اترپردیش میں خوف و ہراس 10 ماہ میں 1142انکاؤنٹرز

تقریباً 4 برس قبل 2014 میںسپریم کورٹ آف انڈیا کی پولیس کے ذریعہ کسی انکاؤنٹر کو کیے جانے کی صورت میں لازمی طور پر چند نکات پر پابندی کرنے کی ہدایات آئی تھیں۔ ان میں سے ایک گواہ کا عہد نامہ (Testament) تھا تو دوسرا متوفی (Deceased) کی تجریم (Incrimination)یعنی پولیس آفیسروں کے خلاف پہلے ایف آئی آر درج کرانا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست اترپردیش میںگزشتہ برس نئی حکومت کے آنے کے بعد انکاؤنٹر کے معاملے میں قانون کے مذکورہ بالا ضابطوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس کی بیّن مثال 27 جولائی 2017 کو مغربی اترپردیش کے ضلع شاملی کے کیرانہ میں بھوراگاؤں میںکیا گیا پولیس انکاؤنٹر ہے۔ اس میںنوشاد (ڈینی) اور اس کے دوست سرور ہلاک ہوگئے۔ اس انکاؤنٹر کا کوئی گواہ نہیںملا اور پولیس نے نوشاد اور سرور کے خلاف ایف آئی آر درج کردیا۔
اترپردیش پولیس کی جاری کی گئی فہرست کے مطابق، یوگی آدتیہ ناتھ کے گزشتہ دس ماہ میں1142 انکاؤنٹر ہوئے،جنھیںبڑی ہی ڈھٹائی کے ساتھ کریڈٹ لینے کے لیے معیاری پولسنگ یعنی قوالٹی پولسنگ کے طور پر آج پیش کیا جا رہا ہے۔ انکاؤنٹر نگ کے اس اعداد وشمار سے ریاستی انتظامیہ خوشی سے اتنا جھوم اٹھا کہ اس نے مقامی آفیسروں سے اس سال یوم جمہوریہ تقریبات کے دوران جرائم کو کچلنے میںان انکاؤنٹروںکی کامیابیوںکی پبلسٹی کر نے کو کہا اور پھر ایسا ہوا بھی۔
اطلاعات کے مطابق صرف فروری کے پہلے ہفتہ میں18 انکاؤنٹر ہوچکے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ انکاؤنٹرنگ میںاس طرح کے اضافے سے سی آر پی سی کے سیکشن 154 کی سینکٹیٹی کی صاف طور پر خلاف ورزی ہوتی ہے جو کہ ایف آئی آر کا درج ہونا ہے۔ ابھی حال میں’ہارڈ نیوز‘ نے سیٹی زنس اگینسٹ ہیٹ کی مدد سے انکاؤنٹرز سے متعلق جن سیکڑوں ایف آئی آر کی جانچ کی ہے، ان سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔
مختلف ایف آئی آر میںیکسانیت
سب سے عجب بات تو یہ ہے کہ ان ایف آئی آر میںصرف بے ضابطگیاں ہی نہیںبلکہ بڑی حد تک یکسانیت بھی موجود ہیں۔ ان میںجو بات صاف طور پر محسوس ہوتی ہے، وہ یہ کہ پولیس ایک ٹیمپلیٹ یعنی سانچے میںڈھلی ایف آئی آر کا استعمال کرتی ہے جس میںگواہ نہیںہوتے ہیں اور واقعات کی ترتیب میں یکسانیت ہوتی ہے۔ نیز ایک اور بات یہ ہوتی ہے کہ عجیب و غریب انداز میں باؤنٹیز یعنی سخاوت یا فیض وکرم کا اعلان کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیںحقوق انسانی کی خلاف ورزی پر جو بات چیت ہوتی ہے،اس میںنہ تو فیئر ٹرائل کا کوئی ذکر ہوتا ہے اور نہ ہی اصلاح یا باز آباد کاری موضوع بحث بنتا ہے۔
جہاںتک مختلف انکاؤنٹرز میں یکسانیت کا تعلق ہے،یہ تفصیلات ڈھکی چھپی ہوئی نہیںہیں اور صرف سرکاری فائیلوںکی زینت نہیں ہیں بلکہ مقامی اخبارات میںیہ رپورٹوںکی شکلوںمیںآچکی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر مظفر نگر سے شائع ہندی روزنامہ ’امر اجالا‘ اپنی ایک رپورٹ میںرقمطراز ہے کہ ’’ضلع میںایک کے بعد دوسرا انکاؤنٹرہورہا ہے اور ہر ایک میںچونکانے والی یکسانیت موجود ہے۔ ہر ایک واقعہ میںپولیس اور مجرمین میںجھڑپ ہوتی ہے اور پولیس کو ہاتھ اور مجرم کو پیروںمیںگولی لگتی ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیںکہ یہ پولیس کو دی گئی ٹریننگ کے عین مطابق ہے۔‘‘ بہر حال ایسا نہیں ہے کہ انھیںگولی کہاںداغی جاتی ہے بلکہ یہ بھی چونکانے والی بات ہے کہ واقعات کے بڑے حصے ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔
’چوتھی دنیا‘ سے بات چیت کرتے ہوئے اترپردیش کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس ایس آر داراپوری نے انکاؤنٹر کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’انکاؤنٹرز بی جے پی کے گورننس طریقہ کار کا اہم حصہ ہیں اور یہ اس کی تمام ریاستوںمیںدکھائی پڑتے ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ پولیس پر انکاؤنٹر کرنے کا زبردست دباؤ ہے۔‘‘

 

 

 

 

 

 

 

 

متاثرین میںپسماندہ زیادہ
ان انکاؤنٹرز کے متاثرین میںپسماندہ برادریوںیا مسلم کمیونٹیوں کے لوگ زیادہ تر ہوتے ہیں۔ رہائی منچ کے راجیو یادو کہتے ہیںکہ اس کا اصل مقصد ان لوگوں میںخوف و ہراس پیدا کرنا ہوتا ہے،جنھوںنے انتخابات میںان کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیںکہ علاوہ ازیں اس کے سماجی اسباب بھی ہیں۔ ان کے مطابق، بڑے حملوںمیںسے ایک مقیم کالا کے گینگ پر کیا گیا جس کا بھائی وسیم ایک انکاؤنٹر میںہلاک ہوگیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی رو سے اسے پائینٹ بلینک رینج پر سر پر گولی لگی تھی۔ دراصل مقیم کالا 2016 میںکیرانہ کی شورش کا ذمہ دار مانا جاتا تھا اور جہاںجیسا کہ مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ اس کے گینگ کی بربریت کی وجہ سے شہر سے ہندوؤںکو چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔
ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ان انکاؤنٹرز میںعموماً عوام میں معروف مجرمین ، گینگسٹرز، ڈکیتوں،شارپ شوٹرز ودیگر قسم کے کریمنلز کو ٹارگیٹ کیاجاتا ہے۔ ان انکاؤنٹرز میںزیادہ تر چھوٹے کریمنلز ہوتے ہیں، جن کے سر پر معمولی باؤنٹیز یعنی سخاوت کا اعلان ہوتا ہے۔
اب آئیے، اسی ضمن میںنوئڈا کے ایک معاملے پر غور کریں۔ یہاںایک خاندان کا دعویٰ ہے کہ ریاستی پولیس کے ذریعہ ایک ’فرضی انکاؤنٹر‘ میںاس کے ایک رکن پر گولی چلائی گئی۔گزشتہ 3 فروری کو جتیندر یادو، سنیل ودیگر دو اشخاص ایک شادی میںشرکت کرکے گھر واپس لوٹ رہے تھے جب ان کی گاڑی کو روکا گیا اور جتیندر پر گولی چلائی گئی۔ مذکورہ خاندان کا کہنا ہے کہ ایک کھونٹی کو نوئڈا کے سیکٹر 122 میںڈالا گیا اور پھر ایک سب انسپکٹرنے مبینہ طور پر کار کو روکا اور پھر بغیر کسی اشتعال کے پولیس نے دو شاٹ داغے۔ جتیندر یادو کو گلے میںاور سنیل کر پیر میں گولی لگی۔ دونوںفوری طور پر اسپتال میںداخل کیے گئے اور سخت پہرے میں رکھے گئے۔ جتیندر کے خاندان والوںکا الزام ہے کہ ’پسماندہ ذات‘ کے ہونے کی بنا پر انھیںنشانہ بنایا گیا۔ فی الوقت اس سلسلے میںنوئڈا ایس پی کے حکم کے تحت پولیس انکوائری چل رہی ہے۔
قومی حقوق انسانی کمیشن کا نوٹس
قومی حقوق انسانی کمیشن (این ایچ آر سی) نے ریاستی حکومت کی بڑھتے ہوئے انکاؤنٹرز کے تعلق سے سخت کھینچائی کی ہے اور نظم و نسق بہتر کرنے کے لیے پولیس کے ذریعہ کی گئی انکاؤنٹرز میںہلاکتوں کی پذیرائی کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔ اس نے میڈیا رپورٹوں کی بنیاد پر سوموٹو کاگنی زینس (Suo Motu Cognizance) لیا ہے اور حکومت اترپردیش کے چیف سکریٹری سے اس سلسلے میں6 ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
قومی حقوق انسانی کمیشن کی تشویش فطری ہے کیونکہ ریاستی حکومت نے بھی اخبارات میںرپورٹوں کے مطابق ان انکاؤنٹرز کو لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال کو بہتر بنانے کا ثبوت اور کارنامہ بتایا ہے۔ اس ضمن میںوزیر اعلیٰ اترپردیش کا 19 نومبر 2017 کے اخبارات میںیہ بیان کہ ’’کریمنلز کو جیل بھیجا جائے گا یا انکاؤنٹرز میںمار دیا جائے گا‘‘ تشویش کو بڑھا تا ہے۔ مذکورہ کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے 2017 میںریاستی پولیس اتھارٹیز کی جانب سے 22 انکاؤنٹرز کی ہلاکتوںکے تعلق سے اطلاع دی گئی ہے کہ سب کچھ گائیڈ لائن کے تحت کیا گیا ہے۔ کمیشن کا ان کے باوجود ماننا ہے کہ اگر لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال گمبھیر بھی ہو تب بھی ریاست اس طرح کے میکنزم کواختیار نہیںکرسکتی ہے، جس کے نتیجے میںمبینہ کریمنلز کی ایکسٹرا جوڈیشیئل ہلاکتیںہوں۔ وزیر اعلیٰ کے اخباری بیان سے یہ یقینا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس و دیگر ریاستی فورسیز کو اپنی مرضی کے مطابق نمٹنے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے اور اس سے اس بات کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمین کے ذریعہ اختیارات کا بے جا استعمال ہوسکتا ہے۔ کمیشن کی یہ تلقین صحیح ہے کہ مہذب سماج کے لیے یہ مناسب نہیںہے کہ اس میںریاست کے ذریعہ اختیار کی گئی بعض پالیسیوں کے نتیجے میںخو ف ہراس کی کوئی فضاء پیدا ہو اور پھر قانونی طور پر جینے کے حق اور برابری کی خلاف ورزی ہو۔
ویسے یہ صحیح ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی بھی ریاست کے وزیر اعلیٰ نے کھل کر انکاؤنٹرز کی تائید کی ہو اور اس سے یہ عندیہ ملا ہو کہ ’شوٹ ٹو کیل‘ اس کی پسندیدہ پالیسی ہے۔ اس صورت حال میںقومی حقوق انسانی کمیشن کی ریاستی سرکار کو نوٹس بروقت محسوس ہوتی ہے مگر دقت تو یہ ہے کہ ریاستی حکومت کا سیدھا سا جواب اس سلسلے میں عموماً یہ ہوتا ہے کہ ’ہر ایک‘ انکاؤنٹر کے بعد مجسٹریئل انکوائری ہوتی ہے اور اس کی رپورٹیں انسانی حقوق تنظیموںکو بھیجی جاتی ہیں۔ ویسے یہ بھی اپنی جگہ قانونی طور پر ہے کہ جہاںخود قانون کی خلاف ورزی ہورہی محسوس ہو وہاں سینئر سپریم کورٹ اورہائی کورٹ ججوں کے ذریعہ جوڈیشیئل انکوائری لاء اینڈ آرڈر کے استعمال کے اندھا دھند استعمال کی جانچ کے لیے ضروری ہوجاتی ہے۔ جہاںتک ’بلیٹ کے لیے بلیٹ‘ کی بات ہے، ایسی متعدد مثالیںملک بھر میںآئے دن دیکھنے کو ملتی ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح کے معاملوں میںپولیس کی بات یقینا آخری نہیں ہوتی ہے اور جب اس کی اسکروٹینی ہوتی ہے تو اکثر ہاں یہ صحیح ثابت نہیںہوتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

انکاؤنٹرز کی سرکاری فہرست
یوگی حکومت کے گزشتہ دس ماہ میںریاستی پولیس کے جاری کردہ فہرست کے مطابق 1142 انکاؤنٹرز ہوئے ہیں جن میں 34 کریمنلز کی ہلاکتیںہوئی ہیں، 265 زخمی ہوئے اور 2744 ہسٹری شیلٹرز کی گرفتاری عمل میںآئی جبکہ دوسری جانب 4 پولیس کے افراد ہلاک اور 247 مجروح ہوئے۔ پولیس نے اس سلسلے میں’آپریشن کلین‘ لانچ کیا اور ان تمام کارروائیوں کو انجام دیا۔ یہ تمام 1142 انکاؤنٹرز ریاست میں 20 مارچ 2017 سے 31 جنوری 2018 تک انجام دیے گئے ۔ یہ تمام کارروائی اس انداز سے کی گئی کہ اخبارات اور چینلوں میںروز بروز جو سرخیاں دیکھنے کو ملنے لگیں وہ یہ تھیںکہ ’’24 گھنٹوں میں4 انکاؤنٹرز‘‘ ’’6 ماہ میں 420 انکاؤنٹرز‘‘،’’ 2 دنوںمیں15 انکاؤنٹرز‘‘، ’’10 ماہ میں900 انکاؤنٹرز‘‘ اور ’’48 گھنٹوں میں18 انکاؤنٹرز۔‘‘ یہ بحیثیت مجموعی یہ تفصیلات تو آتی رہیں مگر یہ اطلاع کسی کو نہیںملی کہ مہلوکین ، مجروحین اور گرفتار شدگان میںکون کون ہیں کیونکہ یہ فہرست پولیس اور ریاستی حکومت کے پاس رہتی ہے۔
بہرحال سرکار کے ذریعہ بتائی گئی تفصیلات سے یہ معلومات تو سامنے آہی گئی ہے کہ یہ انکاؤنٹرز ان علاقوںہی میںزیادہ ترہوئے ہیں جہاں مسلم اور دلت آبادی زیادہ ہے۔ ان علاقوںمیں میرٹھ (449انکاؤنٹرز)، آگرہ (210)، بریلی (196)، کانپور (91)، بنارس (73)، الہ آباد (54)، لکھنؤ (38)اور گورکھپور (31)خطے قابل ذکر ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس سرکاری فہرست میںوزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا حلقہ انتخاب گورکھپور انکاؤنٹر میںسب سے نیچے دکھایاگیا ہے جبکہ میرٹھ خطہ سرفہرست ہے۔ اس کے بعد نمبر بریلی، کانپور و دیگر خطوں کا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پولیس نے 167 کریمنلز پر نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) لگائے ہیں اور تقریباً 150 کروڑ کی مالیت کا سرمایہ اور جائداد سیز کیا ہے۔
ریاست اترپردیش کے مخصوص اضلاع میں اتنی بڑی تعداد میںہورہے انکاؤنٹرز نے پورے ملک کو چونکا دیاہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ریاستی پولیس کی جاری کردہ دس ماہ کی فہرست میںگورکھپور خطہ کا بھی نام شامل ہے جو کہ خود وزیر اعلیٰ کا اسمبلی حلقہ انتخاب ہے۔ چونکہ ان علاقوںمیںمسلمان اور اقلیت طبقہ کے افراد قابل ذکر تعداد میںہیں، لہٰذا ان میںان دنوں زبردست خوف و ہراس پایا جارہا ہے جبکہ سماجوادی پارٹی کو چھوڑ کر کسی بھی سیاسی پارٹی نے اس ایشو کو پارلیمنٹ میںنہیںاٹھایا ہے۔ گزشتہ 5 فروری کو سماجوادی پارٹی کے ارکان نے راجیہ سبھا میںنوئڈا میںمبینہ ’فیک انکاؤنٹر‘ کے خلاف احتجاج کیا۔ دراصل رکن پارلیمنٹ نریش اگروال نے انکاؤنٹر پر بحث کا مطالبہ کیا جس کے لیے انھوںنے267 ضابطہ کے تحت سسپنشن آف بزنس نوٹس پہلے ہی دیا تھا۔ اسے چیئرمین وینکیا نائیڈو نے نا منظور کردیا تھااور ان سے اسے کسی دوسری شکل میںپیش کرنے کو کہا تھا۔ دراصل یہ وہ وقت تھا جب سماجوادی پارٹی کے ان کے رفقاء نے نعرے لگانے شروع کردیے اور ویل کی طرف بڑھے۔ اس طرح انکاؤنٹر کے ایشو نے راجیہ سبھا کی کارروائی کوکچھ دیر تک معطل رکھا۔
یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ مخصوص علاقوں میںہورہے انکاؤنٹرز پر سیاسی پارٹیوںکو جس طرح آوازاٹھانی چاہیے تھی، وہ نہیںاٹھائی جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جمہوری نظام میںکسی ریاست کے مخصوص علاقوںمیںسپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس کو اس طرح انکاؤنٹر کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ یہ پورا ایشو یقیناً جانچ طلب ہے۔ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ کرائم کے خلاف کریڈیٹ لینے کے نام پر ہورہی ان کارروائیوں کی جانچ کرائے تاکہ اگر قانون شکنی کرکے قانونی کارروائی ہورہی ہے تو اس پر لگام لگ سکے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *