خود غرضی کے دور میں انّا آندولن ایک روشنی ہے

انا ہزارے نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہلی میں 23 مارچ سے آندولن کریں گے۔ ان کے سبھی سوال پرانے ہیں۔ان کا پہلا سوال لوک پال ہے، جس کے بارے میں موجودہ سرکار نے سانس تک نہیںلی۔ اس کے پیچھے صاف وجہ دکھائی دیتی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی لوک پال کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ وہ جب گجرات میں تھے، تب بھی ان کا یہی رخ تھا اور اب بھی ان کا یہی رخ ہے۔ ان کا دوسرا موضوع کسانوںکو مناسب قیمت دلوانا ہے ۔
انا ہزارے کے خلاف بہت سارے لوگوں کے پاس بہت ساری دلیلیں ہیں۔انا ہزارے اپنے اٹھائے ہوئے ایشوز پر قائم نہیں رہتے ہیں۔ انا ہزارے کے ساتھ کوئی بھی ٹیم کبھی ٹکتی نہیں ہے۔ہر آندولن میں ان کے ساتھ الگ طرح کے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔جو ان کے ساتھ نہیں رہتا، ان پر انا ہزارے اور ان کے ساتھی کسی نہ کسی طرح کا الزام لگا دیتے ہیں۔ انا ہزارے میں نظریاتی استحکام نہیں ہے ۔انا ہزارے سرکار سے پروجیکٹ لے کر اپنے گائوں رالے گن سدھی میں چلا رہے ہیں اور انہیں کئی سو کروڑ کے پروجیکٹ ملے ہیں۔ ان کے پاس مہاراشٹر سرکار کے وزیر لگاتار آتے رہتے ہیں وغیرہ۔
لیکن یہ سارے سوالات جو انا پر اٹھائے جاتے ہیں، ان سارے سوالوں میں کوئی دم ہو یانہ ہو، لیکن وہ اس معاملے میں خارج کئے جاسکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو اخلاقی بنیاد پر سرکار و حکمراں یا اپوزیشن سے سوال پوچھ سکے۔ تاریخ کا یہ سب سے تکلیف دہ دور ہے، جس میں ہمارے ملک میں اخلاقی صلاحیت یا اخلاقی شخصیتوں کا فقدان ہے۔ ایک وقت ہمارے ملک میں ، سیاست میں بڑے قد کے لوگ تھے، وہیں سماجی حلقے میں بھی بہت اونچی شخصیت والے لوگ تھے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جیسے جیسے لوگ ہمارے بیچ سے جسمانی طور سے ہٹتے گئے، ان کی جگہ لینے والے دوسرے آدمی پیدا نہیں ہوئے۔ ہمارے ملک میں جیسا کہ سیاست میں ہوتا ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسل تیار نہیں کرتے،ویسے ہی سماجی سیکٹر میں جو ثالثی کرنے والے ہوتے ہیں، وہ اپنے پیچھے دوسری لائن کے لوگ تیار نہیں کرتے۔ شاید ملک میںآج اخلاقی صلاحیت سے پیدا ہونے والی شخصیتوں کے فقدان کی وجہ بھی یہی ہے ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

شمال ، جنوب،مشرق یا مغرب آج جہاں بھی دیکھیں، ایک بھی ایسا آدمی نظر نہیں آتا۔ویسے سیاست میں بھی اب قابل قدر لوگ نظر نہیں آتے ہیں۔ سیاست میں اب ایک ہی قدر رہ گئی ہے، اقتدار۔ نظریہ ختم ہو چکا ہے۔ نظریہ کا استعمال اپنے سامنے والے کا مان مردن کرنے کے لئے ہورہاہے، لیکن سچ یہی ہے کہ نہ پارٹی نہ اپوزیشن ،کسی بھی سیاست داں میںا قدار نہیں ہیں۔اقدار پر مبنی سیاست کے بارے میں بات کرنا اس وقت پاگل پن مانا جاسکتا ہے ۔ٹھیک وہی صورت حال سماجی سیکٹر میں ہے۔ جو لوگ سماج میں کام کرتے ہیں، وہ رضاکار تنظیم کی جگہ این جی او بنا کر کام کرتے ہیں۔رضاکارانہ تنظیم کے تحت کام کرنے والے لوگ پھر بھی کسی آدرش اور مشن کے تحت کام کرتے تھے لیکن آج 90فیصد سے زیادہ این جی او سارے ملک میں بدنام ہیں۔ وہ جہاں کام کرتے ہیں، وہاں ان کی تنظیم کی خود غرضی ہوتی ہے اور جن کے بیچ کام کرتے ہیں،وہ آلہ کار ہوتا ہے ۔اس کے باوجود اس اندھیرے میں ایک انا ہزارے ہیں،جو رضاکار تنظیم اور این جی او کی ملی جلی توضیح کے تحت کام کرتے ہیں۔ ان کا گائوں رالے گن سدھی بہت سارے مسئلوں میں انوکھا ہے۔ وہاں پانی نہیں ہوتا تھا، بارش نہیں ہوتی تھی، بے روزگاری تھی، نشہ تھا، اب رالے گن سدھی ان سب سے باہر آگیا ہے۔ ملک میں انا ہزارے نے کئی بار اخلاقی طاقت کیا ہوتی ہے، اس کا مظاہرہ کیا ہے۔ کانگریس کے دور کار میں انا ہزارے نے رام لیلا میدان میں انشن کیا تھا، جس کے ساتھ پورے ملک کے لوگ جمع ہوگئے۔یہ کہا جارہا ہے کہ اس آندولن کے پیچھے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کا بڑا ہاتھ تھا، جو کانگریس کے خلاف انا ہزارے کا استعمال کرنے والی طاقت تھی اور اس نے کیا بھی ۔ یہ الزام انا ہزارے اور سنگھ پر بھی ہے کہ انا ہزارے کے اس آندولن کے نتیجے میں جو نتیجہ آیا، وہ سنگھ نے بی جے پی کے حق میں موڑ دیا۔ انا ہزارے کے اس آندولن سے عام آدمی پارٹی آئی اور اروند کجریوال وزیراعلیٰ بنے۔ انا ان سے دور ہو گئے۔حالانکہ اروند کجریوال کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو بھی کیا، انا ہزارے کے کہنے پر کیا۔ ان سے رضامندی لے کر کیا،لیکن انا ہزارے جب پریس کے سامنے آئے تو سبھی باتوں سے مکر گئے۔ میں نہ اروند کجریوال کی بات کو غلط مانتا ہوں اور نہ انا ہزارے کے الگ ہٹنے کے فیصلے کو غلط مانتا ہوں۔میرا صرف یہ ماننا ہے کہ دونوں میں پیغام واضح نہیں تھا، جس کی وجہ سے یہ سارا ہوا۔ اس کے بعد انا ہزارے جنرل وی کے سنگھ کے ساتھ اترپردیش کی تمام ریاستوں میں آٹھ مہینے تک گھومے۔ اس سے جو بیداری پیدا ہوئی، اس کا بھی استعمال کامیابی کے ساتھ بی جے پی کے حق میں وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کو ملا۔ انا ہزارے نے ایک بڑا سنگین سوال اٹھایا تھا، جس میں انہیں ممتا بنرجی کا ساتھ ملا تھا کہ ہندوستان میں جس معیشت کے تحت ہم کام کررہے ہیں، وہ بازار پر مبنی معیشت ہے اور یہ غریبوں کے خلاف کھڑی ہے۔ ملک کے خلاف کھڑی ہے۔یہ ملک کو غلام بنانے والی معیشت ہے۔ ممتا بنرجی نے اس سے رضامندی ظاہر کی تھی۔ ممتا بنرجی اور انا ہزارے کے اس ایشو پر ایک ساتھ آنے کی وجہ سے ملٹی نیشنل کمپنیاں ہل گئی تھیں۔ انہیں لگا تھاکہ اگر انا ہزارے اور ممتا بنرجی مل کر الیکشن لڑتے ہیں تو 2014 میں تو ان کی مل کر 100 کے آس پاس سیٹیں آئیں گی اور ملکمیں جو سرکار بنے گی، وہ کھلی معیشت کے خلاف ایشوز پر آئے گی۔ ہندوستان دوبارہ نہرو اور اندرا گاندھی کے زمانے کی معیشت اور وی پی سنگھ، چندر شیکھر کے زمانے کی معیشت میں لوٹ جائیگا۔ انہوں نے اسے توڑنے کے لئے بہت سارے ہتھکنڈے اپنائے۔ انا ہزارے سے سفارت کاروں کے ذریعہ رابطہ قائم کیا لیکن انا ہزارے ان کی بات میں نہیں آئے۔ انا ہزارے بنیادی طور پر ایماندار اور سادھو آدمی ہیں۔
ناکام ہونے کے بعد ان مارکیٹ فورسیز نے یا جو ملٹی نیشنل کمپنیاں تھیں، جو ہندوستان کو اپنے قبضے میں لے کر لوٹ رہی تھیں اور اسے پوری طرح اپنے بس میں کرنا چاہتی تھیں، انہوںنے کانگریس پارٹی کے ایک وزیر سے رابطہ کیا ۔وہ وزیر این جی اوز کو فنڈ دینے کے مسئلے میں اہم وزیر تھے۔ اس وزیر نے دو رضاکار تنظیموں کے چیف کو بلوایا جن میں ایک راجستھان اور دوسرا مدھیہ پردیش کی تنظیم تھی۔ ان دونوں سے یہ گزارش کی کہ وہ انا ہزارے کو ممتا بنرجی سے دور کریں۔ان دونوں سماجی سروس میں لگے افراد نے ،جو اپنی اپنی تنظیم کے چیف تھے،انہوں نے انا ہزارے کو سمجھایا کہ اگر انہوں نے کسی ایک سیاسی پارٹی کی حمایت کی تو ان کے سفید کپڑے میں داغ لگ جائے گا۔ انہیں یہ بھی سمجھایا کہ آپ کی سفیدی میں داغ لگے ،اس کے پیچھے آپ کو دھوکہ دے کر الیکشن میں مداخلت کرانے کی سازش ہورہی ہے۔ انا ہزارے کا سادھو مزاج، غیر سازشی مزاج اور اصول کو باریکی سے نہ سمجھ پانے کی وجہ سے انہیں لگا کہ انہوں نے اب تک جو کیا ہے، اس سے ان کی شخصیت بدنام ہو جائے گی۔یہی ملٹی نیشنل کمپنیاںچاہتی تھیں، جنہوں نے ان دو رضاکار تنظیموں کے ذریعہ انا ہزارے تک پہنچا دیا۔ ان دونوں نے انا ہزارے کو تیار کیا اور انا ہزارے نے تاریخ کا وہ سنہری موقع کھو دیاجس سے ملک میں مارکیٹ اکانومی یا نیو لبرل اکانومی پر لگام لگ سکتاتھا۔ غریب دوبارہ معیشت سے فائدہ اٹھا سکتا تھا ور کسان اس کے مرکز میں آسکتا تھا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ان سب کے باوجود ملک میں اکیلے انا ہزارے ہیں جوآج بھی ہمت کے ساتھ 80 سال سے زیادہ کی عمر میں لوگوں کو مخاطب کرنے کی اخلاقی طاقت رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی اس ملک میں نہیں ہے، اتنے سارے سادھو ہیں ،سنت ہیں، رضاکار تنظمیوںکے لوگ ہیں لیکن کسی میںاخلاقی طاقت نہیں ہے کہ وہ عوام کا سامنا کرسکے۔ انا یہ کرسکتے ہیں اس لئے انا جب 23 مئی سے دہلی میں دوبارہ آندولن کرنے کے لئے آنے کا اعلان کر چکے ہیں تو جتنا ہو سکے ،اتنا انا ہزارے کا استقبال کرنا چاہئے۔ انا نے اسے لے کر وزیرا عظم کو خط بھی لکھا لیکن وزیراعظم دفتر نے انا کے خطوط کا جواب دینا تو دور، خطوط کی وصولیابی کی رسید تک نہیں بھیجی۔
ابھی تک یہ صاف نہیں ہے کہ انا ہزارے دہلی میں انشن کریںگے یا راج گھاٹ پر انشن کر کے ملک بھر کی یاترا کریںگے ۔ اگر انا ہزارے ستیہ گرہ کرتے ہیں تو اس ستیہ گرہ کا نمونہ کیا ہوگا؟سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اناہزارے کا مجوزہ آندولن ابھی تک نہ میڈیا میں جگہ بنا سکا ہے اور نہ انا ہزارے کا مجوزہ آندولن لوگوں کو بہت زیادہ متوجہ کرسکاہے۔ دراصل یہ اس ساکھ کا بحران ہے جو انا ہزارے کے ذریعہ پچھلے کئے گئے آندولن کے منطقی نتیجے تک نہ پہنچ پانے کی وجہ سے ہوا۔ ملک کے لوگوں میں ایک کمی ہے ۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل کو لے کر کوئی دوسرا لڑے، وہ نہ لڑیں۔ملک انا ہزارے کے ساتھ کھڑا ضرور ہوا تھا لیکن اس نے انا ہزارے کے ساتھ آندولن نہیںکیا تھا۔ اس میں بھی اب تشویش نہیں ہے کہ آندولن اور اس کے پیچھے سنگھ کی بڑی طاقت تھی جو بغیر سنگھ کا نام لئے سارے ملک میں دھرنا اوراحتجاج کر رہی تھی۔
انا ہزارے کے آندولن کا جو بھی نمونہ ہو، وہ ممکنہ فروری کے آخر تک صاف ہو جائے گا لیکن انا ہزارے جس شکل میں بھی ستیہ گرہ کریں، اس ستیہ گر ہ کا نہ صرف استقبال ہونا چاہئے بلکہ اس کی حمایت بھی ہونی چاہئے۔ لوگوں کو اس میں شامل بھی ہونا چاہئے۔ صرف اس لئے شامل ہونا چاہئے کہ کم سے کم ہمارے ملک میں ایک آدمی تو ہے، جو سوالوں پر عوام کی طرف سے سرکار سے آنکھ ملا سکتاہے۔ایسے وقت میں جب سیاسی پارٹی بزدلوں کی طرح سلوک کررہی ہوں۔ اس وقت ایک بے غرض آدمی اگر کھڑا ہوکر کسی چیز کو لے کر آواز اٹھاتاہے ،بھلے ہی وہ لوک پال کو لے کر ہو یا کسانوں کے مسائل کو لے کر ہو، اس آواز کو دبنے نہیں دینا چاہئے۔ انا ہزارے کا دہلی میں استقبال کرنے والے لوگ خیر کے حقدار ہوں گے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *