے قریب دیگر مساہم طلباء کو شرکت کی اعزازی سند سے بھی نوازا گیا ۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں بزم ولی اللہی کے اراکین و طلبائے جامعہ نے اہم خدمات انجام دیں ۔اس موقع پرمولانا محمد عمر ناصحی ندوی،مولانا محمد دلشاد قاسمی ،محمد فیصل صدیقی ندوی،عبدالماجد ندوی، عبدالعلیم رشید ندوی ،مسرت علی ندوی ،احمد ممشاد ندوی،راحت علی صدیقی قاسمی،قاری محمد اعظم ،قاری نعمت اللہ ہاشمی ،جرنلسٹ محمد ریان صدیقی، محمد عازم ندوی ،محمد محسن مومن ندوی ، ذبیح الرحمن ندوی ،مجیب الرحمن صدیقی ندوی ،سلمان مغیثی ندوی،حارث ندوی ،شاہنواز کلیانپوری سمیت دیگرابنائے جامعہ کے ذمہ داران و غیرہ موجود تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *