کیا مظفر نگر فسادات کے ملزمین قابل معافی ہیں؟

میڈیا میں آئی اس خبر نے تقریباً 5 برس قبل ریاست اتر پردیش کے مظفر نگر اور شاملی میں ہوئے فرقہ واروانہ فسادات کے متاثرین میں تشویش پیدا کردی ہے کہ وزیر اعلیٰ آدیتیہ ناتھ یوگی اس معاملے میں ملوث بھارتیہ جنتا پارٹی کے افراد کے خلاف مقدمات کو واپس لینے کے لئے غور کر رہے ہیں۔یہ بھی خبر آئی ہے کہ اس سلسلے میں سابق مرکزی وزیر اور مظفر نگر سے موجودہ لوک سبھا رکن سنجیو بالیان نے اس سلسلے میں گزارش کی تھی۔بالیان کے خلاف مظفر نگر عدالت کی جانب سے حاضر نہ ہونے پر غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا گیاتھا ۔اسی کے بعد انھوں نے تقریباً دو ہفتے قبل عدالت میں سرینڈر بھی کیا تھا۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنجیو بالیان کے علاوہ جو دیگر بی جے پی لیڈران مذکورہ بالا فسادات کے مقدمات میں ملوث ہیں ‘ ان میں بجنور کے رکن پارلیمنٹ بھارتیندو سنگھ ‘ یوگی کی اترپردیش کابینہ میں وزیر گنّا ترقی ‘ تھانہ اسمبلی حلقے کے ایم ایل اے سریش رانا ‘ بڈھانہ اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے امیش ملک اور بی جے پی لیڈر سادھوی پراچی شامل ہیں۔ان بی جے پی لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ ان لوگوں کے خلاف مقدمات اس وقت کی سماجوادی پارٹی کی حکومت کے مفادات سے جڑے ہیں ۔دلیل کے طور پر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ جہاں ان لوگوں کے خلاف مقدمات دائر کئے گئے وہیں ان ہی الزامات کو لے کر مسلم کمیونیٹی کے بھی افراد کو گھیرے میں لیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے ان لیڈروں پر الزام ہے کہ یہ لوگ فسادات بھڑکنے سے قبل 30اگست 2013ء کو ناگلا مندور میں منعقد عوامی میٹینگ مہا پنچایت میں اپنی مشتعل تقریروں کے ذریعے عوام کو تشدد کے لئے بھڑکا رہے تھے۔ان لوگوں کے خلاف سیکشن 188کے تحت ممانعت کے احکام کی خلاف ورزی کرنے اور سیکشن 354کے تحت سرکاری ملازمین کو اپنے فرائض سے روکنے کے لئے ان کو جسمانی طور نقصان پہنچانے کے لئے مقدمات درج ہیں۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنجیو بالیان نے تو میڈیا کے سامنے اعتراف بھی کیا ہے کہ انھوں نے ریاست اتر پردیش کے وزیر قانون برجیش پاٹھک کو مکتوب لکھا کہ ان کی نظر میں بی جے پی لیڈروں کے خلاف تمام مقدمات جعلی اور من گڑھت ہیں ‘ لہذا انھیںریاستی حکومت کو واپس لے لینا چاہئیے ۔ان کا کہنا ہے کہ اس تعلق سے تازہ انکوائری کرائی جا سکتی ہے اور پھر ان کے بے بنیاد ہونے پر ان مقدمات کو واپس لیاجا سکتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

دوسری جانب یہ بھی تلخ سچ ہے کہ ان بی جے پی لیڈروں کے خلاف الزامات کی ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا کی ایک حالیہ رپورٹ نے تصدیق کی ہے ۔اس کا مطالبہ ہے کہ ان کے خلاف مقدمات کی سماعت میں تیزی لائی جائے تاکہ ان سماجی جرم کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے ۔ظاہر سی بات ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں یہ مقدمات بہت ہی سست رفتاری کے شکار رہے ۔ ان بی جے پی لیڈران میں بیشتر سماعت کے دوران عدالت میں حاضر نہیں ہوئے ۔ تب مجبور ہوکر مظفر نگر کے ایڈیشنل چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ مدھو گپتا نے ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا۔ در اصل اسی دوران بالیان نے اپنے آپ کو سرینڈر تو کر دیا لیکن اسی کے ساتھ ساتھ ریاستی وزیر قانون سے مقدمات کو ہی اپنا نام لئے بغیرواپس لینے کی گزارش کر ڈالی اور پھر ریاستی حکومت اس لائن پر سوچنے لگی ۔
پھر جب ریاستی حکومت کا یہ رجحان منظر عام پر آیا تو ان فسادات میں ملوث عام جاٹ بھی متحرک ہو گئے ۔ان کے خلاف بھی چارجز ہیں ‘ تبھی تو ان علاقوں کی کھاپ پنچایتوں نے گذشتہ 21جنوری کو ایک اہم میٹنگ کے دوران مطالبہ کیا کہ اگر یوگی حکومت بی جے پی کے ممتاز لیڈروں کے خلاف فسادات کو واپس لینے کا پلان کر رہی ہے تو اسے متعدد جاٹ نوجوانوں کے خلاف انہی تشدد کے واقعات میں مرڈر‘ ریپ اور تشدد کے مقدمات بھی واپس لینا پڑے گا۔اس طرح ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت پر اپنی پارٹی کے افراد کو بچانے کا زبردست دبائو ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح پانچ برس قبل قتل و غارتگری کے ذمہ دارمظفر نگر شاملی کے فسادات کے کھلے ہوئے ذمہ داروں کو معاف کیا جا سکتا ہے ؟ اور وہ بھی ایک ایسے معاملے میں جس کے متاثرین پانچ برس بعد بھی اپنے اپنے آبائی مقامات سے اجڑ کر ادھر ادھر کیمپوں اور ٹینٹوں اور ہمدردوں کے مکانات میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور طرح طرح کی آزمائشوں سے گذر رہے ہیں جن کی تفصیلات گذشتہ دنوں ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے اپنی دوخصوصی رپورٹوں میں شائع کی ہیں۔ یہ رپورٹیں بہت ہی دل دہلا دینے والی ہیں۔پچاس ہزار سے زائد بے گھر لوگ مختلف کیمپوں اور ٹینٹوں میں رہ کر مصیبتیں جھیل رہے ہیں ۔انھیں نہ رہنے کو گھر ہے‘ نہ پینے کو صاف پانی ہے‘ نہ کھانے کا مناسب انتظام ہے اور نہ ہی بیت الخلا ء وافر ہے ۔نیز نہ ہی بچوں کی تعلیم اور علاج و معالجہ کا کوئی نظم ہے ۔

 

 

 

 

 

 

سوال یہ ہے کہ کیا متاثرین کی اتنی بڑی تعداد کو نظر انداز کر کے ان فسادات کے ملزمین کو معاف کیا جا سکتا ہے جنہوں نے فرقہ وارانہ ماحول بنا کرسیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے یہ سب کچھ کیا تھا ؟اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ سراسر انصاف کا خون ہوگا اور جو لوگ ہلاک ہوئے ‘ ان کے ورثا ء اور جو لوگ بے گھر ہوئے ‘ وہ حکومت وقت کو کبھی معاف نہیں کر سکیںگے۔حکومت کو جانب داری اور سیاست سے اوپر اٹھ کر اس طرح کے معاملات کو دیکھنا چاہئے۔یہی وقت کا تقاضہ ہے اور انصاف کا تقاضہ بھی ہے ۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی کیونکہ یہ معاملہ چند افراد کا نہیں ہے بلکہ تقریباً ایک لاکھ سے زائد بے گھر آبادی کا ہے جن کی باز آبادکاری کے سنگین مسئلے پر بھی سنجیدگی سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا سکا ہے۔ان بد نصیب لوگوں کے کیمپوں میں ملی و دیگر حقوق انسانی کی تنظیموں نے بار بار جاکر اور انہیں کچھ فلیٹوں کو سونپ کر فلاحی کام یقیناً کیا ہے مگر اصل مسئلہ تو انہیں اپنے آبائی مقامات تک پہنچانے کا ہے۔ان بدنصیب لوگوں کی عملی فکر کرنے والوں میں سب سے نمایاں نام ریاست گجرات کے معروف مستعفی آئی اے ایس افسر ہرش مندر ہیں‘ جو کہ مستقل پانچ برسوں سے وہاں کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور خدمت خلق انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے اس سلسلے میں دنیا کو ان بے گھر لوگوں کی صورت حال سے واقف کرانے کے لئے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *