گورکھپور لوک سبھا ضمنی انتخاب

گورکھپور لوک سبھا حلقہ سے وہاں کے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ اب ان کی جگہ الیکشن کون لڑے گا؟ اس پرچاروںطرف سے قیاس لگائے جارہے ہیں۔ اس بیچ وشو ہندو پریشد کے اندر ایک واقعہ ہواہے۔ وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی صدر پروین توگڑیا مودی سرکار کی مخالفت میں سامنے آگئے ہیں۔ حالانکہ اس وقت انھوں نے اپنے سُر نرم کرلیے ہیں اور بی جے پی کو حمایت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس سے ایک چیز یہ پتہ چلی کہ توگڑیا میں شاید اتنی ہمت نہیں ہے جتنی ہمت اس ملک کے سیاستدانوں میں ہے۔ توگڑیا نے ہندو مہا سبھا کے صدر سوامی چکرپانی کو دعوت دی اور دونوں کی احمدآباد میںملاقات ہوئی۔ ا س ملاقات میں طے ہوا کہ وشو ہندو پریشد سے کنارہ کیے جانے کی حالت میں سوامی چکرپانی اور توگڑیا پورے ملک میں رام مندر، گئور رکشاپر قانون بنانے اور کسانوں کو ان کی فصل کی پوری قیمت دلانے کے سوال پر ملک بھر میںیاترا کریں گے اور آندولن کریں گے۔ شاید پروین توگڑیا اور سوامی چکرپانی کی یہ یاترا بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ہلکی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ پروین توگڑیا اور سوامی چکرپانی کی اس ملاقات کا نتیجہ کیا ہوگا، پتہ نہیں، لیکن سادھو سنتوں کا ایک گروپ گورکھپور میں ہندو مہا سبھا کے صدر سوامی چکر پانی کو گورکھپور سے لوک سبھا کا الیکشن لڑوانا چاہتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے رام مندر بنانے کی سمت میں کچھ نہیںکیا، اس لیے پارلیمنٹ میں سادھو سنتوں کی طرف سے ایک مضبوط آوازجانی چاہیے۔ اس لیے انھوں نے سوامی چکرپانی کو الیکشن لڑنے کے لیے تیار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے مخالف رہے اور سوامی رام دیو کے خلاف مہم چلانے والے آچاریہ پرمود کرشن اس مہم کے لیڈر ہیں۔ ان کے ساتھ سادھو سماج ہے اور وہ سوامی چکرپانی کو گورکھپور سے الیکشن لڑانا چاہتے ہیں۔ سوامی چکرپانی نے اس کے لیے ہامی بھر دی ہے۔
سوامی چکرپانی کا خاص تعارف یہ ہے کہ انھوں نے داؤد ابراہیم کی کار نیلامی میں خریدی تھی۔اس کے لیے انھیں چھوٹا شکیل سے قتل کی دھمکی بھی ملی تھی۔ اس کے بعد انھیں زیڈ سیکورٹی دی گئی تھی۔ سوامی چکرپانی داؤد کی کار غازی آبادلے کر آئے اور اس کی عوامی طور پر ہولی جلائی۔ سوامی چکر پانی کو گورکھپور کے عوام نے بھی وہاںسے الیکشن لڑنے کے لیے مدعو کیا ہے۔
سوامی چکرپانی کے سامنے دو پریشانیاں ہیں۔ کچھ سیاسی پارٹیاں بھی ان سے رابطہ قائم کررہی ہیںکہ وہ ان کے امیدوار کے طور پر گورکھپو رکا ضمنی انتخاب لڑیں جبکہ گورکھپور کے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ یہ الیکشن آزاد کے طور پر لڑیں نہ کہ ہندو مہا سبھا کے صدر کے طور پر۔ اگر وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑتے ہیں تو انھیں گورکھپو رسے بڑی حمایت مل سکتی ہے، ایسا گورکھپور کے شہریوں نے سوامی چکرپانی سے کہا ہے۔ دوسری طرف کئی سیاسی پارٹیوں نے اپنی پیش کش سوامی چکرپانی کے سامنے رکھی ہے۔ اس میں اہم پیشکش سماجوادی پارٹی کی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے نمائندے سوامی چکرپانی سے مل چکے ہیں۔ سوامی چکرپانی اور اکھلیش یادو کی مستقبل قریب میںہی ملاقات ہونے کا امکان ہے۔ اکھلیش یادو چاہتے ہیںکہ سوامی چکرپانی سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر گورکھپور سے لوک سبھا کا ضمنی انتخاب لڑیں۔ وہ سوامی چکر پانی کی جیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور ہر حالت میں سوامی چکرپانی جیتیں، اس لیے وہ اس الیکشن کوذاتی طور پرچلائیں گے۔ گورکھپور لوک سبھا ضمنی انتخاب میں سوامی چکرپانی کے آنے کے امکان سے یہ الیکشن بہت اہم ہوگیا ہے۔
دوسری طرف وشو ہندو پریشد کے سرگرم لیڈر اور کئی بار رکن پارلیمنٹ رہے ملک کے سابق وزیرمملکت برائے چمیانند کوراشٹریہ سوئم سیوک سنگھ دوبارہ عوام کے بیچ لانا چاہتا ہے۔ سنگھ پروین توگڑیا کو فروری میں وشو ہندو پریشد سے ہٹانے کے بعد ، سوامی چمیانند کو ان کی ذمہ داری سونپنے پر غور کر رہا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ بھی سوامی چمیانند کو گورکھپور سے الیکشن لڑانا چاہتے ہیں۔
سوامی چمیانند ، مہنت اوید ناتھ کے ساتھی رہے ہیں۔ مہنت اوید ناتھ جی کا سوامی چمیانند پر اٹوٹ بھروسہ تھا۔ وہ اپنے سارے سیاسی فیصلے سوامی چمیانند کی رائے سے ہی لیتے تھے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو اوید ناتھ کی جگہ الیکشن لڑانے کی تجویز بھی سوامی چمیا نند نے ہی مہنت اوید ناتھ کو دی تھی۔ اسی لیے اوید ناتھ جی نے جیتے جی اپنی جگہ اپنے شاگرد یوگی آدتیہ ناتھ کو دی اور انھیںگورکھپور سے الیکشن جتانے کے لیے محنت کی۔ اب یوگی آدتیہ ناتھ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سوامی چمیانند گورکھپور کا ضمنی انتخاب لڑیں، رکن پارلیمنٹ بنیں اور سنگھ کی طر ف سے وشو ہندو پریشد کا چارج بھی سنبھالیں۔ ممکنہ طورپر یوگی آدتیہ ناتھ کے لیے سوامی چمیانند سے اچھا امیدوار کوئی نہیں ہے۔
اس حالت میں گورکھپور کا الیکشن سارے ملک میںسب سے اہم الیکشن ہوجائے گا۔ ایک طرف سادھو سنت سوامی چکرپانی کو جتانے کے لیے پرچار کریں گے اور اکھلیش یادو بھی سوامی چکرپانی کو جتانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے، وہیں دوسری طرف یوگی آدتیہ ناتھ اپنی جگہ پر سوامی چمیانند کو ہر حال میں جتانا چاہیں گے، کیونکہ اس سے ان کا ذاتی وقار جڑا ہے۔، اس الیکشن میں سرکار کا کتنا دخل ہوگا، گورکھپور کے عوام لگاتار اپنے نمائندے رہے یوگی آدتیہ ناتھ کی اس بار کتنی مانتے ہیں۔ اس کا اثر ملک کی سیاست پر پڑے گا۔ اگر یوگی آدتیہ ناتھ سوامی چمیا نند کو بھاری ووٹوں سے جتا پائے تو ملک میں ان کی کافی جے جے کار ہوگی اور اگر وہ سوامی چمیانند کو نہیںجتا پائے تو ان کے سیاسی سفر پر گہن لگ جائے گا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ گورکھپور ضمنی انتخاب ملک کے لیے کیا سیاسی پیغام دیتا ہے۔ وہاںکے عوام کا فیصلہ ملک کی سیاست پر بڑا اثر ڈالے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *