گجرات:سورت میں تین طلاق بل کے خلاف مسلم خواتین کا احتجاج

muslim-women
چند روز قبل صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کے ذریعہ پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن کو خطاب کرتے ہوئے ہندستانی خواتین کو تین طلاق بل کا تحفہ جلد دینے کی بات پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے ملک بھر میں مسلم خواتین نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج درج کرایا اور شریعت اسلامیہ اور مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی قسم کی حکومتی مداخلت کو مسترد کیا اور اسلامی شریعت میں اپنی پسندیدگی کا بر ملا اعلان کیا۔
جمعےۃ علماء سورت گجرات کے زیر اہتمام شہر سورت میں بھی مجوزہ تین طلاق بل کے خلاف مسلم خواتین نے اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے کہا کہ معزز صدر جمہوریہ ہند تین طلاق بل کی حمایت کرکے مسلم خواتین اور شریعت اسلامیہ کی توہین کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ایسے باوقار آئینی عہدے پر بیٹھ کر شریعت میں مداخلت کی بات کرنااور مسلم خواتین کا توہین کا عمل انھیں زیب نہیں دیتا۔ اس پر امن مظاہرے میں موجود مسلم خواتین کی بڑی تعداد نے اپنے دست خط پر مبنی میمورنڈم ضلع کلکٹر کو سونپ کر تین طلاق بل کے خلاف قانون سازی سے مرکزی حکومت کو روکنے کی اپیل کی۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ تین طلاق، تعدد ازدواج،حلالہ یا دیگر عائلی قوانین کے خلاف سیاہ قانون لانا اور اس کوبزور طاقت نافذ العمل کرنا یہ ہندستانی شہریوں کو دستور و آئین کی روشنی میں ملنے والے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ جب اس ملک کے ہر شہری کو عقیدہ، ضمیر اور اظہار رائے کی آزادی دی گئی ہے تو پھر شریعت میں مداخلت آئین کی خلاف ورزی ہے۔ اس موقع پر موجود جمعیہ علماء سورت کے صدر مولانا ارشد میر نے کہا کہ تین طلاق کے خلاف قانون سازی کا عمل نہ صرف یہ کہ ایک سیکولر جمہوری ملک میں ملنے والی مذہبی اور شرعی آزادی پر راست حملہ ہے، بلکہ یہ بل بھی خود ہی تضادات کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب قانون میں تین طلاق کو کالعدم اور منسوخ قرار دیا گیا ہے، تو پھرکسی شخص کو ایک کالعدم جرم کی سزا دینے کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔
انھوں نے اس مجوزہ قانون کی دفعات سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاق دینے کے بعد جب شوہر کو تین سال کی جیل ہوجائے گی، تو پھر اس عورت اور اس کے بال بچوں کا صرفہ کون اٹھائے گا، حکومت اور قانون ساز کمیٹی کو اس ضرر رساں پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے۔مولانا ارشد میر نے کہا کہ اگر حکومت کو ہندستانی خواتین کی فلاح و ترقی ہی مقصود ہے تو وہ ان کو سڑکوں پر، بازاروں میں، تعلیم گاہوں میں صد فی صد تحفظ فراہم کرے، عورتوں کی عصمت دری کرنے والوں اور ان سے سر راہ چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو سخت ترین سزا دے، عورتوں کے لیے تعلیمی اداروں میں محفوظ اور پر امن ماحول فراہم کرے، تبھی اس حکومت کی مسلم خواتین کی فلاح و بہبود کا منصوبہ مبنی بر حقیقت ہوسکتا ہے۔

 

اس موقع پر آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی بھی موجود تھے، انھوں نے خواتین مظاہرہ کنندگان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت اس ملک کے موجودہ سیکولر جمہوری ڈھانچے کو ہی تباہ کرنے پر آمادہ ہے، اس لیے وہ کبھی مندر مسجد کا تنازع پیدا کرتی ہے، تو کبھی لو جہاد اور گؤ رکشا کے نام پر مسلم اقلیت میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ اس حکومت کو مسلم خواتین کے مفاد اور ان کی فلاح و بہبود کاری سے کوئی سروکار نہیں، بلکہ وہ اس ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے، جو فاششٹ تنظیم آر ایس ایس کے بنیادی منشور میں شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ تین طلاق کے خلاف سیاہ بل لانے کی تیاری سے صاف عیاں ہوگیا ہے کہ مرکزی حکومت مسلم دشمنی میں کس حد تک جاسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں آئین اور دستور میں جو حقوق دیے گئے ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ملک کے سیکولر اذہان کے حامل افراد اور تنظیموں کے ساتھ بھی تال میل بٹھانے کی ضرورت ہے، تاکہ ہماری قانونی لڑائی میں وہ بھی آگے آسکیں۔ انھوں نے کہا کہ اس حکومت کے پاس کوئی ترقیاتی ایجنڈہ نہیں، وہ صرف ہندو مسلم اور مذہبی تنازعات میں الجھا کر انتخابات کے وقت ووٹوں کی فصل کاٹنا چاہتی ہے۔ جس سے ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *