افغان حکومت دہشت گرد تنظیموں کے سامنے بے بس

افغانستان میں گزشتہ ایک ہفتہ میں کئی بم دھماکے ہوئے جن میں سو سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب وہاں کے شہروں میں دھماکے ہوئے ہوں۔ادھر کچھ دنوںسے مسلسل یہ سرخیاں پڑھنے کو مل رہی ہیں کہ ’کابل شہر کے وسط میں ایک خودکش بم حملے میں کم سے کم 95 افراد ہلاک اور 158 زخمی ۔کابل انٹرکانٹینینٹل ہوٹل پر حملہ، 14 شہری ہلاک۔کابل ثقافتی تنظیم کے دفتر میں خودکش حملہ، 40 ہلاک۔افغانستان کے دو مساجد پر حملوں میں 60 افراد ہلاک‘۔غرضیکہ دھماکے کی خبروں کا ایک سلسلہ جاری ہے۔
ان دھماکوںکے پیچھے وجہ جو بھی ہو لیکن اتنا تو طے ہے کہ وہاں کی سیکورٹی کی صورت حال اچھی نہیں ہے۔ افغان حکومت کے مطابق، افغانستان کے 34 صوبوں میں سے 16 میں داعش موجود ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا داعش افغانستان میں طالبان سے بڑی قوت بن کر ابھر رہی ہے۔امریکی خفیہ اداروں کے نگراں اور قومی انٹیلی جنس کے سربراہ ڈَین کوٹس نے واشنگٹن میں ایک سماعت کے دوران ملکی سینیٹ کو بتایا تھاکہ افغانستان میں سیاسی اور سلامتی کی صورت حال مزید خراب ہو گی۔امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق کوٹس نے ہندوکش کی ریاست افغانستان میں مستقبل کے ممکنہ حالات کی جو تصویر کشی کی، انہیں وہاں کی مایوس کن صورت حال کی عکاسی کہا جاسکتا ہے ۔
عشروں سے بدامنی اور خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں پچھلے کافی عرصے سے اسلام کے نام پر عسکریت پسند جنگجو دوبارہ کافی فعال ہو چکے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ یہ منصوبہ بنا رہی ہے کہ اسے ممکنہ طور پر افغانستان میں اپنے مزید فوج تعینات کرنا چاہئے ۔لیکن جنگ زدہ افغانستان ہی کے بارے میں وہاں کی موجودہ اور مستقبل قریب کی سیاسی اورسیکورٹی صورت حال کے بارے میں نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈَین کوٹس نے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی ایک سماعت کے دوران بتایا تھا کہ ’’کابل حکومت کے لیے امریکہ اور اس کے ساتھی ممالک کی طرف سے فوجی امداد میں مناسب اضافے کے باوجود 2018 میں اس ملک میں سیاسی اور سیکورٹی صورت حال تقریبا یقینی طور پر آج کے مقابلے میں مزید خراب ہو جائے گی۔‘‘

 

 

 

 

 

 

 

ڈَین کوٹس نے امریکی سلامتی کو درپیش خطرات کے بارے میں ملکی قانون سازوں کو اپنے سالانہ اندازوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’افغانستان نے اگر اپنے یہاں مسلح مزاحمت اور عسکریت پسندی کو محدود نہ کیا یا پھر طالبان کے ساتھ کوئی امن معاہدہ طے نہ کیا، تو اسے بیرونی (فوجی) امداد پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کرنی پڑے گی۔‘‘ہندوکش کی اس ریاست میں امریکا کی سربراہی میں فرائض انجام دینے والی افواج کو وہاں لڑتے ہوئے اب قریب 17 برس ہو چکے ہیں اور یہ جنگ پہلے ہی امریکا کی طرف سے آج تک لڑی جانے والی طویل ترین جنگ بھی بن چکی ہے۔ لیکن کابل اور واشنگٹن میں حکومتوں کو تشویش یہ ہے کہ افغانستان میں موجودہ صورت حال ابھی بھی مجموعی حالات کے تسلسل اور ایک طرح کے جمود کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
افغان سیکورٹی فورسز کی کارکردگی میں بہتری کی کوششوں کے نتائج توقعات سے کم رہے۔اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اسی دوران امریکا کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ جنرل وِنسینٹ سٹیوارٹ نے بھی کہا ہے کہ اگر افغانستان کی صورت حال کا تدارک نہ کیا گیا، تو اس طول اختیار کر چکے تنازعے میں امریکی سربراہی میں کام کرنے والے عسکری اتحاد کو حاصل ہونے والی نازک کامیابیوں کے ضائع ہونے کا بھی خطرہ ہو گا۔جنرل وِنسینٹ نے کہاکہ ’’اگر ہم کوئی تبدیلی نہ لائے، تو صورت حال مزید ابتر ہوتی جائے گی۔ یوں ہم ان تمام کامیابیوں سے بھی محروم ہو جائیں گے، جن کے لیے ہم نے گزشتہ کئی برسوں سے بے تحاشا کوششیں کرتے رہے ہیں۔‘‘
اس سماعت کے دوران ڈَین کوٹس نے سینیٹ کے ارکان کو مزید بتایاکہ ’’طالبان ممکنہ طور پر مزید کامیابیاں حاصل کرتے رہیں گے، خاص طور پر افغانستان کے دیہی علاقوں میں۔ کابل حکومت کی سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوششیں بھی اس سے کم ثمرآور رہی ہیں، جتنی کہ امید کی گئی تھی۔ سینیٹ کے اس بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں سیکورٹی حالت انتہائی ابتر ہے اور یہ جو دھماکے ہورہے ہیں انٹیلی جنیس کی پیشن گوئیوں کے مطابق سچ ثابت ہورہے ہیں اور اس سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد طاقتوں کا زور ہے جس پر قابو پانے کے لئے ہندوستان جیسے پُر امن ملک کو چاہئے کہ وہ افغانستان حکومت کی مدد کرے ۔حالانکہ ہندوستان وہاں کی تعمیرات میں بہت اہم کردار ادا کرچکا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ وہاں کی سیکورٹی کو مضبوط کرنے میں بھی ہاتھ بٹائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *