کیا کشمیر میں فوج کا پروفیشنلزم متاثر ہورہا ہے؟

دوسال قبل جب ہندوستانی فوج کے ناتھرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل دپندرا سنگھ ہوڈا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ فوج جموں وکشمیر میں اپنا کام کرچکی ہے اور اب دائمی امن کے لئے اس مسئلے کا سیاسی حل نکالا جانا چاہئے، تو اس پر پورے ملک میں ایک بحث چھڑ گئی تھی ۔ بعض لوگوں نے جنرل ہوڈا کے بیان کو ’’ حقیقت پسندی‘‘ کا ایک کھلا اظہار قرار دیا ، جبکہ بعض لوگوں نے ان کے بیان پر انکی تنقید کی۔ بعدازاں جنرل ہوڈا نے کئی بار اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسی بھی خطے کے اندرونی تنازعے کا حل ہمیشہ سیاسی ہوتا ہے ، فوجی نہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ستمبر 2016میںشمالی کشمیر کے سرحدی قصبہ اوڑی میں جنگجوئوں کے حملے میں 19فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے پاکستان کے اندر گھس کرجو ’’سرجیکل سٹرائیک ‘‘کی تھی ، اسکی قیادت بھی جنرل ہوڈا نے ہی کی تھی ۔ جنرل ہوڈا فوج کی 16ویں کور کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے کئی انٹرویوز میں کشمیر کے مسئلے کو سیاسی طور حل کرنے کا مشورہ دیا ۔ حال ہی میں سرینگر سے شائع ہونے والے ایک اخبار کو انٹرویو میں جنرل ہوڈا نے ایک بار پھر اپنے نظریے کو دہراتے ہوئے کہا کہ جمہوری اصولوں کے مطابق اندرونی تنازعات کا حل سیاسی طور نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صرف وہی نہیں بلکہ جموں کشمیر میں تعینات رہے فوجی افسران کی اکثریت کا ماننا ہے کہ انسانی حقوق کی اہمیت ہے اور ہمارا رویہ عوام دوستانہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ کوئی اچھی اسٹریٹجی نہیں ہے کہ آبادیوں کو فوج کے خلاف کیا جائے ۔
در اصل جنرل ہوڈا نے یہ انٹرویو جنوبی کشمیر میں مظاہرین پر فوج کے راست فائرنگ کے واقعات کے بعد دیا ہے۔ پہلا واقعہ شوپیاں ضلع میں 27جنوری کو رونما ہوا، جب فوج نے پتھرائو کرنے والے نوجوانوں کی ایک جمعیت پر فائر کھول دیا، جس کے نتیجے میں تین نوجوان ہلاک اور 8افراد زخمی ہوگئے ۔ اس واقعہ پر مین سٹریم سیاسی جماعتوں نے بھی فوج کو ہدف تنقید بنایا اور ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی وزیر دفاع کو فون کرکے اس واقعہ پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ پولیس نے فوج کی متعلقہ یونٹ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ۔ لیکن اسکے بعد ہی فروری کے پہلے ہفتے ہیں جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں بھی فوج نے مظاہرین پر فائر نگ کی ، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان زخمی ہوگیا ۔ پولیس نے اس معاملے میں بھی فوج کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔ حالانکہ کشمیر میں 1990ء سے نافذ آر مڈ فورسز سپیشل پائورس ایکٹ کے مطابق فوج کو استثنیٰ حاصل ہے۔ فوج کے خلاف کسی بھی شکایت پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوسکتی ہے۔ اسکے لئے پہلے وزارت دفاع کی منظوری ناگزیر ہے، جو کہ عام معاملات میں کبھی نہیں ملتی ہے۔ گزشتہ 9اپریل کو جب وسطی کشمیر کے بڈگام علاقے میں فوج کے ایک میجر نے ایک مقامی شہری فاروق احمد ڈار کو جیپ کے بونٹ کے ساتھ باندھ کر متعدد دیہات میں گھمایا، تو اس پر بھی ریاستی پولیس نے مذکورہ میجر کے خلاف کیس درج کرلیا تھا۔ لیکن دس ماہ گزرنے کے باوجود پولیس نے میجر کے خلاف کسی عدالت میں چارج شیٹ پیش نہیں کیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ریاستی اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران جنوبی کشمیر میں رونما ہوئے فوجی فائرنگ کے واقعات پر اپوزیشن ممبران نے شدید احتجاج کیا۔ اس طرح سے فی الوقت وادی میں صورتحال یہ ہے کہ فوج کی کارروائیوں کے خلاف نہ صر ف عام لوگ اور علاحدگی پسند لیڈران ہیں بلکہ مین سٹریم سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈران بھی اسے کھلے عام ہدف تنقید بنارہے ہیں۔ریاستی پولیس کی جانب سے فوج کے خلاف سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کرنے کے معاملے کو بھی بعض مبصرین انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے یہ لگتا ہے کہ پولیس بھی کھل کر فوج کے خلاف کھڑی ہورہی ہے۔حالانکہ گزشتہ تیس سال میں ہر موقعے پر یہ ثابت ہوا ہے کہ فوج کے مقابلے میں پولیس ، انتظامیہ یا سیاسی لیڈروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔خاص طور سے انسانی حقوق کے معاملے میں ہمیشہ ملوث فوجی اہلکار سرخ رو ہو کر نکل جاتے ہیں۔ تاہم عام طور سے مانا جاتا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے فوج کے پروفشنلزم اور اسکی امیچ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
سال 2010میں شمالی کشمیر کے سرحدی علاقے مژھل میں فوج نے تین مقامی شہریوں کو قتل کرنے کے بعدانہیں دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لوگ سرحد پار سے وادی میں داخل ہورہے تھے ، جب فوج نے انہیں مار گرایا ۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اس حقیقت سے پردہ ہٹ گیا کہ دراصل فوج کی مقامی یونٹ کے افسر اور بعض اہلکاروں نے محض ترقی اور اعزازات پانے کی لالچ میں معصوم شہریوں پکڑنے کے بعد مار ڈالا تھا۔ اس واقعہ پر وادی میں ایک شدید عوامی ایجی ٹیشن میں 113شہری فورسز کے ہاتھوں مارے گئے ۔ پوری دنیا کی میڈیا نے مژھل کے اس فرضی انکائونٹر سے متعلق رپورٹیں شائع کیں۔ پولیس نے فوج کے ہاتھوں تین شہریوں کے قتل کے الزام میں ایف آئی درج کرلیا جبکہ فوج نے الگ سے کورٹ مارشل کرکے ایک کرنل سمیت چھ فوجی جوانوں کو ملوث قرار دیتے ہوئے ان کی عمر قید کی سزا سنائی ۔لیکن گزشتہ سال آرمڈ فورسز ٹریبونل نے ان کی رہائی کے احکامات دیئے۔مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے نتیجے میں جموں وکشمیر میں تعینات انڈین آرمی کی امیج کو کافی نقصان پہنچا ہے۔خاص طور سے فوج کے سامنے حکومت ، انتظامیہ اور پولیس کی بے بسی کو دیکھ کر آرمی کی جو امیج پیدا ہوگیا ہے ، وہ جنرل ہوڈا جیسے فوجی افسران کے لئے پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ مارچ 2013میں اُس وقت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی اسمبلی میں عملاً رویا ، جب انہیں ایوان میں ہی یہ اطلاع ملی کہ بارہمولہ میں فوج کی فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ اس موقعے پر عمر عبداللہ نے انتہائی جذباتی ہوکر ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا،’’ میں عوام کو کیا جواب دوں گا؟ میں انہیں کیا بتائوں ۔ کیا ہم نے اسی طرح کے دن دیکھنے کے لئے بھارت کا جھنڈا تھام رکھا ہے کہ ہمیں ہر بار اپنے ہی عوام کی سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا؟‘‘عمر عبداللہ نے اُس موقعے پر جوش میں آکر یہ وعدہ کیا تھا کہ اس واقعہ میںملوث فوجیوں کو سزا دلائی جائے گی ۔ لیکن ظاہر ہے کہ ریاست میں نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پائورس ایکٹ کے ہوتے ہوئے کسی بھی فوجی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے۔یہاں تک کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بڑے بڑے معاملات میں بھی ریاستی حکومت کو بالآخر خاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے۔ سال 2011میں پہلی بار سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ کشمیر کے 38مختلف مقامات پر ’نامعلوم قبریں ‘ موجود ہیں ، جن میں 2156غیر شناخت شدہ لوگوں کو اجتماعی طور دفن کیا گیا ہے۔ یہ انکشاف سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے ایک مفصل تحقیق ، جس میں کئی سینئر پولیس افسران نے بھی اپنی خدمات پیش کی تھیں،کے بعد کیا تھا۔لیکن حکومت اس معاملے پر بھی کوئی کارروائی نہیں کرسکی یہاں تک کہ تحقیق کو آگے بھی نہیں بڑھایا جاسکا۔ حالانکہ انسانی حقوق کی بعض مقامی تنظیموں کا الزام ہے کہ ان گمنام قبروں میں وہ لوگ دفن ہوسکتے ہیں ، جو گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پر اسرار طور لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اسی وجہ سے یہاں ان گمنام قبروں میں مدفون افراد اور گمشدگان کے اقرباء کی ڈی این اے سیمپلنگ کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

بہرحال گزشتہ تیس سال کے دوران وادی میں رونما ہوئے سینکڑوں واقعات کے تناظر میں آج یہ بات بالکل واضح ہورہی ہے انڈین آرمی کے پروفیشنلزم اور اسکی امیج کو وادی کشمیر میں کافی نقصان پہنچا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں فوج کی موجودگی کے باوجود تیس سال میںیہاں ملی ٹنسی کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ غالباً یہ وجہ ہے کہ لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) جیسے دفاعی ماہرین کشمیر کے مسئلے کو سیاسی طور حل پر زور دے رہے ہیں۔لیکن گزشتہ تین سال کے دوران کشمیر کے تئیں مودی سرکار کا جو رویہ رہا ہے، اس کو دیکھ کر نہیں لگتا ہے کہ یہ حکومت کشمیر کی سمسیا سلجھانے کے لئے سیاسی اقدامات کرنے کے لئے تیار ہوسکتی ہے۔ پتہ نہیں یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے جمہوری اقدار ، عدالتی نظام اور فوج کے پروفیشنلزم کو کشمیرمیں بے حد نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ یہاں ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر انڈین سٹیٹ کو ان ساری چیزوں پر کمپرومائز کرنا پڑرہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سلسلہ جتنا زیادہ طول پکڑے گا ، نقصان بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔اس نقصان کو روکنے کے لئے اور کشمیر کی سمسیاسلجھانے کے لئے ایک موثر اور سنجیدہ پولٹیکل پراسس شروع کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *