کیسے نمٹے گا لارا سے لالو کنبہ

تقریباً ڈھائی دہائی سے لالو پرساد بہار کی سیاست کے مرکز میںرہے ہیں۔ آج کی تاریخ میںجب وہ رانچی کی ہوٹوار جیل میں بند ہیں تو بھی ریاست کی سیاست ان ہی کے ارد گرد گھومتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ جب جب لالو پرساد چارہ گھوٹالے کے معاملے میںجیل کے اندر گئے ہیںتب تب یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ اب آگے آر جے ڈی کیسے چلے گا؟ پارٹی متحد ہوگی یا ٹوٹ جائے گی؟ اس بار بھی یہی سوال اقتدار کے گلیاروں میںچرچا میںہے اور اپنے اپنے حساب سے حکومت اور اپوزیشن جواب تلاش کرنے میںلگے ہوئے ہیں لیکن زمینی سچائی یہ ہے کہ لالو پرساد کا ووٹر ابھی بھی لالو کو امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے اور اسے لگ رہا ہے کہ لالو پرساد کی وراثت کو تیجسوی یادو پورے رتبے کے ساتھ سنبھال لیں گے۔ امید کی یہی وہ وجہ ہے جو آر جے ڈی اور اس کے حامیوںکو متحد میں کامیاب ہے۔
لالو خاندان بھی گھیرے میں
مخالفین لاکھ دعویٰ کریں کہ آر جے ڈی میںٹوٹ طے ہے لیکن بلاک سے لے کر ضلع سطح تک سے جو فیڈ بیک مل رہے ہیں، اس سے تو ایسا ہوتا نہیںدکھائی دے رہا ہے۔خاص طور سے کارکنوں میںکوئی بھرم نہیںہے۔ اپوزیشن کی بیان بازی اور الگ ہونے کے اکا دکا واقعات سے تو کوئی انکار نہیںکررہا ہے لیکن گہرائی سے دیکھیںتو لالو پرساد کے جیل جانے کے بعد ہمیشہ کی طرح آر جے ڈی کے کیڈر مضبوط ہوئے ہیں اور پارٹی کو ایک نئی انرجی بھی ملی ہے۔ سیاسی طور پر پارٹی سرگرم دکھائی دے رہی ہے اور ریاست میں ہونے والے واقعات پر اس کی نظر رہی ہے۔ نتیش سرکار کو گھیرنے کا کوئی موقع پارٹی نہیںچھوڑ رہی ہے اور ایک مضبوط اپوزیشن کی تصویر پیش کر رہی ہے لیکن سیاسی ماہرین کے بیچ اب یہ بات زور پکڑ رہی ہے کہ چارہ تک تو ٹھیک ہے مگر جب لارا یعنی مال سے لے کر بے نامی جائیداد کے چل رہے معاملوں میںچارج شیٹ اور گرفتاری وغیرہ کی کارروائی شروع ہوجائے گی تو پھر کیا ہوگا؟ چارہ گھوٹالہ اور اس کی کارروائی تو صرف لالو پرساد تک ہی محدود ہے لیکن لارا (لالو اور رابڑی کے نام پر بنی کمپنی جو مال کے کام سے جڑی ہوئی ہے)میں تو لالو کا پورا خاندان ہی گھیرے میںہے۔ ریلوے کے ہوٹلوں کو لیز پر دینے کے معاملے میںتیجسوی یادو بھی جانچ کے گھیرے میں ہیں۔ اس معاملے میںکئی دفعہ ان سے پوچھ تاچھ بھی ہوچکی ہے۔ بے نامی جائیداد کے معاملے بھی بنے ہوئے ہیں۔ ا س میں تو رابڑی دیوی سے لے کر میسا بھارتی اور ان کے شوہر شیلیش بھی گھیرے میںہیں۔ مال سے مٹی کی کٹائی اور اسے چڑیا گھر میںڈلوانے کے معاملے میں تیجسوی اور تیج پرتاپ پر شک کی سوئی گھوم رہی ہے۔ اس معاملے میں ریاستی سرکار الگ سے جانچ کرارہی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار قانونی کارروائی تیز ہوئی تو پھر سانس لینا بھی مشکل ہوجائے گا۔
چارہ میںلالو پر ساد کے جیل میں جانے کے بعد تو پورا خاندان متحد ہوکر آر جے ڈی کو آگے بڑھانے میںلگا ہوا ہے۔ لیکن اگر لارا میںگرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تو پھر آر جے ڈی کے مستقبل کو لے کر تشویش کی لکیریں کھنچنا شروع ہو جائیںگی۔ ایسے حالات میںپارٹی کو متحد رکھنابہت بڑا چیلنج ہوگا۔ ماہرین بتاتے ہیںکہ نتیش کمار کے ساتھ گٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد سے ہی لالو پرساد نے آگے کے منصوبے پر کام کرنا شروع کردیا تھا۔ آر جے ڈی کی عوامی مقبولیت کو بڑھانے سے لے کر پارٹی کو متحد رکھنے کے طریقوں پر لالو پرساد نے اپنے بیٹوں اور بھروسہ مند لیڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا تھا۔
طے ہواتھا کہ تیجسوی یادو ر یاست کی یاترا پر نکلیںگے۔ اسے انصاف کا سفر نام دیا گیا۔ پارٹی کے لیڈروں سے صاف کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری بیانوں سے بچیں۔ لالو نے اپنے سامنے ہی این ڈی اے میںپھوٹ کی بنیاد رکھ دی۔ لالو پرساد کا صاف ماننا ہے کہ کوئی آر جے ڈی کو توڑنے کی کوشش کرے گا، تو اس سے پہلے ہی این ڈی اے میں پھوٹ ڈال دینی ہے۔اوپیندر کشواہا اور جیتن رام مانجھی کا نام لے کر لالو پرساد نے سنسنی پھیلا دی تھی۔ لالو کی ان کوششوں کا اثر دکھائی بھی دینے لگا ہے۔ ورشن پٹیل سے لے کر اودے نارائن چودھری تک ان سے رانچی کی ہوٹوار جیل میںمل آئے ہیں۔ ادھر اوپیندر کشواہا کی انسانی قطار میںآر جے ڈی کے ریاستی صدر رام چندر پوروے اور شیوانند تیواری کے ساتھ سادھو یادو بھی شامل ہیں۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ کھچڑی کو دھیرے دھیرے دھیمی آنچپر پکایا جارہا ہے۔ لارا گھوٹالے میںآنے والی مشکلوں کا پورا اندازہ لالو پرساد یادو کے خاندان کو ہے، اس لیے اس بات کا پورا بندوبست کیا جارہا ہے کہ نقصان کم سے کم ہو۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

آر جے ڈی – کانگریس اتحاد ؟
ایک سوال بار بار یہ بھی اٹھتا ہے کہ نئے حالات میںکیا آر جے ڈی اور کانگریس کا گٹھ بندھن بنا رہے گا۔ سرکاری طور پر تو یہی کہا جارہا ہے کہ سب پہلے کی طرح بنا رہے گا۔ بہار کانگریس کے انچارج صدر کوکب قادری کہتے ہیںکہ کانگریس، لالو پرساد پر آئی پریشانی میںان کے ساتھ ہے۔ قادری نے کہا کہ کورٹ کا فیصلہ ایک عدالتی عمل ہے اور اس پر زیادہ تبصرہ کرنا مناسب نہیںہے۔ آر جے ڈی اور لالو پرساد کا خاندان نچلی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اوپری عدالت کی پناہ میںجائے گا اور کانگریس کو امید ہے کہ انھیںوہاںسے یقینی طور پر راحت ملے گی۔ قادری نے ایک بار پھر دوہرایا کہ فرقہ وارانہ طاقتوں کے ساتھ لڑائی میں آر جے ڈی کانگریس کا اہم اتحادی ہے اور کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی مہا گٹھ بندھن کے اتحاد میںکوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن کانگریس کا اشوک چودھری گروپ یہ نہیںچاہتا ہے کہ لالو سے رشتہ برقرار رہے۔ پہلے بھی کانگریس کے درجن بھر اراکین اسمبلی اعلیٰ کمان کو یہ بتا چکے ہیںکہ لالو پر ساد سے تعلق توڑنے میںہی بھلائی ہے۔ کانگریس کے ایسے اراکین اسمبلی راجیہ سبھا اور ودھان پریشد کے انتخاب میںہی اپنے پتے کھولیں گے۔ اسی وقت یہ صاف ہوجائے گا کہ کانگریس اور آر جے ڈی کا رشتہ بہار میںکتنا پائیدار ہے؟
لارا کے علاوہ پارٹی صدر بنے رہنے کا معاملہ بھی قانونی کسوٹی میںکسا جارہا ہے۔ اگر سپریم کورٹ نے داغی لیڈروں کے پارٹی صدر اور پارٹی عہدیدار بننے پر روک کی مانگ منظور کرلی تو لالو پرساد کے ہاتھ سے پارٹی صدر کا عہدہ چلا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سیاست میںسرگرم لالو پرساد کا سیاسی سنیاس میںجانا طے ہے۔
داغی اور سزایافتہ لوگوں کے پارٹی بنانے اور پارٹی عہدیدار بننے پر روک کی مانگ کو لے کر سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی دو عرضیاں زیر التوا ہیں۔ ایک میں سزا یافتہ کے پارٹی بنانے اور پارٹی عہدیدار بننے پر روک لگانے کی مانگ کی گئی ہے۔ دوسری میں پانچ سال کی سزا کے پروویژن والے معاملے میںعدالت سے الزام طے ہونے کے بعد شخص خاص کو پارٹی بنانے اور پارٹی عہدیدار بننے پر روک لگانے کی مانگ کی گئی ہے۔ پہلے معاملے میںکورٹ نے گزشتہ یکم دسمبر کو نوٹس جاری کرکے مرکزی سرکار اور الیکشن کمیشن سے جواب مانگا تھا۔ اس پر اب 12 فروری کو سماعت ہوگی۔ دوسرا معاملہ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی پانچی رکنی آئینی بینچ کے سامنے زیر غور ہے۔
لالو کے سیاسی مستقبل کو مشکل میںڈالنے والی یہ دونوںعرضیاں وکیل اور بی جے پی لیڈر اشونی کمار اپادھیائے کی ہیں۔ دونوںہی معاملے لالو پرساد کے خلاف ہیں۔ انھیںتین معاملوں میںسزا ہوچکی ہے اور دو معاملوں میںالزام طے ہونے کے بعد ٹرائل چل رہا ہے ۔ حالانکہ لالو پرساد اکیلے ایسے لیڈر نہیں ہیںجو اس پھیر میںپھنس رہے ہیں۔ بدعنوانی کے جرم میںسزا یافتہ اوم پرکاش چوٹالہ بھی اس کے دائرے میںآئیں گے۔ ٹیچر بھرتی گھوٹالہ کے معاملے کی وجہ سے وہ الیکشن نہیںلڑ سکتے ہیں۔ وہ انڈین نیشنل لوک دل (انلو) کے صدر ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *