درمیانی طبقہ کو جھانسا،کارپوریٹ پر مہربانی بجٹ مکمل طور پر انتخابی

2014 میں آئی سرکار کے اچھے دنوں کے نعرے سے لگا تھا کہ اب گائوں اور کسانوںکے بھی اچھے دن آئیں گے لیکن کسانوں کے مفاد کے نعروں کے درمیان کارپوریٹ پر سرکاری مہربانی نے گائوں اور کسانوں کی امید کا گلا گھونٹ دیا۔ کیسے ؟وہ ایسے کہ بجٹ وکاس کا وہ سرکاری گزٹ ہوتاہے جس میں کسی تجویز یا اسکیم کے لئے رقم الاٹ منٹ طے کیاجاتاہے۔ گائوں اور کسان کے لئے اس بجٹ میں رقم کا الاٹ نہیں، جملوں کی برسات کی گئی ہے۔ اس بجٹ میں وعدوں کی بھرمار ہے۔ چونکہ وعدوں کی سواری کرکے ہی مودی جی وزیراعظم کی کرسی تک پہنچے تھے اور اب بھی انہیں یہ لگ رہا ہے کہ اسی وعدوں کی سواری سے 2019 کا ریس بھی جیت لیں گے۔کل ملا کر جس بجٹ سے امید جگانے کی امید تھی، وہ انتہائی مایوسی میں بدل گئی ہے۔
اس ملک میں ’جے کسان ‘بس ایک نعرہ ہے
2014 کے الیکشن میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔وہ مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آتو گئے لیکن اپنے دور کار کے تین برسوں میں ان کی سرکار نے اس سمت میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ۔کسانوں کے مسائل ختم ہونے کے بجائے بڑھتے گئے۔ کسانوں پر قرض کا بوجھ بڑھتا رہا۔ فصل کی بربادی اور قرض کے دبائو میں ان کی خود کشیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ کسان دہلی آکر اپنے مردہ بھائیوں کے کنکالوں کے ساتھ احتجاج کرتے رہے۔ پر امن اور مشتعل آندولن بھی ہوئے لیکن سرکار نے کسانوں کی خبر لینے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ہاں پچھلے بجٹ میں وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے اپنے بجٹ تقریر میں زرعی شعبے کو اچھی خاصی جگہ دی تھی لیکن زمینی سطح پر کسانوں کے مسائل جوں کے توں بنے رہے۔ تین سالوں کی لمبی نیند کے بعد سرکار اب بیدار ہوئی ہے اور اپنے موجودہ دور کار کے آخری بجٹ میں اسے کسان یاد آئے ہیں۔ بہر حال دیر سے تو آئے، کیا درست آئے ہیں،آئیے دیکھتے ہیں کہ کسانوں کے لئے اس بجٹ میں کیا خاص ہے۔
اعدادو شمار گلابی ہیں، بجٹ انتخابی ہیں
ہندوستان نے جب سے لبرل فنانس پالیسی اپنائی ہے ،تب سے سرکاروںکی یہ روایت بن گی ہے کہ انتخابات سے پہلے بجٹ میں کسانوں، غریبوں اور دیہی علاقوں کے لئے اعلانات کرو اور انتخاب جیتنے کے بعد انہیں پھر سے تب یاد کرو جب الیکشن دروازے پر دستک دینے لگے۔ 2018 کا بجٹ مودی سرکار کا آخری مکمل بجٹ تھا۔ لہٰذا یہ امید کی جارہی تھی کہ روایت کے مطابق اس بجٹ کو آنے والے لوک سبھاالیکشن کو دھیان میں رکھ کر تیار کیا جائے گا لیکن روایت سے ہٹ کر اس بجٹ میں ایک اور بات تھی۔ وہ تھی پچھلے الیکشن کا دور۔ بھلے ہی بی جے پی گجرات میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیا ب رہی تھی لیکن دیہی علاقے کا غصہ انتخابی نتائج پر سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ اگر شہری علاقے نے بی جے پی کا ساتھ نہیں دیا ہوتا تو گجرات ان کے ہاتھ سے پھسل چکا تھا۔ فی الحال جن تین بی جے پی کی ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں، وہاں پچھلے کچھ برسوں میں کسانوں کے کئی مشتعل اور پر امن لیکن عظیم آندولن دیکھنے کو ملے ہیں۔ اس بجٹ میں آنے والے الیکشن سے زیادہ کسانوں کے غصے کو شانت کرنے کی کوشش کی گئی ہے،کیونکہ اگر یہ غصہ برقرار رہتا ہے تو 2019 میں نریندر مودی کی راہیں مشکل ہو جائیں گی۔
آمدنی دوگنی لیکن کیسے؟
وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اپنے بجٹتقریر کا ایک بڑا حصہ زرعی شعبے پر مرکوز رکھا۔ کسانوں کی تعریف کرنے اور زرعی شعبے کی اہمیت بتانے کے بعد انہوںنے کہا کہ پچھلے سال کے بجٹ تقریر میں انہوں نے کسانوں کی آمدنی پانچ برس میں دوگنی کرنے کی بات کی تھی۔ لہٰذا سرکار کو بہت سارے قدم اٹھانے ہیں، تاکہ کسان اپنی فصل کی پیداوار بڑھا سکے اور فصل کی کٹائی کے بعد کے چیلنجز سے نمٹ سکے۔ یعنی کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت مل سکے۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں کسانوں کی آمدنی کو ڈیڑھ گنا کرنے کی۔ سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشوں کے بعد ہر سرکار نے کسانوں کو اس کی لاگت کے حساب سے فائدہ دینے کی باتیں کی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی اپنے انتخابی خطاب میں کچھ آگے بڑھتے ہوئے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کی بات کر ڈالی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ دور کی کوڑی تھی جسے ان کے مخالفین انتخابی جملہ کہتے ہیں۔شروعاتی دو سالوں تک موجودہ سرکار نے اس سمت میں کوئی کام نہیں کیا۔2016 کے وسط میں مرکزی اگریکلچر منسٹری کے تحت سکریٹری اشوک دلوائی کی صدارت میں 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے اپائے سجھانے کے لئے ایک انٹر منسٹریل کمیٹی تشکیل کی گئی تھی۔ دلوائی کمیٹی نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے لئے 2012 کی قیمت پر 6.4 لاکھ کروڑ سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ حالانکہ اس سال زرعی شعبے کے لئے بجٹ الاٹمنٹ 57,600 کروڑ روپے ہیں، جو پچھلے سال کے بجٹ الاٹمنٹ کے مقابلے میں 15فیصد زیادہ ہے۔یہ رقم دلوائی کمیٹی کے اندازہ سے بہت کم ہے۔ ظاہر ہے اس سے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنا ایک ٹیڑھی کھیر ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ڈیڑگھ گنا ایم ایس پی کے لئے پیسہ کہاں ہے؟
بجٹ میں کم از کم ایم ایس پی کو ڈیرھ گنا فائدہ کی شکل میں دینے کی بات کی گئی ہے۔ اسے بھی ایک بڑا اعلان کے طور پر پیش کیا جارہاہے۔ لیکن ایم ایس پی پر فائدہ کے سلسلہ میں بجٹ میں کوئی صاف بات نہیں کی گئی ہے۔ خود سوامی ناتھن نے اس اعلان پر دفاعی رد عمل تو ظاہر کیا ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ سرکار کو یہ صاف کرنا چاہئے کہ ایم ایس پی کا مجوزہ اضافہ کس حساب سے ہوگا؟لاگت پر 50 فیصد کے اضافہ سے تکنیکی طورپر کسانوں کو یقینی قیمت تو ملے گی لیکن یہ ایم ایس پی طے کرنے کے فارمولے پر منحصر کرتا ہے کہ کسان کو کتنا فائدہ ملے گا؟ایم ایس پی طے کرنے کے دو طریقے ہیں۔پہلا جامع قیمت یعنی کمپرہنسیو کاسٹ جسے سی 2 کہا جاتا ہے ۔دوسرا صرف ادائیگی کئے ہوئے خرچ جیسے بیج ،کھاد ، وسائل ، وغیرہ جسے اے 2 کہا جاتاہے۔ اگر اے 2 کے حساب سے قیمت طے کی جائے گی تو کسانوں کو نہیں کے برابر فائدہ ملے گا اور اگر سی 2 کے حساب سے ہوتا ہے تو کسانوں کو کچھ فائدہ ہوگا،لیکن اس کا اثر مہنگائی پر پڑ سکتاہے۔ کچھ جانکاروںکے مطابق اگر سی 2 کے حساب سے قیمتیں طے کی گئیںتو چاول کی قیمت میں 40 سے 45 فیصد کا اضافہ ہو سکتاہے۔
اگر موجودہ منظر میں دیکھیں تو اس اعلان سے کسانوں کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا نہیں دکھائی دے رہاہے۔ اس قواعد میں سرکار اس وقت موجود ہوگی جب فصل کا بازار قیمت اس کے کم سے کم ایم ایس پی سے کم ہو جائے۔ تکنیکی طور پرسرکار پہلے سے ایسی صورت حال میں مداخلت کر سکتی ہے ۔اس کے لئے فنڈ کا پروویژن بھی ہے۔ اس سال اس فنڈ میں صرف 200 کروڑ روپے کا الاٹمنٹ کیا گیا ہے۔ اگر الگ سے کوئی بندوبست نہیں ہوتا تو ان اعدادو شمار کے بل پر کسانوں کو راحت ملنا مشکل ہے۔
یہ قرض کسے اور کیسے ملے گا؟
زرعی شعبے کا دوسرا بڑا اعلان زرعی قرض ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے مالی سال 2017-18 کے لئے زعی قرض کے ہدف کو بڑھا کر ریکارڈ 11لاکھ کروڑ روپے کر دیا ہے۔ اپنیتقریر میں جیٹلی نے کہا کہ سرکار جموں و کشمیر اور مشرقی ریاستوں جیسے نظر انداز خطوں کے لئے قرض معاملہ کو آسان بنائے گی۔ دراصل پچھلے تین دہائیوں سے کسانوںکی سب سے بری ٹریجڈی زرعی قرض رہی ہے۔ اس کے بوجھ تلے دب کر لاکھوں کسانوں نے اپنے جان دے دی ہے اور آج بھی ان کے مرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دراصل قرض کے معاملے میںوہ جہاں سرکاری بینکوںپر منحصر ہوتے ہیں، وہیں مقامی ساہوکار بھی ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاکر اونچے ریٹ پر قرض دیتے ہیں۔بجٹ میں نابارڈ کی مدد سے کسانوں کو قرض تقسیم کی تجویز رکھی گئی ہے۔ بجٹ اسپیچ میں کہا گیاہے کہ لگ بھگ 40 فیصد چھوٹے اور سرحدی کسان ساہوکاری روایت سے قرض حاصل کر سکیںگے۔ پرائمری اگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹی ( پی اے سی ایس ) قرض تقسیم کرے گی اور نابارڈ اس کی مدد کرے گا۔ دراصل یہ ایسے اعدادو شمار ہیں جو بجٹ میں الاٹ رقم نہیں ہے۔ اسے نابارڈ اور دوسرے بینکوں کے سہارے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ لہٰذا سرکار کا اس میں کوئی خرچ نہیں ہو رہاہے۔ ساتھ میں پی اے سی ایس کو ڈسٹرکٹ سینٹرل کو آپریٹیو بینک سے جوڑنے اور کمپیوٹرائز کرنے کے لئے ریاستی سرکاروں کی مدد سے 1900 کروڑ روپے خرچ کرنے کی بات کی گئی ہے۔ چونکہ زراعت ریاست کا موضوع ہوتاہے، اس لئے مرکزی سرکار کے پاس اتنی گنجائش رہتی ہے کہ ریاست کو بیچ میں کھڑا کر کے اعلانات بھی کر لے اور ان اعلانات کو ریاست کے ساتھ مل کر پہلے آپ پہلے آپ کی قواعد کی بھینٹ چڑھا دے۔
بیمہ فصل کا، فائدہ کارپوریٹ کا
اس مد میں فصل بیمہ اسکیم بھی شامل ہے۔ اس سال فصل بیمہ اسکیم کے کوریج ایریا کو بڑھا کر 50 فیصد کر دیاگیا ہے جس کے لئے اس سال 9000 کروڑ روپے کا الاٹمنٹ کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اسکیم بھی موسم کی مار جھیل رہے کسانوں کو راحت دینے کے لئے تیار کی گئی ہے لیکن زمینی حقیقت بہت حوصلہ افزا نہیں ہے۔ پچھلے سالوںکی تصویر پر نظر ڈالنے سے یہ صاف ہو جاتاہے کہ فصل بیمہ کا فائدہ کسانوں سے زیادہ بیمہ کمپنیوں کو ملا ہے۔ پچھلے سال اگریکلچر منسٹری کے ذریعہ جاری اعدادو شمار کے مطابق پینل میںشامل 11 بیمہ کمپنیوںنے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا(پی ایم ایف بی وائی) کے تحت 2016-17 میں خریف اور ربیع فصلوں کے لئے لگ بھگ 15891 کروڑ روپے پریمیم کی پالیسی بیچی ہے۔ اس پریمیم کی رقم میں کسانوں کی حصہ داری 2685 کروڑ روپے ہے جبکہ باقی رقم مرکز اور ریاستی سرکاروں کے ذریعہ برداشت کیا گیا ہے۔ وزارت کے ذریعہ یہ بھی دعویٰ کیا گیاہے کہ 2016-17 میں بیمہ کلیم کی رقم 13000کروڑ روپے ہو سکتی ہے۔ جو کسانوں سے اکٹھا کی گئی پریمیم سے 80 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح پچھلے سال کی ایک رپورٹ کے مطابق اترپردیش کے بریلی میں 2016 میں خریف سیزن میں 53816کسانوں نے 43403ہیکٹیئر فصل کا بیمہ کرایا ۔ پریمیم کی شکل میں بیمہ کمپنیوں کو پانچ کروڑ سے زیادہ روپے ادا کئے، جبکہ فصل بیمہ کا فائدہ صرف 1208 کسانوں کو ملا۔ معاوضے کی شکل میں صرف 32 لاکھ روپے ملے۔ لہٰذااب آئندہ کسانوں کو اس اسکیم کافائدہ ملے گا،اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔
یو پی اے کی ناکامی کی یادگار،این ڈی اے کا سہارا
وزیر اعظم نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے محض کچھ دنوں بعدہی پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ منریگا کو وہ اس لئے جاری رکھیں گے تاکہ یہ کانگریس کی ناکامی کی یادگار کے طورپر لوگوںکے سامنے رہے۔ اب حالت یہ ہے کہ انہی کی سرکار اس کا استعمال انہی کے ایک انتخابی وعدے کہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کو پورا کرنے میں کر رہی ہے۔ دراصل منریگا سے جڑے گائوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہورہاہے۔ مجوزہ بجٹ میں اس مد میں 55000کروڑ روپے کا الاٹ منٹ کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ الاٹمنٹ پچھلے سال کے مقابلے میںتقریبا 7000 کروڑ روپے زیادہ ہے لیکن یہ فنڈ لازمی ضروری فنڈ سے کم ہے۔ اس سیکٹر میں کام کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ یہ رقم کم سے کم 80ہزار کروڑ روپے ہونی چاہئے۔
کل ملا کر زرعی بجٹ میں پچھلے سال کے مقابلے 13فیصد کا اضافہ ہوا ہے لیکن یہ اضافہ مکمل بجٹ کے اضافے کے لگ بھگ برابرہے۔ایسے میں کسانوں کو بڑی راحت دیئے جانے کی جو بات کی جارہی تھی،وہ راحت ملتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ مالی جائزے میںیہ تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ غیر سینچائی علاقوں میں کسانوںکی آمدنی میں 25 فیصد کی گراوٹ آسکتی ہے۔ اس کے لئے بھی کسی قدم کا ذکر اس بجٹ میں نہیں ہے۔ کسانوں کی خود کشی کا بنیادی سبب بینکوں کا قرض اور فصل کی بربادی کو لے کر بھی کوئی اعلان نہیں ہوا ہے ۔لے دے کر تان فصل بیمہ پر توڑ دیا گیا ہے۔ صرف کہہ دینے سے کسانوں کی آمدنی اگر دوگنی ہوجاتی تو اتنی بڑی تعداد میں کسانوں کو خود کشی نہیں کرنی پڑتی ۔ ابھی کسان سنگٹھن جن سوالوں کو لے کر سڑک سے پارلیمنٹ تک آندولن کررہے ہیں،ان سوالوںکا حل اس بجٹ میں دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے ٹیکس ادائیگی میں ایمانداری کو لے کر ٹیکس دہندوں کی پیٹھ تھپتھپائی اور انہیں ایمانداری کا پریمیم دینے کی بات کہی، لیکن ایمانداری کا یہ نام نہاد پریمیم درمیانی طبقہ پر ٹیکس کی مار کی شکل میں سامنے آیا۔ گزشتہ مالی سال کے ٹیکس ادائیگی کے جو اعدادو شمار سامنے آئے، اس کے مطابق ایک کروڑ 89 لاکھ ملازموں نے 76 ہزار 306 روپے کے اوسط سے ایک لاکھ 44 ہزار کروڑ کا ٹیکس دیا، جو ایک کروڑ 88 لاکھ کاروباریوں کے ذریعہ 25 ہزار 753 روپے کے اوسط سے دیئے گئے 48 ہزار کروڑ سے بہت زیادہ ہے۔
لیکن جب ان ملازموں کو ایمانداری کا پریمیم دینے کی بات آئی تو وزیرخزانہ نے انہیں محض 40 ہزار کے اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن کا جھنجھنا پکڑا کر کئی بھتے چھین لئے۔ ابھی میڈیکل بل کی شکل میں 15 ہزار اور ٹریول بھتے کی شکل میں 19 ہزار 200 کا ٹیکس چھوٹ دیا جاتا تھا ،جسے اس بجٹ میں ختم کر دیا گیا ہے۔ ان دونوں کو ملا دیں، تو 34 ہزار 200 روپے ہوتے ہیں جو 44 ہزار کے اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن سے محض 58.00 روپے کم ہیں۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ 58.00 روپے درمیانی طبقہ کے لئے منافع ہیں، 3فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کئے گئے ایجوکیشن اور ہیلتھ سیس نے درمیانی طبقہ کو پرانی حالت میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس بار کے بجٹ میں انکم ٹیکس میں کوئی بدلائو نہیں کیا گیا ہے، یعنی پرانا ٹیکس ریٹ ہی موثر رہے گا جو سلیب کے مطابق اس طرح سے ہے: صفر سے لے کر ڈھائی لاکھ تک ،صفر فیصد۔ ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ تک پانچ فیصد۔ پانچ لاکھ سے دس لاکھ تک 20 فیصد اور دس لاکھ سے ایک کروڑ تک 30 فیصد۔ 40 ہزار کا اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن دینے کے اعلان کے بعد سرکار یہ ذکر کرنا نہیں بھولی کہ اس سے اسے 8000کروڑ کا نقصان ہوگا، لیکن سرکار یہ بتانا بھول گئی کہ ایجوکیشن اور ہیلتھ سیس میں ایک فیصد کے اضافے سے قومی آمدنی کو 11.000 کروڑ کا فائدہ کرائے گی یعنی سیدھے طورپر تین ہزار کروڑ کا منافع۔ جبکہ عوامکے پاکٹ پر لگ بھگ پرانا والا ہی اثر رہے گا۔
سرمایہ کاری کے معاملے میں بھی سرکار کی طر ف سے درمیانی طبقہ کو راحت نہیں ملی ہے۔ ماہرین کی مانیں تو موجودہ وقت میں جو تین اہم سرمایہ کاری کے متبادل ہیں،ان میں سے ریئل اسٹیٹ پہلے سے ہی بحران میں ہے، لگاتار کم ہو رہے انٹریسٹ ریٹ اور اس پر بھی ٹیکس کی مار کی وجہ سے بینک بھی اب بہتر سرمایہ کاری کا متبادل نہیں رہ گئے ہیں، ان دونوں کے علاوہ بچتا ہے شیئر سرمایہ کاری، جس پر اس بار10 فیصد کا ٹیکس ڈال دیا گیا ہے۔ وزیرخزانہ نے گولڈ مونوٹائزیشن کی بات کی، اس میں بھی سرکار کو عوام کی نہیں اپنے انکم کی فکر دکھائی دیتی ہے، اسکے تحت گولڈ کے ذریعہ لون دینے کا انتظام کیا جائے گا۔ سرکار کی منشا ہے کہ اس لون کے بہانے اَن آرگنائزڈ سیکٹر کا سونا بینکوں میں لایا جائے۔ حالانکہ اس طرح کی اسکیم پہلے بھی لائی گئی تھی،لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکی۔
30لاکھ بے روزگار وںکا اقرار
ہر سال ایک کروڑ لوگوں کو نوکری دینے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی سرکار فی سال روزگار پیدا کرنے کے اعدادو شمار کو لاکھ تک پہنچانے میں بھی ہانپنے لگی اور بالآخر اس معاملے میں سرکار نے ہتھیار ڈال دیا۔ اس بار کے بجٹ میں وزیرخزانہ نے 70 لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کی بات کہی ہے۔ یہ ایک الگ ایشو ہے کہ فی الحال معیشت میں ایک کروڑ سے زیادہ کام کرنے والے نوجوان جڑ جاتے ہیں لیکن سرکار نے سرکاری اعلان کر دیا کہ وہ 70 لاکھ نوجوانوں کو نوکریاں دے ہی دے گی،کیونکہ اس معاملے میںسرکار کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ 2017-18 کے لئے سرکار نے 2,80,000 نوکریوں کے لئے بجٹ کا پروویژن کیا تھا۔
سرکار کی طرف سے اسے ’نوکریوں کا سیلاب ‘ کہا گیا تھا۔ اس وقت محکمہ جاتی اعدادو شمار دے کر بتایا گیا تھا کہ انکم ٹیکس محکمہ میں نوکریوں کی تعداد 46,000 سے بڑھا کر 80,000 کی جائے گی۔وہیں ایکسپورٹ ڈپارٹمنٹ میں بھی 41,000 نئی بھرتیوں کی بات کہی گئی تھی لیکن 2017 کے گزر جانے کے بعد بھی اب تک ’نوکریوں کا سیلاب ‘ کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔ نوکری کے چیلنج کو ہم اس بات سے سمجھ سکتے ہیں کہ 2018 کے پہلے ہفتہ میں بے روزگاری ریٹ 5.7 فیصد تھا جو کہ پچھلے 12 مہینوں میں سب سے زیادہ ہے۔
سرکاری سیکٹر میں نوکریوں کی حالت پہلے سے ہی خراب ہے۔ آگے بھی اجالے کی کرن نظر نہیں آرہی ہے۔ ایسی حالت میں پرائیویٹ سیکٹر کی طرف دیکھنا ضروری بھی ہے اور مجبوری بھی۔ لیکن اس طرف سے بھی مثبت اشارے نہیں مل رہے ۔ سرکار نے نچلے اور درمیانی درجہ کی صنعتوں کو راحت دینے اور ان کے ذریعہ روزگار پیدا کرنے کے نام پر ڈھائی سو کروڑ کے ٹرن اُور تک کی کمپنیوں کو کارپوریٹ ٹیکس میں چھوٹ دیتے ہوئے اسے 30سے گھٹاکر 25 فیصد کردیا ہے۔ چھوٹی اور درمیانی سیکٹر کی صنعتوں کے لئے 3794 کروڑ کا کیپٹل فنڈ بھی بنایا گیا ہے، جس کے ذریعہ کیپٹل سبسڈی اور دیگر سہولتیں دینے کی اسکیم ہے۔
70 لاکھ نوکریوں کے پیدا کرنے میں بھی اس فنڈ کی حصہ داری کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ جن امکانات کے ذریعہ کارپوریٹ پر یہ مہربانی کی گئی ہے، اس کے کامیاب ہونے میں شبہ ہے، کیونکہ موجودہ وقت میں چل رہی اسٹارٹ اپ انڈیا اور اسٹینڈ اپ انڈیا جیسی اسکیموں کی ناکامیاں جگ ظاہر ہے، جن کا اس بار کے بجٹ میں ذکر تک نہیں کیا گیا۔روزگار پیدا کرنے کا نام دے کر کارپوریٹ کو ٹیکس میں پانچ فیصد راحت دینے کی جگہ اگر سرکار نے درمیانی طبقہ کو پہلے سے مل رہے راحتوں کو بنائے رکھا ہوتا، تو شاید عوام کو زیادہ فائدہ ہوتا۔
اجول کے بارے میں دعویٰ
مفت رسوئی گیس تقسیم کے ذریعہ دیہی عورتوں کو دھوئیں والے ایندھن سے دور کرنا وزیراعظم کی ترجیحی اسکیم تھی۔ اجول یوجنا کے ذریعہ اسکے نفاذ کو لے کر وزیراعظم نے کئی بار اپنی سرکار کی پیٹھ بھی تھپتھپائی ۔ اس بار کے بجٹ میں اس اسکیم کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔ بجٹ تقریر میں وزیرخزانہ نے کہا کہ اجول یوجنا کے تحت شروع میں پانچ کروڑ غریب عورتوں کو بلا قیمت ایل پی جی کنکنشن فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا لیکن اس اسکیم کے نفاذ اور عورتوں کے بیچ اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ہم نے فری گیس کنکشن فراہم کرانے کا ہدف بڑھا کر 8کروڑ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس اسکیم کو لے کر غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سرکار بھلے ہی اعددو شمار کے ذریعہ اپنے ہدف کو پاتے ہوئے دیکھ کر خوش ہو رہی ہے، لیکن اس کے مقاصد کہیں نہ کہیں پیچھے چھوٹ رہے ہیں۔اسکیم کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ دیہی عورتوں کے نام پر رسوئی گیس کا الاٹمنٹ ہو جائے، بلکہ انہیں دھوئیں سے آزادی دینے کی بات کہی گئی تھی۔ اس اسکیم کے بعد گیس کنکنشن میں جس رفتار سے اضافہ ہوا ہے، اس رفتار سے سیلنڈر کی کھپت نہیں بڑھی ہے۔ یعنی صاف ہے کہ لوگ کنکنشن تو لے رہے ہیں لیکن اس کا استعمال نہیں کر پارہے ہیں۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ اجول یوجنا کے بعد گھریلو گیس کنکنشن میں 16.26 فیصد کا اضافہ ہوا لیکن گیس سیلنڈر کا استعمال محض 9.83 فیصد ہی بڑھ سکا۔
بیمار ہی رہے گا ہیلتھ سسٹم
اس بار کے بجٹ کو لے کر جو سب سے پہلی اور بڑی بریکنگ نیوز آئی، وہ تھی 10 کروڑ غریب خاندانوںکے 50 کروڑ لوگوں کو سالانہ پانچ لاکھ کا ہیلتھ انشورنس دینے کی اسکیم۔ 50ہزار کروڑ کی اس بھاری بھرکم اسکیم کو مودی کیئر کا نام دے کر اس کا موازنہ سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کے ہیلتھ اسکیم اوبامہ کیئر سے کی جانے لگی۔ عوامی صحت کے سیکٹر میں کسی بھی ملک میں ایسی اسکیم نہیں ے لیکن اس کے بارے میں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ ہیلتھ اسکیم نہیں، بیمہ اسکیم ہے ۔
حالانکہ اس اسکیم کی کامیابی بھی ہیلتھ کے سیکٹر میں ملک کی حالت بدل سکتی ہے، لیکن اسے لے کر شبہات ہیں،کیونکہ اس طرح کی ماضی کی اسکیمیں بھی کامیابی سے کافی دور ہیں۔ اس بارے میں ایک پرائیویٹ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے سکریٹری برائے مالیات ہس مکھ اپادھیا نے کہا کہ اس اسکیم کے لئے پریمیم ادائیگی سینٹر اور ریاستی سرکاروں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی ۔ پریمیم کا 60فیصد حصہ مرکزی سرکار دے گی جبکہ 40 فیصد ریاستی سرکاریں۔ اس اسکیم کے نفاذ کو لے کر سکریٹری برائے مالیات نے خود کہا کہ اس میں تقریباً ایک سال لگ جائے گا۔ حالانکہ ایک سال بعد بھی یہ یقینی ہونا راحت کی بات ہوگی کہ ملک کی 40فیصد آبادی کو سرکار پانچ لاکھ کا ہیلتھ انشورنس دے گی لیکن اس اسکیم کے نفاذ کا طریقہ وہی ہے جو اس طرح کی پرانی اسکیموں کے لئے تھا اور یہی حقیقت دنیا کی اس سب سے بڑی ہیلتھ انشورنس اسکیم کے ممکنہ ناکامی کا اشارہ ہے ۔
یکم اپریل 2008 کو اس وقت یو پی اے سرکار نے نیشنل ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کی تھی، جسے مودی سرکار نے 2016 میں نیا کلیور دیا لیکن شکل بدلنے کے بعد بھی اس کی پہنچ عوام تک نہیں ہو سکی۔ نفاذ کے اسی طریقے نے اس اسکیم میں پینچ پھنسایا ،جس کے ذریعہ نئی اسکیم کو عوام سے جوڑنے کی بات کہی جارہی ہے، یعنی پریمیم کو لے کر مرکز اور ریاست کے درمیان 60:40 کا بٹوارہ ۔
موجودہ وقت میں نافذ ہیلتھ انشورنس اسکیم کے تحت 21 ریاستوں کے 21کروڑ لوگ منجدھار میں پھنسے ہیں، وجہ یہ ہے کہ مرکز وریاستوں کے بیچ پریمیم ادائیگی کو لے کر تنازع ہے۔ اسے لے کر مرکز کا ریاستوں کے لئے ہدایت ہے کہ وہ پریمیم کی ادائیگی کریں اور بعد میں مرکز انہیں 60 فیصد رقم لوٹادے گا۔ لیکن ریاستوں کی مانگ ہے کہ انہیں پہلے ادائیگی کی جائے ۔اسی تنازع کو لے کر پچھلے 9 مہینوں سے 21ریاستوں کے 21کروڑ لوگوں کا انشورنس کارڈ نہیں بن سکا ہے ۔
اگر مان بھی لیں کہ یہ اسکیم کچھ حد تک کامیاب ہوتی ہے تو بھی اس کے ذریعہ پرائیویٹ اسپتالوں کا ہی بھلا ہوگا نہ کہ سرکاری اسپتالوں کا۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے لوگ پرائیویٹ اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں،تب تو وہ سرکاری اسپتال کی طرف دیکھیں گے بھی نہیں، جب ان کے علا ج کا خرچ سرکار برداشت کرے گی ۔اس طرح سے اس کے ذریعہ سیدھے طور پر پرائیویٹ اسپتال اپنا دائرہ بڑھائیںگے۔ اس بجٹ میں سرکار نے اسپتالوں کی تعداد بڑھانے کی تو بات کہی ہے، لیکن پہلے سے قابل رحم حالت میں چل رہے اسپتالوں کی حالت سدھارنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بجٹ میں کہا گیاہے کہ ملک بھر میں 24 نئے میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں کا قیام ہوگا۔ جس میں تین رکنی سیکٹر کے بیچ ایک میڈیکل کالج بنانے کا ہدف ہے۔ساتھ ہی ڈیڑھ لاکھ ہیلتھ سینٹر بنانے کی بھی بات کہی گئی ہے۔ بجٹ کے ان پروویژنوں پر چرچا کے درمیان پچھلے سال آئی سی اے جی کی رپورٹ پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ، جس میں یہ خلاصہ ہوا تھاکہ 27ریاستوں کے لگ بھگ ہر ہیلتھ سینٹر میں 77 سے 87 فیصد ڈاکٹروں کی کمی ہے، وہیں 13 ریاستوں کے 67 ہیلتھ سینٹروں میں کوئی ڈاکٹر ہی نہیں ہے۔ ڈاکٹر اور اسٹاف کی کمی کے سبب ہیلتھ الاٹ بھی ہورہے ہیں اور مریضوں کو ان کا فائدہ بھی نہیں مل رہا۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھاکہ 17 ریاستوں میں 30 کروڑ کی لاگت والے الٹرا سائونڈ مشین، ایکسرے مشین، ای سی جی مشین جیسے کئی آلات کا استعمال نہیں ہو پارہا ہے،کیونکہ انہیں آپریٹ کرنے والے میڈیکل اسٹاف نہیں ہیں۔ ساتھ ہی زیادہ تر اسپتالوں میں انہیں رکھنے کے لئے مناسب جگہ بھی نہیں ہے، جس کے سبب وہ بیکار پڑے پڑے خراب ہو رہے ہیں۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب پہلے سے موجود اسپتالوں میں ہی علاج، دوا اور ڈاکٹروں کی مناسب دستیابی نہیں ہے تو پھر ضرورت انہیں قابل استعمال بنانے کی ہے یا اور نئے اسپتال بنانے کی؟

 

 

 

 

 

 

 

 

 

غیر محفوظ کو محفوظ بنانے کی قواعد
2019 لوک سبھاانتخابات سے پہلے مودی سرکار کا یہ آخری بجٹ ہے۔ اس عام بجٹ میں ریل مسافروں کو امید تھی کہ ریل مسافروں کی سہولتوں پر سرکار کا خاص دھیان ہوگا۔ اس لحاظ سے یہ بجٹ ریل مسافروں کے لئے مایوس کن رہاہے۔ حالانکہ مسافروں کے لئے راحت کی بات یہ ہے کہ ریلوے سیکورٹی سرکار کی ترجیحات میں ہے۔ انڈین ریلوے کے لئے اس بجٹ میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ایک لاکھ 48 ہزار کروڑ روپے دیئے ہیں۔اس میں 40,000 کروڑ روپے ایلیویٹیڈ کاریڈور کی تعمیر پر خرچ کئے جائیںگے۔ پچھلے سال کے بجٹ میں ریلوے کے لئے 1.31 لاکھ کروڑ روپے دیئے گئے تھے جبکہ 2015 میں یہ 1.21 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ ریلوے سیکورٹی ان کی سرکار کا پہلا ہدف ہے ۔ انڈین ریلویز کو پوری طرح براڈ گیج کرنے پر بھی خاص دھیان دیاجائے گا۔
محفوظ سفر سرکار کی ترجیحات
ارون جیٹلی نے کہا کہ محفوظ سفر اور ٹریک مینٹننس پر ریل بجٹ کا بڑا حصہ خرچ کیا جائے گا۔ اس کے لئے ریلوے پٹری اور گیج بدلنے پر خاص دھیان دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی 5000 کلو میٹر لائن کے گیج بدلائو پر کام چل رہاہے۔ 3600 کلو میٹر کی جدید کاری کی جاچکی ہے ۔3600 کلو میٹر نئی ریل لائن بچھائی جائے گی۔ 4000کلو میٹر ٹریک کی ڈھانچہ بندی کی جائے گی۔
ریل مسافروں کی سیکورٹی کے لئے ملک بھر میں اہم ریل اسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جانے ہیں۔پچھلے بجٹ میں بھی سرکار نے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا ذکر کیا تھا لیکن ابھی تک صرف 395 ریل اسٹیشنوںاور 50 ٹرینوں میں ہی سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ 2018-19 کے بجٹ میں سبھی 11,000 ٹرینوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جانے ہیں۔ اس حساب سے دیکھیں تو 11,000ٹرینوں میں 12 لاکھ سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جانے کی ضرورت ہوگی۔ یعنی کہہ سکتے ہیں کہ ایک کوچ میں 8 سی سی ٹی وی کیمرے لگیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ریل کے سبھی 8500 اسٹیشنوں پر بھی سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ ریل میں صرف سی سی ٹی وی کیمرے لگانے پر ہی سرکار کو بھاری بھرکم رقم خرچ کرنی پڑ سکتی ہے۔ اس کے لئے ریل کو بازار سے بھی فنڈ جمع کرنے کی ضرورت پڑے گی۔
مریضوں اور بزرگوں کا خیال رکھتے ہوئے ریل اسٹیشنوں پر ایکسلیٹر لگانے کا ذکر وزیر خزانہ نے پچھلی بجٹ میں بھی کیا تھا۔ اس بار پھر سرکار نے 25 ہزار لوگوں سے زیادہ کی آمدو رفت والے پلیٹ فارم پر ایکسلیٹر لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ریل مسافروں کی سہولت کے لئے پورے ملک میں اہم ریل اسٹیشنوں پر ایکسلیٹر اور لفٹ لگانے کا پروویژن تھا ۔ معذور اور ضعیف لوگوں کو ا س سے پلیٹ فارم پر چڑھنے اترنے میں آسانی ہوگی۔ ریل کے سینئرافسروں کا کہناہے کہ ایک ایکسلیٹر پر ایک کرڑ روپے اور ایک لفٹ پر 40 لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے۔ اہم ریلوے اسٹیشنوں پر ایکسلیٹر لگانے کے لئے ریل محکمہ نے آمدنی نہیں، بلکہ ریل مسافروںکی تعداد کو بنیاد بنایا ہے۔ جن ریلوے اسٹیشنوں پر 25 ہزار یا اس سے زیادہ مسافرروز آتے ہیں، وہاں لفٹ اور ایکسلیٹر کی سہولت دی جاتی ہے ۔ وزیرخزانہ نے بتایا کہ اس سا ل 600 ریل اسٹیشنوں کی جدید کاری کی جائے گی ۔ریل اسٹیشنوںکے منیٹائزیشن پر بھی ریلوے دھیان دے۔
سرکار نے 4000 عوامی ریلوے کراسنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہندوستانی ریلوے میں سگنل طریقہ کار کی جدید کاری پر 78ہزار کروڑ روپے کی لاگت کا اندازہ ہے۔ امید تھی کہ اس بجٹ میں ریلوے کی دیگر سیکورٹی انتظامات کے بیچ اس پر بھی زور دیا جائے گا۔حالانکہ ریلوے وزارت کے ایک سینئر آفیسر نے بتایا کہ بھیڑ والے نیٹ ورک میں جاری سگنل طریقہکار کو جدید بنانے پر کام چل رہاہے۔ اس کا مقصد سیکورٹی کو بڑھانا اور ریل کی رفتار کو تیز کرناہے۔ موجودہ سگنل طریقہ کار کو ماڈرنائزیشن کے ساتھ الکٹرانک،انٹرلاکنگ طریقہ کی توسیع، یوروپین ریل کنٹرول طریقہ کار لیول 2 کو شامل کرنا اور موبائٹ ٹرین ریڈیو مواصلات طریقہ کار ریلوے کا فروغ بھی ایجنڈ اکا حصہ ہے۔
وزیر خزانہ جیٹلی نے اعلان کیا ہے کہ اس سال 700 نئے ریل انجن اور 5160 نئے کوچ بنائے جائیںگے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرینوں کے رکھ رکھائو اور آپریٹ پر بھی خاص دھیان دیا جائے گا۔ریلوے ڈیژل انجنوں کو دھیرے دھیرے باہر کر دیاجائے گا اس لئے بھی بڑی تعداد میں الکٹرک انجنوں کی ضرورت ہوگی۔
اس بار بجٹ میں ممبئی کی لائف لائن ممبئی لوکل کا دائرہ 90کلو میٹر بڑھانے کا ہدف رکھا گیاہے۔ ممبئی میں لوکل ٹرینوں کے لئے 11ہزار کروڑ دیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بنگلورو میں سب اربن علاقوں میں 160 کلو میٹر ریلوے نیٹ ورک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ بڑورامیں ریلوے یونیورسٹی بنائی جائے گی ۔سبھی ٹرینوں اور پلیٹ فارمس پر وائی فائی کی سہولت بھی دی جائے گی۔
بلیٹ ٹرین کی اہم اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے جیٹلی نے کہا کہ ممبئی احمد آباد ہائی اسپیڈ بلیٹ ٹرین کا ٹریک بنانے کا کام جلد شروع کیا جائے گا۔ بلیٹ ٹرین اسکیم کے لئے ریلوے ملازموں کو بڑودرا ریل یونیورسٹی میں ٹریننگ دی جائے گی۔ ریل منسٹر پیوش گوئل نے بلیٹ ٹرین کو مستقبل کی مانگ بتایا تھا۔ انہوں نے کہا تھاکہ ممبئی احمدآباد ہائی اسپیڈ ریل پروجیکٹ این ڈی اے سرکار کی ایک دور اندیش اسکیم ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت ہم مسافروں کو رفتار کے ساتھ ساتھ محفوظ اور بہتر سفر کرا پائیںگے۔ انہوں نے راجدھانی ایکسپریس کی مثال دیتے ہوئے کہا تھاکہ 1968میں اس تیز رفتار گاڑی کو چلانے کے خلاف کئی لوگ تھے۔ آج اسی راجدھانی ایکسپریس سے سفر کرنے کے لئے ہر کوئی تیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جاپانی تکنیک کے استعمال سے بننے والی اس ٹرین کے چلنے سے ہماری معیشت کا بھی وکاس ہوگا اور ہزاروں نوکریاں پیدا ہوں گی۔ اب مودی سرکار کی اس اہم اسکیم سے کتنی نوکریوں کا موقع ملے گا ،یہ تو بلیٹ ٹرین چلنے کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن ماہرین اقتصادیات کا کہناہے کہ ریل مسافروں کی سہولت میں اضافہ یا زیادہ ایکسپریس ٹرین چلانا سرکار کا ہدف ہونا چاہئے تھا۔بلیٹ ٹرین سے ایک خاص طبقے کے لوگ ہی سفر کر پائیںگے ۔یہ ریلوے کے عام مسافروں کے لئے نہیں ہوگا۔
چوتھے سال بھی نہیں بڑھا کرایہ
ریل مسافروں کے لئے راحت بھری خبر ہے کہ لگاتار چوتھے سال کرائے میں اضافہ نہیں کیا گیاہے۔ 2014 میں ریل کرائے میں 14فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے 2013 میں ہر کلاس کے ٹکٹ پر 2سے 10 پیسہ فی کلو میٹر کرایہ بڑھایا گیا تھا،اس وقت یو پی اے سرکار نے یہ دلیل دی تھی کہ ایندھن مہنگی ہونے کی وجہ سے کرایہ بڑھانا پڑا۔2012 میں بھی تقریبا 9 سال کے بعد ریلوے کا کرایہ بڑھایا گیا تھا۔
آمدنی بڑھانے پر زور
اپنی کمائی بڑھانے کے لئے ریلوے خالی پڑی زمین کا تجارتی استعمال کرنے پر زور دے گی۔ انفراسٹرکچر اور سیکورٹی کے وکاس پر ریل محکمہ بازار اور عالمی اداروں سے بھی پیسہ جمع کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ریل منسٹر پیوش گوئل ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ریل کو جی بی ایس پر منحصر نہں رہنا چاہئے۔ ریل کو اپنے اندرونی وسائل اور بازار سے پیسہ پیدا کرنا چاہئے۔ 2017 کے عام بجٹ میں مسافروں کی سیکورٹی، صفائی ،کیپٹل اینڈڈیولپمنٹ ورک اور فائننس اینڈ اکائونٹنگ ریفارم پر سرکار کا خاص زور تھا۔ پچھلے برسوں میںریل حادثوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے اس بار ریل بجٹ میں سیکورٹی اور حادثات کو روکنے پر زور دیا گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *