جھوٹ انسانیت کے لئے سب سے بڑا ناسور ہے اس سے انسانیت کو بچانا ہمارا ہم فریضہ ہے: مولانا محمد رحمانی مدنی

muhammad-rahmani
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ مجھے بہت سی برائیوں کی عادت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پر وہ کہنے لگا کہ میں جھوٹ بولتا ہوں،زنا کرتا ہوں،شراب پیتا ہوں اور نہ جانے اس طرح کی کن کن برائیوں میں مبتلا ہوں، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھوٹ کو چھوڑنے کی نصیحت کرکے رخصت کردیا۔ اوراس طرح اسے جھوٹ کو چھوڑنے کے نتیجہ میں اس کی ساری برائیاں ختم ہوگئیں کیونکہ اگر اس سے پوچھا جاتا تو وہ سچ بولتا اور سچائی کی وجہ سے اس کا عیب سب پر ظاہر ہوجاتا ۔لہذا سچائی نے اس سے ساری برائیوں کو ختم کردیا۔ اللہ رب العالمین نے جھوٹوں پرلعنت بھیجی ہے اور سچائی سے کام لینے کا حکم دیا ہے۔جھوٹ کی سب سے خراب شکلوں میں سے یہ ہے کہ اللہ رب العالمین یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا جائے یا حاکم صاحب طاقت واختیار ہونے کے باوجود جھوٹ بولے۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا ’’جھوٹ اور اس کی قباحتیں‘‘ کے موضوع پر خطاب فرمارہے تھے۔
خطیب محترم نے فرمایاکہ آج جھوٹ تمام شعبہائے زندگی میں گھر کرگیا ہے ،تاجر جھوٹ بولنے لگا،مزدور جھوٹ بولنے لگا،صاحب اقتدار جھوٹ بولنے لگے اور خود مسلمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی حدیثوں کی نسبت کرنے لگے اور یہ بڑا ہی سنگین جرم ہے، ایسے انسانوں کے لئے کتاب وسنت میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ اسلام نے صرف دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لینے کی اجازت دی ہے لیکن اس کے برعکس آج ہم تناؤ پیدا کرنے اور دشمنی بڑھانے کے لئے جھوٹ بول کر اپنی عاقبت کو تباہ کررہے ہیں۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات کا لحاظ رکھیں کیونکہ جھوٹ بولنے والا جہنم کی طرف بڑھتا ہے اور اسے جھوٹوں کی فہرست میں لکھ دیا جاتا ہے۔
مولانا موصوف نے فرمایا کہ جھوٹے خواب کا دعوی کرنے والے کو قیامت کے دن جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کے لئے کہا جائے گا جسے وہ ہرگز نہیں کرسکے گا ،اور لوگوں کی باتیں ان کی بے خبری میں کان لگا کر چپکے چپکے سننے والے کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر قیامت کے دن ڈالا جائے گا، کیونکہ یہ بھی جھوٹ کے وسائل اور فتنوں کو بھڑ کانے کا اہم ذریعہ ہے۔اسی طرح وہ انسان جو گھر سے نکلتا ہے اور ایسا جھوٹ بولتا ہے جو ہرجگہ پھیل جاتا ہے تو قیامت میں اس کے جبڑوں ،آنکھوں اور کانوں کو اس کی گدی تک پھاڑ دیا جائے گا اور یہ سزا اسے بار بار دی جاتی رہے گی۔
خطیب محترم نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اچھائیوں کی جڑ صداقت کو اختیار کریں اور برائیوں کی جڑ جھوٹ سے خود بھی بچیں اور اپنے اہل وعیال اور تمام انسانوں کو بچنے کی تلقین کریں۔ آج میڈیا نے ہمیں جھوٹ کا عادی بنا دیا ہے۔ہم خرید وفروخت، لین دین، تجارت،حقوق ومعاملات اور باہمی گفتگونیز گواہی دینے اور ہر ہر چیز میں سفید جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اسی لئے ہمارے کاروبار کی برکت اٹھ گئی ہے اور ہمارے اوپرسے دنیا کا اعتماد بھی رخصت ہوتا جارہا ہے۔اخیر میں سچائی کو اختیار کرنے اور جھوٹ کو چھوڑنے کی اپیل اور دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *