کشمیر ٹیرر فنڈنگ کیس کے بڑھنے کا مطلب؟

18جنوری کو قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے ) نے7 ماہ کی تحقیق کے بعد ’’ٹیرر فنڈنگ‘‘ کیس میں 12افراد کے خلاف چارج شیٹ دہلی کے پٹیالہ ہائوس کورٹ میں پیش کی ہے۔ 12ہزار 794 صفات پر مشتمل اس چارج شیٹ میں این آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر میںجاری دہشت گردی اور سنگ بازی کیلئے فنڈنگ کی جاتی رہی ہے ۔ این آئی اے نے اس معاملے میں ایک کیس رجسٹر کرکے چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔7ماہ کے دوران جموں وکشمیر اور دہلی وغیر ہ میں 60چھاپے مارے گئے ، 950دستاویزات اور 1600الیکٹرانک ڈیوائسز یعنی موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ ضبط کئے گئے ۔ اس کے علاوہ 300گواہوں کے بیانات قلم بند کئے گئے۔
کیس کا آغاز
30مئی 2017کو اس معاملے میں کیس درج کرنے کے بعد این آئی اے نے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ سات حریت لیڈروں سمیت کل 10افراد کو گرفتارکیا گیا تھا اور درجنوں افراد، جن میں سید گیلانی کے دو فرزندان نعیم گیلانی اور نسیم گیلانی کو پوچھ تاچھ کے لئے دہلی طلب کیا گیا تھا۔این آئی اے نے اس کیس میں سب سے پہلے سینئر حریت لیڈر نعیم احمد خان کو گرفتار کرلیا تھا، جنہوں نے مبینہ طور پر دہلی کے ایک ٹی وی چینل کے اسٹنگ آپریشن میں انکشاف کیا تھا کہ کشمیر میں حالات خراب کرنے کے لئے فنڈنگ ہورہی ہے۔ اس سٹنگ آپریشن کی ویڈیو ریکارڈنگ میں نعیم خان کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا تھا، کہ وہ وادی میںحالات مزید خراب کرانے کے لئے پیسے لینے کے لئے تیار ہیں۔ این آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ان گرفتار شدگان میں شامل ایک شخص اس کیس میں سلطانی گواہ بن کر قانون کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔ این آئی اے نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کیس کی تحقیق کے دوران ایک حریت لیڈر نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنا اعترافی بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ کشمیر میں حالات خراب کروانے کے لئے فنڈنگ کی جاتی رہی ہے۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کے کئی سیکرٹری سطح کے افسران فنڈنگ کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ این آئی اے نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ دبئی سے پیسہ ہندوستان لایا گیا ہے۔
این آئی اے کا کہنا ہے کہ 8جولائی 2016کو جنوبی کشمیر کے ایک گائوں میں فورسز کے ہاتھوں حزب کے ایک معروف ملی ٹینٹ کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد چھ ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے ایجی ٹیشن کے دوران بھی پتھرائو کرانے کے لئے پیسے خرچ کئے جاتے رہے ہیں۔ تاہم اس ایجی ٹیشن کو چلانے اور ہڑتالوں وغیرہ کے کلینڈر جاری کرنے والے تین بڑے لیڈروں یعنی سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اورمحمد یٰسین ملک کا نام چارج شیٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی این آئی اے نے ان تینوں سے کسی طرح کی کوئی پوچھ تاچھ کی۔ این آ ئی اے نے اپنی چارج شیٹ میں جن 12افراد کو ملزم بنایا ہے ، اُن میںپاکستان میں مقیم دہشت گرد حافظ سید اور سید صلاح الدین کے علاوہ حریت کے سات لیڈر شامل ہیں ۔ ان حریت لیڈروں سید علی گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ، گیلانی کی قیادت والی حریت سے وابستہ ایاز اکبر،پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال اور میر واعظ کی قیادت والی حریت کے ترجمان شاہد الاسلام کے علاوہ نیشنل فرنٹ کے لیڈر نعیم احمد خان اور لبریشن فرنٹ (آر) کے لیڈر فاروق احمد شامل ہیں۔ اسکے علاوہ این آئی اے نے اپنی چارج شیٹ میں کشمیر کے ایک سرکردہ تاجر اور سرمایہ دار ظہور احمد وٹالی ، ایک فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف اور جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک نواجوان جاوید احمد بٹ کو شامل کرلیا ہے۔ چارج شیٹ پیشِ عدالت کئے جانے کے فوراً بعد حریت لیڈروں کا جو ردعمل سامنے آیا ہے ، اس میں این آئی اے کے الزامات کو ’’جھوٹ کا پلندہ ‘‘ قرار دیتے ہوئے پوچھا گیا کہ اگر 2016ایجی ٹیشن میں پتھرائو کے لئے فنڈنگ کی جاتی رہی ہے تو پھر این آئی اے نے اس ایجی ٹیشن کو چلانے والے لیڈروں یعنی گیلانی ، میر واعظ اور یٰسین ملک کو گرفتار کیوں نہیں کیا ۔حریت نے اس سے پہلے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ نئی دہلی انہیں دبائو میں لانے کے لئے این آئی اے کا استعمال کررہی ہے۔حریت لیڈروں کا کہنا تھا کہ این آئی اے چاہتی ہے کہ حریت لیڈران مرکزی سرکار کے مذاکرات کار دنیشور شرما کے ساتھ بات چیت کریں ۔

 

 

 

 

 

 

 

مختلف رد عمل
ٍ میر واعظ نے اس ضمن میں ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا حکومت ہند طاقت اور دھونس دبائو کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک کو دبانے کی کوشش کررہی ہے اور این آئی اے کی کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ میر واعظ کا کہنا ہے کہ این آئی اے کے ذریعے نئی دہلی پوری دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ یہاںپیسے کے ذریعے حالات خراب کئے جاتے رہے ہیں اور اب سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حربوں سے تحریکیں نہیں دبتی ہیں اور نہ ہی کشمیر کی تحریک کو ایسے حربوں سے دبایا جاسکتا ہے ۔یہ ایک تحریک ہے کوئی افرا تفری نہیں ۔ تیس سال سے نئی دہلی گرفتاریوں ، ہلاکتوں اور لاکھوں فوج کے بل پر کشمیر کی تحریک کو دبانے کی ایک ناکام کوشش کرتی رہی ہے اور اسے آیندہ بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ میر واعظ کا ماننا ہے کہ جموں کشمیر میں دائمی امن کے قیام کے لئے مسئلہ کشمیر کا حتمی حل نکالنا ناگزیر ہے۔
نیشنل کانفرنس نے حال ہی میں حکومت ہند کو این آئی اے کو کشمیر پر اپنی پکڑ مضبوط کرنے کے لئے استعمال کرنے کا الزام لگا ہے، نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے اس ضمن میں ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی نے شروع سے ہی کشمیریوں کی تحریک کو اسی طرح کے حربوں سے دبانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنے والد مرحوم شیخ محمد عبداللہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’غداری کیس میں اُس وقت گرفتار کیا گیا ، جب 1953میں جموں وکشمیر کے وزیر اعظم تھے۔ شیخ صاحب کی حکومت غیر آئینی طور گراکر انہیں ایک ایسے کیس میں گرفتار کیا گیا ، جو بعد میں کبھی ثا بت نہیں ہوا۔ دہلی کے یہ حربے ہمیشہ جاری رہے ۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ نئی دہلی کشمیر میں کبھی بھی عوامی جذبات کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ شیخ عبداللہ کو غداری کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد برسوں تک جیل میں رکھنے کے بعد جب رہا کیا گیا ، تو ان کی عوامی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں ہوئی تھی۔
بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ این آئی اے کے الزامات کے باوجود کشمیر میں حریت لیڈروں کی عوامی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔ صحافی اور تجزیہ کار سبط محمد حسن کا کہنا ہے کہ’’ میرا ماننا ہے کہ این آئی اے کی جانب سے حریت لیڈروں پر سنگین الزامات اور نئی دہلی کی بعض ٹی وی چینلوں کی جانب سے کئے جانے والے میڈیا ٹرائل کے باوجود حریت لیڈروں کی عوامی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ، جس کا سب سے بڑا ثبوت 26جنوری یعنی بھارت کے یوم جموریہ پر وادی میں ہوئی ہمہ گیر ہڑتال ہے۔ یہ ہڑتال عوام نے حریت لیڈروں کے کہنے پر ہی کی ہے۔
تجزیہ کار پرویز مجید نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد عوامی ایجی ٹیشن کو پیسے کے بل پر چلایا گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر این آئی اے کو خود بھی یہ یقین ہوتا کہ سال 2016کا عوامی ایجی ٹیشن پیسے کے بل پر چلایا گیا ہے ، تو وہ سب سے پہلے گیلانی ، میر واعظ اور محمد یٰسین ملک کو گرفتار کرتی کیونکہ یہی وہ تین لیڈر تھے ، جن کے کہنے پر یہاں ہڑتالیں بھی ہوئیں اور احتجاجات بھی ہوئے۔ یہی تین لیڈر احتجاجی کلینڈر جاری کرتے تھے اور ان ہی کی اپیلوں پر لوگ عمل کرتے ہوئے 2016ء میں احتجاج کرتے رہے۔لیکن این آئی اے نے ان تین لیڈروں کو نہ ہی گرفتار کیا، نہ ہی ان سے کوئی پوچھ تاچھ کی اور نہ ہی ان کا نام چارج شیٹ میں درج کیا۔ ‘‘پرویز کا کہنا ہے کہ این آئی اے نے کیس کی تحقیق کے دوران تاجروں اور دیگر لوگوں کو پوچھ تاچھ اور بیانات قلمبند کرانے کے لئے نئی دلی اور ناگپور طلب کرکے خود یہ تاثر قائم کرلیا کہ وہ متعلقہ لوگوں کو دبانے کی کوشش کررہی ہے کیونکہ این آئی اے کا آفس یہاں ہے۔ ان کے افسران یہاں موجود تھے لیکن اس کے باوجود کسی کا بیان یہاں ریکارڈ کرانے کے بجائے انہیں دہلی بلانے کا اور کیا مقصد ہوسکتا تھا۔‘‘ این آئی اے کے الزامات کی تنقید کرنے والے بعض ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پیسے کے بل پر اس طرح کے عوامی ایجی ٹیشن چلائے جاسکتے ہیں ، جو سال 2016میں کشمیر میں دیکھنے کو ملے تو پھر پیسے کے بل پر ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں ایسی تحریکیں کیوں نہیں چلائی جاتی ہیں؟
این آئی اے نے اپنی چارج شیٹ میں کنٹرول لائن کے آر پار جاری تجارت کو ٹرر فنڈنگ کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ این آئی اے نے کئی ماہ پہلے ہی وزارت داخلہ کو ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے مرکزسے یہ تجارت بند کرانے کی سفارش کی ہے۔کنٹرول لائن کے آر پار کی تجارت سال 2008سے جاری ہے۔گزشتہ سال کنٹرول لائن کے آر پا ر4850کروڑ روپے کی تجارت ہوئی ہے۔سرکردہ تاجر لیڈر اور جموں کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچررس فیڈریشن کے صدر محمد یٰسین خان نے اس ضمن میں ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ،’’ ہم نے شروع سے ہی کہا ہے کہ ’’آر پار تجارت کو ایک موثر طریقے سے چلانے کے لئے ایک بہتر اور مضبوط سسٹم قائم کیا جائے ۔ اس تجارت سے منسلک قوانین و ضوابط کو بہتر بنایا جائے ، تاکہ اس تجارت پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقعہ نہ ملے ۔اگر واگہہ بارڈر سے ہورہی ہندو پاک کے درمیان تجارت اس طرح کے الزامات کی زد میں نہیں آتی تو جموں وکشمیر میں ایسا کیوں ہورہا ہے۔ اگر آپ کو اس ٹریڈ میں کوئی خامی نظر آرہی ہے تو سسٹم کر بہتر کریں۔ تجارت بند کرنا کوئی حل نہیں ہے۔‘‘

 

 

 

 

 

 

 

 

وقت لگے گا
بہر حال این آئی اے کی جانب سے عدالت میں پیش کیا گیا چارج شیٹ چونکہ ساڑھے بارہ ہزار صفات پر مشتمل ہے اسلئے اسکی ساری اہم باتیں اورتفصیلات سامنے آنے میںا بھی وقت لگے گا ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ این آئی اے کو اس کیس میں ملزمان پر لگائے گئے سارے الزامات کو عدالت میں ٹھوس شواہد کے ساتھ ثابت کرنا ہوگا۔ الزامات ثابت ہوجانے تک اور عدالت کا فیصلہ آنے تک اس معاملے میں کوئی بھی بات وثوق کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی ہے ۔ فی الوقت این آئی اے نے عدالت میں جارچ شیٹ پیش تو کیا ہے لیکن کیس کو بند نہیں کیا بلکہ اس نے عدالت سے کیس کی مزید تحقیق جاری رکھنے کی اجازت طلب کی ہے۔ غالب امکان ہے کہ عدالت این آئی اے کو کیس کی تحقیق جاری رکھنے کی اجازت دے گی اور اگر ایسا ہوا تو آنے والے مہینوں یا برسوں میں کشمیر میں این آئی اے کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ لیکن اس سے یہ اندازہ لگتا ہے کہ مودی سرکار کشمیر میں حریت کے ساتھ کسی قسم کی ممکنہ بات چیت کا امکان ختم کرنا چاہتی ہے۔ ایک طرف کشمیر میں سرگرملی ٹینٹوں کے خلاف فوج کا آپریشن آل آئوٹ جاری ہے اور دوسری جانب حریت قیادت کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ۔ مودی سرکار دراصل ہر محاذ پر ڈٹ کر لڑتے ہوئے کشمیر میں جاری تحریک کو پسپا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے حال ہی میں کہا کہ جب سے کشمیر میں این آئی اے سرگرم ہوئی ہے، پتھرائو کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی اور این آئی اے کی کارروائی سے دہشت گردی کے حوالے سے بھی حالات بہتر ہورہے ہیں۔ فوجی سربراہ جنرل بپن رائوت نے بھی کہا ہے کہ کشمیر میں فوج کو کامیابی حاصل ہورہی ہے اور عنقریب یہاں امن قائم ہوجائے گا۔ صاف ظاہر ہے کہ مودی سرکار کشمیر میں سخت گیر پالیسی کو اختیار کرتے ہوئے یہاں جاری تحریک کو کچلنے کی کوشش کررہی ہے۔ فوج، پیر املٹری فورسز، پولیس ، سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاںاور اب این آئی اے بیک وقت کشمیر میں متحرک ہیں۔ اگر یہ سارے حربے کار گر ہوئے اور کشمیر میں حالات نارمل ہوگئے تو یہ یقینا مودی سرکار کا یک بڑا کارنامہ ہوگا۔ اس کا فوری فائدہ انہیں اگلے انتخابات میں بھی ہوگا۔ کیونکہ مودی سرکار گزشتہ تیس سال میں ملک کی پہلی سرکار ہوگی ، جو یہ کہنے کی پوزیشن میں ہوگی کہ اس نے کشمیر میں اپنی نئی طرح کی پالیسیوں سے امن قائم کرکے دیا اور حالات ٹھیک کردیئے۔
لیکن اگر یہ سب بھی ماضی کے حربوں کی طرح ناکام ثابت ہوجائے تو ممکن ہے کہ مستقبل میں مودی کو کشمیر سے متعلق واجپائی کا طریقہ کار یعنی مصالحت اور مذاکرات کا طریقہ ہی اپنانا ہوگا کیونکہ کشمیر میں گزشتہ تیس سال سے جاری جنگ کا خمیازہ کشمیر کو تو بھگتنا ہی پڑ رہا ہے لیکن اسکے تھپیڑوں کا شکار باقی ملک بھی ہورہا ہے۔ کشمیر کے کانفلکٹ کی وجہ سے بھارت کے بجٹ کا بڑا حصہ مسلسل ڈرین ہورہا ہے۔ ہندوستان اس کانفلکٹ کو منیج کرنے کے لئے اور اس کے خلاف عسکری محاذ پر لڑنے کے لئے سالانہ ہزاروں کروڑ روپے خرچ کررہا ہے۔لیکن اسکے باوجود یہاں کے حالات میں کوئی بدلائو دیکھنے کو نہیں ملا۔شاید یہی وجہ ہے کہ ملک کے سنجیدہ فکر شخصیات کشمیرکے مسئلے کو مصالحت اور مذاکرات کے ذریعے سلجھانے کی تلقین کررہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *