مشاورت اور مسلم پرسنل لاء بورڈ اندرونی و بیرونی یلغار کا انجام کیا ہوگا؟

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان دنوں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ دونوں مصیبت میںہیں اور دونوں کو اندرونی و بیرونی چیلنجوںکا سامنا ہے۔ اول الذکر جو کہ چند برسوں پہلے دو منقسم دھڑوں کے ملنے سے ایک ہوا تھا، ایک بار پھر اندرونی چپقلش کے دور سے گزر رہا ہے اور یہ چپقلش دہلی کی ایک عدالت تک پہنچ چکی ہے، جس کے پیش نظر مستقبل میںاس کی مزید تقسیم و انتشار کے اندیشے کو قطعی مسترد نہیںکیا جاسکتا ہے۔ چونکنے کی بات یہ ہے کہ نئی دہلی میں اس کے مرکزی دفتر کی عمارت کی ملکیت پر بھی سوال کھڑے کیے جارہے ہیں۔ نیز اس کی فی الوقت ضرور ت اور معنویت بھی موضوع بحث بن رہی ہے۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ اس کے وجود پر سوال خود ایک رکن نے عوامی طور پر اٹھائے ہیں۔ اسی طرح آخر الذکر کی نمائندہ حیثیت کو ملت کی دو اہم شخصیات نے چیلنج کردیا ہے۔
عیاںرہے کہ مسلم تنظیموں کے یہ دونوں وفاق ملت اسلامیہ ہند کی نمائندہ باڈیز کہلاتے ہیں۔ گرچہ یہ دونوںوفاق الگ الگ مقصد کے تحت وجود میںلائے گئے تھے مگر یہ حقیقت ہے کہ متعدد تنظیموں و شخصیات کی ان میںشمولیت کے باوجود انھیںاپنے اپنے شعبہ میںملت کا مکمل اور واحد نمائندہ تسلیم نہیںکیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ ان دونوں وفاقوں نے ملت کو قابل ذکر حد تک متحد رکھنے میںاہم کردارادا کیا ہے۔
اب آئیے ، سب سے پہلے بات کرتے ہیں مشاورت کی۔ یہ وفاق آزادی اور تقسیم وطن کے 17 برس بعد ملک میںان دنوںمتواتر ہورہے فرقہ وارانہ فسادات سے مسلمانوں میںپیدا ہوئی حوصلہ شکنی اورعدم اعتماد کو دور کرکے ہمت اور اعتماد قائم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کے قیام میں سابق مرکزی وزیر اور مجاہد آزادی ڈاکٹر سید محمود،ممتاز صحافی محمد مسلم اور محمد یوسف صدیقی کا خصوصی طور پر کردار تھا۔ ڈاکٹر محمود نے اولین صدر کے طور پر اسے سرپرستی دی۔اس کے دستور کا ڈرافٹ ڈپٹی لاء منسٹر محمد یونس سلیم اور سابق مدیر اعزازی انگریزی ہفتہ وار ’ریڈیئنس‘ سید امین الحسن رضوی نے تیار کیا تھاجوکہ ان دنوں ڈاکٹر محمود کے پرسنل سکریٹری تھے۔ شروع میں اس وفاق میں جمعیت العلماء ہند کو چھوڑ کر تمام تنظیمیںاور مکاتیب فکر شامل تھے کیونہ جمعیت نے اس کے قیام سے قبل تمام پیش رفت میںسرگرمی دکھائی تھی مگر لکھنؤ میںاس کی تاسیس سے ایک روز قبل دہلی میں پریس کانفرنس کرکے اس کوشش سے اعلان برأت کردیا تھا۔ ان دنوں اس کے صدر مولانا سید اسعد مدنی تھے۔

 

 

 

 

 

 

 

تقریباً 25 برس تک مشاورت فعال رہی مگر اس کے بعد اپنے بیشتر ابتدائی رہنماؤں کی وفات کے بعد یہ عدم فعالیت کا شکار ہوگئی۔ تب قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور ڈاکٹر محمد منظور عالم کی پیش رفت پر ایک دوسرے وفاق کی کوشش ہوئی، جس کے نتیجے میںآل انڈیا ملی کونسل 1992 میں وجود میں آئی مگر یہ اس میں اور مشاورت میںبیشتر کامن افراد کے ہونے ودیگر فیکٹرز کے سبب وفاق کا کردار پورے طور پر ادا نہیں کرپائی اور فی الوقت ایک تنظیم کے طور پر متحرک ہے۔ دریں اثناء مشاورت سید شہاب الدین کے تحت پھر سے فعال ہوئی مگر جلد ہی 2000 میں اس میں تقسیم ہوگئی اور اس کے ایک دھڑے کے صدر سید شہاب الدین اور دوسرے کے صدر مولانا محمد سالم قاسمی رہے۔ پھر 27 اکتوبر 2013 کو دونوں دھڑوں کا انضمام ہوگیا۔ یہ انضمام ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کے دور میں ہوا۔ انضمام کے فوراً بعد 2014 میںاس کی گولڈن جبلی منائی گئی۔ 2016 میں نوید حامد بعض بااثر حلقے اور شخصیا ت کی ناپسندیدگی کے باوجود صدر منتخب ہوگئے۔ اس جمہوری فیصلے کو بیشتر ارکان جن میںانھیں پسند نہیںکرنے والے بھی شامل تھے، نے تسلیم کرلیا۔ البتہ سابق صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں و دیگر چند افراد اسے دل سے قبول نہیںکرسکے۔ لہٰذا بعض نکا ت پر ان کا نو منتخب صدر سے اختلاف ہوتا رہا۔ بہر حال نوید حامد نے اپنا دو سالہ دور (2016-18)پورا کیا۔ انھوںنے اپنے پیش رؤںکی طرح مشاورت کی افرادی قوت کو بڑھایا۔ عیاںرہے کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے 90 سے زائد نئے ارکان بنائے تھے جن میںآخری مجلس عاملہ کے بعد بنائے گئے گیارہ ارکان شامل تھے جبکہ نوید حامد کے 72 نئے ارکان میںان کے دور کی آخری مجلس عاملہ کے بعد کے 14 ارکان شامل ہیں۔
2017 کے اواخر میںصدارتی انتخاب میںسابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب کے ذریعہ اپنی نامزدگی واپس لے لینے کے بعد نوید حامد میدان میں تنہا رہ گئے اور بلا مقابلہ جیتنے کی پوزیشن میںآگئے۔ اسی بیچ مشاورت کے رکن انیس درانی نے دیگر افراد کے ساتھ دہلی کے ساکیت ڈسٹرکٹ کورٹ میںنوید حامد کے دور میں بنائے گئے مشاورت کے نئے ارکان کی رکنیت کو چیلنج کردیا اور مشاورت کی مجلس عاملہ کے چل رہے انتخاب کے عمل کو روکنے کی درخواست کی۔ عدالت نے انتخاب کے عمل کو تو نہیں روکا مگر اس کے نتائج کو 15 جنوری تک روکنے کو کہا۔ پھر 15 جنوری کو نوید حامد کے لمبے جواب کے جواب کے لیے انیس درانی کو یکم مارچ تک کا موقع دیا گیا۔ اب یکم مارچ تک مشاورت کے انتخاب کے نتائج رکے رہیںگے۔ عجب بات تو یہ ہے کہ انیس درانی جن کا نام مجلس عاملہ کے رکن کے انتخاب کے لیے نامزد کیا گیا تھا، نے ایک طرف اپنی رضامندی تحریری طور پر دے دی، وہیں دوسری طرف عدالت سے اسی انتخاب کو رکوانے کے لیے رجوع بھی کیا۔ بہرحال اب تو عدالت اس پورے معاملے کو دیکھ رہی ہے اور اس تعلق سے اس کے فیصلے کا سب کو انتظار ہے۔
ویسے یہ کہا جارہا ہے کہ یہ اندرونی چپقلش خطرناک صورت حال اختیار کرسکتی ہے اور چاہے ساکیت عدالت کا فیصلہ جس کے حق یا خلاف آئے، مشاورت توڑ پھوڑ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ناقابل فہم بات تو یہ ہے کہ اسی دوران لوک جن شکتی پارٹی جو کہ مرکز میں این ڈی اے اسے اتحاد کرتے ہوئے حکومت میںشامل ہے، کے لیڈر عبدالخالق جو کہ خود مشاورت کے رکن ہیں، نے ایک ویب سائٹ کو خصوصی انٹرویومیں مشاورت کو تحلیل کردینے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق، 54 برس کے بعد بدلے ہوئے حالات میںمشاورت کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جس غرض سے یہ بنائی گئی تھی، وہ غرض جماعت اسلامی ہندو دیگر تنظیموں کے کام سے پوری ہورہی ہے۔ دریںاثناء مشاورت کے مرکزی دفتر کی عمارت (ڈی 250-، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی) کی ملکیت کو لے کر بھی تنازعہ کھڑا ہوچکا ہے۔
اس میںکوئی شبہ نہیںہے کہ مشاورت گزشتہ دو برسوںمیںکافی فعال رہی ہے۔ ملت کے مختلف طبقات و شخصیات کی نمائندگی اس میںکافی بڑھی ہے۔ علاوہ ازیں وہ طبقات جو اس میںشامل نہیںہیں،کا بھی اس سے ربط پیدا ہوا اور ا س سے باہر رہتے ہوئے بھی، ان کا مختلف ایشوز پر گفت و شنید کے لیے آنا ہوا۔ جمعیت علماء ہند کے دونوں دھڑے کے لیڈران مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی بھی ان رہنماؤں میںشامل ہیں۔ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم بھی یہاں قدم رنجا ہوئے اور چائے پینے کے ساتھ ساتھ مشاورت کے جنرل سکریٹری اور سابق سکریٹری جمعیت علماء (محمود مدنی) مولانا عبدالحمید نعمانی کی موجودگی میںصدر مشاورت نوید حامد سے چند نکات پر بات چیت کی۔ بہرحال ایسا لگتا ہے کہ مضبوط و مستحکم ہوتی ہوئی مشاورت کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ ملت کو انتظار ہے کچھ ایسی بااثر شخصیات کا جو کہ عدالت سے باہر مسئلہ کو حل کرکے اس اجتماعیت کو بکھرنے سے بچائیں۔ کیونکہ معاملہ صرف مشاورت کے تنظیمی وجود کا ہی نہیں بلکہ بحرانی دور سے گزر رہی ملت کی ایک اہم اجتماعیت کو بچانے کا ہے۔
دوسری طرف 46 سالہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے۔ اہمیت اور نمائندگی کے لحاظ سے یہ مشاورت سے زیادہ بڑی تنظیم ہے۔ مگر اس میںبھی بعض اہم گروپ اور شخصیات شامل نہیںہیں۔ ان سب کے باوجود یہ ملت کی سب سے بڑی پروقار و قابل احترام و فاقی تنظیم کہلاتی ہے۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ گزشتہ چند برسوں میںیہ کمزور ہوئی ہے۔ کیونکہ اسی دوران 13 برس قبل آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ اور مسلم خواتین کا خصوصی آل انڈیا پرسنل لاء مسلم ویمن بورڈ بھی وجود میںآچکا ہے۔ فی الوقت آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا سید رابع حسنی ندوی اور جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی ہیںجبکہ 2005 میںبنی شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے صدر خطیب اکبر مرزا اطہر (لکھنؤ) اور جنرل سکریٹری سید غلام حسین رضا آغا (حیدرآباد) ہیں۔ اسی طرح 2005 میں قائم مسلم ویمن پرسنل لاء بورڈ کی صدر شائستہ عنبر ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جہاںتک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سوال ہے، یہ بعض اسباب کی بنا پر کچھ کمزور ہوتے بھی ملت اسلامیہ ہند کے نزدیک ایک مضبوط اور معتبر آواز مانا جاتا ہے۔ اس کا 46 دور میںجن ایشوز سے واسطہ رہا، ان میںچار بہت ہی اہم ہیں: ایک یونیفارم سول کوڈ، دوسرا شاہ بانو مقدمہ کے تعلق سے سپریم کورٹ کا فیصلہ، تیسرا بابری مسجد مسئلہ اور چوتھا طلاق ثلاثہ کا ایشو۔ یونیفارم سول کوڈ کا معاملہ مختلف حکومتوںکے وقت میںاٹھتا رہا ہے۔ اس کے اٹھائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ آئین ہند کے رہنما اصولوں میںاس کے بنانے اور نفاذ کی بات موجود ہے مگر اس میںیہ بھی درج ہے کہ جب سبھی اسٹیک ہولڈرز یعنی فریقین رضامند ہوںتبھی ایسا کیا جائے۔ چونکہ جب کبھی کسی بھی حکومت کے وقت میںیہ ایشو اٹھایا گیا، سبھی فریقین تیار نہیںہوئے اور اس ضمن میںملت اسلامیہ ہند کے موقف کو حکومت وقت کے سامنے رکھنے میںبورڈ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ۔ موجودہ بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے وقت بھی یہ ایشو درپیش ہے۔ بورڈ ایک بار پھر اپنے موقف کا اظہار کرچکا ہے۔ بہرحال خبر یہی ہے کہ لاء کمیشن آف انڈیا اس سلسلے میںایک بار پھر سرگرم عمل ہے اور وہ مختلف مذاہب، مکاتیب فکر اور قبائل کے ذمہ داروںسے مل کر اس سلسلے میں حتمی رائے لے گا اور اتفاق نہ ہونے کی صورت میں30 اگست کو موجودہ ٹرم ختم ہونے سے قبل کوئی ڈرافٹ بنا کر حکومت کو پیش کرے گا۔ بہرحال اب آئندہ وقت ہی بتائے گا کہ اس تعلق سے کیا اور کیسے ہوتا ہے؟ دوسرا اہم ایشو شاہ بانو معاملہ میںسپریم کورٹ کا تھا جس فیصلے کو رد کرتے ہوئے 1986 میںراجیو گاندھی کے دور میں پارلیمنٹ کے ذریعہ مسلم ویمن (پروٹیکشن آف رائٹس آن ڈائیورس) ایکٹ بنایا گیا۔ اس معاملے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا کلیدی رول رہا۔ اس کے صدر مولانا علی میاں کی قیادت میںاعلیٰ سطحی وفد نے وزیر اعظم راجیو گاندھی کو قائل کیا کہ سپریم کورٹ کا مذکورہ شریعت میںمداخلت ہے۔ اس وقت راجیو گاندھی نے علی میاں سے یہ جاننا چاہا تھا کہ اس حالت میںبیواؤں کا پرسان حال کون ہوگا تب انھیںجواب دیا گیا تھاکہ اس سلسلے میںملک بھر میں موجود وقف جائدادوں کو ٹھیک سے مینج کرکے اس کی آمدنی کا استعمال بھی لیا جاسکتا ہے۔ دراصل اس کے بعد ہی راجیو گاندھی نے مذکورہ بالا مسلم ویمن ایکٹ کو پارلیمنٹ سے پاس کراکر بنوایا تھا۔ ویسے یہ ستم ظریفی ہے کہ یہ قانون تو بن گیا مگر 32 برس بعد بھی وقف جائدادوں کا مسئلہ ہنوز حل طلب ہے۔
ویسے طلاق ثلاثہ کے ایشو کو لے کر جو مسئلہ اٹھا، اس کے تدارک کے لیے بی جے پی قیادت والی این ڈی اے کی موجودہ دمودی حکومت نے لوک سبھا سے مسلم ویمن (پروٹیکشن آف رائٹس آن میرج ) بل پاس کرایا مگر یہ راجیہ سبھا میںہنوز لٹکا ہوا ہے۔ اگر یہ بل قانون کی شکل لے لیتا ہے تو 1986 میںپارلیمنٹ کے ذریعہ پاس کے گئے مسلم ویمن پروٹیکشن آف رائٹس آن ڈائیورس)ایکٹ کو کالعدم قرار دے گا۔ دراصل یہ ایشو بھی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نزدیک ایک بڑا چیلنج ہے۔ لیکن دقت یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ والے اس بل کے ڈرافٹ کی تیاری میںحکومت نے بورڈ سے کوئی مشورہ بھی نہیںکیا۔ اس کا واضح طور پر کہنا ہے کہ اس نے اس سے مشورہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی اور اس سلسلے میںپیش رفت کی۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد کا تو اس تعلق سے صاف طور پر کہنا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کی اس فیصلہ پر عمل کر رہی ہے جس میںپارلیمنٹ کے ذریعہ قانون بنانے کی بات کہی گئی ہے جبکہ سچ یہی ہے کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کا اکثریتی نہیں، اقلیتی فیصلہ ہے۔
یہاںیہ بات قابل ذکر ہے کہ اس بل پر بحث میںحصہ لیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ایم جے اکبر نے لوک سبھا میں28 دسمبر 2017 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کی حیثیت پر سوال ا ٹھادیا۔ انھوں نے اس کے ذریعہ طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرنے پر سوال کیا کہ ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ساکھ کیا ہے؟ اسے کمیونٹی کا نمائندہ کس نے بنادیا؟‘‘
مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ساکھ پر یہ بات یہاںختم نہیں ہوئی بلکہ گزشتہ دنوں جامع مسجد دہلی کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے بھی دہلی سے شائع ہورہے انگریزی ہفتہ وار ’سنڈے گارجیئن‘‘ (21-27 جنوری) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میںبھی کم و بیش یہی کہہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) جو کہ ایک پرائیویٹ باڈی کے طور پر ملک میںمسلم پرسنل لا ز کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا، کو نکار دینا چاہیے ۔ انھوں نے اپنی بات کی وضاحت میںبعد میں’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ یہ اے آئی ایم پی ایل بی کی طلاق ثلاثہ کے مسئلے سے نمٹنے میں نا اہلیت تھی کہ یہ ایشو سیاسی رخ اختیار کرگیا اور اسے حل کے لیے عدالتوں میں جانا پڑا۔ انھو ںنے کہا کہ ’’اے آئی ایم پی ایل بی نے سپریم کورٹ کے سامنے حقائق ٹھیک سے نہیں رکھے۔ اس کے پاس مختلف مکاتیب فکر کے لوگ تھے مگر یہ عدالت عظمیٰ کے نوٹس میںیہ بات لانے میںناکام رہا کہ کچھ مسالک و مکاتیب فکر میںچاہے جتنی بار ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے، یہ ایک ہی بار گردانی جائے گی۔ میںنے ان لوگوںسے اس بات پر توجہ دینے کو کہا مگر وہ نہیںمانے۔‘‘
مولانا بخاری نے یہ سوال بھی کیا کہ کپل سبل کے عدالت میں طلاق کو ’آستھا‘ سے جوڑنے اور ایودھیا مقدمے میں سماعت 2019 کے بعد کرانے کے بیان کا بورڈ نے دفاع کیوں کیا؟ نیز بابری مسجد کا سودا کرنے کے لیے جو لوگ چھپ چھپ کر شری شری روی شنکر سے ملے ، ان کے خلاف کارروائی کا وعدہ کرنے کے باوجود کوئی کارروائی کیوں نہیںکی گئی؟
دہلی سے شائع ہورہے ـ’روزنامہ خبریں‘ سے انھوں نے کہا کہ حساس ایشوز پر بورڈ کے رویے نے ہندوستانی مسلمانوں کا مذاق بناکر رکھ دیا اور اس طرح چند افراد کے ہاتھوں میںبورڈ یرغمال ، سیاسی مفادات پورے کرنے کا پلیٹ فارم بن گیا۔ ا س طرح مولانا بخاری وزیر مملکت ایم جے اکبر سے ملتا جلتا موقف رکھتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ تما م مسلمانوں کا اکلوتا نمائندہ نہیںہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بابری مسجد معاملے میںاس کا کردار ٹھیک نہیںرہا۔
لہٰذا سوال یہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جسے اندرونی و بیرونی یلغار کا سامنا ہے،مختلف ایشوز میںبہت مؤثر کردار ادا نہیںکرپانے کے سبب کس طرح اپنی وقعت اور ساکھ کو برقرار رکھ پائے گا؟
راقم الحروف کو یاد آتا ہے کہ 2002 میںاس وقت کے صدر بورڈ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی سے ملنے پہلے شری شری روی شنکر آئے اور پھر کینسر کے مرض میںمبتلا ہونے کے بعد 2002 میںسابق صدر ایم وینکٹ رمن اور معروف سینئر صحافی کلدیپ نیئر پہنچے تو انھوں نے بڑے ہی خوش اسلوبی سے ان تمام لوگوںکے سامنے اصولی موقف رکھتے ہوئے ڈائیلاگ کو آگے بڑھانے کی بات کی۔ پھر بعد میںبورڈ کی ہندو مذہبی لیڈروں بشمول شنکر اچاریہ سے بات چیت ہوئی جو کہ ناکام رہی۔ مگر ان سب کے باوجود بورڈ کا وقار اس وقت مجروح نہیںہوا اور برقرار رہامگر بعد کے دنوں میںیہ بری طرح متاثر ہوا۔
یہ یقینا بڑا سوال ہے کہ کیا آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اندرونی و بیرونی یلغار کا مقابلہ کرپائے گا اور رہی سہی اجتماعیت کو باقی رکھ سکے گا؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *