ایک جزیرہ جو ملک بدلتا رہتا ہے

jazerah
ہم آپ کو ایک ایسے جزیرے کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جو صرف چھ ماہ ایک ملک کے زیر انتظام رہتا ہے اور پھر وہ ملک بدل دیتا ہے۔یہ سلسلہ ساڑھے تین سو سال سے جاری ہے۔دریا کے بیچ میں واقع فیزاں نامی یہ پرامن جزیرہ درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہاں کوئی نہیں رہتا البتہ یہاں ایک قدیم یادگار قائم ہے جو 1659 میں ہونے والے ایک واقعے کی یاد دلاتی ہے۔
فرانس اور سپین کے درمیان طویل جنگ زوروں پر تھی۔ اس دوران فیزاں جزیرے کو غیرجانب دار علاقہ تصور کیا گیا اور دونوں سرحدوں کی طرف سے شہتیروں کے پل بنائے گئے۔ مذاکراتی ٹیمیں پہنچ گئی اور اس جزیرے میں امن مذاکرات شروع ہوئے جو تین ماہ تک چلتے رہے۔اس دوران دونوں طرف فوجیں تیار کھڑی تھیں۔
انجام کار امن معاہدہ طے پایا۔ علاقے تقسیم ہوئے اور سرحدوں کا نئے سرے سے تعین کیا گیا۔ معاہدے کی سیاہی پکی کرنے کے لیے فرانس کے بادشاہ لوئی چاردہم نے ہسپانوی شہنشاہ فلپ چہارم کی بیٹی سے شادی کر لی۔معاہدے میں ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ یہ جزیرہ دونوں ملکوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ اس کا علاقہ نہیں، بلکہ اقتدار تقسیم ہو گا، یعنی چھ ماہ تک ایک ملک کے پاس رہے گا اور بقیہ چھ ماہ دوسرے کے پاس۔ویسے تو اس کا انتظام و انصرام فرانسیسی اور ہسپانوی نیول کمانڈروں کے ذمے ہے، لیکن درحقیقت قریبی قصبوں ارون اور ہینڈائی کے میئر ہی اس کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *