تین طلاق بل پر زیادہ مسلم خواتین مخالف

سرکار نے تین طلاق کا بل عددی طاقت کی بنیاد پر بھلے ہی لوک سبھا میں پاس کرا لیا ہو،اب راجیہ سبھا میں اٹک گیا ہے ۔راجیہ سبھا میں سرکار بل کی حمایت میں ضروری تعداد اکٹھا نہیں کر سکی۔ اپوزیشن لگاتار مانگ کررہا ہے کہ طلاق ثلاثہ بل میں کئی خامیاں ہیں اور اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے، لیکن سرکار اس کے لئے تیار نہیں ہوئی۔ اب بی جے پی اور کانگریس اس عمل کے لئے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ اب تین طلاق کے نام پر مسلم عورتوں میں ہی اختلاف دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حالانکہ سرکار کے بل کی حمایت میں چند عورتیں ہی سامنے آرہی ہیں،لیکن مخالفت میں پردہ نشیں مسلم عورتیں بھی کھل کر سامنے آنے لگی ہیں۔’ تین طلاق بل واپس لو، ایسا قانون منظور نہیں‘ جیسے نعرے لکھی تختیوں کے ساتھ عورتیں بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر رہی ہیں۔ بہار کے مونگیر اور نوادہ میں ایسا ہی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مونگیر میں لگ بھگ 25 ہزار مسلم عورتوں نے تین طلاق بل کے خلاف خاموش جلوس نکال کر احتجاج کیا۔ مونگیر مُفصل تھانہ علاقہ ایم ڈبلیو ہائی اسکول سے نکلے اس جلوس میں شامل عورتوں نے یہ بتایا کہ قانون تھوپا نہیں جاسکتاہے۔ مسلم پرسنل لاء میں کسی طر کی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کی جائے گی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شاید پہلا موقع تھا، جب اتنی بڑی تعداد میں عورتیں سڑکوں پر اتریں،مسلم طبقہ کسی بھی صورت میں شریعت میں مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔ مرکزی سرکار نے تین طلاق کے بہانے شریعت میں دخل اندازی کی مہم شروع کی تھی اور عددی طاقت کی بنیاد پر وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مسلم عورتوں میں سرکار کے غلط رویے سے بے چینی کا عالم ہے۔ مسلم عورتوں کے مسائل اور مزید الجھ جائیں گے ۔ صبا حبیب نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ماننے والی ملک کی سبھی مسلم عورتیں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ کھڑی ہیں۔ جو عورتیں اس بل کی حمایت کرر ہی ہیں،وہ مذہب کی جانکاری کے فقدان میں اور کسی کے بہکاوے میں آکر اس طرح کی بیان بازی کررہی ہیں۔ مسلم عورتیں شریعت کی پابند ہیں اور یہ چاہتی ہیں کہ شریعت کے خلاف کوئی فیصلہ نہ آئے، اس لئے سرکار کو ان کا نام لے کر شریعت میں مداخلت نہیں کرنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تین طلاق پوری طرح سے دینی معاملہ ہے، اسے علماء کے اوپر ہی چھوڑ دینا چاہئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تجویز کردہ مسلم خواتین (شادی پر حقوق کی سیکورٹی ) بل میں کئی قانونی خامیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے معاملے میں قصوروار پائے جانے پر شوہر کو تین سال کی سزا کا پروویژن ہے۔ جو جرم ہی نہیں ہوا،اس کی سزا کیسے دی جاسکتی ہے؟شادی اور طلاق ایک سول مسئلہ ہے جسے مرکزی سرکار فوجداری بنا رہی ہے۔ مسلم عورتوں نے تین طلاق بل کی مخالفت کی اور صدر سے اس پر روک لگانے کی مانگ کی۔ مسلم عورتوں نے تین طلاق بل کو ایک طرف جہاں شریعہ عدالت کے خلاف بتایا،وہیں یہ بھی کہا کہ اس سے عورتوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ مردوں کے حقوق کی بھی توہین ہوگی ۔
جلوس میں شامل خاتون ترنم جہاں نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء میں کسی طرح کی چھڑ چھاڑ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی سرکار مسلم پرسنل لاء بورڈ میں چھیڑ چھاڑ کی کوشش کررہی ہے۔ قانون کی طالبہ حبیبہ بخاری نے کہا کہ تین طلاق سماجی ایشو ہے۔ سرکار اسے مجرمانہ بنانا چاہتی ہے۔ تین طلاق بل سے عورتوں اور بچوں کو زیادہ پریشانی ہوگی۔ مرد اگر طلاق دینے کے بعد تین سال کے لئے جیل چلے جائیںگے تو خاندان کی عورتوں اور بچوں کا خرچ کیسے چلے گا؟جیل سے باہر نکلنے کے بعد مرد عورتوں اور بچوں کا دھیان بھی نہیں رکھیں گے۔ عورتوں نے مرکزی سرکار سے بل واپس لینے کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بل واپس نہیں ہوتا ہے، تب تک یہ تحریک جاری رہے گی۔ یہ قانون بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ شوہر اور بیوی کے اختیارات پر حملہ ہے۔ آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی سیکورٹی کے لئے قدم اٹھاتے ہوئے مجوزہ بل کی مخالفت آخری مرحلے تک کرے گی ۔رکن پارلیمنٹ جے پرکاش نارائن یادو نے تین سال جیل کے پروویژن پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون پرسنل لاء کی توہین ہے اور اس میں سیاست شامل ہے۔
سپریم کوٹ کے فیصلے کے بعد ایسا ظاہر ہو رہا تھا کہ سبھی کے لئے یہ معاملہ سلجھ گیاہے۔ لیکن گجرات الیکشن کی تشہیر کے بیچ میں اچانک مودی سرکار نے اعلان کیا کہ اس جرم میں شامل لوگوں کو مجرم قرار دینے کے لئے مرکزی سرکا رلوک سبھا میں ایک بل پیش کرے گی۔ اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے مودی سرکار نے پچھلے پارلیمانی سیشن میں اس بل کو پیش کیا اور اسے پاس کرا لیا۔
ان نکات پر مخالفت
1۔ یہ بل مسلم پرسنل لاء میں کھلی مداخلت ہے اور ہندوستانی آئین کی دفعہ 14اور 15کی خلاف ورزی ہے۔
2۔ یہ بل خاتون اور اطفال مخالف بل ہے کیونکہ جب شوہر تین سال کے لئے جیل میں ہوگا تو وہ اس بل کے مطابق بیوی اور بچوں کو گزارہ بھتہ کیسے دے گا؟اگر شوہر روز مزدوری کرنے والا ہے اور اگر وہ سرکاری ملازم ہے تو جیل جانے کی وجہ سے اس کی نوکری چھوٹ جائے گی تو پھر وہ گزارہ بھتہ کیسے دے گا ۔اس کے برعکس تین طلاق کو ثابت کرنے کی جوابدہی بھی شوہر پر ہی ڈالا جارہاہے۔
3۔ اس بل کے نمونہ سے پتہ چلتا ہے کہ سرکار نے اس بات پر بالکل غور نہیںکیا کہ جب شوہر تین سالوں کے لئے جیل چلا جائے گا تو اس کے بعد بیوی اور اس کے بچوںکو کن بھیانک صورت حال اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ طلاق شدہ بیوی اور بچوںکا خرچ کون چلائے گا؟بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گ؟کیا جب تین سال جیل میں رہنے کے بعد شوہر واپس آئے گا تو کیا وہ اپنی اس بیوی کے ساتھ خوش رہ پائے گا جس کی وجہ سے وہ تین سال جیل میں رہا ہے۔
4۔ اس کے برعکس یہ بل سماج مخالف بھی ہے، کیونکہ اس کے ایک سماجی معاہدے کو سزا کا ذریعہ بنایا جارہاہے۔ اس بل کے سیکشن 7 میں لکھا ہے کہ یہ عمل عدالتی دائرہ کار کے اندر اور غیر ضمانتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی تھرڈ پارٹی بھی شوہر کے خلاف شکایت کر سکتاہے اور اس میں بیوی کی خواہش کو اہمیت نہیں دی جائیگی۔

 

 

 

 

 

 

 

سیاسی مفاد کی دستیابی کے لئے جلد بازی میں لایا گیا بل :ولی رحمانی
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کہتے ہیں کہ 22اگست کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے تین طلاق کے ایشو پر فیصلہ سنا دیا ۔اس فیصلے میں خاص طور پر دو باتیں تھیں۔ ایک تو پرسنل لاء بنیادی حق ہے، اس لئے اس میں نہ تو سپریم کورٹ بدلائو کرسکتاہے اور نہ ہی لوک سبھا اس کے خلاف کوئی قانون بنا سکتا ہے ۔ تلنگانہ، آندھر پردیش اور کیرل میں اس قانون کی مخالفت ہوئی ہے۔ اس بل کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو ایک ساتھ تین طلاق دینے والوںکو کرمنل لاء کے تحت تین سال کی سزا کے ساتھ ساتھ مالی جرمانہ کا بھی پروویژن دیا گیا ہے۔ اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ سرکار نے تین سال کی سزا تو طے کر دی ہے ،سوال یہ ہے کہ سزا کس کرمنل اوفنس کی ہوگی۔ اگر ایک ساتھ تین طلاق دینا کرنل اوفنس ہے تو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تین طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے تو پہلے سے ہی اسے بے اثر بنا دیا ہے۔ سرکار سپریم کورٹ جرائم کی سزا تین سال یقینی کرتے ہوئے مالی جرمانہ دے رہی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ سرکار جس بے اثر جرائم کے لئے تین سال کی سزا طے کرنے جارہی ہے، کیا وہ انڈین جسٹس کوڈ کی دیگر سزائوں کے مطابق ہے؟عورتوں کے لئے تو پہلے سے ہی ڈومسٹک وائلنس ایکٹ 2005 ہے۔بل میں تین سال کی سزا کا پروویژن ہے۔ اس سے اچھا تو بہار سرکار نے کیا ہے۔ طلاق شدہ عورت کو 25ہزار روپے سالانہ وظیفہ دیتی ہے۔ سماجی برائیوں کا علاج سخت قانون بنا دینے سے نہیں ہوگا۔یہ بل سیاسی مفاد کی دستیابی کے لئے جلد بازی میں لایا گیاہے جنہیں مسلم سماج کے مسائل اور دشواریوں کا اندازہ نہیں ہے۔یہ بل آئین کی دفعہ 14اور 15 کی خلاف ورزی ہے۔

Share Article

One thought on “تین طلاق بل پر زیادہ مسلم خواتین مخالف

  • February 23, 2018 at 10:56 am
    Permalink

    تین طلاق کا مثلا مسلمانو ک عقیدے سے جاڑا ہے اسلیے سرکار جلدبازی مے کوئی فیصلہ نہ کرے تو بہتر ہوگا.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *