کاس گنج میں ایک بار پھر تشدد،مسجدکے دروازے پرشرپسندوں نے لگائی آگ

masjid-gate-in-kasganj
یوم جمہوریہ پر تشددکے دوران چندن گپتاکے قتل کے بعدایک بارپھرسے کاس گنج کاماحول کشیدہ ہوگیاہے۔خبروں کے مطابق، آج کچھ شرپسندلوگوں نے ایک مسجدکے دروازے کوآگ کے حوالے کردیا،جس کے بعدپھرسے کاس گنج کا ماحول کشیدہ ہوگیاہے۔ بتایاجارہاہے کہ کاس گنج میں آج صبح گنج ڈنڈوارہ قصبہ کی ایک مسجدکے دروازے میں کچھ نامعلوم لوگوں نے آگ زنی کی۔اس کے بعدلوگوں میں غصہ پھیل گیا،یہاں پربازار بھی بندہیں۔ ڈی ایم آرپی سنگھ کے ساتھ ایس پی پیوش شریواستوبھی موقع پرپہنچ گئے ہیں۔
کاس گنج میں ایک بارپھرتشددبھڑکانے کی کوشش کی گئی ہے۔مسجدکے دروازے میں آگ لگنے کی اطلاع جیسے ہی لوگوں کوملی ایک بارپھرماحول کشیدہ ہوگیاہے۔موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔موصول معلومات کے مطابق، کچھ نامعلوم افراد نے ایک دکان میں آگ لگا دی۔ ایک مخصوص برادری کی دکان میں آگ لگانے سے ماحول پھر خراب ہوگیا۔ تاہم پولیس نے معاملہ کی سنگینی کے مدنظر وہاں سے بھیڑ کو فورا ہٹا دیا اور بڑی تعداد میں فورسز تعینات کر دیں۔
عیاں ر ہے کہ26 جنوری کو ترنگا یاترا کے دوران بھڑکے تشدد میں پانچ دن تک شہر فسادات کی آگ میں سلگتا رہا۔ فساد میں چندن گپتا نامی ایک نوجوان کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ معاملہ میں پولیس نے چندن قتل کے ملزم سلیم سمیت سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔
یو پی حکومت نے کاسگنج تشدد معاملہ میں اپنی ابتدائی رپورٹ مرکز کو بھیج دی ہے۔ رپورٹ میں قانون و انتظام کو لے کر پیدا ہوئی صورتحال، موجودہ صورت حال اور کارروائی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔اب تک اس معاملہ میں 143 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تشدد میں درج 5 ایف آئی آر کے تحت 37 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ 81 افراد کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *