مولانا سید سلمان ندوی مسلم پرسنل لا بورڈ سے معطل، بورڈ نے تانا شاہی کا رویہ اپنایا:مولاناسلمان ندوی

salman-nadvi

بابری مسجد ۔ رام مندرمعاملے میں بورڈ کے موقف کے خلاف جانے پر مولانا سید سلمان حسینی ندوی کو مسلم پرسنل لا بورڈ سے معطل کردیا گیا ہے۔ مولانا سلمان ندوی بورڈ کے عاملہ کے رکن تھے۔ مولانا سلمان ندوی نے گزشتہ دنوں شری شری روی شنکر سے ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے بورڈ کے برعکس موقف اختیار کیا تھا۔ اس کے بعد بورڈ نے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس چار رکنی کمیٹی میں بورڈ کے صدر مولانا سید رابع حسینی ندوی، جنرل سکریٹریز مولانا سید محمد ولی رحمانی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور رکن عاملہ مولانا ارشد مدنی شامل تھے۔بورڈ نے مولانا سلمان ندوی کو معطل کرنے کی کارروائی اسی چار رکنی کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر کی ہے۔
دوسری جانب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے برخاست کئے جانے کے بعد مولانا سلمان حسینی ندوی نے کہا ہے کہ بورڈ تانا شاہ رویہ اپنا رہا ہے۔ مولانا ندوی نے لکھنو میں کہا کہ وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور اجودھیا جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جمعہ کو ہی یہ صاف کردیا تھا کہ میں ایسے بورڈ کا حصہ نہیں بن سکتا۔
عیاں رہے کہ شری شری سے ملاقات کے بعد مولانا ندوی اور بورڈ کے درمیان تلخی بڑھ گئی تھی، جس کی وجہ سے گزشتہ روز وہ حیدرآباد میں ہونے کے باوجود سلمان ندوی بورڈ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔قابل ذکر ہے کہ مولانا سلمان ندوری نے بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی تنازع کا بات چیت کے ذریعہ آپسی اتفاق رائے سے حل نکالنے کی حمایت کرتا ہوئے کہا تھا کہ اجودھیا میں متنازع مقام سے دور مسجد بنائی جائے اور ساتھ ہی ساتھ حکومت ایک یونیورسٹی کھولنے کیلئے بھی زمین مہیا کرائے۔ جبکہ بورڈ کا واضح طور پر کہنا ہے کہ بابری مسجد تنازع کو لے کر اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، کیونکہ جب ایک مرتبہ مسجد بنتی ہے تو ہمیشہ کیلئے مسجد ہی رہتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *