دہرادون کے ایک مسلم خاندان نے مثال پیش کی

muslim-family
ملک میں مذہب اورذات وبرادری کے نام پرلڑائی جھگڑاکوئی نئی بات نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں، مذہبی معاملے اوردیگررسم ورواج کے نام پرلوگ ایک دوسرے کی جان تک لینے کوتیارہوجاتے ہیں۔ لیکن اتراکھنڈ کے دہرادون میں ایک مسلم خاندان نے ایسی نظیرپیش کی ہے،جسے سماج میں ہمیشہ ایک مثال کے طورپریادکیاجائے گا۔اس مسلم خاندان نے نہ صرف ایک ہندویتیم بچے کوگودلیا،بہترین طریقے سے پرورش کرکے بڑاکیا ،بلکہ اس کی شادی بھی ہندورسم ورواج کے نام پرہی کرائی ہے۔
این ڈی ٹی وی ویب پورٹل کے مطابق، معین الدین نے راکیش رستوگی کوگودلیاتھا۔اس وقت راکیش کی عمر12سال تھی لیکن معین الدین نے کبھی راکیش کے دھرم کولیکرکوئی سوال نہیں اٹھایا۔اب انہو ں نے راکیش کی شادی بڑے ہی دھوم دھام سے کیاہے۔معین الدین کی اہلیہ کوثر نے اپنی نئی نویلی دلہن کا استقبال ہندورسم وراج سے ہی کیا۔
راکیش نے میڈیاسے بات چیت میں کہاکہ میں ہولی، دیوالی اورسبھی تہواراسی گھرمیں مناتاہوں۔سبھی مجھے پیاراورمددکرتے ہیں۔راکیش نے بتایاکہ انہیں کبھی اس بات کا محسوس نہیں ہواکہ وہ مسلم خاندان میں ہیں۔کسی نے بھی میری پوجااورمذہب پرسوال نہیں اٹھائے۔

 

یہ بھی پڑھیں    چسپاں پوسٹر میں بنگلہ دیشیوں کو ایک ماہ میں دیوبند چھوڑنے کاانتباہ
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *