یروشلم میں بابا فرید کی سرائے

چاہے ہندوستان اور اسرائیل کا سفارتی رشتہ 1992میں قائم ہوا مگر روحانی رشتہ صدیوں سے قائم ہے۔اسرائیل میں بابا فرید کی ایک سرائے وہاں آٹھ سو سال پہلے بنائی گئی تھی جس کی دیکھ بھال ایک ہندوستانی ہی کرتا ہے ۔یروشلم یعنی وہ شہر جسے یہودی، مسیحی اور مسلمان مقدس زمین کے طور پر جانتے ہیں، لیکن یہ بات شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس قدیم شہر کے ایک علاقے کا تعلق ہندوستان سے ہے۔
یہ دراصل ایک سرائے ہے۔ صوفی بزرگ بابا فرید نے تقریباً آٹھ سو برس قبل اسی سرائے میں قیام کیا تھا۔ اس سرائے کے ایک چھوٹے سے کمرے میں وہ عبادت کیا کرتے تھے۔گذشتہ سو برس سے اس سرائے کی دیکھ بھال ہندوستان کا ایک خاندان کر رہا ہے۔ اس خاندان کے بزرگوں کا تعلق ہندوستانی ریاست اترپردیش کے سہارن پور شہر سے تھا۔
یروشلم کیسے آئے بابا فرید؟
آٹھ سو برس سے بھی زیادہ پہلے سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس سے پہلے اس شہر پر مسیحیوں کی حکومت تھی۔صلاح الدین ایوبی نے اس شہر کو اسلامی ماحول دینے کے لیے صوفیوں اور درویشوں کو اس شہر میں آ کر بسنے کی دعوت دی تھی۔یہاں آنے والے صوفیوں میں سے ایک بابا فرید بھی تھے۔ ہندوستان اور پاکستان کے پنجاب میں ان کے ہزاروں مرید ہیں۔بابا فرید لمبے عرصے تک اس شہر میں رہتے رہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ وہ یہاں سے ہندوستان کب واپس لوٹے۔ان کی واپسی کے بعد صدیوں تک ہندوستان سے حج کے لیے جانے والے افراد راستے میں بابا فرید کی سرائے میں رک کر کچھ دن گزارتے تھے۔
یروشلم کے مفتی کی دعوت
مسجد اقصیٰ اور شہر کی دوسری اسلامی عمارتوں کی حالت اچھی نہیں تھی۔ ان دنوں عرب ممالک بھی غریب تھے۔ اگر دولت تھی تو ہندوستانی نوابوں اور سلطانوں کے پاس۔اسی لیے 1923 میں یروشلم کے مفتی نے کچھ افراد کو ہندوستان رقم لینے بھیجا۔ ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑنے والے مولانا محمد علی جوہر نے اس کام میں ان کی مدد کی۔مفتی نے یہ بھی کہا کہ بابا فرید کی سرائے کی دیکھ بھال کے لییہندوستان سے کسی کو بھیجا جائے۔اس طرح 1924 میں نذیر حسن انصاری نام کے ایک نوجوان کو اس کام کے لیے یروشلم بھیجا گیا جہاں جا کر انھوں نے اس سرائے کی دیکھ بھال شروع کر دی۔کچھ عرصے بعد انصاری نے ایک فلسطینی لڑکی سے شادی کر لی اور یروشلم کے ہو کر رہ گئے۔اب وہاں نذیر حسن انصاری کے دو پوتے اور دو بہنیں اور ان کے شوہر اس سرائے کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

مشہور ہستیوں کی تصاویر
سرائے میں داخل ہونے کے لیے ایک بڑا پھاٹک ہے۔ داخل ہونے کے تقریباً سو قدم چلنے کے بعد ایک لوہے کا گیٹ آتا ہے جس پر تالا لگا رہتا ہے۔آنے والوں کو انصاری برادری کے لوگ سیر کراتے ہیں۔ اندر ایک بڑا احاطہ ہے جس کی داہنی طرف ایک پرانی مسجد ہے۔بائیں طرف ایک کمرہ بنا ہو اہے جس میں ہندوستان سے آنے والی بڑی ہستیوں کی تصاویر لگی ہوئی ہیں۔ سرائے سے متعلق نایاب اشیاء ایک کمرے میں سجاکر رکھی گئی ہیں۔ ان میں پہلی جنگ عظیم میں یروشلم میں تعینات ہندوستانی فوجیوں کی تصاویر بھی ہیں۔قدیم یروشلم کی عمارتوں کی تصاویر ہیں۔ ان کے علاوہ نذیر انصاری کے جوانی کے دنوں کی تصاویر بھی ہیں۔نذیر حسن انصاری کا انتقال اسی سرائے میں 1951میں ہوا تھا۔ اب ان کے صاحب زادے یعنی ان دونوں خواتین کے والد اس سرائے کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ان کی عمر 80برس سے زیادہ ہو چکی ہے۔اس کے بغل میں اس کمرے کا دروازہ ہے جہاں بابا فرید رہا کرتے تھے۔
تہہ خانے میں عبادت
وہ کمرہ جس میں بابا فرید رہا کرتے تھے وہ کافی چھوٹا ہے۔ لیکن شاید بابا فرید کو اس سے بڑے کمرے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ بیشتر وہ اس کمرے کے تہہ خانے میں عبادت کیا کرتے تھے۔بابا فرید ایک بار میں 40 دنوں تک لگاتا اس تہہ خانے میں بند ہوکر عبادت کیا کرتے رہے۔بابا فرید کے نجی استعمال کی کوئی چیز اس تہہ خانے میں موجود نہیں ہے۔ لیکن ان کی یادیں اور ان سے وابستہ داستانیں اس سرائے اور اس شہر میں آج بھی سنائی جاتی ہیں۔
اس سرائے پر ہندوستان کا مالکانہ حق ہے۔ آج بھی اس جگہ کو دیکھنے کے لیے ہندوستان سے نامی ہستیاں جاتی رہتی ہیں۔ آنے والوں کے لیے یہاں چھ کمرے بھی ہیں جن میں وہ قیام کر سکتے ہیں۔یروشلم میں کئی جنگیں ہوئیں اور یہ شہر کئی بار اجڑا۔ لیکن ہندوستان اور بابا فرید سے منسوب یہ کونا 800 سال بعد بھی آباد ہے اور آج بھی ہندوستان کی عظمت کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اب جبکہ ہندو اسرائیل میںسفارتی تعلقات قائم ہوگئے ہیں اور رشتے میں گرماہٹ بھی آئی ہے تو امید ہے کہ بابا فرید کی یہ سرائے خصوصی توجہ کا مرکز بنے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *