کیاتیجسوی ہندوستانی سیاست کے مائیکل کرلین بن سکتے ہیں

گزشتہ دنوں چارہ گھوٹالہ میںلالو پرساد یادو کو تین سال کی سزا کے اعلان کے بعد
جو سوال میرے ذہن میں ابھرا ، وہ یہ کہ کیا تیجسوی یادو ہندوستانی سیاست کے دوسرے مائیکل کرلین بنیںگے۔ اس کے مضمرات جاننے کے لیے ذرا فلموں کی دنیا میں لوٹنا ہوگا۔ ایک بار آپ کو ناقابل فراموش فلم ’گاڈفادر ‘کے کرداروں سے روبرو ہونا ہوگا۔
فلموں کے شوقین لوگوں کو 1972 میں آئی ہالی ووڈ کی فلم ’گاڈ فادر‘ ضرور یاد ہوگی۔ ا س فلم نے کرائم فلموں کی دنیا میں ایک انقلاب ہی پیدا کردیا تھا، جس کی ہندوستان میںسب سے پہلے نقل کرتے ہوئے فیروز خان نے فلم ’دھرماتما‘ بنائی تھی۔ اس فلم کی تھیم تو نہیں،لیکن لوگوںکو گانے ضرور یاد ہوںگے۔ بہرحال ماریو پوجو کے1969 میںشائع ہوئے ناول ’گاڈ فادر‘ پر بنی یہ فلم 1940 کے دور میں امریکہ کے نیویارک میں اقتدار کے متوازی فعال منظم جرائم کی دنیا پر مرکوزتھی۔
اس جرائم کی دنیا کے بے داج بادشاہ ہیںویٹو یعنی ڈان کرلین۔ ڈان کے سامنے اٹلی کے کچھ لوگ ڈرگ کاروبار سے جڑنے کی پیش کش کرتے ہیں۔ ڈان اس نفرت انگیز کاروبار سے جڑنے سے انکار کردیتا ہے۔پھر شروع ہوتی ہے گینگ وار۔ اپوزیشن کے لوگ کرلین فیملی کو بچانے کے خیال سے ویٹو کو گولی مار دیتے ہیں۔ وہ ہاسپٹلائز ہوجاتا ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میںڈان کا چھوٹا بیٹا مائیکل کرلین ، جس کی فیملی کاروبار میںکوئی دلچسپی نہیں ہے اور جو پرفیکٹ جینٹل مین ہے، فوج سے واپس گھر آتا ہے۔ دشمن جماعت اسپتال میںبھی ڈان کو بچانے کی سازش کرتی ہے لیکن مائیکل اپنی سوجھ بوجھ سے بچا لیتا ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن ڈان کا داماد، اس کے بڑے بیٹے سنّی جو بہت ہی غصیلا اور جارحانہ مزاج کاتھا اور جو مستقبل میںڈان کی وراثت سنبھالنے والا تھا ، کو مشین گن سے بھون ڈالتا ہے۔ ڈان مرچکا ہے۔ ایسے میں کرلین خاندان پر وجود بچانے کا بحران منڈلانے لگتا ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میںخاندان کو بچانے کی ذمہ داری چھوٹے بیٹے پر آجاتی ہے۔
ایک خاص منصوبہ کے تحت وہ خاندان کو نیویارک سے لاس ویگاس شفٹ کرنے کے اعلان کے ذریعہ اشارہ دیتا ہے کہ اس کی کاروباری سلطنت اب اپوزیشن کے لیے فری ہے۔ وہ شفٹ کرنے کی تیاریوں میںلگ جاتا ہے لیکن غیر انسانی اور جرائم کے کاروبار میں دلچسپی نہ رکھنے والا مائیکل اس سے پہلے ٹھنڈے دماغ سے ایسی بساط بچھاتا ہے کہ ایک رات میںہی اپوزیشن کے اہم ستون ٹھکانے لگ جاتے ہیں۔ بعد میںجس سیدھے سادھے مائیکل سے امید نہیںکی جاسکتی تھی ، وہ نہ صرف اپنے خاندان کو بحران سے نکال لیتا ہے بلکہ اپنے والد کی سلطنت کو کہیںزیادہ وسعت دینے میںکامیاب ہوجاتا ہے۔ سلطنت کی توسیع کی یہ کہانی ’گاڈ فادر پارٹ 3- ‘ تک وسیع ہو پائی تھی۔ فلم’ گاڈ فادر‘ میں ڈان کرلین کو ناقابل فراموش انداز میں ابھارا تھا عظیم اداکار مارلون برانڈو نے۔ غصیلے سنی بنے تھے جیمس کین اور مائیکل کو زندہ کیا تھا الپچینونے، جو فلم کے باقی حصے کے ہیرو رہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

فلم کی ریلیز سے پہلے میںنے کئی بار ماریو پوجو کے ناول کو پڑھا تھا۔ ناول کا چھوٹا بڑا ہر دکردار ناقابل فراموش تھا لیکن اہم کردار رہے ویٹو -سنّی اور مائیکل کرلین ۔ اسے میں اپنی زندگی میں پڑھے گئے پانچ بہترین ناولوں میںشمار کرتا ہوں۔ اس ناول کو پڑھنے کے بعد میں نے بے شمار ناول اور مشہور خاندانوں کا مطالعہ کیا لیکن یکسانیت ملی مجھے اندرا خاندان میں۔ سیاست کے پیشے سے جڑی اندرا جی میں ڈان کرلین جیسی سوجھ بوجھ اور گہرائی رہی۔ اندرا کے بیٹے سنجے گاندھی ٹھیک سنّی جیسے رہے، غصیلا اور ہڑبڑی والا نوجوان اور راجیو ٹھیک مائیکل جیسے جینٹل اور سیدھے سادے ۔ 1980 میں سنجے گاندھی کی موت کے بعد پائلٹ کی نوکری چھوڑ کربے دلی سے راجیو گاندھی اپنی ماںکی مدد سے سیاست سے جڑتے ہیں جیسے مائیکل کرلین ویٹو کے ساتھ۔ اندرا جی کے موت کے بعد جب اپوزیشن ان کی سیاسی سلطنت کو تباہ ہونے کے خواب دیکھ رہی تھی، تب ہندوستانی سیاست کے مائیکل راجیو مورچہ سنبھالتے ہیں اور نتیجہ کیا ہوا، اس سے قارئین اچھی طرح واقف ہیں۔
’گاڈ فادر‘ میںجو بحران ڈان کرلین کی فیملی پر آتا ہے۔ اندرا جی کے المناک قتل کے بعدوہ بحران گاندھی پریوار پر آتا ہے۔ آج اسی کے روبرو ہے، لالو خاندان۔ سماجی انصاف کے کثیر حامی آج چاہتے ہیں کہ بہوجنوں کی بڑی امید یہ خاندان بحران سے نکل جائے۔ لیکن اس خاندان کے سنّی تیج پرتاپ یادو سے ہمیںکوئی امید نہیں ۔ امید ہے تو لالو خاندان کے مائیکل کرلین ، تیجسوی یادو سے۔
آج تاریخ نے تیجسوی یادو پر کرلین خاندان کے مائیکل اور گاندھی خاندان کے راجیوکے کردار نبھانے کی ذمہ داری ڈال دی ہے۔ وہ چاہیںتو اس کردار کو کامیابی سے نبھا سکتے ہیں۔ ا س کے لیے انھیںزیادہ کچھ نہ کرکے انھیںخود کو 20 ویں صدی کے لالو کی جگہ 21 ویں صدی کے لالو کے طور پر ڈھالنا ہوگا۔ یہ کام وہ لالو یادو کے کچھ پرانے نعروں کو نئے اور معتبر انداز میں بہوجنوں کے بیچ پہنچا کر کرسکتے ہیں۔یاد رہے جن طاقتوںنے لالو خاندان کو اس حالت میںپہنچایا ہے،ان کے ابھار کو دیکھتے ہوئے لالو نے 2014 کی گرمیوںمیںویشالی ٹریننگ کیمپ میںاپیل کی تھی، منڈل ہی بنے گا کمنڈل کی کاٹ۔ سرکار دلت ، آدیواسی ، پچھڑوں اور اقلیتوں کو ٹھیکوں سمیت ترقی کے تمام منصوبوں میں 60 فیصد ریزرویشن دے۔ بعد میں2015 کی انتخابی جنگ میںجب موہن بھاگوت نے ریزرویشن کے جائزہ لینے کی بات کی،تو لالو جی نے للکارا تھا۔
’تم ریزرویشن کے خاتمے کی بات کرتے ہو، ہم اقتدار میںآئیںگے تو تعداد کے تناسب سے ہر شعبے میں ریزرویشن دیں گے۔‘ افسوس نتیش – لالو گٹھ بندھن کے اقتدار میں آنے پر لالو جی کے اعلانات زمین پر نہیں اتارے گئے۔ اگر اتارے گئے ہوتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی ۔ بہرحال اس چوک کے باوجود اگر تیجسوی نئے سرے اور ایمانداری سے ٹھیکوں، سپلائی، ڈیلر شپ ، پارکنگ ٹرانسپورٹیشن، فلم- میڈیا سمیت ترقی کے تمام منصوبوں میں دلت، آدیواسی، پچھڑوں اور اقلیتوں کو تعداد کے تناسب سے حصہ داری دلانے کے مدعے پر بہوجنوں کے بیچ جاتے ہیں، لالو جی کے تئیںامڈی بہوجن ہمدردی کی نیا پر سوار ہوکر وہ نہ صرف اپنے خاندان کو بچا سکتے ہیںبلکہ ان کی سلطنت کو اسی طرح وسعت دے سکتے ہیں جیسے مائیکل کرلین نے اپنے والد کی سلطنت کو آگے بڑھایا تھا۔ لیکن لاکھ ٹکے کا سوال ہے کہ کیا تیجسوی مائیکل کارلین کے رول میںہونے کا من بنائیںگے؟
(مصنف بہوجن ڈائیورسٹی مشن کے قومی صدر ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *