پاکستان کے عام انتخابات 2018 ہار و جیت کا انحصار ایک کروڑ نئے ووٹروں پر

قومی الیکشن کسی بھی ملک کی سیاسی ترجیحات اور سماجی و معاشی ترقی کا تعین کرتے ہیں۔ پاکستان میں 2018ء کے عام انتخابات اس لیے مختلف ہوں گے کہ ان میں اپنی زندگی میں پہلی بار پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کرنے والے ایک کروڑ سے زائد نوجوان اس عوامی فیصلے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ اگلی ملکی حکومت کون سی جماعت یا جماعتیں بنائیں گی۔ اسی وجہ سے ملکی آبادی اور ووٹروں کی لسٹوں سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار سبھی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک چیلنج بن گئے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن ) یا موجودہ حکومت دیگر سیاسی جماعتوں کے لحاظ سے’’الیکشن ڈے‘‘ کو ایک سال یا دو سال پہلے سے ترتیب دینا شروع کر دیتی ہے جس میں الیکشن سے متعلق تمام سرکاری و غیر سرکاری’’زاویوں‘‘ کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔
پاکستان میں عام انتخابات 2018 یعنی اسی برس متوقع ہیں۔ قومی سطح پر موجودہ انتخابی فہرستوں کے بارے میں اعداد و شمار الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اس وقت ملک میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد پونے دس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے اٹھارہ سے لے کر پچیس سال تک کی عمر کے نوجوان ووٹروں کی تعداد ڈیرھ کروڑ سے کچھ زائد ہے تاہم ان نوجوان ووٹروں میں سے ایک کروڑ سے زائد ایسے ہیںجو 2018ء کے عام انتخابات میں پہلی بار ووٹ دیں گے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں سماجی، سیاسی، مذہبی اور اقتصادی حوالے سے اعداد و شمار فراہم و تیار کرنے والی عالمی شہرت یافتہ تنظیم ’’میڈیا ڈور‘‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مردم شماری کے بعد سامنے آنے والے نئے ووٹرز کی جانچ پڑتال کے ذریعے حکمران جماعت اپنے ’’ہم خیال یوتھ ووٹرز‘‘ کی نشاندہی کروا رہی ہے جبکہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ووٹرز کی جانچ پڑتال کے نام پر دیگر جماعتوں سے وابستگی والے ’’نئے ووٹرز‘‘ کو مختلف حوالوں سے’’ہاں‘‘ کی آواز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔گھر گھر ووٹرز سروے میں سرکاری عملہ کی مبینہ سہولت کاری سے وارڈ کی سطح پر نہیں بلکہ محلہ اور گلی کی سطح پر’’ہم خیال یوتھ ووٹرز‘‘ کے’’ سلوگن‘ سے خاموشی سے سیاسی حکمت عملی اور الیکشن جیتنے کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔
پاکستان میں مضبوط ترین اپوزیشن’’پی ٹی آئی‘‘ کے سربراہ کو چاہئے کہ الیکشن2018 میں یقینی جیت کیلئے طے کی جانے والی حکمت عملیوں میں اس ’’لائن‘‘ پر آکر بھی سوچیں اور لائحہ عمل ترتیب دیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف نے اپوزیشن میں رہ کر ملک قوم پر وہ احسان کیا ہے جسے درجنوں سیاسی جماعتیں ’’پارلیمانی طاقت‘‘ کے ہوتے ہوئے بھی نہیں کر سکیں، یعنی’’کرپشن کا خاتمہ و منی لانڈرنگ کمپین‘‘ کا تسلسل۔

 

 

 

 

 

 

 

پاکستان سمیت دنیا بھر میں سماجی، سیاسی، مذہبی اور اقتصادی حوالے سے اعداد و شمار فراہم و تیار کرنے والی عالمی شہرت یافتہ تنظیم ’’میڈیا ڈور‘‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت 8.7% افراد ایسے ہیں جنہیں ایک سے زائد معذوری کا سامنا ہے جبکہ آج تک معذور افراد کی سیاسی حوالے سے تعلیم و تربیت کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوا۔تنظیم نے یہ بھی سوال اُٹھایا ہے کہ کیا’’ متوقع الیکشن 2018میں 22 ہزار ذہنی معذور افراد انتخابات میں ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں؟ ذہنی معذوری کا شکار یہ پاکستانی شہری ووٹر ہونے کے ناطے بنیادی ’حق رائے دہی‘ سے مسلسل محروم چلے آ رہے ہیں۔ ’’میڈیا ڈورٹیم پنجاب ریجن کی ذمہ داران کا کہنا ہے بالغ اور ووٹ ڈالنے کے قابل معذور افراد آبادی کا کل 8.6% نابینا، 7.43 فیصد گونگے بہرے، 18.93% لنگراہٹ یااپاہج، 7.60 فیصد دماغی پاگل پن، 8.23% افراد ایسے ہیں جنہیں ایک سے زائد معذوریوں کا سامنا ہے۔ پاکستان میں معذور افراد کی تعداد کے حوالے سے صوبہ پنجاب سرِ فہرست ہے تاہم معذور ووٹر کے حساب سے کراچی، ملتان،فیصل آباد اور گوجرانوالہ نمایاں ہیں جہاں بچیاں اور خواتین بھی معذوری جیسی آزمائش میں مبتلا ہیں۔ پاکستان میں معذور ووٹرز سرکاری سطح پر’’ سہولیات‘‘ کی فراہمی سے مسلسل محروم ہیں جبکہ کسی سیاسی جماعت کے منشور میں بھی ان کیلئے کوئی’’خاص‘‘نسخہ نہیں ہے جو ان کی بطور ووٹرنمائندگی کرتاہو۔ الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر الطاف احمد کے ایک میڈیا بیان کے مطابق ’’ہمارا کام مردم شماری نہیں، لیکن ووٹروں کی فہرستوں کی تیاری ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ ہم نادرا کے تعاون سے یہ لسٹیں اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ نئے ووٹروں کا اندراج کیا جاتا ہے اور انتقال کر جانے والے بالغ شہریوں کے نام ان فہرستوں سے خارج کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

 

 

 

 

 

 

 

پاکستان میں ووٹروں کے لازمی اندراج اور لازمی ووٹ کا کوئی قانون نہیں۔ غیر رجسٹرڈ پاکستانی ووٹروں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ شہری جن کے بالغ ہو جانے کے باوجود قومی شناختی کارڈ ابھی نہیں بنے۔ دوسرے وہ شہری جن کے شناختی کارڈ تو بن چکے ہیں لیکن جن کی بطور ووٹر رجسٹریشن ابھی نہیں ہوئی۔ادھرالیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق عام انتخابات2018 میں ایک کروڑ سے زائد شہری پہلی بار اپنا ووٹ کا حق استعمال کریں گے جبکہ موجودہ انتخابی فہرستوں میں مرد ووٹروں کی مجموعی تعداد خواتین کے مقابلے میں قریب سوا کروڑ زیادہ ہے۔پاکستان میں’’ قومی شناخت کی فراہمی ‘‘ کے حوالے سے مشہور ادارے’’ نادرا‘‘( قومی رجسٹریشن اتھارٹی) کے ڈیٹا کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابی فہرستوں میں آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے رد و بدل ایک مستقل عمل ہے۔
پاکستان میں ووٹروں کی موجودہ لسٹوں کے حوالے سے حیران کن بات یہ بھی ہے کہ کل مرد ووٹروں کی تعداد پانچ کروڑ چالیس لاکھ ہے جبکہ خواتین ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباچار کروڑ بیس لاکھ بنتی ہے۔ یوں خواتین ووٹروں کی کل تعداد مرد ووٹروں کے مقابلے میں ایک کروڑ بیس لاکھ یا بارہ ملین کم ہے حالانکہ ملکی آبادی میں مردوں اور خواتین کی شرح میں اتنا زیادہ فرق نہیں ہے۔پاکستان جیسے کسی ملک میں خواتین رائے دہندگان کی مجموعی تعداد مردوں کے مقابلے میں بارہ ملین کم کیوں ہے؟ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خواتین کی تعداد کروڑوں کے حساب سے کم ہے۔ اس کے برعکس مردوں کے مقابلے میں خواتین ووٹروں کی رجسٹریشن کم ہوئی ہے۔ ووٹرز لسٹوں میں عورتوں کی کم رجسٹریشن کے دو بنیادی اسباب ہیں۔ ایک سماجی طور پر وہ صنفی عدم مساوات، جس کے باعث خواتین کے حقوق پر سرکاری اور نجی کسی بھی سطح پر ترجیحی بنیادوں پر کام نہیں ہوتا۔ دوسری وجہ ملکی سیاسی جماعتوں کی خواتین ووٹرز میں ناکافی دلچسپی اور سہولیات کی کمی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *