1857 کے ایک شہید کی کھوپڑی کو انتظار ہے وطن واپسی کا

گزشتہ 4فروری کو انگریزی روزنامہ ’دی ہندو ‘میں شائع ایک خبر نے ہندوستان میں سبھی کو چونکا دیا۔ یہ خبر اس اخبار کی پہلی خبر تھی۔ اس کی سرخی تھی ’’غدر1857 کے شہید عالم بیگ وطن واپس آنا چاہتے ہیں ‘‘۔اسے دیکھتے ہی سب سے پہلا سوال جو ذہن میں اٹھا کہ یہ گمنام شہید کون ہیں؟یہ کس ملک سے اپنے وطن واپس لوٹنا چاہتے ہیں؟نیز انگریزی روزنامہ نے اس خبر کو اپنے صفحہ اول پر پہلی خبر کیوں بنائی ؟
اس غیر معمولی خبر سے کسی شخص میں تجسس پیدا ہونا فطری ہے۔ گزشتہ برس کے اواخر میں معروف برطانوی مورخ کیم واگنر کی ایک کتاب منظر عام پر آئی ہے ۔اس کا نام ہے ’’ عالم بیگ کی کھوپڑی: 1857 کے ایک باغی کی حیات و موت ‘‘۔ اس غیر معمولی کتاب میں اولین جنگ آزادی کہی جانے والی اس بغاوت کے ایک ہیرو کا بھرپور تعارف موجود ہے جو صرف ہم ہندوستانیوں کی بے حسی کو ہی نہیں جھنجھورتا ہے بلکہ برطانوی حکمرانوں کی غیر انسانی حرکت پر سے پردہ ہٹاتا ہے ۔
آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ کون ہیں یہ ہمارے عظیم محسن اور وطن پرقربان ہونے والے مجاہد آزدی عالم بیگ؟مورخ کیم واگنر کا گمان اغلب ہے کہ عالم بیگ کا تعلق ریاست اترپردیش سے تھا کیونکہ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی جس فوجی ونگ 46ویں بنگال نیٹیو انفینٹری میں حوالدار تھے، اس میں زیادہ تر سپاہیوں کا وطن یہی ریاست تھی۔ شمالی ہندوستان میں غدر 1857 کی جو آگ شروع ہوئی، اس کے شعلے ملک کے دیگر حصوں میں بھی پہنچے۔
سیالکوٹ جواَب پاکستان میں ہے اور جو شاعر مشرق علامہ اقبال اور کالم نویس کلدیپ نیر کی جائے پیدائش بھی تھا، میں انہوں نے بھی اپنے دیگر ساتھی سپاہیوں کے ساتھ انگریزوں کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا اور پھر وہاں موجود 7 یوروپی بشمول ایک اسکاٹش خاندان پر حملہ بولتے ہوئے انہیں ہلاک کردیا۔ اس واقعہ کے بعد یہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سیالکوٹ سے تبتی سرحد کی جانب فرار ہوگئے اور وہاں سے تبت میں دھکیل دیئے گئے مگر پنجاب کے شمالی حصہ میں واقع مادھوپور شہر میں پکڑے گئے اور پھر سیالکوٹ واپس لائے گئے۔

 

 

 

 

 

 

 

ایک برس بعد ان کے خلاف بغاوت اورقتل کا مقدمہ چلا جس کے نتیجے میں یہ بڑی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ انہیں موت کے گھاٹ اتارتے وقت وہاں ایک آئریش کیپٹن ارتھر رابرٹ جارج کو سٹیلو موجود تھے جو کہ غدر 1857 کی آگ بجھائے جانے کے فوراً بعد 7ویں ڈریگون گارڈز کے کیپٹن بنا کر لندن سے ہندوستان بھیجے گئے تھے ۔لہٰذاوہ عالم بیگ کی موت کے بعد ان کی کھوپڑی کو لے کر لندن واپس آگئے۔پھر تقریباً 105 برس بعد 1963 میں یہ کھوپڑی لارڈ کلائڈ پب کے اسٹور روم میں رکھی ہوئی ملی۔ یہ پب شمال اور شمال مغربی ہندوستان میں1857 میں بپا ہوئی بغاوت کو کچلنے میں اہم کردار ادا کرنے والے ملٹری کمانڈر لارڈ کلائڈ جن کا اصل نام کولین تھامسن تھا، کے نام سے موسوم تھی۔ 1963 میں جب اس پب کے نئے مالکان آئے تو انہیں ایک آئی سوکیٹ (Eye Socket )میں ایک نوٹ ملا جس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ کھوپڑی سیالکوٹ میں 1857 کی بغاوت میں اہم کردار ادا کرنے والے عالم بیگ کی ہے۔ اس وقت ان مالکان نے اس کھوپڑی کو عالم بیگ کے خاندان کے حوالے کرنا چاہا مگر انہیں اس سلسلے کی کوشش میں کامیابی نہیں ملی۔یہ کھوپڑی اس پب میں کیسے پہنچی ؟ اس کی کوئی تفصیل نہیں معلوم لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئریش کیپٹن کو سٹیلو جو کہ اسے لے کر لندن واپس آئے تھے، انہوں نے لارڈ کلائڈ کی غدر 1857 سے اس کھوپڑی کی مناسبت کو دیکھتے ہوئے اسے خود یہاں رکھ دیا یا کسی اور نے ان سے لے کر اس پب میں محفوظ کیا۔
مذکورہ کتاب سے ہی یہ تفصیل سامنے آتی ہے کہ 2014 میں پب کے مالکان نے مؤرخ کیم واگنر سے رابطہ کیا جو کہ کئی سالوں سے جنوبی ایشیا کی تاریخ لکھنے میں مصروف تھے اور پھر ان سے گزارش کی کہ وہ اس کھوپڑی کو پب سے لے جائیں اور اسے عالم بیگ کے ورثاء تک پہنچانے کا کوئی بندوبست کریں۔ لہٰذا واگنر اس کھوپڑی کو اپنے گھر لے آئے اور اس پر کام کرکے مذکورہ بالا کتاب تحریر کی۔ ان کا خیال تھا کہ اس کھوپڑی کے بارے میں عام لوگوں کو واقف کرانے کے بعد ہی عالم بیگ کی ان کے مادر وطن میں صحیح طورپر واپسی ہوسکتی ہے۔
مؤرخ کولین واگنر کو توقع ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی جو کہ غلامی کے وقت کی جنگوں میں قربان ہوئے سپاہیوں کی عزت افزائی کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں، عالم بیگ کے تعلق سے بھی کچھ ضرور کریں گے۔ ان کے خیال میں چونکہ عالم بیگ کے ورثاء کا کچھ پتہ نہیں ہے، اس لئے حکومت ہند عالم بیگ کو ان کے مادر وطن واپس لائے۔ لہٰذا سب کو انتظار ہے حکومت ہند کے ٖفیصلے کا۔ سچ بھی یہی ہے کہ اس طرح 1857 کے اس شہید اعظم کو سچی خراج عقیدت پیش کی جاسکے گی ۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *