ابھی انسٹی ٹیوشن کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے

ملک میں عجیب صورت حال پیدا ہورہی ہے۔ سرکاریںآتی ہیں، جاتی ہیں۔ ہندوستان ایک بہت مضبوط جمہوریت ہے۔ ایک وقت تھا۔ اندرا گاندھی پاور میںتھیں۔ ان کے پاس دو تہائی اکثریت دونوںایوانوںمیںتھی۔ انھوں نے ایمرجنسی نافذ کی، اس کے بعد الیکشن ہار گئیں۔ لوگوںکو شک ہوا کہ اندرا گاندھی اقتدار چھوڑیںگی یا نہیں؟ یہ بھی چرچا ہوا کہ شاید فوج مداخلت کرے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انھوں نے بالکل آئینی ڈھنگ سے مرار جی بھائی کو اپنی باگ ڈور سونپ دی اور ایک جنتا سرکار آسانی سے پاور میں آگئی۔ تین سال بعد پھر الیکشن ہوئے۔ اندرا گاندھی پھر پاور میںآگئیں۔ یہ جمہوری عمل ہے۔
لیکن اب 2014 کے بعد سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔ سار ے انسٹی ٹیوشنس اور آئینی اداروں پر سوالیہ نشان اٹھ گیا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ چاہے ہندوستان جمہوریہ ہولیکن جمہوریہ کے لحاظ سے صرف 70 سال پرانا ہے۔ لیکن یہ ملک ہزاروں سال پرانا ہے، دنیا میںسب سے پرانا ہے۔ انسٹی ٹیوشن کو سینچنا پڑتا ہے۔ جواہر لعل نہرو نے سینچا۔ نہرو جی نے 17 سال تک کوشش کرکے سب انسٹی ٹیوشنس کو مضبوط کیا۔ لال بہادر جی 19 مہینے وزیر اعظمرہے۔ پھر آگئیں اندرا جی۔ شروع میںان کے قدم ڈگمگا رہے تھے۔ جب 1967 میں الیکشن ہوا تو اس میں کانگریس کو کم اکثریت ملی تو اندرا جی ڈر گئیں۔ انھوں نے کچھ مقبول قدم اٹھائے۔ غریبی ہٹاؤ کا نعرہ دیا۔ 1971 میں اندرا جی اچھی اکثریت سے اقتدار میں آ گئیں۔ اس کے بعد معاملہ پھنس گیا۔ جب کوئی اپوزیشن میںہوتا ہے تب چیلنجوں کی بات کرتا ہے۔ جب سرکار میں آتے ہیں تب مجبوریوں کی بات کرتے ہیں۔ 1975 کے بعد اندرا جی کے لیے مشکل ہوگئی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آگیا۔ سدھارتھ شنکر رے ان کے ساتھی تھے۔ وکیل بھی تھے۔ ان کی صلاح پر اندرا جی نے ایمرجنسی لگادی۔ 19 مہینے کے بعد عوام نے انھیں اکھاڑ پھینکا۔ آج تو ایسی کوئی صورت حال نہیںہے۔ بی جے پی کے پاس دو تہائی اکثریت ، کسی بھی ایوان میںنہیںہے۔
2014 میں جب مودی جی اقتدار میںآئے تھے تو ایک ملک گیر رائے تھی کہ یہ آدمی کچھ کرکے دکھائے گا۔ اسی لیے نوجوانوں، تاجروں، باقی لوگوں نے بھی ان کو ووٹ دیا۔ مودی جی نے دو ڈھائی سال تو سرکار ٹھیک چلائی۔ پھر انھیں یہ سمجھ میں آگیا کہ میںنے جو وعدے کیے تھے، وہ تو نبھیں گے نہیں۔ اچانک انھوں نے 8 نومبر 2016 کو نوٹ بندی کردی۔ یہ ایسا ہی بھیانک قدم تھا جیسی ایمرجنسی تھی۔ مودی جی نے کہا کہ اس قدم سے پیسے والوں کا پیسہ جائے گا غریبوںکا فائدہ ہوگا لیکن ایسا نہیںہوا۔ مودی جی کی ایک فطرت ہے۔ ایک قدم آگے رکھتے ہیں تو واپس قدم ہٹانا نہیں جانتے ہیں، چاہے وہ قدم غلطہی کیوں نہ ہو۔ اچھا سیاسی شخص وہ ہوتا ہے جو تین قدم آگے بڑھے، ایک قدم پیچھے ہٹے تاکہ اس سے کوئی راستہ ملے۔ اس خصوصیت کا مودی جی میں فقدا ن ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ میںنے جو کردیا، اسے میںصحیح ثابت کرکے چھوڑوں گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جی ایس ٹی ایک بہت پرانا مسئلہ پینڈنگ تھا۔ اس کو جلد بازی میںپاس کراکر نافذکردیا۔ کاروباری طبقہ جو نوٹ بندی سے مایوس تھا، وہ جی ایس ٹی سے اور مایوس ہوگیا۔ 2017 کا پورا سال ایسے ہی نکل گیا۔ اب الیکشن 16 مہینے دور ہیں۔ اب آپ کچھ کرنا بھی چاہیںتو کچھ نہیںکرسکتے۔ بجٹ میںسرکار نے ایسے وعدے کردیے ہیں، جنھیں16 مہینے میںپورا کر ہی نہیںسکتے ہیں۔ کاروباری طبقہ ناراض ہے۔ ان کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ دہلی کے حلقوں میںعام چرچا ہے کہ کاروباری طبقہ میںبھی صرف تین لوگوں کو فائدہ ہے، امبانی، اڈانی اور بابا رام دیو۔ کچھ حد تک ایک سجن جندل ہیں، ان کا نا م بھی آتا ہے۔ باقی سب تو ناراض ہیں لیکن بولتا کوئی نہیںہے۔ کاروباری طبقہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اقتدار کے ساتھ ہوتا ہے۔ ایمرجنسی میںکے کے بڑلا جیسے شخص نے صنعت کاروں کا جلوس نکالا اور فکی سے اندرا گاندھی کے گھر کے چوراہے تک گئے۔ انھوںنے ایمرجنسی کی حمایت کی۔ کاروباری طبقہ کا تو کردار یہی ہے۔ جو آپ کریںگے، اس کی تعریف کریںگے۔ جو سرکار ہوگی، وہی مائی باپ ہے۔ چندر شیکھر جی نے زندگی بھر لیفٹ پالیسی فالو کی، سوشلسٹ تھے۔ کاروباری طبقہ کے حق میںکبھی نہیںتھے۔ جب وہ وزیر اعظم بن گئے تو فکی کا ایک ڈیلی گیشن ہار پہنانے آگیا۔ پچھلے دنوں مجھے ایک صاحب ملے ۔ وہ مہاراشٹر بی جے پی کے سینئر لیڈر ہیں۔ میرے دوست ہیں۔ میںنے کہا کہ 2019 میں مودی جی ہی وزیر اعظم بنیںگے۔ 282 سیٹ تو نہیں ملیںگی۔ 250-240 سیٹ آجائیں گی۔انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر 240 سیٹیںملیںتو مودی جی وزیر اعظم نہیںبنیںگے۔ میںحیران ہوا۔ انھوں نے کہا کہ سب ناراض ہیں پارٹی میںبھی اور اتحادی جماعتوںمیںبھی۔ا گر اتحادی جماعتوں کی سپورٹ سے سرکار بنے گی تو بولیںگے کہ بی جے پی کو سپورٹ کریںگے لیکن مودی کو سپورٹ نہیںکریںگے۔ میںنے پوچھا کیوں؟ ان کا کہنا تھا کہ دادا گیری سے سرکار نہیں چلائی جاسکتی۔ میںنے کہا کہ نہیں، پی ایم تو مودی ہی بنیں گے۔ کوئی متبادل نہیںرہے گا بی جے پی کے پاس۔ مودی جی کو ہی بنانا پڑے گا لیڈر۔ انھیںاپنا انداز بدلنا پڑے گا۔ سکھویر بادل ایگری کلچر مانگے گا، پاسوان ریلوے مانگے گا تو انھیںایسا کرنا پڑے گا۔
اب اپنے سوال پر آئیے۔ ادارے کیسے بچیںگے؟ میری رائے ہے کہ بچے ہوئے سولہ مہینے میںآپ آئین کو واپس مضبوط کریے۔ یہ جو گائے کولے کر ہلہ ہوا، اسے ٹھیک کیجئے۔ صاف کردیجئے کہ اگلے سولہ مہینے ایک بھی آدمی کاؤ وجیلانٹ بنتے ہوئے پایا جاتا ہے تو اسے جیل میںڈالا جائے گا۔لوگوںکو یہ بھروسہ دلائیے کہ یہاںکا مسلمان محفوظ ہے یا نہیں۔ میری رائے میںمسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ویسے یوپی سے خراب رپورٹ آرہی ہے کہ سرکار پولیس سب ایک طرفہ کام کررہی ہے۔ یہ اچھا نہیں ہے۔ مودی جی کو سمجھنا چاہیے کہ آپ سے پہلے بھی13ہ وزیر اعظم رہے ہیں اور آپ کے آگے بھی تیرہ وزیر اعظم ہوں گے۔ ملک کے انسٹی ٹیوشن کو بچائیے۔ سی اے جی ایک انسٹی ٹیوشن ہے۔ اس نے ایک رپورٹ دے دی 2 جی گھوٹالے کی۔سب نے اسے مانا اور بی جے پی کا فائدہ بھی ہوا۔ اب کورٹ نے کہہ دیا کہ ایسا کوئی اسکیم نہیں تھا۔ ہر انسٹی ٹیوشن کی ایک حد ہوتی ہے۔ آج سی اسے جی کو دیکھنا چاہیے کہ رافیل جیٹ کا کیا معاملہ ہے؟ لوگ کہہ رہے ہیںکہ چوگنے دام میںیہ چیز خرید رہے ہیں۔ ایسی چیز تو میںنے کبھی سنی ہی نہیں۔ عوام سب کچھ سمجھ رہے ہیں۔ عوام کو بولنے کا موقع نہیںہے، صرف ووٹ کے ذریعہ بولنے کا موقع ہے۔ راجستھان میںکیا ہوا؟ عوام نے خاموشی سے آپ کو اٹھاکر باہر پھینک دیا۔ مودی جی کے حامی بولتے ہیںکہ وسندھرا کا راج اچھا نہیںہے۔ وسندھرا کا راج اچھا نہیں ہے تو لوک سبھا کی سیٹ آپ کیوںہار گئے؟ لوگوںکا غصہ مودی جی کے خلاف ہے۔ غصہ امت شاہ کے خلاف ہے۔ یہی گجرات میںہے۔ ابھی انسٹی ٹیوشن کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اب پارلیمنٹ کو بھی آپ استعمال کریںالیکشن کیمپین کے لیے تو یہ وقت ضائع کرنے کی بات ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

امت شاہ جی جو بی جے پی کے صدر ہیں، اتنے سینئر وہ نہیں ہیں کہ ان کو چیف بننا تھا۔ ان کی سینئرٹی اتنی نہیں ہے ، پھر بھی بنا دیا۔ مودی جی کے نزدیکی ہیں۔ راجیہ سبھا میںان کو لے آئے۔ بی جے پی پریسیڈنٹ راجیہ سبھا میںآتا ہے تو مکھر ہوتا ہے۔ سینئر لوگوںکو مکھر ہونے کی ضرورت نہیںہے۔ لیکن جب امت شاہ نے راجیہ سبھا میںاپنا پہلا بھاشن دیا تو آدھی اسپیچ پکوڑے پر تھی۔ لوگ ہنسی اڑا رہے ہیں۔ یہ بہت شرمناک بات ہے۔ اس میںچدمبرم جی کا جواب ہونا چاہیے کہ پکوڑا بیچنا روزگار نہیںبزنس ہے۔ سرکار نے جاب کرئیٹ کرنے کی بات کہی تھی۔ بزنس تو اپنے آپ کر ہی لے گا کوئی۔ چدمبرم نے کہہ دیا کہ پکوڑا بیچنا جاب ہے تو بھیک مانگنا بھی جاب ہے۔ ایسا نہیں بولنا چاہیے تھا۔ یہ فیکٹ ہے کہ جو بی جے پی 2013 میںتھی، آج اس کی طاقت آدھی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ داخلی جمہوریت کا جو ڈھانچہ ہے، وہ تباہ ہوگیاہے۔ کوئی بولتا نہیں ہے بی جے پی میں۔ مودی جی چاہتے ہیں کہ کانگریس مکت بھارت ہو لیکن عام جنتا نہیںچاہتی ہے کہ کانگریس یا بی جے پی مکت بھارت ہو۔ دونوںپارٹیاں رہنی چاہئیں۔ دونوں کو عوام کی خدمت میںکام کرنا چاہیے۔ 2014 سے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا گیا۔ یہ جمہوریت ہے ہی نہیں۔ آپ کے پاس داروغہ اور انکم ٹیکس آفیسر ہیں۔ داروغہ مطلب سی بی آئی ، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ۔ ان کے بھروسے حکومت چلتی ہے کیا؟
ایک الیکشن ہارنا جیتنا کوئی نقصان کی بات نہیں ہے۔ اندرا گاندھی نے ثابت کردیا ۔ 1977 میںہاریں اور 1980 میں مکمل اکثریت سے آگئیں۔ جب انھوں نے جاکر معافی مانگی کہ غلطی ہوگئی، لوگوں نے انھیںمعاف کردیا۔آج یہ عاجزی ہے ہی نہیں۔ یہ عاجزی بی جے پی میںنہیںہے۔ اب ای وی ایم میںگڑبڑی کرکے یا ہندو مسلمان کو پولرائز کرکے یا پاکستان سے الجھ کر آپ الیکشن جیتنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ تینوںباتیں جمہوریت کے لیے مہلک ہیں۔ ہندو مسلمان میں کافی دوری ہے لیکن یہ اتنا بھی نہیںہے کہ ہم ساتھ میںنہ رہ پائیں۔ چھ لاکھ گاؤں میںہندو مسلم ساتھ رہتے ہیں۔ کوئی دنگا فساد نہیں ہوتا ہے۔ آپ اسے بگاڑ دوگے تو سمیٹ نہیں پاؤگے۔ پاکستان چھوٹا ملک ہے۔ لیکن مجھے تعریف کرنی پڑے گی پاکستان کے آرمی چیف کی جنھوں نے اپنی سرکار سے کہا ہے کہ ہندوستان سے تعلقات سدھاریے۔
سرکار ایک بھوت کرئیٹ کردیتی ہے کشمیر کا۔ اب تو کشمیر بھی تنگ آنے لگا ہے۔ آج کشمیر میںاگر لاقانونیت ہو رہی ہے، ناراضگی ہورہی ہے تو اس میںصرف بی جے پی قصوروار نہیں ہے۔ کانگریس سرکاروں نے جو 370 کا ڈائلیوٹ کردیا ہے ، اس کا بھی کردار رہا ہے۔ مجھے پتہ نہیں محبوبہ مفتی کی کیا مجبوری تھی کہ انھوںنے بی جے پی سے ہاتھ ملایا۔ سوال یہ ہے کہ مودی جی اگر آپ یہ سوچتے ہیںکہ میںانڈیا کو امریکہ بنا کر چلا جاؤں گا تو یہ تو بے وقوفی کی بات ہے۔ کانگریس مکت بھارت والے بیان پر اب انھوں نے صفائی دی ہے کہ میںکانگریس مکت یعنی پالیٹیکل پارٹی کی بات نہیںکررہا ہوں بلکہ کانگریس کا جو کام کرنے کا طریقہ ہے، اسے بدلنے کی بات کررہا ہوں۔ اس سے کوئی اعتراض نہیں۔ کانگریس پارٹی فری ڈم اسٹرگل میںتیا گ کرتی تھی، اب وہ پیسے کی سیاست کرنے لگی۔ تو سب متفق ہیںکہ پیسے کی سیاست نہیںکرنی چاہیے۔ لیکن آپ کی پارٹی بھی کانگریس کو ہی فالو کررہی ہے۔ کانگریس اگر پانچ روپے خرچ کرتی تو آپ دس روپے خرچ کرتے ہیں۔ تو کیچڑ سے کیچڑ صاف نہیں ہوتی ہے۔ پانی سے کیچڑ صاف ہوگی۔ وی پی سنگھ واحد وزیر اعظم تھے، جنھوںنے کہا تھا کہ کرپشن کی بات تب تک نہیںکرنی چاہیے جب تک الیکشن لڑنے کے لیے ہمار ے پاس جو پیسے ہیں، ان کا ہم صحیح طریقہ نہیں ڈھونڈ سکیں۔ جب خود ہی ہمار ے ہاتھ گندے ہیںتو دوسروں کو ہم کیا بول رہے ہیں۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج جو جیوڈیشری میںہورہا ہے، مودی جی چپ ہیں۔ لیکن انھیں چپ نہیںرہنا چاہیے۔ مودی جی، وزیر اعظم کا جو اثر ہے،آپ اس کا مثبت استعمال کریے۔ صرف اپنی پارٹی کے لیے کریںگے تو آپ وزیر اعظم نہیں،اپنی پارٹی کے نیتا بن کر رہ جائیںگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *