پنجاب پریشان ہے سبزانقلاب کے منفی اثرات سے

پنجاب گرونانک کی زمین رہی ہے ،جنہوںنے روحانیت کی تمام اونچائیوں کو چھونے کے بعد خود دیشی کاشتکاری کو اپنا کر یہ پیغام دیا کہ ’کریت کرشی کرو، نام جاپو اور ونڈ چھکو‘ یعنی بانٹ کر کھائو۔انہوں نے کاشتکاری کو نام سے بھی اوپر رکھا۔ یہ ریاست صدیوںسے زرعی رہی ہے۔ یہاں کی پوری معیشت اور سماجی تاریخ کھیتی باری کے اردگرد گھومتی رہی ہے۔ ملک کے دوسرے حصے میں پنجاب کی الگ تصویر پیش کی جاتی رہی ہے، وہ ہے ایک خوشحال پنجاب کی۔لیکن خوشحال پنجاب میں تباہی کی تصویر دیکھنے کو ملی۔ گزشتہ تین دہائیوںسے معاشی وکاس کی ایک آندھی چلی ہے۔ بدلے فصل چکرویو کے اتھل پتھل سے آئی پیسے کی ہریالی نے یہاں کے لوگوں کو قدرت کی ہریالی سے دور کر دیا ہے۔
پنجاب کے کسانوں نے سبز انقلاب کے جوے میں کاشتکاری کے نام پر روایتی اقدار کو گنوادیا بلکہ گرو وچن کو ہی بھول بیٹھے۔یہاں کی کھیتی کا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ لوگ قدرت سے رشتہ داری کی تمیز بھول گئے ہیں۔ جل ، جنگل زمین اور ہوا کا تال میل توڑنے سے بحران اور زیادہ گہراہوگیا ہے۔ سارے توازن تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں سے رسائنک کھاد اور جراثیم کش دوئوں کا اتنا زیادہ استعمال ہوا کہ پوری زمین ہی زہریلی ہو گئی ہے۔ ماہرین نے بڑی غیر ملکی کمپنیوںکے ساتھ سانٹھ گانڈھ کرکے اصلی ہریالی کو ہی دائوں پر لگا دیا ہے۔ پنجاب کے کسانوں نے اس دائوں کو جوئے کا کھیل سمجھا اور تھوڑا فائدہ پاکر پرقدرت کو ہی گنوا ڈالا۔
منفی اثر کسانوں پر
یہاں نئے بیج ، نئی فصلیں،رسائنک کھاد، جراثیم کش دوائیاں اور اندھا دھند مشینی استعمال اور دلچسپ تشہیری مہم نے کسانوں کے مستقبل کو اندھیرے میں جھونک دیا۔ سبز انقلاب کے نتیجے میں ملک کے پالیسی سازوں نے ایک ایسے زرعی طریقہ کار کو بڑھاوا دیا ،جس میں رسائنک کھادوں، جراثیم کش دوائوں کے بالمقابل پانی کی کھپت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کھیتی خود انحصاری کا مرکز نہ ہوکر صرف اِندرجال بن گیا ہے۔گائوں کی آزادی کا وجود بکھر گیا اور کھیتی شہر پر مرکوز ہوکر رہ گئی۔
پچھے تیس ،چالیس سالوں میں زہریلی جراثیم کشوں اور رسائنی کھادوں کو اندھا دھند استعمال کرنے کے سبب زمین کی بگڑتی صحت کی پرواہ کسی نے نہیں کی۔منافع پر مرتکز اور لالچ پر مبنی کاشتکاری کی وجہ سے عام زندگی کا تانا بانا ختم ہو گیا۔ گائوں کی تمام کاشتکاری شہروں میں تیار بیجوں، کھادوں اور دوائوں کی دکان کے ارد گرد چکر کاٹتی رہتی ہے۔ دھان کبھی بھی پنجاب کی فصل نہیں رہی ہے۔ چاول پنجابی عام زندگی کی فطری خوراک بھی نہیں تھی۔ پیسے کی بھوک اور زیادہ چاول بیچنے کی چاہت کی وجہ سے فصل کا چکر الٹا چلا دیا ۔ دھان کی پیداوار میں لگاتار اضافہ ہوتا گیا۔ وہ اتنا بڑھا کہ سڑنے لگا۔ سرکاری گوداموں میں دھان کو سڑنے کے لئے خاص طور پر سمر سیور لگائے گئے۔ نتیجتاً اس گورکھ دھندے کی بنیاد پر مالک اور افسروں کی حویلیاں بلند ہونے لگی، ان کی تجوریوں کی دھن میں لگاتار اضافہ ہوتا گیا اور کسان کمزور ہوتے گئے۔
سبز انقلاب کی وجہ سے 75 فیصد زمین دھان کی فصل کے نیچے دبتی چلی گئی۔ زیادہ پیداوار اورپیسے کی پہلی کھیپ میں سبسڈی ، سستے سود ریٹ پر قرض کی وجہ سے سمر سیور پمپ اور ٹریکٹروں کی کمپنیاں سرکاری کرن کے چھائوں میں ہر شہر میں بچھ گئی۔ اس آندھی میںدیکھتے ہی دیکھتے پنجاب کے 12.644 گائوں میں 15 لاکھ سمر سیور پمپ گڑوا دیئے۔ نتیجتاً زیر زمین پانی 20 فٹ سے 200 فٹ نیچے چلا گیا۔ ان پمپوں کے لئے جہاں کچھ سال پہلے 5 ہارس پاور کی موٹر کام کرتی تھی۔ وہیں آج 15سے 20 ہارس پاور کا موٹر ضروری ہو گیاہے ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کینسر سے متاثر علاقے
سبز انقلاب ،شہری کرن اور اب گلوبلنگ نے پنجاب کو بربادی کا شکار بننے کے دہانے پر لاکھڑا کر دیا ہے۔ پنجاب دنیاکی شاید پہلی ریاست ہوگی جہاں سے’ کینسر ایکسپریش ‘نام والی ٹرین چلتی ہے۔ پڑوسی ریاست راجستھان کے ساتھ پنجاب پانی بانٹنے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن پنجاب کے سبھی کینسر مریضوں کو راجستھان کا بیکانیر اسپتال علاج کی سہولت مہیا کراتا ہے۔ اس ٹرین سے یومیہ سو سے ڈیڑھ سو مریضوں کے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ پنجاب کے بھٹنڈا ، فرید آباد ،موگا، مکتسر، فیروز پور سنگرور اور مانسا اضلاع میں بڑی تعداد میں کسان کینسر کے شکار ہو رہے ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق بھٹنڈا میں 942، فیروز پور میں 473، مکتسر میں 667، برنالہ میں 679،فرید کوٹ میں 441، سنگ رور میں 383، مانسا میں 443 اور پٹیالہ میں 426کینسر کے مریض پائے گئے ہیں۔ ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں پنجاب میں جراثیم کش دوائوں اور رسائنک کھادوں کی کھپت زیادہ ہے۔ ان کھادوں اور جراثیم کش کا بڑا حصہ آبی ذرائع میں پہنچ کر زیر زمین پانی کو زہریلا بنا رہا ہے۔ اتنی ہی نہیں یہ رسائنک بہہ کر ندیوں اور تالابوں میں پہنچ کر پانی کو زہریلا بنانے کے ساتھ ساتھ ماحولیات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان فصلوں کے استعمال کا قدرتی اثر کس قدر انسانی صحت پر پڑ رہاہے ،اس کا نتیجہ سامنے ہے۔
خود کشیاں بڑھ رہی ہیں۔پنجاب میں 2000 سے اب تک 6ہزار کسانوں ے خود کشی کی ہے، ان میں آدھے لوگ بھٹندا اور سنگرور کے ہیں۔ ناقابل یقین امراض کا سامنا کسان اپنے خاندان کو معاشی تنگی سے بچانے کے لئے موت کو گلے لگا رہے ہیں۔ کینسر کے ساتھ ساتھ گردہ ، جگر امراض کی خوفنانی بڑھتی جارہی ہے۔ جگہ جگہ ہوٹل نما اسپتال کھل گئے ہیں۔ان اسپتالوں میں مریضوں کی کتنی جان بچتی ہے،کہا نہیں جاسکتاہے۔ لیکن ڈاکٹروں اور ان کے چلانے والوں کی زندگی بنتی جارہی ہے۔ خود کشی کے عالمی ریکارڈ کا سہریٰ پنجاب کے نہیں ہوٹل نما پرائیویٹ اسپتالوں کو جاتاہے۔ ان حالات میں بھی سرکار اپنے عوامی رابطہ محکمہ کو یہی فرمان جاری کرتی ہے کہ سرکاری مدح سرائی میں مست اخباروں کی جوت میں اشتہارات کا گھی کم نہیں ہونا چاہئے۔
چندی گڑھ یونیورسٹی کے سابق وی سی ڈاکٹر گوپال ایئر کے مطابق کئی اسپتال پارٹیوں کے ذریعہ جانچ کرکے بتایا گیا کہ اس علاقہ کے زیر زمین پانی میں پارے کی مقدار بہت زیادہ بڑھ چکی ہے جو کینسر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سائنس اور ماحولیات سینٹر چنڈی گڑھ، پی جی آئی اور پنجاب یونیورسٹی سمیت سرکار کی طرف سے کرائے سروے سے ان حقائق کا خلاصہ ہو چکا ہے کہ جراثیم کشوں اور رسائنک کھادوں کے زیادہ استعمال کی وجہ سے کینسر کا پھیلائو خطرناک سطح تک پہنچ گیا ہے۔
اتنا ہی نہیں پنجاب میں پانی کے 1686 نمونوں میں 261 نمونوں میں جوہری توانائی بورڈ نے مقررہ حد سے زیادہ یورونیم پایا ہے۔ مرکزی توانائی وزیر جے رام رمیش نے پارلیمنٹ میں حال میں ہی اٹھائے گئے سوال کے جواب میں اس حقیقت کا خلاصہ کیا ہے کہ پنجاب کے ایسے کئی ضلع ہیں جہاں ملک میں سب سے زیادہ کینسر متاثر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی سبب زیر زمین یورونیم کا زیادہ ہونا ہے۔ پانی میں یورونیم کی جانچ کے لئے امریکی ماہرین کی ٹیم جانچ میں پنجاب آئی تھی۔ قدرتی حد سے زیادہ یورونیم پانی میں پائے جانے کی وجہ سے یہ پانی انسانوں کے لائق نہیں ہے۔ سنگارو ضلع میں تجزیہ کئے گئے 140 آبی نمونوں میں سے 14 نمونوں میں سے اے ای آر بی کی قابل قبول سرحد سے یورونیم زیادہ پائے گئے۔ موہل میں پنجاب بائیوٹکنالوجی انوائیو ویٹر کو پانی کے 981 نمونے میں بھاری معدنیات قدرتی حد سے زیادہ پائے گئے۔یہ پانی استعمال کے لائق نہیں ہے۔
کھیتی میں جراثیم کش اور رسائنک کھاد کے اندھا دھند استعمال پر رول لگانے کی ضرورت لمبے عرصے سے محسوس کی جارہی ہے ۔ اس کے مد نظر کچھ جراثیم کشوں کے منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے انہیں ممنوع بھی کیا گیا۔ ان منفی نتائج کے باجود سرکار میں یہ عزم نہیں دکھائی دیتی ہے کہ وہ جراثیم کش دوائوں کے استعمال کو متوازن کرنے کی سمت میں خاص قدم اٹھائے ۔جب بھی اس کے استعمال کے منفی اثرات اور اس کے پیدا ہونے والے صحت سے متعلق خطروں کی بات اٹھتی ہے تو دلیل دی جاتی ہے کہ اس سے فصل پیداوار کم ہوگی اور کھاد سیکورٹی متاثر ہوگی ۔
سبز انقلاب کے ماڈل کو لے کر ملک میں ایک نئی بحث کی ضرورت ہے ۔ تاکہ پنجاب سے باہر دوسری ریاستوں میں جہاں اس ماڈل کی بنیاد پر کھیتی کی جارہی ہے ،وہاں کے کسان اس کے منفی اثرات کو سمجھ سکیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *