فیکٹ فائنڈنگ رپورٹس کاس گنج کا سچ سامنے آیا

کاس گنج کا فساد اپنی نوعیت کا انوکھا فساد ہے۔ملک میںاب تک جو بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ، ان کی بنیاد مذہبی نوعیت کی ہوتی تھی لیکن اس دفعہ کا فساد ترنگا کو لے کر ہوا ہے جو کہ انتہائی شرمناک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس فساد کو اب تک ہونے والے تمام فسادوں کی بہ نسبت الگ نقطہ نظر سے دیکھا جارہا ہے۔اس فرقہ وارانہ فساد کے تعلق سے جو اشارے مل رہے ہیں ،ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم فساد تھا۔جیسا کہ پولیس کی حالیہ ایک گرفتاری سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ پولیس نے رام سنگھ نامی ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جو ’’نکشتر کمپیوٹرس ‘نام کے وہاٹس ایپ گروپ کا ایڈمن ہے۔ اس گروپ کا ایک رکن اے گپتا بھی پولیس کے قبضے میں ہے جس نے قابل اعتراض پوسٹ گروپ میں شیئر کیا تھا ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ رام سنگھ وہاٹس ایپ گروپ کے ذریعہ تشدد بھڑکانے اور نفرت پھیلانے کا کام کرتاتھا ۔اس گروپ پر آگ زنی والے کئی ویڈیوز، متنازعہ اور تشدد آمیز کیپشن کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام ہے ۔کاس گنج پولیس کے مطابق 26جنوری تا 6 فروری 16 کیسز درج کئے گئے ہیں ۔ان کیسیز کی تحقیقات ایس آئی ٹی کررہی ہے ۔ اس کیس کے تحت 44 افراد کو گرفتار کیاگیاہے اور دیگر 19 کی شناخت کی گئی ہے۔اس کے علاوہ 49 ملزمین بشمول 17 افراد کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس اشتعال میں سنکلپ فائونڈیشن اور اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے کارکنوں کے ملوث ہونے کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ کاس گنج ایک ایسا شہر ہے جہاں بابری مسجد سانحہ کے بعد 1993 میں معمولی جھڑپ کے علاوہ ، آزادی سے لے کرحالیہ سانحہ تک کبھی کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ اس شہر کے 1.40 لاکھ لوگ بھائی چارگی کے ساتھ رہتے آرہے تھے اور ہر تہوار مل جل کر مناتے ہیں۔شاید یہی بھائی چارگی کچھ لوگوں کو راس نہیں آرہی تھی لہٰذا بھائی چارگی کو فرقہ وارانہ فساد کی نفرت میں دھکیل دیا گیا جس کے نتیجے میں ایک نوجوان چندن کی موت ہوگئی اور دو مسلم لڑکے شدید زخمی ہوئے ۔
منصوبہ بند سازش
اس گرفتاری کو جانبداریت پر مبنی کارروائی کہا جارہا ہے ۔کیونکہ جس فرقہ کا زیادہ مالی نقصان ہوا ہے،اسی فرقہ کے افرادکو بڑی تعداد میں گرفتار کیا گیاہے۔ابھی حال ہی میں یعنی دو فروری کو ’’ یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کے تحت ایک’’ جوائنٹ فیکٹ فائنڈنگ ‘‘ٹیم جس میں لکھنو اور دہلی سے اہم شخصیات شامل تھیں،فساد کی سچائی کا اندازہ لگانے کاس گنج گئی تو خلاصہ ہوا کہ یہ پورا کا پورا معاملہ منصوبہ بند تھا اور اس کو بھڑکانے میں باہری لوگوں کا ہاتھ تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کاس گنج فساد کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں تھا بلکہ یہ ایک منظمسازش تھی جس کی تصدیق کاس گنج فسا د سے جڑے واقعات و شواہد کرتے ہیں۔
دراصل کسی بھی فساد میںجانی و مالی نقصانات دونوں طرف سے ہوتے ہیں مگر اس فساد میں اکثریتی طبقہ کی ایک بھی دوکان کو نہیں لوٹا گیا ، ایک بھی مندر کو نقصان نہیں پہنچا جبکہ اس کے بر عکس اقلیتی طبقہ کی 27دوکانیں نذر آتش ہوئیں، دو مساجد کی بے حرمتی کی گئی اور مسجد کے اندر نہ صرف آگ لگائی گئی بلکہ وہاں جو کچھ ملا اسے لوٹ لیا گیا۔یہ نقصان چندن کی آخری رسومات ادا کرکے لوٹ رہی 5-6سو کی بھیڑ میںشریک لوگوں نے پہنچایا۔ان لوگوں نے اقلیتوں کی دکانوںاور کھوکھوںمیں توڑ پھوڑ اور آتشزنی کی مگر اس دوران اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ کسی غیر مسلم کی دکان کو کوئی نقصان نہ پہنچ پائے۔ جہاں پر آتشزنی سے غیرمسلموں کی دکانوں کے زد میں آنے کا خدشہ تھا،وہاں سے پرہیز کیا گیا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت بھی اس معاملے میں غیر جانبدارنہیںرہ سکی۔اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ فساد میں مارے جانے والے چندن کے اہل خانہ کو فوری طورپر 25لاکھ روپے کا معاوضہ دیا گیا جبکہ فرقہ پرستوں کے ذریعہ اقلیتی طبقہ کے کروڑوں روپے کی مالیت کی دکانوں اور مکانوں کو جلا کر خاک کردینے پر بھی حکومت کی جانب سے کوئی مدد نہیں دی گئی۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے مشہور صحافی اُرملیش مشرا نے کاس گنج سے لوٹنے کے بعد کہا کہ اترپردیش میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے تب سے مسلمان و دیگر اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ ٹیم نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ فساد کی ایک اہم وجہ پولیس کا غیرذمہ دارانہ رویہ بھی ہے۔ نیز مابعد فساد بھی جانچ پڑتال اور گرفتاری کے نام پر جو کارروائیاں کی گئی ہیں وہ یکطرہ اور اقلیتوں کے خلاف ہیں۔
فیکٹ فائنڈنگ کے تحت آل انڈیا پیپلز فورم کی ایک دوسری ٹیم بھی کاس گنج گئی اور وہاں کی صورت حال کا جائزہ پیش کیا ہے۔اس ٹیم نے اپنے جائزے میں کہا ہے کہ کاس گنج میں دونوں طبقوں کے جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اصل مجرم نہیں ہیں۔اصل مجرم اب بھی پکڑ سے دور ہیں۔ ٹیم کا کہناہے کہ یہ تصادم دراصل تصادم تھا ہی نہیں بلکہ یہ یکطرفہ مسلم طبقے پر حملہ تھا جو کہ سیاسی مقصد سے کیا گیاتھا۔ اس ٹیم میں شامل کویتا کرشنن کہتی ہیں کہ جن لوگوں کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا ہے ،ان کے رشتہ داروں کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ وہ لوگ باہر وزٹنگ بک کے سامنے لمبی قطار میں ملاقات کے لئے انتظار کرتے نظر آئے۔وہ مزید کہتی ہیں کہ ہم نے جیل میں بند بہت سے ہندو -مسلم قیدیوںسے ملاقات کی تو معلوم ہو اکہ وہ بے قصور ہیں۔اس لئے پورے معاملہ کی جوڈیشیل جانچ ہونی چاہئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اندھا دھند گرفتاری
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ چندن کے قتل کے تعلق سے جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کی تعداد صرف49ہے یعنی باقی جو لوگ گرفتار کئے گئے ہیں ان کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے،یہ بالکل غیر واضح ہے ۔رپورٹ میں مسلم نوجوانوںکی گرفتاریوںپر بھی سوالیہ نشان کھڑا کیا گیا ہے ۔چندن کی موت کے الزام میں سلیم کی گرفتاری کو مشکوک قرارد یا گیا ہے کیونکہ سلیم حادثہ کے وقت موقع واردات پر تھا ہی نہیں۔یہی نہیں سلیم کے بھائی وسیم اور نسیم کو بھی گرفتار کرلیا گیاہے۔جبکہ ابھی یہ بھی طے نہیں ہوپایا کہ چندن جس گولی کا شکار ہوا وہ گولی آئی کدھرے سے اور چلانے والا کون ہے۔رپورٹ میں ایک مقامی گواہ کے حوالے سے کہا گیاہے کہ چندن کوگولی ریلوے اسٹیشن روڈ پر لگی ہوگی اور عین ممکن ہے کہ یہ اس کے کسی دوست کے ذریعہ غلطی سے لگی ہو ۔یہ بھی شبہ ظاہر کیا گیاہے کہ نوشاد اور اکرام پولیس کی گولی سے زخمی ہوا ہے اور عین ممکن ہے کہ پولیس کی ہی گولی سے چندن بھی زخمی ہوا ہو اور اس کی موت ہوگئی۔
کاس گنج شہر میں فساد کی جو وجہ عمومی طور پر بتائی جا رہی ہے، حقیقت اس سے الگ ہی محسوس ہوتی ہے۔ کاس گنج کے مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ وہ ’ترنگا‘ کی مخالفت کیوں کریں گے، ترنگا تو ان کی شان ہے۔ دراصل ہندو تنظیموں کے نوجوان ’بھگوا پرچم‘ لہرا رہے تھے۔ مقامی باشندے اس سلسلے میں بتاتے ہیں کہ ’’مسلمانوں نے خود حولدار عبدالحمید چوک پر پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد کیا تھا، یہاں حب الوطنی سے سرشار ماحول تھا۔ اوپر ترنگا پرچم لہرا رہاتھا اور نیچے ایک خوبصورت رنگولی بنی ہوئی تھی جہاں حب الوطنی پر مبنی نغمے بج رہے تھے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’مسلمانوں کو اپنے ملک سے محبت ہے، وہ بھی ترنگا پرچم لہرا رہے تھے کہ اچانک ہندو تنظیموں کی ایک ٹیم آئی۔ اس میں تقریباً 50 موٹر سائیکلیں تھیں جس پر سوار لوگ بھگوا پرچملہرا رہے تھے ۔ یہ سیدھے مسلمانوں کی تقریب میں گھس گئے۔گاڑی پر سوار نوجوان اپنی بائیک سے رنگولی کو خراب کرنے اور بھگوا جھنڈے کو ہمارے ترنگے سے اونچا کرنے لگے جس پر وہاں موجود لوگوں کو اعتراض ہوا اور ایسا کرنے سے منع کیاگیا۔ اس واقعہ کی اطلاع مقامی کوتوال کو دی گئی۔ وہاں سے کہا گیا کہ وہ فوراً آ رہے ہیں، لیکن انھیں آنے میں تاخیر ہوئی۔ اس کے بعد یہاں ہندو تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لڑکے ہندوستان میں رہنا ہوگا، وندے ماترم کہنا ہوگا‘ نعرے لگانے لگے۔‘‘
ایک مقامی باشندہ مناظر نے اپنے موبائل میں ایک ویڈیو دکھاتے ہوئے کہا کہ ’’مسلمانوں نے ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگائے، ہمارے پاس ویڈیو ہے آپ دیکھ لیجیے۔ اس کے بعد یہ لوگ گھروں میں گھسنے لگے اور مسجد کی طرف بھی بڑھے جس کے بعد جھگڑا شروع ہو گیا۔‘‘ فیکٹ فائنڈنگ کی رپورٹ میں جو بات کہی گئی ہے ،وہ آنکھیں کھولنے والی ہیں ۔فیکٹ فائنڈنگ ٹیم میں اترپردیش پولیس کے ریٹائرڈ آئی جی ایس آر داراپوری، سنیئر ایڈووکیٹ اسعد حیات خاں، مشہور صحافی امیت سین گپتا، حقوق انسانی کارکن واثق ندیم و دیگر افراد شامل تھے۔ان کی تیار کردہ رپورٹ کوپریس کلب آف انڈیا میں پانچ فروری کو جاری کیا گیا۔اجرا کے اس موقع پر معرو ف صحافی ارملیش، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل انجینئر محمد سلیم، سماجی کارکن ندیم خاں، راکھی سہگل اور بنو جیوتسنا لاہری پیش پیش تھے ۔ان افراد نے رپورٹ کی تلخیص صحافیوں کے سامنے رکھی۔
بہر کیف اب پولیس نے جس طرح سے رام سنگھ کو گرفتار کرکے کارروائی کو آگے بڑھایا ہے، اس سے اندازہ ہورہا ہے کہ 124افراد کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس اب صحیح سمت تفتیش لے جارہی ہے۔پولیس نے رام سنگھ کے وہاٹس ایپ گروپ کے رکن اجے گپتا کو بھی گرفتار کیا ہے ۔مگر ایک بات جو قابل افسوس ہے ،وہ یہ کہ سرکاری سطح پر کام کرنے والی تنظیم نیشنل مائنارٹیز کمیشن جس کی ذمہ داری ملک میں اقلیتی طبقہ کی سیکورٹی اور مفاد کو دیکھنا ہے ،نے کاس گنج کے سانحہ کو پورے طورپر نظر انداز کردیا ہے۔ ابھی حال ہی میں نیشنل مائنارٹیز کمیشن کی حادثہ کے محض تین روز بعد ایک میٹنگ ہوئی ۔ اس میٹنگ میں کہیں پربھی کاس گنج کی بات نہیں کی گئی۔ میٹنگ میں مختلف ایشوز پر تبادلیہ خیال ہوا ۔کمیشن کے ذریعہ بودھ کانفرنس کے انعقاد کی تجویز ،ارکان کے دورہ کی رپورٹس اوربجٹ موضوع بحث بنے رہے مگر کاس گنج پر کوئی بات نہیں ہوئی ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس میٹنگ میں کاس گنج ایشو کو شامل نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کمیشن کے نائب صدر جارج کورین کہتے ہیں کہ یہ معاملہ اکثریتی فرقہ سے متعلق تھا ۔اس لئے اس کو ایشو میں شامل نہیں کیا گیا‘‘ جبکہ سچائی یہ ہے کہ اس فساد میں اقلیتی طبقے کا زبردست مالی نقصان ہوا ہے اور دو لڑکے بری طرح زخمی بھی ہوئے ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ اگر کمیشن اس خسارے کو خسارہ تسلیم نہیں کرتا ہے تو پھر نہ جانے وہ کس کو خسارہ سمجھے گا ۔ البتہ جو غیر سرکاری تنظیمیں ہیں انہوں نے بہت حد تک کاس گنج کے لئے آواز بلند کی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وہاں کا انتظامیہ تھوڑی حرکت میں آیا ہے اور اب مجرموں کو پکڑنے کی کارروائی تیز کردی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یونائٹیڈ اگینٹ ہیٹ رپورٹ کے اہم نکات
٭کاس گنج میں26 جنوری کو 1965 کی جنگ میں شہید ہونے والے ویر عبد الحمید کے نام سے موسوم چوک پر مسلم طبقہ کی طرف سے جشن جمہوریہ منایا جارہاتھا۔ اسی دوران اے بی وی پی اور سنکلپ فائونڈیشن کے کچھ کارکن موٹر سائیکل ریلی میں شریک وہاں پہنچ کر ہنگامہ کرنے لگے۔
٭بائیک ریلی کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔ ہنگامہ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ اپنی بائیک چھوڑ کر بھاگ گئے لیکن پولیس نے کسی بھی بائیک کے مالک سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی اور نہ ہی ان میں سے کسی کو بھی تا دم تحریر گرفتار کیا ۔
٭دو طبقوں میں فرقہ وارانہ تنازع کے باوجود ہندو اکثریتی علاقہ میں کوئی پولیس فورس تعینات نہیں کیگئی جبکہ اقلیتی طبقہ کے علاقے کو سیل کرکے نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی۔نتیجے میں مسلمان تو خوفزدہ ہیں اورلوٹ پاٹ مچانے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔
٭موقع حادثہ سے محض 8کلو میٹر کی دوری پر واقع پربھو پارک سے اے بی وی پی اور سنکلپ فائونڈیشن اپنی موٹر سائیکل ریلی نکال رہے تھے ۔پولیس نے اس ریلی کو نکالنے میں کسی طر ح کی کوئی رکاوٹ نہیں کی۔
٭حادثہ کے ایک دن بعد جب لوگ چندن کی آخری رسوم ادا کرکے بلرام مارکیٹ کی طرف سے لوٹ رہے تھے تو انہوں نے لوٹ مار کی شروعات کردی ،جبکہ وہاں پر موجود پولیس فورس نے انہیں ایسا کرنے سے نہیں روکا۔
٭ویڈیو دیکھنے سے اندازہ ہوتاہے کہ اے بی وی پی اور سنکلپ فائونڈیشن میں شریک ہونے والے کارکن زیادہ تر تین علاقے کے تھے:صحاب والا، شوالے دہلی گلی اور چترا گیت کالونی مگر پولیس نے اس علاقہ میں جاکر کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی جس کے سبب وہ لوٹ مار میں ملوث رہے۔
٭28 جنوری کو ضلع کلکٹر نے ایک میٹنگ میں یقین دہائی کرائی ، پھرمسلمانوں نے اپنی دکانیں کھولیں لیکن دکان کھولنے کے دن ہی کچھ کو پولیس نے اٹھا لیا۔اس جانبداریت نے مسلمانوں کے دل و دماغ کو خوفزادہ کردیا۔
29-30 جنوری کو دکانداورں نے کاس گنج پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی مگر پولیس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اگر ایف آئی آر درج ہوئی تو آپ سب کو گرفتار کرنا پڑے گا۔
٭نشان زد مسلمانوں کے مکانات اور مساجد کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ متاثر عمارتوں کا معائنہ کرنے نہ تو کوئی پولیس آفیسر وہاں تک گیا اور نہ ہی کوئی ثبوت اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی۔
٭ایک ایف آئی آر کا اہم ملزم سلیم کو گرفتار کیا گیا۔ اس وقت وہ گھر میں تنہا تھا ۔گرفتاری کے بعد پولیس گھر کو کھلا چھوڑ کر چلی گئی۔کھلا گھر پاکر لوگ اس کے گھر میں گھس گئے اور جم کر لوٹ پاٹ کی۔بعد میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے ایس ایچ او کی اجازت سے اس گھر میں تالا لگایا۔
٭لوٹ پاٹ کرنے والوں کے تمام ثبوت سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتا تو شاید ان لوٹ مچانے والوں کا کوئی سراغ بھی نہ ملتا کیونکہ مارے خوف کے کوئی ان کے خلاف گواہی دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *