معہد الفکر الاسلامی دیوبند میں تقسیم اسناد اجلاس منعقد

mahadul-fikr-al-islami
معہد الفکر الاسلامی دیوبند(انسٹیٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ )کے پہلے جلسہ تقسیم اسنادکا انعقاد عمل میں آیا۔جس کی صدارت کی ماہنامہ ترجمان دیوبند کے مدیر اعلیٰ و ممتاز قلمکار مولانا ندیم الواجدی نے کی۔ پروگرام آغاز انسٹیٹیوٹ کے صدر ڈاکٹر عاطف سہیل صدیقی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا جس میں انہوں نے موجودہ دور میں اسلامی معیشت اور بینکنگ کی افادیت اور عالمی پیمانے پر بڑھتے اس کاروبار کے ساتھ ساتھ اسمیں فکری اور علمی طور پر افراد سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر عاطف سہیل صدیقی نے کہا کہ معہد کے ذریعے شروع کیے گئے اس کورس کا مقصد مسلمانوں میں اسلامی معیشت کے متعلق بیداری پیدا کرنا ہے۔ انسٹٹیوٹ کے نائب صدر مفتی انوار خان قاسمی نے معہد کی خدمات سے حاضرین کو متعارف کراتے ہوئے کہا کہ سرزمین دیوبند سے ہی علماء دیوبند کی فکر سے عالمی برادری کو متعارف کرانے کے لیے معھد کا قیام عمل میں آیا۔مہمان خصوصی ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اپنے کلیدی خطاب میں اسلامی فکر اور موجودہ دور میں اس کی ہم آہنگی پر رشنی ڈالی اور طلبہ کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن کی آفاقی تعلیمات میں موجودہ دور کے جدید فکری اور الحادی چیلنجز کے جواب کو تلاش کریں اور اپنی فکر میں وسعت پیدا کریں۔ مفتی یاسر ندیم نے معھد کے ذریعے شروع کیے گئے اسلامی بینکنگ کورس کو سودی معیشت کے متبادل کے طور پر پیش کرنے والا قدم بتایا اور طلبہ کو عالمی پیمانے پر سودی کاروبار کے مقابلے اسلامی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ورک فورس تیار کرنے کی دعوت دی۔
مہمان ذی وقار ماہر اقتصادیات کامران رضوی نے اپنے خطاب میں ہندوستان میں اسلامی معیشت اور بینکاری کے مستقبل میں قیام کے سلسلے میں گفتگو کی اور کہا کہ ہندوستان میں سودی معیشت چرمرا رہی ہے اور اسکا متبادل صرف اسلامی معیشت ہی ہے لیکن عوام تو عوام خواص بھی اس سے متعارف نہیں ہیں لہذا ہندوستان میں اس کے فروغ میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اپنے صدارتی خطبہ میں مولانا ندیم الواجدی نے ذمہ داران معھد اور طلبہ کو اس کورس کی کامیابی کے لیے مبارکباد دینے کے ساتھ اسلامی بینکنگ کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اسلامی بینکنگ کی بنیاد امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے دور میں ہی شروع ہو چکی تھی جسے ہم بدقسمتی سے قائم نہ رکھ سکے۔ انہوں نے کہاکہ آج ہماری نوجوان نسل میدان عمل میں کوئی نمایاں کام انجام نہیں دے پارہی ہے اس صورت میں اسلامک بینکنگ اور معیشت کا میدان ان کے لئے ایک بڑا موقع لیکر سامنے آیا ہے ،آج ہماری پوری معیشت جو سود کے ساتھ ضم ہوگئی ہے اس کو پاک کرنے کا ایک بڑا موقع ہے اگر اس میں ہمارے لوگ کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑا انقلاب ہوگا۔ بعد ازاں کامیاب طلبہ کو اسناد تقسیم کی گئیں ،اول پوزیشن محمد فہد جبکہ دوم پوزیشن محمد منت اللہ اور تیسری پوزیشن دیوبند کے جاوید عالم نے حاصل کی۔اس موقع پر طلباء اور شہر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *