حج سبسڈی مرکزی حج کمیٹی کی مخالفت کے باوجود ختم کی گئی

بی جے پی کے زیر قیادت مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے برعکس پانچ سال پہلے ہی یکایک حج سبسڈی ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بادی النظر میں من مانا ، یک طرفہ اور سیاسی مفادات کے تابع اٹھایا گیا ایک امتیازی قدم معلوم ہوتاہے ۔ کیونکہ گزشتہ چند برسوں سے سبسڈی کی رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق رہ گئی تھی۔اس نے اس کا یہ لولہ لنگڑا ’ جواز‘ پیش کیا کہ حکومت ’’ناز برداری نہیں بااختیار ‘‘ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ لیکن اس پر جب خوب لے دے ہو نے لگی تو اس نے اپنی خجالت مٹانے کے لئے صدر جمہوریہ کے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے خطاب میں بھی اس کا بابت خصوصی طور پر تذکرہ کرایا کہ ’’ اس کی پالیسی ’’ناز برداری نہیں بلکہ بااختیار ‘‘ بنانے کی ہے ۔ ایک ایسی حکومت جس میں اقلیتوں ، دلتوں اور کمزور طبقات کے جان و مال کی کوئی حرمت نہیں ، وہ کیا اقلیتوں کو ’’باختیار‘‘ بنائے گی؟ حکمراں جماعت نے یہ قدم کس کی ’’ نازبرداری ‘‘ کے لئے اٹھایا اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بی جے پی کی سیاست کا محور ’ عموماً’اقلیت دشمنی‘‘ہوتا ہے ۔ اس لئے وہ ملک کے دوسرے بڑے مذہبی فرقہ کو دی جانے والی ہر جائز اور آئینی سہولت کو ناز برداری سے تعبیر کرتی رہی ہے۔ ناز برداری‘ کی یہ قابل مذموم اصطلاح سابق نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی کے ذہن کی اپج تھی مگر آج ان کی حالت یہ ہے کہ انہیں اس شخص نے ہی جس کی کرسی انہوں نے بچائی تھی ، عملاًسیاسی گوشہ نشینی اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔
چونکہ بی جے پی کے نزدیک ’’حج سبسڈی ‘‘ بھی ’’نازبرداری‘‘ کی ایک علامت تھی اور وہ اس پر ابتک خوب سیاست بھی کرتی رہی ہے ۔ چنانچہ موقع پاتے ہی اس نے اپنے ’’ سخت گیر حلقہ ‘‘ کو خوش کرنے کی غرض سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی آڑ میں اسے یکلخت ختم کردیا ۔اس کے دل کا چور اس وقت سامنے آگیا جب اس کااعلان اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی سے کرایا۔ جبکہ اصولاً یہ کام وزیرخزانہ کا تھا ۔
سبسڈی کی شروعات
یاد رہے عازمین حج کے ہوائی کرایہ میں سبسڈی دینے کا سلسلہ اسوقت شروع کرنا پڑا تھا جب 1995میں بحری جہاز سے سفر کا سلسلہ منقطع کردیاگیا تھا ۔ اس کے خلاف فرقہ پرست عناصر خوب ووایلا مچایا کرتے تھے اور معاملہ سپریم کورٹ میں بھی پہنچا تھا ۔جہاں 2011میں جسٹس مارکنڈے کاٹجو اور جسٹس گیان سدھا مشرا کی بینچ نے ’’ حج سبسڈی ‘‘ کو آئینی طور پر جائز قراردیا تھا۔ گرچہ 2012میں جسٹس آفتاب عالم کی قیادت میں سپریم کورٹ کی بینچ نے یہ ’’ سبسڈی‘‘ 2022 تک بتدریج ختم کرنے کا حکم دیا تھا وہیں اس نے سابقہ فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے یہ حکم بھی جاری کیا تھا کہ سبسڈی کی یہ رقم مسلم فرقہ کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے ۔
اس فیصلہ کی جہاں مسلم تنظیموں اور سرکردہ رہنمائوں نے سخت مذمت کی ہے وہیں جنوب ہند کی کئی ریاستوں کی حکومتوں نے بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے اس فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔سرکردہ مسلم رہنمائوں اور کئی سیاسی جماعتوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت دیگر مذاہب کو دی جانے والی سبسڈی کو بھی ختم کرے جس کی مالیت سینکڑوں نہیں ہزاروں کروڑ روپیئے میں ہے جبکہ حج سبسڈی کی سب زیادہ رقم2012میں 782کروڑ تھی جو ہر سال کم ہوتے ہوتے گزشتہ سال یعنی 2017میں 200کروڑ رہ گئی تھی۔یعنی اس میں پچھلے چھ سال میں 75فی صد کی کٹوتی کی گئی۔
بقول راشٹر جنتادل کے رہنما اور سابق مرکزی وزیر لالو پرساد یادو’’ جب سے مودی حکومت بر سر اقتدار آئی ہے وہ ایسے اقدامات اور فیصلے کر رہی ہے جس مسلمانوں کو پریشان کیا جاسکے اور ان کی دل شکنی ، حوصلہ شکنی ہو ۔ اس کی تائید کرتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما شریف الدین احمد نے کہا کہ مودی حکومت مسلم فرقہ کے ہر معاملہ پر سیاست کر رہی ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، طلاق ثلاثہ بل وغیرہ اس کی روشن مثالیں ہیں۔
اقلیتی وزیر نے یہ دلیل پیش کی تھی کہ ’’ اقلیتوں کو ناز برداری کے بغیر بااختیار بنانے کے لئے سبسڈی کی رقم کا استعمال کیا جائے گا‘‘۔ لیکن ان کی اس بات پر موجودہ حکو مت کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی یقین نہیں کرے گا کیونکہ عدلیہ کے دیگر کئی اہم احکامات کو روبہ عمل میں لانے میں حکومت نے کبھی ایسی چستی و مستعدی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نیز اس نے کمبھ میلے، امرناتھ، کیلاش مانسرور وغیرہ جیسے کئی مذہبی یاترائوں کی سبسڈیوں کو بھی ختم کرنے کا کوئی ا علان نہیں کیا ۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو وہ پچھلے سال ہی مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ایک فنڈ قائم کردیتی ۔کیونکہ گزشتہ سال منظور کی گئی 380کروڑ ’’سبسڈی‘ ‘ کی رقم میں سے 180کروڑ کی رقم منہا کر لرگئی تھی صرف 200کروڑ ہی سبسڈی میں دئے گئے تھے جس کی اس کی نیت صاف ظاہر ہوتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

کانگریس کو کوئی اعتراض نہیں
حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے کہا کہ اس فیصلہ پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد غلام نبی آزاد نے سوال کیا کہ حکومت نے عدالتی فیصلہ کے پہلے حصہ کا سہار ا لے کر سبسڈی کو تو ختم کردیا ہے ، کیا وہ عدالتی فیصلہ کے دوسرے حصہ یعنی اس رقم کو اقلیتوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے حکم کو یقینی بنائے گی؟ انہوں نے کہا سبسڈی کا مسلمانوں کو تو کوئی فائدہ نہیں ہورہا تھا، اس کا فائدہ کو ایئر لائن کمپنیوں کو ہورہا تھا وہ تو صرف بلاوجہ بدنام ہورہے تھے ۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( مارکسسٹ) یا سی پی ایم نے بھی حکومت کے فیصلہ کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے برخلاف چار سال پہلے ہی سبسڈی ختم کرنے کے پشت پر دیگر عوامل (سیاست) کار فرما ہیں ۔ یہ کوئی نیک نیتی پر مبنی فیصلہ نہیں ہے ۔سی پی ایم نے کہا کہ وہ اصولی طور پر مذہبی معاملات کے لئے کوئی بھی سرکاری سبسڈی فراہم کرنے کے حق میں نہیں ہے ۔ اس لئے اب حکومت کو چاہیے کہ وہ دیگر مذاہب کو دی جانے والی تمام سبسڈیوں کو ختم کردے۔
جنوبی ہند میں اس پر سخت ردعمل سامنے آیا ۔ کیرالا میں اس پر سخت احتجاج کیا گیا۔ صوبہ کی حکومت، صوبائی حج کمیٹی، اور مسلم سیاسی اور سماجی تنظیموں نے کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ عجلت میں کیا ہے حالانکہ سپریم کورٹ کے حکم کی رو سے اسے 2023 میں ختم کیا جانا تھا۔ کیرالا حکومت میں وزیر ڈاکٹر کے ٹی جلیل نے کہا کہ اس عاجلانہ فیصلہ سے اقلیتوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ مرکزی حکومت انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔ انڈین مسلم لیگ کے صدر کے ایم قادر محی الدین نے طنز کیا کہ حج سبسڈی ختم کرنے سے ہندوستان کے دورہ پر آئے اسرائیل کے وزیراعظم کو ضرور خوشی ہوئی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی کا سلسلہ سابق وزیراعظم اندراگاندھی نے شروع کیا تھا جس کا مقصد ہوائی کرایہ اور بحری جہاز کے کرایہ کے درمیان کے فرق کو ختم کرنا تھا ۔ بہرحال اب اس کے خاتمہ سے بی جے پی اور فرقہ پرست قوتوں کو حج سفر کے بارے میں غلط پروپیگنڈا کا موقع نہیں ملے گا۔
اسی طرح ہمسایہ ریاست تمل ناڈو کی حکومت نے بھی سبسڈی کے فیصلہ پر نظرثانی مطالبہ کیا۔ خاص بات یہ ہے کہ ریاست کی حکمراں جماعت انا ڈی ایم کے مرکزی حکومت کو باہر سے حمایت دے رہی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلی ایدا پڈی پلانی سوامی نے کہا کہ وہ مرکز سے اس پر نظر ثانی کے لئے بات کریں گے ۔ ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت ڈی ایم کے نے بھی اس فیصلہ کی سخت مخالفت کی۔ پارٹی کے کار گزار صدر اسٹالن نے ٹوئٹ کرکے حکومت کی نکتہ چینی کی اور کہا کہ سبسڈی کو ختم کرنا جسے سپریم کورٹ نے دستوری طور پر جائز قراردیا ہے ایک رجعت پسندانہ اور قابل مذمت قدم ہے۔ بی جے پی کی ملک کو سیکولر اقدار سے ہٹانے کی پر فریب کوششیں کر رہی ہیں ۔‘‘ ان کے علاوہ تمل ناڈوکی دیگر بڑی جماعتوں تمل منیلا کانگریس ، ڈی ایم ڈی کے اور پی ایم کے وغیرہ سب نے اس فیصلہ کی مذمت کی۔
پرسنل لاء بورڈ کا رد عمل
آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نے بھی اس معاملہ میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ امیتازی ، غیر جمہوری اور غیر منصفانہ فیصلہ ہے۔ بورڈ کے ترجمان مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ حج سبسڈی کوئی استثنائی چیز نہیں ہے کہ صرف مسلمان ہی سرکاری مراعات سے بہر مند ہورہے ہیں بلکہ دیگر فرقوں اور اقوام پر حکومت اس سے سینکڑوں گنا زیادہ رقم خرچ کرتی ہے ۔ اس حوالے سے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے مجلس اتحاد ا لمسلمین کے صدراور رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے سوال کیا کہ کیا حکومت ہندو وں کے مذہبی پروگراموں جیسے کمبھ میلہ ، امرناتھ یاترا ، ویشنو دیوی کے درشن ، کیلاش مانسرور کی یاترا اور چار دھام یاترا وغیرہ پر جانے والوں کو دی جانے والی سبسڈی بھی واپس لے گی ؟ اویسی نے پوچھا کہ کیا بی جے پی اترپردیش کی یوگی حکومت کو ہدایت دے کہ وہ اجودھیا ، متھرا، کاشی کی یاترا پر 800 کروڑ خرچ کرنا بند کردے اور کیلاش مانسرور کی یاترا کے لئے فی فرد دیڑ ھ لاکھ روپے دینا بندکرد ے گی؟ کیا وہ پارلیمنٹ میں آئین کی دفعہ 290A کی تنسیخ کے لئے بل لائے گی ؟جس کے تحت ہندو مذہبی کاموں کے لئے سرکاری پیسہ کا بندوبست کیا گیا ہے۔
انہوں یکے بعد دیگرے ایک ٹوئٹ کے ذریعہ پوچھا کہ ’’ ہریانہ کی بی جے پی حکومت نے ڈیرا سچا سودا کو ایک کروڑ روپیئے کی مدد کیوں دی ؟ مودی حکومت نے اجین میں منعقدہ سم ہستھا مہا کمبھ میلہ کے لئے 100 کروڑ روپیئے اور مدھیہ پردیش حکومت نے اس پر 3,400 کروڑ روپیئے کیوں خرچ کئے ؟ کیا یہ ناز برداری نہیں ؟کرناٹک کی کانگریس حکومت چاردھام یاترا کے لئے فی یاتری کو 20,000 روپیئے دیتی ہے کیا وہ سبسڈی نہیں ہے؟‘ مودی حکومت نے جس بہانے سبسڈی کو ختم کیا ہے کیا وہ اس کے تحت مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے لئے آئندہ بجٹ میں 2,0000 کروڑ روپیئے فراہم کرے گی ؟‘‘
موجودہ حکومت کی طرف سے حج سبسڈی ختم کرنے اشارے گزشتہ سال ہی مل گئے تھے جب اس نے بجٹ میں 380کروڑ روپیئے اس مد میں فراہم کئے تھے مگر بعدازاں نظرثانی کر کے یہ رقم 200کروڑ روپیئے کردی گئی تھی۔ اس پر حج کمیٹی آف انڈیا کے ارکان نے گزشتہ سال حج کانفرنس میں وزیر اقلیت کی موجودگی میں سخت احتجاج بھی کیا تھا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

مرکزی حج کمیٹی بے بس
مرکزی حج کمیٹی کے چیئرمین محبوب علی قیصر نے جو لوک جن شکتی پارٹی سے رکن پارلیمان ہیں اور انکی جماعت حکومت میں شامل ہے ، کہا کہ حج کمیٹی اس معاملہ میں بے بس ہے جس نے تقریباً دو ماہ پہلے ایک میمورنڈم پیش کرکے حج سہولیات کو بہتر بنانے کے علاوہ سبسڈی جاری رکھنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ چوتھی دنیا سے بات کرتے ہوئے محبوب علی نے تسلیم کیا کہ اس سے عازمین حج پر غیر معمولی اضافی بوجھ پڑے گا۔ اب سرینگر یا گوہاٹی سے حج کا قصد کرنے والے کو 1.22 لاکھ روپیئے کرایہ ادا کرنا پڑسکتا ہے۔ ان کے مطابق حج کمیٹی بین الاقومی ایئر لائن کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کے لئے اسوقت تک عالمی ٹینڈر جاری نہیں کرسکتی جب تک حج ایکٹ میں ترمیم نہیں کی جاتی جس میں عازمین حج کے لئے سفری انتظامات کا اختیار ایئر انڈیا کو دیا گیاہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب سے ہر سال ہونے والا دو طرفہ حج معاہدہ بھی اس میں مانع ہے اس کے تحت سعودی عرب کسی اور ملک کی ائیر لائن کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
مگر حج کمیٹی کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور سیکریٹری شبیہ احمد اس سے اختلاف کرتے ہیں ۔ وہ ’’ سبسڈی‘‘ کو غلط اصطلاح قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سعودی عرب سے معاہدہ کی یہ شق کوئی لازمی نہیں ہے، یہ ایک نئی اخترا ع ہے جس پر گزشتہ دس پندرہ سال سے عمل ہورہا ہے ۔ نئے ایکٹ سے پہلے حج کمیٹی عالمی ٹنڈر جاری کیا کرتی تھی ۔ انہوں نے چوتھی دنیاکو بتایا کہ حج ایکٹ میں ترمیم کرکے حج کمیٹی کو ایک بااختیار ادارہ یا خود مختار کارپوریشن بنانے کی ضرورت ہے اوریہی اس مسئلہ کا مستقل حل ہے ۔ خیال رہے نیا حج ایکٹ ترمیم کرکے 2002 میں پاس کیا گیا تھا اسوقت اتفاق سے عمر عبداللہ ، وزارت خارجہ میں جونئیر وزیر تھے جن کے پاس حج کا محکمہ بھی تھا۔ اس وقت بھی راقم نے ایکٹ میں ائیر انڈیا کی دفعہ پر ان سے سوال کیا تھا۔
اقلیتی وزیر نے اس فیصلہ کے جواز میں حج امور پر سابق مرکزی سیکریٹری افضل امان اللہ کی سربراہی میں بنائی گئی پانچ رکنی نظرثانی کمیٹی کی سفارشات کا بھی حوالہ دیا کہ اس نے سبسڈی ختم کرنے کی سفارش کی تھی ۔ اس پر شبیہ احمد نے کہا کہ ستر پچھتر ہزار روپیئے کرایہ کی شکل میں لئے جاتے ہیں اس صورت میں اب سبسڈی کہاں باقی رہ گئی ہے ؟ وہ تو ایک ڈھکوسلہ تھا اسے بھی اب ختم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نظرثانی کمیٹی نے تمام امور کا اچھی طرح سے جائزہ نہیں لیا بالخصوص سعودی عرب میں ہندوستانی حاجیوں کو جو مشکلات پیش آتی ہیں ، معلم کا رویہ ، جدہ میں قونصل جنرل کا رویہ ، پھر انکے بارے میں جو شکایات آتی ہیں اس پر حکومت کا سرد مہری کا رویہ وغیرہ کے بارے میں اسے سفارشات پیش کرنا چاہیے تھا۔ یہ کمیٹی سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر ہر پانچ سال پر بنائی جاتی ہے ۔ یہ دوسری نظرثانی کمیٹی تھی جس نے اصل مسئلہ پر غور نہیں کیا۔ نہ ہی عازمین حج کے انتظامات کے بارے میں کوئی دائمی اور مستقل حل پیش کیا ۔ بحری سفر کا سلسلہ شروع کرنے کی سفارش کوئی سودمند حل نہیں ہے۔ بلکہ حج کمیٹی کے ذرائع کے مطابق یہ سبسڈی کی طرف سے توجہ ہٹانے کا ایک شوشہ تھا۔ کیونکہ نہ جدہ کے بندرگاہ پر اب کوئی حاجیوں کی آمد کا نظم ہے اور نہ ہی ویسے پانی کے بڑے جہاز ہیں جن کے ذریعہ یہ سفر کیا جاسکتا ہے۔ اب لکژری کروز جہاز چلتے ہیں جن کا بمبئی سے کوچین تک کا دو دن کا کرایہ 50,000ہوتا ہے ، تو جدہ اور بمبئی کے درمیان یہ کرایہ اس سے کہیں زیادہ ہوگا۔ شبیہ احمد نے جو حج انتظامات کا کافی وسیع تجربہ رکھتے ہیں، کہا کہ پانی کا انتہائی جدید ترین جہاز میں بیک وقت چار ہزار سے زیادہ حاجی سوار نہیں ہوسکتے ۔ یہ جہاز منزل مقصود تک پہنچے میں کم ازکم چار تا پانچ دن لے گا نیز فی حاجی کا کرایہ بھی35,000سے زیادہ ہوگا۔
سیاسی اغراض کی بو
حج ریویو کمیٹی کے رکن کمال فاروقی نے وضاحت پیش کی کہ کمیٹی نے کئی سفارشات پیش کی تھیں لیکن حکومت نے صرف سبسڈی کی سفارش کو اچک لیا ۔جس سے سیاسی اغراض کی بو آتی ہے ۔
مرکزی حج کمیٹی کے رکن ابراہیم غلام نبی شیخ نے اس فیصلہ پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بھی بے حرمتی ہے اور ہم اس کے خلاف عدالت میں جانے پر غور کر رہے ہیں۔ چوتھی دنیا سے بمبئی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت نے 2012میں جو فیصلہ دیا تھا اس کے تحت سبسڈی کو 2022تک بتدریج ختم کیا جانا تھا لیکن اچانک ایسا قدم اٹھانا عدالت کی توہین ہے۔ ابراہیم نے مزید کہا کہ اقلیتی وزارت نے اور بھی ناانصافیاں کی ہیں، ان میں سے وہ عازم جن کا تین بار میں نمبر نہیں لگتا تھا انہیں چوتھی مرتبہ بغیر قرعہ اندازی کے منتخب کر لیا جاتا تھا ، اور 70سال کے بزرگوں کا بھی کوٹہ تھا اس کوٹے کو ان خواتین کو دیا گیا ہے جو بغیرمحرم کے چار یا اس سے زیادہ کے گروپ میں عازم حج ہوگی۔
مسلم تنظیموں کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا کہ سبسڈی کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ ایک فریب کیا جا تھا کیونکہ کرایہ میں رعایت کے نام پر یہ رقم خسارہ زدہ کمپنی ایئر انڈیا کے کھاتہ میں چلی جاتی تھی ۔ وہیں ائیر انڈیا فی حاجی سے 65,000 تا ایک لاکھ روپیئے لیتا ہے اس لئے وہ سبسڈی کی مخالفت کیا کرتے تھے نیز فرقہ پرست عناصر اسے مسلم فرقہ کو بدنام کرنے کی غرض سے استعمال کرتے تھے ۔
مسلمان یہ جانتے ہیں کہ حج کے ایک ایسا فریضہ ہے جو کسی اور کے مالی تعاون سے ادا نہیں کیا جاسکتا ۔مگر حکومت حجاج کرام سے سبسڈی کے باوجود بہت زیادہ رقم وصول کرتی رہی ہے ۔ حالانکہ ہوائی سفر کی بین الاقوامی انجمن انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کا ضابطہ ہے کہ اگر کوئی مقدس سفر پر جاتا ہے تو اسے کرایہ میں 40 فی صد کمی کی رعایت دی جائے ہے، اگر کرایہ کم نہ کیا جاتا ہے اس صورت میں عام دنوں میں جو کرایہ ہوتا ہے وہ لیا جائے۔ اس پر عمل ہوتا ہے تو اس نام نہاد ’’حکومتی احسان ‘‘ کسے ضرورت پڑے گی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *