ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی کہنے والے کو تین سال قیدکی سزاہو:اویسی

owaisi-file-photo
آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین کے قومی صدرورکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے سرکارسے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ہندوستانی مسلمانوں کو’پاکستانی‘کہہ کرپکارنے والے لوگوں کوتین سال قیدکی سزادلوانے کیلئے قانون لیکر آئے۔منگل کو لوک سبھامیں سرکارسے سامنے اپنی مانگ رکھتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہاکہ ایساقانون لائیے ، تاکہ کسی بھی مسلم کواگرپاکستانی کہاجائے، توکہنے والے کوتین سال کی قیدبھگتنی پڑے۔انہو ں نے کہاکہ انہیں پورابھروسہ ہے کہ ان کے مطالبہ کومانانہیں جائے گا، اوربی جے پی کی قیادت والی سرکاراس طرح کی قانون نہیں لائے گی۔
اویسی نے کہاکہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں نے محمدعلی جناح کی دوقومی نظریے کوخارج کردیاتھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ طلاق بل خواتین مخالف ہے۔ساتھ ہی انہوں نے دعوی کیا کہ تین طلاق بل لانا مسلم مردوں کو جیل بھیجنے کی ایک سازش ہے۔رکن پارلیمنٹ اویسی نے پہلے بھی بیان دیا ہے کہ قانون سماجی برائیوں کا حل نہیں ہے۔ اپنی بات کومضبوطی دینے کیلئے اسدالدین اویسی نے کہاتھاکہ جہیزکیلئے ہونے والی موتوں اورخواتین کے خلاف ہونے والے دیگرجرم نہیں رکے،جبکہ انکے خلاف خاص طورپرقانون بنائے گئے تھے۔
عیاں رہے کہ تحفظ شریعت کے موضوع پر ایک عوامی جلسے میں اویسی نے کچھ دنوں پہلے کہا تھا، قانون لانے کے بعد کیا تین طلاق رک جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جہیز قتل اور خواتین کے خلاف ہونے والے دیگر جرائم تب بھی نہیں رک رہے جب ان غلط کاموں کے خلاف خصوصی قانون بنائے گئے ہیں۔
اویسی نے کہاکہ سال 2005 سے 2015 کے درمیان ہندوستان میں 80000 سے زائد جہیز قتل کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ جہیز کے لئے ہر روز 22 خواتین کو مارا جاتا ہے اور نربھیا واقعہ کے بعد بھی عصمت دری کے معاملات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ قانون ان سب کا جواب نہیں ہے۔
غورطلب ہے کہ دیگرمسلمانوں کے طرح اسدالدین اویسی نے ’پاکستان چلے جاؤ‘جیسے تبصرے کاسامناکیاہے۔مارچ 2016میں شیوسینانے ’بھارت ماتاکی جے‘بولنے سے انکارکرنے پراسدالدین اویسی کوآڑے ہاتھوں لیاتھا اور’پاکستان چلے جاؤ‘کی صلاح دی تھی۔شیوسیناکے لیڈررام داس نے کہاتھاکہ اویسی کوہندوستان میں رہنے کا حق نہیں ہے،کیوں کہ وہ ملک کا احترام نہیں کرتے، جس نے انہیں بہت کچھ دیا،انہیں پاکستان چکے جاناچاہئے ، یاہم انہیں اس ملک سے باہرنکال دیں گے۔اس پراسدالدین اویسی نے کہاتھاکہ میں ’بھارت ماتاکی جے‘کبھی نہیں کہوں گا، کیوکہ ہندوستانی آئین نے اس نعرے کوضروری نہیں بنایاہے۔میں یہ نعرہ نہیں لگاؤں گا، بھلے ہی گردن پرچاقولگادیاجائے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *