اترپردیش میں صنعتیں بند لاکھوں لوگ بے روزگار

اترپردیش میں عوام سے متعلق ایشوز اقتداری سیاست سے غائب ہیں۔ اپوزیشن کی سیاست سے بھی عام مسئلے غائب ہیں۔ بی جے پی جن مدعوںپر الیکشن جیت کر اقتدارتک پہنچی، ان تمام مدعوں کو نہیںچھوا گیااور اب لوک سبھا الیکشن بھی آنے والا ہے۔ اپوزیشن کی سیاست بیان بازی اور الزام تراشیوں تک سمٹ گئی ہے۔ عوامی مدعوں پر سڑکوںپر آندولن اور ان میںعام جنتا کی حصہ داری اب گزرے دنوں کی باتیں رہ گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے سامنے یا ودھان سبھا کے سامنے آلو بکھیر دینے سے کسانوںکا بھلا نہیںہونے والا، یہ بات سمجھتے ہوئے بھی سماجوادی پارٹی اس سے آگے نہیں بڑھ پارہی ہے۔ دیگر اپوزیشن پارٹیاںتو اس سے بھی گئیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کو رنگ کی سیاست خوب بھا رہی ہے۔ خود اقتدار میںرہتے ہیںتو اپنے رنگ سے کھیلتے ہیں اور دوسرے جب اقتدار میں آکر اپنا رنگ دکھاتے ہیں تو انھیں وہ نہیںبھاتا۔ ہرا، نیلا کھیلنے والوں کو آج بھگوا سے الرجی ہورہی ہے۔پوری سیاست رنگ کے ہی آگے پیچھے چکر لگا رہی ہے۔ اپوزیشن میں کسی بھی مدعے پر کوئی اتحاد ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
ایسپی – کانگریس اتحاد
اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کانگریس کے ساتھ تال میل کرکے میدان میںاتری تھی لیکن آج کانگریس میدان سے غائب ہے۔ ایس پی کے قومی صدر اکھلیش یادو مشترکہ میٹنگ بلاتے ہیںتو اس میں بھی کانگریس شریک نہیں ہوتی۔ بی ایس پی تو رہتی ہی نہیں۔ اب لگ بھگ طے ہوگیا ہے کہ ایس پی- کانگریس اتحاد آنے والے لوک سبھا الیکشن میں قائم نہیں رہے گا۔ 2019 کے لوک سبھا الیکشن میںاپوزیشن پورے اتحاد کے ساتھ بی جے پی کا مقابلہ کرے گا، یہ صرف اسٹیج کی حد تک سچ ہے، زمینی سچ نہیںہے۔ اگر اپوزیشن جماعتیںمتحد ہو کر الیکشن لڑتیںتو یہ افراتفری کا منظر دکھائی نہیںدیتا۔ ساری اپوزیشن پارٹیاں ایک دوسرے پر اپنا غلبہ قائم کرنے، دباؤ میںرکھنے اور مول بھاؤ کرنے میں وقت نہیںگنواتیں۔
ان رویوں کو دیکھتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کو کہنا پڑا کہ لوک سبھا الیکشن میںایس پی کانگریس کے ساتھ تال میل نہیں کرے گی۔ انھوں نے پارٹی کی ایک اندرونی میٹنگ میںکہاکہ تال میل کرنا ہوتا تو کانگریس اور ایس پی مل کر لوکل باڈی کا الیکشن لڑتیں۔ اکھلیش یہ بھی مانتے ہیںکہ اسمبلی انتخاب میں تال میل کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ لب لباب یہ ہے کہ ساری اپوزیشن پارٹیاں اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ سادھنے میںلگی ہوئی ہیں۔ بی ایس پی، کانگریس اور ایس پی کو کہیںنہیںبخشتی۔ابھی پچھلے دنوں بی ایس پی لیڈر مایاوتی نے آئین سے چھیڑ چھاڑ کے مسئلے پر بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس پر بھی نشانہ سادھا۔ انھوں نے کہا کہ آئین او ربابا صاحب امبیڈکر کے تئیں کانگریس کی آستھا بھی بی جے پی جیسی ہی ہے۔ مایاوتی اب بھی دلت، مسلم اور برہمن کی متصادم سیاست نے ریاست کے سیاسی منظر نامہ اور عوام کو گمراہ کرکے رکھ دیا ہے۔
لوک سبھا الیکشن میںعوام کے سامنے اب بکھرے ہوئے اپوزیشن اور بی جے پی میںکوئی ایک متبادل چننے کی مجبوری ہے۔ عام لوگ کھلے عام کہتے ہیںکہ اپوزیشن پارٹیوں کو عوام کا مسئلہ اٹھانا چاہیے تھا لیکن اس کے بجائے سب بھگوا رنگ میںہی پھنسے ہوئے ہیں۔پہلے تو وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ کا بھگوا رنگ مدعا بنا پھر ٹرانسپورٹ کی بسیں، سائن بورڈ اور اب حج ہاؤس کی چہاردیواری کا بھگوا رنگ اپوزیشن پارٹیوں کا مدعا بن گیا۔ حالانکہ بعد میںحج ہاؤس کی چہار دیواری کا رنگ بدلا بھی گیا اور نیچے کی سطح پر انتظامی کارروائی بھی ہوئی لیکن اس سے سیاست پر چڑھا بھگوا رنگ کم نہیںہوا۔ ایس پی اور بی ایس پی اس رنگ کے استعمال پر زیادہ ہائے ہائے کررہی ہیں۔ حالانکہ ریاست کے لوگ بی ایس پی اور ایس پی کے زمانے کے رنگ کو بھولے نہیں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی اس ناسمجھ سیاست کا فائدہ بی جے پی کو ہی مل رہا ہے۔ لوگوں کو یہ پہلے کا تجربہ ہے کہ سرکار بدلتے ہی ریاست میںرنگوںکی سیاست شروع ہوجاتی ہے۔ ایس پی اور بی ایس پی سرکاروںمیںبھی رنگا رنگ پروگرام خوب چلا۔ بی ایس پی کی مدت کار میںسڑک کے کنارے لگی دیواریں، گریل،سرکاری ڈائری اور کیلنڈر تک نیلے رنگ سے رنگ دیے گئے تھے۔ ایس پی سرکار کے دور میںبھی سب طرف ہرا ہرا دکھائی دینے لگا تھا۔ بی ایس پی کے دور میںٹرانسپورٹ کی بسیںنیلی، تو ایس پی کے دور میںہرے رنگ میںرنگ دی گئی تھیں۔ بی جے پی نے بھی ایس پی اور بی ایس پی کی نقل پر بھگوا رنگ رنگوادیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

انتخابی منشور دکھاوا
سبھی سیاسی جماعتیں اپنے منشوروں کے ذریعہ عوام سے قسم قسم کے وعدے کرتی ہیں۔ اقتدار میںآنے کے بعد ان وعدوں کو پورا کرنے کا یقین دلاتی ہیں اور ووٹ ٹھگتی ہیں۔ عوام ہر بار الیکشن میںٹھگی جاتے ہیں۔ متبادل کے فقدان میں ووٹ دینے اور ٹھگے جانے کا عمل جاری رہتا ہے۔الیکشن کمیشن بھی کہہ چکا ہے کہ غیر عملی او رجھوٹے وعدے پر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے لیکن ابھی تک ایسی کوئی کارروائی نہ نہیں ہوئی۔ تعلیم، صحت، بجلی، پانی ، سڑک، روزگار، سیکورٹی جیسی بنیادی ضرورتیںمہیا کرانے میںسیاسی جماعتیں فیل ثابت ہوتی ہیں۔ اقتدار ملتے ہی عام جنتا کی سہولت یا اس کے حق پر کوئی بات نہیں ہوتی۔
کسانوںکا مسئلہ سب سے اہم
صرف اترپردیش ہی کیا پورے ملک میںسب سے اہم مسئلہ کسانوں کا ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی کسانوںکو لگاتار نظر انداز کیا جارہا ہے۔ لیکن سیاست کی روٹیاں بھی ان ہی کے دم پر سینکتی رہی ہیں۔ کسان کمیشن کی تشکیل کا مسئلہ ہو یا سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشوںکو حرف بہ حرف لاگو کرنے کا۔ کسی بھی سرکار نے اسے نافذ کرنے کی کوئی پہل نہیںکی۔ عام بجٹ سے ایگریکلچر بجٹ کو الگ کرنے کی مانگ ٹھوس شکل اختیار کرتی، اس سے پہلے مرکزی سرکار نے ر یل بجٹ کو بھی عام بجٹ میںہی ضم کردیا ۔ لاگت کے مطابق زرعی مصنوعات کی قیمت طے نہیں کی گئی اور کسان برباد ہوتا چلا گیا۔ کتنے کسانوں نے خود کشی کی، اس کا بھاری عدد دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
30 دسمبر 2016کو جاری نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے آفیشل اعداد و شمار کے مطابق قرض کے بوجھ ،سود خوری، خشک سالی، اقتصادی تباہی او رسرکار کی کسان مخالف پالیسیوں کے سبب 2015 میں12,602 کسانوں اور کھیت مزدوروں نے خود کشی کی تھی۔ یہ تعداد 2014 میںہوئی خودکشیوں میںدو فیصد کا اضافہ دکھارہی تھی۔ اس کے بعد تو 2017 بھی گزرگیا۔ اس کے آفیشل اعداد وشمار آنے ابھی باقی ہیں۔ان اموات کے باوجود کسانوں کی زرعی پیداوار کی فروخت کا کوئی مناسب بندوبست نہیںکیا جاسکا اور نہ ہی مناسب بازار ہی تیار ہوسکا۔
المیہ یہ ہے کہ ان مسائل کے نمٹارے میںسرکاروں کی کوئی دلچسپی نہیںہے۔ لیکن مختلف سیاسی جماعتوں کے لوک سبھا یا ودھان سبھا انتخاب کے وقت جاری ہوئے منشوروںپر غور کریںتو کسانوںسے جڑے یہ سارے مدعے آپ کو کاغذ پرمل جائیںگے۔ کانگریس کم سے کم سود کی شرح پر زرعی قرض دینے، زرعی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے اور زرعی پیداوار کو پیشہ وارانہ طریقے سے بازار دینے کی باتیںکرتی رہی لیکن جب تک مرکز میںاس کی سرکار رہی، اس سمت میںکوئی کارروائی نہیںہوئی۔سماجوادی پارٹی کسانوں کی زمین نیلام نہیںکرنے، بیکار پڑی زمین کو زرخیز بنانے کے لیے آب پاشی کا بندوبست کرنے اور ندیوںکو جوڑنے جیسے وعدے اپنے منشورر میںشامل کرتی رہی لیکن اقتدار میںآئی تو کسانوںسے کیے گئے ان وعدوں کو طاق پر رکھ دیا۔بی جے پی نے بھی اپنے منشور میںبڑی بڑی باتیںکہیں۔ مثال کے طور پر کسانوں کو لاگت کا 50 فیصد فائدہ طے کیا جائے گا۔فوڈپروسیسنگ کے ساتھ ساتھ ایگرو فوڈ پروسیسنگ کلسٹر کا قیام ہوگا، گیہوں خریدا جائے گا، دھان خریدا جائے گا، آلو خریدا جائے گا وغیرہ۔ لیکن حساب لیں تو بی جے پی نے اقتدار میںآنے کے بعد اس سمت میںکچھ نہیںکیا۔
گیہوں کی سپورٹ پرائس 1450 روپے فی کنٹل کیے جانے سے کسانوں میں شدید ناراضگی ہے۔ اس سال کسانوں کو گیہوں کی خرید پر بونس بھی نہیں ملے گا۔ گنا، آلو، دھان کے گرتے دام کے بعد اب کسانوں کو گیہوں سے لاگت بھی نکال پانا مشکل ہوگا۔ کساں گیہوں کی قیمت 1550 روپے فی کنٹل کرنے اور بونس دینے کی مانگ کررہے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ سرکار کسانوں کی پریشانی کی طرف دھیان نہیں دے رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

یوگی کے آلو کو لے کر وعدے
آلو کو لے کر بھی یوگی سرکار نے ایسے ہی بڑے بڑے وعدے کیے تھے لیکن آلو نے کسانوںکو بری طرح سے مارا۔ مجبور کسانوں نے سڑکوںپر آلو پھینکنا زیادہ بہتر سمجھا۔ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ او ر ودھان سبھا کے سامنے آلو پھینکا گیا تو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ برا مان گئے۔ لکھنؤ میںودھان بھون کے سامنے، وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے پاس اور کچھ دیگر اہم شاہراہوں پر کافی مقدار میںآلو بکھرا پایا گیا۔ اسے لے کر سیاست اچانک گرما گئی۔ یوگی سرکار کی مخالفت میںکسانوں کی ناراضگی سڑک پر آلو کے ذریعہ ظاہر ہوئی۔ ناراض کسانوں نے وزیر اعلیٰ کی رہائش اور وھان سبھا کے باہر آلو پھینک کر احتجاج کیا۔ صبح کے وقت ودھان سبھا کے سامنے کی اہم شاہراہوں پر آلو ہی آلو نظر آرہے تھے۔انتظامیہ آلو ہٹانے میںلگا تھا۔ ایساصرف لکھنؤ میںہی نہیںہوا، پوری ریاست میںآلو کسانوںنے مظاہرہ کیا۔ پچھلے سال آلو کی ریکارڈ پیداوار ہونے سے کسانوںنے آلو کولڈ اسٹوریج میںرکھوا دیا تھا لیکن پرانے آلو کی مانگ کم ہونے کی وجہ سے اسٹوریج مالکوں اور کسانوں کے پاس اسے سڑک پر پھینکنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ ریکارڈ آلو پیدا کرنے والے فرخ آباد ضلع کے ہی قریب 70 کولڈ اسٹوریج آلو سے بھرے پڑے ہیں۔ اب کوئی بھی کولڈ اسٹورآلو رکھنے کی حالت میں نہیں ہے۔ کسان بھی کولڈ اسٹوریج میںہی آلو چھوڑ کر چلا گیا۔ فرخ آباد کے تقریباً 34 ہزار ہیکٹیئر رقبہ میں آلو کی فصل بوئی گئی تھی۔ آلو کی ریکارڈ پیداوار کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ یا تو کوڑیوں کے مول بکا یا کوڑے کی طرح راستوںپر پھینکا سڑتا ہوا نظر آیا۔ پیاز اور ٹماٹر کے بڑھتے داموں کے بیچ آلو کسانوںکے لیے سرکار کی طرف سے کوئی بھی اعلان نہیںکیا گیا۔ الٹا، سڑک پر آلو پھینکنے کے الزام میںلکھنؤ پولیس نے کچھ سپائیوں کو پکڑ لیا اور جیل کے اندر کردیا۔
اترپردیش کی بند پڑی ملیںاور کارخانے صرف انتخابی مدعا بنتے ہیں لیکن ان پر کوئی کام نہیںہوتا۔ سرکاری حقیقت یہ ہے کہ محض 10 سال میںاترپردیش کے قریب ڈیڑھ چھوٹے اور درمیانی صنعتی دھندے بند ہوگئے۔ ان کے بند ہونے سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے اور ان کی ہجرت ہوگئی۔ ریاستی سرکار اور نوکر شاہی صنعتی اصلاحات کی صرف دعوے کرتی ہے لیکن کوئی کام نہیںکرتی۔ در میانی اور چھوٹی صنعت کی وزارت کی رپورٹ خود کہتی ہے کہ اترپردیش میں دیہی سطح پر چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی تعداد ناقابل یقین رہ گئی ہے۔ خواتین کاروباریوں کی تعداد تو نہ کے برابر ہے۔ صنعت کھڑی کرنے میںدلتوںکی حصہ داری بھی کم ہی ہے۔ کاروبار میںسب سے زیادہ حصہ داری پچھڑی ذات کے لوگوںکی رہی ہے لیکن وہ بھی زیادہ تر مایوس ہوکر اپنی صنعت بند کرچکے۔ 30 فیصد سے زیادہ صنعتیں مستقل طور پر بند ہوگئیں۔ انڈین انڈسٹریز ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ ریاست میںصنعتوں کو چلانے کے لیے نہ تو بنیادی سہولتیں ملتی ہیں اور نہ ہی کاروباری یہاں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اکیلے جی ایس ٹی کے سبب ہی یو پی کی قالین صنعت سے جڑے 20 لاکھ سے زیادہ بنکر بے روزگار ہوگئے۔ پوری قالین صنعت جی ایس ٹی کے بعد بربادی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ نوٹ بندی کی وجہ سے قالین صنعت پہلے سے کراہ رہی تھی، جی ایس ٹی نے باقی کی کسر پوری کردی۔ قالین سازوں اور ایکسپورٹ ایسوسی ایشنز کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کے چلتے لگ بھگ پانچ ہزار اکائیاں بند ہوگئیں اور ہزار کروڑ روپے کا ایکسپورٹ نقصان میںچلا گیا۔ کوئی نیا آرڈ رنہیںدیا جارہا ہے او رنئے آرڈر کے لیے بنائی پوری طرح بند ہوگئی ہے۔ مرکزی سرکار کی بھونڈی پالیسی اور ریاستی سرکار کی بے اعتنائی کا فائدہ چین اور ترکی جیسے ممالک کو مل رہا ہے۔ سرکار کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کے ارادے سے ایسا کررہی ہے تاکہ مشین کے ذریعہ تیار قالینوںکا بازار چل نکلے۔ اترپردیش کے قالین بنانے والے علاقے بھدوہی، مرزا پور،وارانسی،گھوسیا،اورئی، آگرہ،سون بھدر، سہارنپور، سہجن پور، جون پور،گورکھپور وغیرہ بنکروںکے لیے تباہی کا مرکز بن چکے ہیں۔ لیکن ان پر نہ تو گورکھپور کے یوگی آدتیہ ناتھ کی نگاہ جاتی ہے اور نہ ہی اپوزیشن کی سیاست کرنے والی پارٹیوںکی۔
یوگی سرکار اس دور کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کی ’کرپا‘ سے ملک کی بند پڑی چینی ملوں میں سے کچھ ملوںکو پھر سے چلانے کی بات کررہی ہے۔ یہ کچھ ملیںپوروانچل کی ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی پوروانچل (گورکھپور) کے ہیں، تو یہاں کے لوگوںکو امید ہے کہ اگلے الیکشن سے پہلے کہیںیہ ملیںپھر سے شروع ہو جائیں۔ یہی امید کانپور کے لوگوں کو بھی تھی ،جنھیں لگاتار یہ یقین دہانی کرائی جا رہی تھی کہ کپڑا صنعت کے سبب کبھی مشرق کا مانچیسٹر کہے جانے والے کانپور کے پرانے دن لوٹائے جائیںگے۔کپڑا صنعت کے لیے مشہور مئو کے لوگوںکو بھی یہی بھروسہ دیا گیا تھا ۔ لیکن اب بی جے پی سرکار کے وزیروں کے منہ سے اس کی بھنبھناہٹ بھی نہیںسنائی دیتی۔ یوگی سرکار کے قدآور وزیر کانپور کے باشندے ستیش مہانا نے کہا تھا کہ کانپور کی بند پڑی کپڑا ملوںکے تالے جلد ی ہی کھلنے والے ہیں۔ اس سے کانپور سے تیزی سے ہورہی محنت کش لوگوں کی ہجرت رکے گی۔ مہانا نے کہا تھا کہ پچھلی سرکاروںکی غلط پالیسیوں کی وجہ سے صنعت کار کانپور میںصنعت لگانے سے ڈرتے تھے لیکن اب ماحول بدل گیا ہے۔ مرکز اور یوگی سرکار مل کر اترپردیش میںبڑے پیمانے پر صنعتی دھندے شروع کرنے کے لیے روڈ میپ تیار کررہی ہے۔ مہانا کے مطابق مشہور کپڑا مل لال – املی کانگریس کے دور میںبند ہوئی تھی۔ اسے چالو کرنے کے لیے کپڑا وزارت سے پیسہ بھی آیا، نئی مشینیںلائی گئیں لیکن اس کے باوجود اسے چالو نہیںکرایا جاسکا۔ مہانا نے کانپور کے لوگوںکو خواب دکھایا کہ آنے والے وقت میں کانپور میںاور بھی نئی نئی صنعتیںلگیںگی۔ بڑی بڑی کمپنیوں سے اس سلسلے میں بات چیت چل رہی ہے۔ مہانا نے دعویٰ کیا تھا کہ کانپور کی بند پڑی کپڑا ملوںکو دوبارہ چالو کرنے کے بارے میںان کی مرکزی وزیر خزانہ اور کپڑا وزیر سے ملاقات ہوچکیہے لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا،اس کا لوگ انتظارہی کررہے ہیں۔ ایلگن اور لال املی سمیت دیگر بند ملوں کی چمنیوںسے دھواںنکلنا کب شروع ہوگا، اس کے انتظار میںکئی نسلیںبوڑھی ہوچکی ہیں۔ ان نسلوںکو گمان تھا کہ کانپورمیںکبھی سودیشی، لال املی،ایلگن سمیت درجنوں مشہور کپڑا ملیںتھیں۔ کپڑے کی کئی دیگر چھوٹی موٹی صنعتیں بھی تھیں۔ ان ملوںمیںلاکھوںکی تعداد میںلوگ کام کرتے تھے۔ کانپور کی پہچان ہی اس کی صنعتی دھاک کے سبب تھی۔ کانپور کے لوگوں کی گھڑیاں ملوںکے سائرن سے ہی چلتی تھیں۔ یہاںکے کپڑے کی مانگ غیر ممالک تک تھی۔لا ل املی کے کپڑے اور قالین کی مانگ پاکستان سے لے کر ایران اور عراق تک تھی۔ ایلگن کابنا کپڑا امریکہ، یوروپ اور جاپان کے بازاروں تک پوچھا جاتا تھا۔ کانپور سب سے زیادہ کپڑا بنانے والا ایشیا کا اکیلا شہر تھا۔ 1970 کی دہائی کے بعد کانپور کی کپڑا ملیں دھیرے دھیرے بند ہوتی چلی گئیں۔ مئو کی بند کپڑا ملوںکو بھی دوبارہ کھولنے کی جملے بازی لگاتار ہورہی ہے۔ حال ہی میںیوگی سرکار نے مئو کی مشہور سودیش کاٹن مل اور پردہاں کاٹن مل کی بند ہونے پر افسوس جتاتے ہوئے اسے چالو کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن یہ یقین دہانی اور فکر صرف زبانی کسرت ہی ثابت ہورہی ہے۔ سودیش کاٹن مل مرکزی سرکار کا اُپکرم تھا اور پردہاں کاٹن مل اتر پردیش سرکار چلاتی تھی۔ مل بند ہونے سے بے روزگار ہوئے ایک بزرگ کاریگر کہتے ہیںکہ سرکاروںکو سیاست کی مل چلانے کی فرصت نہیں ،بند کارخانے کہاںسے کھلوائے گی ۔ بزرگ بتاتے ہیںکہ محض 64 کروڑ کے خسارے کی وجہ سے پردہاں کاٹن مل کو سرکار نے بند کردیا تھا۔ اس کی وجہ سے پانچ ہزار سے زائد ملازمین بے روزگار ہوگئے تھے۔ المیہ یہ ہے کہ یوگی سرکار بننے کے 25 دنوں کے اندر اس مل کو پھر سے چالو کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ افسروں اور انجینئروں کی ٹیم نے بند مل کا معائنہ کرنے کی رسم بھی پوری کرلی لیکن ساری قواعد سطحی سیاست ہی ثابت ہورہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 15 جنوری 1974 میںشروع ہوئی یہ مل 2005 میںمحض 64کروڑ روپے کے گھوٹالے کی وجہ سے بند کردی گئی تھی۔ تب اترپردیش میںسماجوادی پارٹی کی سرکار تھی اور ملائم سنگھ یادو ریاست کے وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *