بابری مسجد سے متعلق عدلیہ پر اعتماد اور باہرسمجھوتہ کی بات کرنے والوں کا رویہ افسوسناک:مولانا محمد رحمانی مدنی

muhammad-rahmani-madani
مسجد کے لئے مخصوص کی گئی زمین ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے اس سے متعلق بات چیت سے مسئلہ کو حل کرنے کی بات کرنے والے مفاد پرست اور منافقانہ رویہ کے لوگ ہیں۔ جب مسجد کو منہدم کردیا گیا اور فسادات برپا کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا گیا تو اب بیٹھ کر بات کرنے کا تصور ہی بے سود ہے ، ہمیں عدلیہ پر پورااعتماد ہے اور اس کا فیصلہ ہمیں منظور ہوگا لیکن مسجد کی زمین پر کسی بھی انداز کا تنازل ممکن ہی نہیں ہے اگر وہاں مسجد نہ بھی تعمیر ہو تو بھی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ عدلیہ کے احترام میں اس کے فیصلے کوتسلیم کریں۔ لیکن اس زمین کے احترام اور اس جگہ سے دست بردار ہرگز نہ ہوں ، اپنے دلوں میں اس جگہ کا احترام باقی رکھیں۔آج جن لوگوں نے عدالت سے باہر بیٹھنے کی بات کی ہے اور ہندو لیڈران کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کا شوشہ پھر سے چھوڑا ہے حقیقت میں ایسے لوگ امت اسلامیہ کے ساتھ ہمیشہ منافقت کرتے رہے ہیں، انہیں لوگوں نے بغداد ی جیسے اسلام دشمن کے ہاتھ پر بیعت کی بات کی تھی اور دین سے متعلق غلط فتوے دینے والوں کے ساتھ بیٹھ کر قطر میں منافقانہ رول ادا کیا تھا۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں کو ان تمام تنظیموں ، اداروں اور عہدوں سے نکال کر باہر کردینا چاہئے جن سے یہ منسلک ہیں اور ایسے لوگوں سے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے، ان لوگوں نے جو بیانات دیئے ہیں وہ اسلامی عقائد اور اسلامی روح کے صریح خلاف ہیں۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔ مولانا بابری مسجد پر منافقت اور ترک صلاۃ کی قباحت سے متعلق تفصیلی گفتگو فرمارہے تھے۔
خطیب محترم نے اپنے خطاب میں صلوات خمسہ سے متعلق کوتاہی اور ترک صلاۃ کی قباحت پر بھی روشنی ڈالی اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ صلوات خمسہ باجماعت کا مکمل اہتمام کریں تاکہ مسجدیں آباد رہیں اور ان پر غلط نگاہیں ڈالنے والے کامیاب نہ ہوسکیں۔ہماری دینی کوتاہیوں کی وجہ سے ہمارے سامنے بڑے بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔مولانا نے مزید فرمایا کہ جان بوجھ کر نماز چھوڑنے سے انسان اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور اس سے متعلق قرآن وسنت میں بڑی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ سات سال کے بچوں کو نماز کا حکم دیا جائے اور تین سال کی تربیت کے بعد جب وہ دس سال کی عمر میں بھی نماز نہ پڑھیں تو انہیں سزا بھی دی جائے، حقیقت یہ ہے کہ نماز بلوغت کے بعد واجب ہوتی ہے،لیکن بلوغت سے پہلے ہی اس کی اتنی تاکید اس کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ نماز انسان کو تمام برائیوں سے محفوظ رکھتی ہے، اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہ جانے والے افراد کے لئے فرمایا کہ میں ان کے گھروں میں آگ لگا دیتا لیکن میں بچوں اور خواتین کی وجہ سے رعایت کرجاتا ہوں ،اسلام نے نماز پڑھنے کو اسلام کی علامت اور نماز چھوڑنے کو کفر کی علامت اسی وجہ سے قرار دیا ہے، اور تارک صلاۃ کو جہنمی کہا گیا ہے نیز یہ منافقوں کی علامت ہے کہ وہ نماز میں کوتاہی اور سستی کرتے ہیں۔خطیب محترم نے فرمایا کہ ترک صلاۃ کے مرتکب کو توبہ کا حکم دیا جائے گا، اگروہ توبہ کرلیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مطابق اسے قید بامشقت کی سزا دی جائے گی جبکہ مالکیہ عمر قید اور شافعیہ اور حنابلہ قتل کی سزا کے قائل ہیں ۔ افسوس آج ترک صلاۃ مسلمانوں کی عادت بنتی جارہی ہے۔
مولانا نے بابری مسجد پر عدلیہ سے باہر بات کرنے کی وکالت کرنے والوں سے یہ سوال بھی کیا کہ کیا مسلمانوں کے مسائل پر ہم نے ایسے لیڈران سے کبھی بات کی ہے؟ گائے کے نام پر مسلمانوں کا قتل،فسادات کے ذریعہ مسلمانوں کی تباہی،مساجد کی توہین اور ان میں شرارتیں اور نہ جانے کتنے ایسے مدّے ہیں جن پر گفتگو کرکے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے لیکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس انداز کی گفتگو کرنے والے صرف مفاد پرست لوگ ہیں۔اخیر میں دین پر ثابت قدمی پیدا کرنے کی اپیل اور دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *