ندا فاضلی کی دوسری برسی پر شعبۂ اردو کروڑی مل کالج میں تقریب کا انعقاد

KMC
ہندوستان کو اپنے ایسے شاعروں ،فن کاروں ،ہنر مندوں اور مفکرین پر ہمیشہ ناز رہا ہے جنھوں نے سیکولرزم اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا اور اسے عام کر نے کے لیے تن من دھن کی بازی لگا ئی ہے۔معروف نغمہ نگار،دہاگو اور جدید نظم کے بانیوں میں شامل ایک اہم نام ندا فاضلی کا شمار ایسے ہی افراد میں ہوتا ہے جنھوں نے زندگی بھر سیکولرزم اور انسانیت کو فروغ دیا۔مذکورہ خیالات کا اظہار آج یہاں کروڑی مل کالج، دہلی یونیورسٹی کے سینئر استاذ ڈاکٹر محمد یحییٰ صبا نے پیس انڈیا فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ خصوصی پروگرام میں کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ ندا فاضلی کو ہم سے رخصت ہوئے مکمل دو سال گزرگئے مگر ان کا نام اور ان کے کارنامے اسی طرح زندہ ہیں ۔اب یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ ندا فاضلی اور ان کے کارنامے گنگا جمنی تہذیب و سیکولرزم کے فروغ اور ان اقدار کے امین ہیں ۔انھوں نے کہا کہ ندا فاضلی کی شاعری میں وہ عناصر موجود ہیں جن کی ضرورت آج کے حالات میں بھی ہے اور کل بھی ہوگی۔ان کے نغموں میں بھی یہی عناصر درآئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان کی شاعری جدید شاعری کی ترجمان اور بیان تھی۔ان کے یہاں جدید خیالات و افکار نے ایک مستقل حیثیت اختیار کرلی تھی،جو انھیں ہر آن بے چین کیے رہتی تھی،وہی بے چینی ان کی ان فکروں کی محرک بنی ۔
اس موقع پر وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنا لوجی سے وابستہ محمد جہا نگیر نے ندا فاضلی کے متعلق اپنی یادوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ میں نے انھیں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ایک مشاعرے میں سنا ۔حالاں کہ اس واقعے کو ایک طویل عرصہ گزرگیا مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اشعار آج بھی کانوں میں گونج رہے ہیں جن سے ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور سیکولر کے ماحول کو فروغ پاتا محسوس ہورہا ہے۔یہ ایک مفکر و کامیاب شاعر اور اس کی زندہ شاعری کی عمدہ مثال ہے۔ انھوں نے کہا کہ گو آج ندا فاضلی ہمارے بیچ نہیں ہیں مگر ان شاعری اور ان کی فکر انگیز باتیں موجود ہیں ۔
علاوہ ازیں اس موقع پر زی ٹی وی کے شعبۂ اردو سے منسلک تنزیل احمد نے ندا فاضلی کے اشعار سنائے اور ان کی دلکش تشریح بیان کی۔جسے سامعین نے بے حد پسند کیا ۔جواہر لال نہر ویونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر عمران عاکف خان نے اس موقع پر ندا فاضلی کے نثری کارناموں اور ان کے 2006میں شائع شعری مجموعہ’’تماشا مرے آگے‘‘ پر سیر حاصل گفتگو کی اور کتاب کے منتخب اشعار،غزلیں اور نظمیں سنائیں ۔علاوہ ازیں ان میں موجود پیغام و پیام پر تبصراتی خطاب کیا۔ اس موقع پر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر محمد اختر ،محمد صادق اور شہباز عالم نے مشترکہ طور پر ندا فاضلی کی زندگی اور شاعری پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ ندا فاضلی جدید شاعری کا ایک اہم عنوان تھا ۔ وہ ہندومسلمانوں کو اپنی دو آنکھیں قرار دیتے تھے اور دونوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف اور ان کے دکھ کو اپنا دکھ قرار دیتے تھے۔ وہ بر ملا کہتے تھے کہ میرا وجود ہندو اور مسلمان کے خمیر سے گوندھا ہے،میں ان دونوں عناصر کے علاوہ کچھ نہیں ہوں اور ان کی موجودگی،ان کا اتحاد اور ان کی یکانگت ہی میرا سب کچھ ہے۔اس موقع پر شعبہ کے اساتذہ اور مہمانوں کے علاوہ طلبا کی کثیر تعداد موجود تھی ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *