رکن اسمبلی ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے سہارنپورمیں واقع شیخ الہند میڈیکل کالج کانام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا

Shekhul-Hind-Medical-college
شیخ الہند میڈیکل کالج سہارنپور اپنی ابتدائی ہی سے تنازعات کے گھیرے میں ہے ،جہاں شروع ہونے کے چار سال بعد تک کالج میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور معاہدہ ملازمین تنخواہوں کے لئے حکومت اور افسران کے چکر کاٹ رہے ہیں وہیں یہ کالج اپنے نام کو لیکر بھی شروع سے ہی سرخیو ں رہاہے ،اب ریاستی وزیرو نکوڑ سے رکن اسمبلی ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے وزیر اعلیٰ کو ایک مکتوب ارسال کرکے ایک مرتبہ پھر کالج کا نام تبدیل کئے جانے کامطالبہ کیاہے اور سابقہ حکومت میں تبدیل کئے گئے نام کو حکومت کی ایک طبقہ کی خوشامدی قرار دیاہے۔سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کے ڈریم پروجیکٹ میں شامل یہ کالج گزشتہ چار سال سے اپنے نام تبدیلی کو لیکر مسلسل تنازعات میں ہے،کبھی رکن پارلیمنٹ تو کبھی دیگر بی جے پی لیڈراس کے نام تبدیل کئے جانے کی مانگ کرتے رہے ہیں اتنا ہی نہیں بلکہ بی ایس پی بھی اس کالج کا نام بدلنے کو لیکر کافی خفا ہے۔
اس سلسلہ میں  نکوڑ سے رکن اسمبلی و ریاستی وزیر ڈاکٹر دھرم سنگھ سینی نے اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ کو مکتوب ارسال کرکے کہاکہ سہارنپور کے انبالہ روڈ پر واقع شیخ الہند مولانا محمود الحسن میڈیکل کالج ہے ،سابق سماجوادی حکومت نے اس میڈیکل کالج کانام کانشی رام میڈیکل کالج سے بدل کر شیخ الہند میڈیکل کالج کردیا تھا،اس نام تبدیلی سے ضلع کے لوگوں میں کافی اشتعال ہے، سابقہ حکومت نے یہ کام محض ایک طبقہ کو خوش کرنے کے لئے کیا تھا،اس کالج کا اتنا بڑا نام رکھنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ہے ،عام آدمی کو کالج کا پورا نام بتانے میں بھی کافی مشکل ہوتی ہے۔ مکتوب میں وزیر سے مطالبہ کیاہے کہ اس کالج کا نام کسی تاریخی ،سماجی اور سیاسی عظیم شخصیت کے نام سے منسوب کیا جائے۔
واضح رہے کہ سہارنپو رکے پلکھنی میں واقع شیخ الہند میڈیکل کالج سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کا ڈریم پروجیکٹ تھا ،جس کو انہوں نے کانشی رام میڈیکل کالج کے نام سے سہارنپور کے انبالہ روڈ پر سال 2009ء میں شروع کیا تھامگر سابق سماجوادی حکومت نے کالج کا افتتاح کے موقع پر اس کالج نام کانشی سے بدل کر شیخ الہند مولانا محمود حسن میڈیکل کالج کردیا تھا۔ جس کو لیکر اس وقت بھی بی ایس پی اور بی جے پی سمیت مسلمانوں نے بھی ناراضگی کااظہارکرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا تھا شیخ الہند کے نام پر نئے کالج کا قیام عمل میں لایا جائے کسی دوسری شخصیت کا نام بدل شیخ الہند کا نام نہ کیا جائے۔ خیال رہے کہ پارلیمانی انتخابات کے مدنظر بی جے پی لیڈران نے اس قسم کے مسائل اٹھاکر ووٹوں کی تقسیم کی سیاست شروع کردی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *