مظفرنگر فساد:ریاستی حکومت کے ذریعہ اکثریتی فرقہ کے مقدمات واپس کئے جانے کی کوششوں پر علماء کا سخت ردعمل

ulema
پانچ سال قبل مظفرنگر میں ہوئے انسانیت سوز فسادات کو ہوا دے کر ایک مرتبہ پھر بی جے پی آئندہ 2019ء کے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہوگئی ہے، وہیں صوبائی حکومت نے ایک فرقہ کے اوپر سے مظفرنگر فسادات کے سلسلہ میں مقدمات واپس کرنے کی پوری تیار کرلی ہے ۔ واضح رہے کہ سابق مرکزی وزیر سنجیو لیان اور جاٹ کھاپ کے چودھریوں نے گرشتہ دو روز قبل بھی اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ یوگی سے ملاقات کرکے اکثریتی فرقہ کے اوپر سے تمام طرح کے مقدمات واپس کئے جانے کی مانگ کی رکھی تھیں،جس پر وزیر اعلیٰ نے انہیں مثبت یقینی دہانی کراتے ہوئے کہا تھاکہ جلدی ہی تمام فرضی مقدمات کو واپس کرایا جائے گا۔

 

یہ بھی پڑھیں  بابری مسجد-رام جنم بھومی کی سماعت 14مارچ تک کیلئے ملتوی

 

اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء ہند کے خازن مولانا حسیب صدیقی اور صوبائی سکریٹری مولانا محمد مدنی نے کہاکہ اگر حکومت مظفرنگر فسادات کے معاملہ میں ایک طرفہ کارروائی کرتی ہے تو یہ سراسر ناانصافی ہوگی ،اگر فسادات کے مقدمات واپس لینے ہیں تو اس کی شروعات کوال کی جانی چاہئے۔ مولانا حسیب صدیقی نے کہاکہ مظفرنگر فسادات میں جن لوگوں نے اپنوں کو کھویا اور بے گھر ہوئے آج بھی ا ن کے زخم تازہ ہیں۔ایسے متاثرین کی آنکھوں میں آج بھی یہ دلسوز فرقہ وارانہ فسادات دکھائی دیتاہے ،انہوں نے کہاکہ بی جے پی جس طرح فسادات کے نام پر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے اسلئے حکومت کو اس سلسلہ میں غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرکے متاثرین کو انصاف دینا چاہئے اور ملزمین کی صحیح جانچ کرنے کے ساتھ ساتھ مجرمین کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے اور بے قصوروں کو انصاف دیاجانا چاہئے۔

 

یہ بھی پڑھیں   آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تین روزہ میٹنگ آج سے

 

دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی شریف خان قاسمی نے بھی اس سلسلہ میں سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی و صوبائی حکومت نے 2019ء کے میں فائدہ اٹھانے کے خاطر مظفرنگر فسادات کے ملزمین کے مقدمات واپس لینے کے اشارے کردیئے ہیں،انہوں نے کہاکہ حکومت کو انصاف برمبنی کارروائی کرنی چاہئے اور متاثرین کو انصاف دینا چاہئے کیونکہ آج بھی مظفرنگر فسادات کے متاثرین اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکیں۔
وہیں جمعیۃ علما ہند ضلع نائب صدر و جامع مسجد کلاں کے منیجر مولانا فرید مظاہری نے بھی ریاستی حکومت کے ذریعہ بی جے پی لیڈران کے اوپر سے مقدمات ہٹائے کی کوششوں پر سخت ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ سرکار اگر مقدمات واپس لینے کے سلسلہ میں کوئی قدم اٹھاتی ہے اس کی شروعات کوال سے ہونی چاہئے ،کیونکہ وہاں کے بہت سارے لوگ آج بھی بے قصور ہوتے ہیں جیل کی سلاخوں میں ہیں مگر حکومت بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ ایک فرقہ کو نشانہ بنایا جارہاہے جو سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر سرکار نے ایک طرفہ کارروائی تو یہ سراسر نا انصافی ہوگی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *