اس بجٹ سے کسانوں کو زیادہ فائدہ نہیں

مرکز کا قومی بجٹ پارلیمنٹ میںپیش ہوگیا۔ ارون جیٹلی نے دو گھنٹے کا بھاشن دیا۔ گجرات الیکشن کے نتائج کے بعد عام لوگوں کو اندازہ تھا کہ سرکار کسانوں کے لیے کچھ نہ کچھ کرے گی۔ کسانوںکی حالت تو خراب ہے ہی، لیکن گجرا ت میںیہ ظاہرہو گیا کہ شہروں کے لوگ بھلے ہی بی جے پی کو ووٹ دیں لیکن گاؤں کے لوگ بہت ناخوش ہیں۔ جیسا اندازہ تھا، ویسا ہی بجٹ پیش کیا گیا۔بجٹ کے پہلے حصے میںاس بات پر چرچا کیا گیا کہ کسانوں کے لیے کیا کرنا ہے؟ کل ملا کر کہیںتو اس بجٹ سے کسانوںکوزیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ جو کسانوں کے مفاد کی بات ہے، اس کا بجٹ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، جیسے منیمم سپورٹ پرائس۔ یہ تو ہر سال کا معاملہ ہے۔
مودی جی 2014میںاقتدار میںآئے ہیں۔ مودی جی چار بار موقع کھوچکے ہیں۔ کانگریس ایم ایس پی70 یا 80 روپے بڑھاتی تھی ۔ یہ لوگ 10,15 یا 20 روپے بڑھاتے ہیں۔ کسانوں تک روپیہ پہنچتا نہیں ہے۔ سرکار نے چار سال میںچار موقعے تو گنوادیے۔ اب ایک سال میںیہ سب کیسے ہوگا؟ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ ایک سال میںآپ چار سال کی بھر پائی کرلیں، لیکن سرکار نے کافی اعلانات کیے ہیں۔ ایسی اسکیمیں اناؤنس کی ہیں جو ایک سال میںکارگر ہو ہی نہیں سکتی ہیں۔ لیکن جو کیا ہے، وہ ٹھیک کیا ہے ۔ زیادہ مین میخ نکالنے سے کچھ نہیں ہوگا۔
مدعا یہ ہے کہ اگر یہ بجٹ اگلے سال کے الیکشن کو دھیان میںرکھ کر بنایا گیا ہے تو اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن ٹھیک ہے، کم سے کم سرکار کی یہ سمجھ میںآگیا کہ آپ کسانوں کو نظر انداز نہیںکرسکتے ہیں۔ سبھی چیزیں کارپوریٹ سیکٹر، فارن انوسٹمنٹ اور فنانشیل انوسٹمنٹ پر مرکوز ہوں تو ہندوستان جیسے ملک کے لیے یہ منطقی او رمنصفانہ نہیںہے۔ اگلے کچھ دنوںمیںیہ تجزیہ بھی آ جائے گا کہ کیا کیا اعداد وشمار نافذ ہوسکتے ہیں اور کیا کیا نہیں ہوسکتے ہیں؟ لیکن ابھی بھی اہم سوال منیمم سپورٹ پرائس کا ہے۔ اگر سرکار کسانوںکو جلدی کوئی راحت پہنچانا چاہتی ہے تو اس پر سرکار کو دھیان دینا چاہیے۔ میںسرکار کی مجبوری سمجھتا ہوں کہ اگر ایم ایس پی بڑھا دیںگے تو بازار میں اناج مہنگا ہوجائے گا۔ دونوں ٹھیک کرنا بہت مشکل ہے۔ آپ شہری ووٹر کو خوش رکھنا چاہتے ہیں اور انھیں سستا اناج دلانا چاہتے ہیں۔ اتنا سستا کہ کسان کی لاگت سے بھی کم ہو تو یہ تو عملی نہیں ہے۔ آپ لوگوں کو بہتر کھانا دیں اور لاگت سے کم قیمت پر دیں، یہ تو ممکن ہی نہیںہے سرکار کو دھیان دینا چاہیے کہ اس کے لیے کیا کارگر قدم اٹھائے جائیں۔ سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ میںکہا گیا تھا کہ کوئی ایسا راستہ نکالا جائے تاکہ کسان کو اس کی لاگت سے پچاس فیصد زیادہ پیسہ ملے۔ یہ ابھی تک نہیںہوپایا ہے۔ ہر پارٹی کہتی ہے کہ ہم سوامی ناتھن رپورٹ نافذ کریں گے۔ مودی جی جب بولنے لگتے ہیں تو ’اتشیوکتی النکار‘کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ 2022 تک کسانوںکی آمدنی دوگنی کردیںگے ۔ یہ تو بالکل ناممکن ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

سرکار کو سوچنا چاہیے کہ جتنا ہوسکے، آپ اتنا ہی کسانوںکو یقین دہانی کرائیے۔ آپ اس پر کھرے اتریں گے تو کسان خوش رہیںگے۔ لیکن کسان کا دوسرا مسئلہ ہے۔ موسم خراب ہوجاتا ہے۔ موسم کا اندازہ پہلے ملتا ہے لیکن اس کا بھی علاج پہلے نہیںکرپاتے ہیں۔ پانی نہیں ہے، کینال نہیںہے۔
اس کے علاوہ کچھ دلچسپ اعلانات بھی ہوئے۔ سرکار نے چار سال پہلے کہا تھا کہ کارپوریٹ ٹیکس 30 فیصد سے 25 فیصد کردیںگے۔ ایک سال میںنہیں، دھیرے دھیرے کردیں گے، لیکن کچھ کر نہیںپائے کیونکہ اس کے لیے ریونیو کی ضرورت ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکس کم کرنا کوئی ترجیح کا کام نہیںہے۔ اروند سبرامنین اقتصادی مشیر ہیں۔ انھوں نے بھی کہا ہے کہ یو ایس میںجو ٹیکس کم کیا ہے ،ہم اس کو نظر انداز نہیںکرسکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم بھی ٹیکس کم کریںگے۔ اب 250 کروڑ روپے تک کے ٹرن اوور سے کم کی کارپوریٹ کمپنیوں کا ٹیکس ریٹ 25 فیصد ہوگا۔ مجھے پتہ نہیں، اس سے ریونیو کا کتنا نقصان ہوگا لیکن یہ کم سے کم 250 کروڑ سے بڑی کمپنیوں پر نافذ نہیںہوتا ہے۔اس کا اثر کیا ہوگا،یہ دیکھنے کی بات ہے۔ بجٹ کا لب لباب یہ ہے کہ یہ بجٹ عوام،ٹیکس دہندگان اور ملک کی پوری ترقی کے لیے کوئی عظیم بجٹ نہیںہے۔ یہ بجٹ پر میرا پہلا ردعمل ہے ، باقی اگلے پندرہ دن میںدیکھتے ہیںکہ کیا ہوتا ہے؟
آج کے حالات میںکوئی بھی وزیر خزانہ اس سے بہتر کچھ نہیںکرسکتا ہے۔ ایک طرف الیکشن کی مجبوری ہے۔ ووٹ بھی چاہیے اور اقتصادی پالیسی بھی دیکھنی ہے۔ مودی جی نے داووس میںایک تبصرہ کیا تھا۔ ہندوستانی صنعت کار، جو وہاںگئے تھے، انھوں نے بہت تعریف کی۔ مودی جی نے کہا کہ دیکھتے ہیں، بجٹ کے بعد بھی کیا آپ ایسا تبصرہ کرتے ہیں؟ اس سے ڈر پیدا ہوگیا تھا کہ بجٹ میںامیر لوگوں کے خلاف یا کارپوریٹ سیکٹر کے خلاف کچھ آنے والا ہے۔ حالانکہ کارپوریٹ دنیا کے لیے لانگ ٹرم کے علاوہ کچھ آیا نہیں ہے۔ کل ملاکر بجٹ میںکوئی انقلابی قدم نہیںہے۔
ایک نیا ڈیولپمنٹ ہوا ہے۔ ’راشٹریہ منچ‘ کا اعلان ہوا ہے۔ یشونت سنہا، جو بی جے پی کے سینئر رکن ہیں، انھوں نے کئی سال تک اٹل سرکار کے دوران بجٹ پیش کیا ہے ۔ وہ بہت ذمہ دار، سمجھدار شخص مانے جاتے ہیں۔ وہ ایک سال سے اس بات پر لوگوںکی توجہ مرکوز کررہے ہیں کہ جس ڈھنگ سے سرکار چل رہی ہے، یہ جمہوری طریقہ نہیںہے۔ دو تین لوگ سارے فیصلے لیتے ہیں۔ اس فیصلے پر نہ کوئی چرچا ہوتا ہے اور نہ ہی لوگوںکی رائے مانگی جاتی ہے۔ پچھلے دنوں انھوں نے بالکل صحیح کمنٹ کیا کہ زیادہ لوگ ، جو مودی سرکار کی پالیسیوں سے ناراض ہیں، وہ بی جے پی میںہی ہیں۔ وہ اتنے خوفزدہ ہیںکہ کچھ کر نہیںپاتے ہیں، کچھ بول نہیںپاتے ہیں۔ انھوںنے ’راشٹریہ منچ‘ شروع کیا ہے۔ بی جے پی کے لوک سبھا ممبر شتروگھن سنہا کو ان کی حمایت ملی ہے۔ باقی دوسری پارٹیوں کے سیاستداں، جن میںکئی اراکین پارلیمنٹ ہیں، وہ سبھی اکٹھے ہوگئے ہیں۔ اسے شہریوں کاگروپ سمجھئے ،جو کانسٹی ٹیوشن کلب میںاکٹھے ہوئے تھے۔ پہلے تو ہم سمجھتے تھے کہ پریس اور پورا الیکٹرانک میڈیا سرکار کی طرف ہے۔ ان کی کوئی حمایت نہیں ملے گی، ہوا بھی یہی۔ صرف رپورٹ ہوگئی۔سوشل میڈیا پر آگئی لیکن یہ بڑی بات ہے کہ کم سے کم شروعات تو ہوئی۔ کسی نے ہمت تو کی۔ وہ بی جے پی چھوڑ نہیںرہے ہیں۔ بی جے پی میںہی رہیںگے۔ وہ لوگوںکی توجہ مرکوز کررہے ہیں کہ اگر بی جے پی کو دوبارہ الیکشن جیتنا ہے ، اس سے بھی زیادہ اگر ملک کا کچھ بھلا کرنا ہے تو یہ صحیح طریقہ نہیںہے۔ نعرے بازی کرنا ٹھیک ہے۔ مودجی جی کے پرستار بہت زیادہ ہیں۔ اندرا جی نے جب ایمرجنسی لگائی تھی تب ملک کا شہری کیا سوچتا ہے، وہ ڈیڑھ سال بعد دکھائی دیا۔اب ایمرجنسی کی حمایت کانگریس پارٹی کے حامی طبقے کریں ، وہاںتک ٹھیک تھا لیکن کے کے بڑلا حمایت کرتے ہوئے ایک ریلی اندرا جی کی رہائش گاہ تک لے کر گئے۔ صنعتی دنیا سے یہ امید کرنا کہ وہ سرکار کے خلاف کچھ بولے،یہ بیکار ہے۔ داووس کا ہندوستان کی صورت حال سے کوئی لینا دینا نہیںہے۔ ا س کا زیادہ تعلق امریکہ، کناڈا اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک سے ہے۔ میںتین سال خود اٹینڈ کر چکا ہوں ۔ گلوبلائزیشن کے دور سے پہلے 1985,1986 اور 1987 میںمیں وہاںگیا تھا۔ٹھیک ہے، یہ ایک کارپوریٹ انٹروڈکشن ہے۔ دنیا کے کارپوریٹ لیڈر ملتے ہیں۔ سرکار کے لوگ بھی آتے ہیں، دو تین ممالک کے صدر یا وزیر اعظم بھی آتے ہیں۔ لیکن آپ یہ سوچیںکہ داووس میںہندوستان کے مفاد میںکوئی ٹھوس حصولیابی حاصل ہوسکتی ہے، تو یہ ممکن نہیں ہے۔ صنعتی دنیا بجٹ پر ایمانداری سے ردعمل دے گی،ا س کی امید بے معنی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا؟ پچھلی بارمیںنے کہا تھا کہ الیکشن میںصرف 16 مہینے رہ گئے ہیں۔ ایک چرچایہ بھی ہے کہ شاید الیکشن جلدی ہو جائے۔ ایک چرچا تو یہ ہے کہ ابھی کرلیں۔ کرناٹک میںبھی الیکشن ہونے ہیں۔ ایک ملک ایک الیکشن کی بات ہورہی ہے۔ لیکن آج بی جے پی خود یوپی اسمبلی بھنگ نہیںکرنا چاہے گی، جہاں اسے اتنی بھاری اکثریت ملی ہے۔ آپ ایک ملک ایک الیکشن کیسے کریں گے؟ اس کے لیے وسیع کانسٹی ٹیوشنل امنڈمنٹ کرنا پڑے گا۔ یہ کوئی غلط بات نہیںہے لیکن اس پر ڈبیٹ ہونی چاہیے۔ یہ منطقی بات نہیںہے۔
بی جے پی نے جی ایس ٹی کی سب جگہ مخالفت کی۔ گجرات میںبھی مخالف ہوئی،جہاں مودی سی ایم تھے۔ اب یہ سب جگہ آگے ہوگئے ہیں۔ آدھار کے بارے میں یہ لوگ کبھی کہتے تھے کہ ہم کبھی آدھار لاگو نہیںہونے دیںگے۔ اب کہتے ہیں کہ آدھار ہر شخص پر لاگو ہوگا۔ وہاںتک ٹھیک ہے کہ سبسڈی بچولیا نہ کھا جائے، سیدھے اس کے کھاتے میںجائے۔ لیکن جو امیر طبقہ ہے، اسے بھی آدھار لینا پڑے گا،ایسا کیوں؟ صرف اس پر نظر رکھنے کے لیے ۔ پہلے مخالفت کر رہے تھے۔ اب اس کے پیروکار ہو گئے ہیں۔ ملک میںاوور آل تھوڑی سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ کانگریس اور بی جے پی تو اپنی کرتی رہیں گی لیکن دانشوروںکا بھی ایک تیسرا منچ ہونا چاہیے۔ اس پر راشٹریہ منچ بھی غور کرسکتا ہے کہ ملک کے مفاد میںکیا ہے؟ الیکشن کون جیتے، کون ہارے،یہ تو ہر پانچ سال میںہوگا۔ ایک بات میںکہنا چاہوںگا کہ ٹیکنالوجی پر کم یقین کریں۔ اگر آپ چاہتے ہیںکہ ملک پوری طرح سانس لے سکے ،تو ای وی ایم مشین اور آدھار، یہ دوچیزیں ہٹادیجئے۔ بیلیٹ پیپر پر الیکشن کرائیے اور آدھار کو ہٹائیے۔ اسے ان لوگوں تک محدود کردیجئے، جنھیںسرکاری سبسڈی چاہیے۔ اگر سرکار سے کسی طرح کی سبسڈی چاہیے تو آدھار کارڈ کے بغیر نہیںملے گی۔ سپریم کورٹ میںیہ معاملہ ہے ہی، دیکھتے ہیں ، سپریم کورٹ کیا کہتا ہے؟اپوزیشن کو زور دینا چاہیے کہ 2019 کا عام الیکشن بیلیٹ پیپر ہو۔ اس کے بعد بھی اگر عوام مودی کو چنتے ہیں تو یہی جمہوریت ہے۔ عوام کا فیصلہ سر آنکھوںپر لیکن اپوزیشن کو سوچنا پڑے گا۔ سونیا گاندھی کی صدارت میںاپوزیشن کی میٹنگ ہونے والی ہے۔ اس میںاہم مدعے کیا کیا ہوںگے؟معلوم پڑجائے گا لیکن میرے حساب سے ای وی ایم سب سے اہم مدعا ہے ۔ دیکھتے ہیں، کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *