9400 اینمی پراپرٹیز کی ضبطی ہورہی ہے

ملک بھر میںپھیلی ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ قیمت کی 9.400 اینمی جائیدادوں کو مرکزی سرکار ضبط کرنے جا رہی ہے۔ضبط شدہ اینمی جائیدادوں پر سرکاری کام ہوں گے یا انہیں نیلام کیا جائے گا۔ وزارت داخلہ نے سبھی اینمی پراپرٹی کی پہچان کا عمل تقریباً پورا کرلیاہے۔ چھان بین میں 16 ہزار سے زیادہ اینمی پراپرٹی کا پتہ چلا جن میں 9400 پراپرٹی پر اب کوئی پینچ نہیں ہے۔ تقریبا 66 سو دیگر پراپرٹی کی چھان بین کا کام بھی پروسیس میں ہے۔ کچھ ریاستی سرکاروں کے عدم تعاون کی وجہ سے اس میں تھوڑی دیر ہورہی ہے۔
قانون بن جانے کے بعد
وزارت داخلہ کے ایک آفیسر نے بتایا کہ قانون بن جانے کے سبب اب ریاستی سرکاروں کی ذمہ داری ہے کہ اس کام کو پورا کریں۔ جن اینمی پراپرٹی پر قبضے کا کوئی قانونی ثبوت نہیں ہے، ان کی جلدی ہی بولی لگنے والی ہے۔یہ ایک لاکھ کروڑ سے بھی زیادہ کی پراپرٹی ہے جو سیدھے سرکاری خزانے میں جائے گی۔ پاکستان پہلے ہی ہندوستانیوں سے جڑی جائیدادیں بیچ چکا ہے ۔ قانون کے مطابق تقسیم کے دوران یا اس کے بعد پاکستان اور چین جاکر بسنے والے لوگوں کی جائیدادوں پر ان کے وارث کا حق نہیں رہے گا۔ لہٰذا جائیدادوں کو اینمی پراپرٹی کے دائرے میں رکھا گیاہے۔
اینمی پراپرٹی ترمیمی بل کو لوک سبھااور راجیہ سبھا دونوں سے منظوری مل چکی ہے۔ چین اور پاکستان کے ساتھ جنگ کے دوران یا جنگ کے بعد وہاں جاکر بسے ہوئے لوگوں اور ان کے وارثین کی ہندوستان میں بچی جائیدادوں کو اس قانون کے تحت ضبط کرنے کا حق ہندوستان سرکار کو مل گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ لوک سبھامیں بل پاس ہونے کے بعد یہ راجیہ سبھامیں اٹک گیا تھا۔ راجیہ سبھانے اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیج دیا تھا۔ بل کے ملتوی رہنے کے سبب سرکار کو پانچ پانچ بار آرڈیننس لانا پڑا تھا۔ سلیکٹ کمیٹی نے بل میں کچھ ترمیم کی سفارش کی تھی۔ سدھار کی جو بھی سفارشیں کی گئی تھیں، انہیں بل میں شامل کیا گیا۔ اس قانون میں ذات یا مذہب بنیاد نہیں ہے، بلکہ صرف ہجرت کو بنیاد بنایاگیا ہے۔ یہ صرف پاکستان چلے گئے لوگوں کے لئے ہی نہیں بلکہ چین گئے لوگوں کے معاملے میں بھی ہے۔
اس قانون کے مطابق ہندوستان کی تقسیم کے وقت یا 1962 اور1965 نیز 1971 کی جنگ کے بعد چین یا پاکستان ہجرت کرکے وہاں کی شہریت لینے والے لوگوں کو اینمی شہری اور ان کی جائیداد کو اینمی پراپرٹی کے درجے میں رکھنے کا پروویژن ہے اور سرکار کو اسے ضبط کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ سرکار کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ کسی اینمی پراپرٹی کے لئے کوسٹڈیان یا کیئر ٹیکر مقرر کردے۔ اینمی شہریوں کے ہندوستان میں رہ رہے جانشینوں کو بھی بچی جائیداد کے استعمال کا کوئی حق نہیں رہے گا۔ اینمی پراپرٹی قانون پر پارلیمنٹ کی سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہریت حاصل کر لینے والوں کی 11882 ایکڑ میں پھیلی کل 9280 ریئل پراپرٹی ہندوستان میں ہیں۔ ایسی ریئل اسٹیٹس کی کل قیمت 1.04 لاکھ کروڑ روپے لگائی گئی ہے جبکہ 266 لسٹیڈ کمپنیوں میں 2610 کروڑ روپے کے شیئر کے طور پر بھی ریئل پراپرٹی ہیں۔ ان کے علاوہ ریئل پراپرٹی میں 318 اَن لسٹیڈ کمپنیوں میں 24کروڑ روپے کے شیئر ، 40 لاکھ روپے کا سونا اور زیورات، 177 کروڑ روپے کا بینک بیلنس، سرکاری سیکورٹی میں 150کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 160 کروڑ روپے کے فکسڈ ڈپازٹ بھی شامل ہیں۔
اینمی پراپرٹی کی ضبطی
500اور1000 کے نوٹوں پر پابندی لگانے کے بعد ہی مرکزی سرکار نے اینمی پراپرٹی کے ایکوائر کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔نوٹ بندی کا حکم جاری ہونے کے مہینے بھر بعد خفیہ ایجنسیوںکو ملک بھر میں موجود اینمی پراپرٹی کی تازہ صورت حال کے بارے میں چھان بین کر کے رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔ مرکزی سرکار کے پاس رپورٹ آجانے کے بعد ان پراپرٹی پر قابض لوگوں سے قبضے کا قانونی حق مانگا گیا تھا۔اسی سلسلہ میں مرکزی خفیہ ایجنسی کو کئی ایسی پراپرٹی کا بھی پتہ چلا جن پر مافیا سرغنہ دائود ابراہیم کے گرگوں اور سگے رشتہ داروں کا قبضہ تھا۔ اسی طرح اینمی پراپرٹی کے نام پر ایسی تمام پراپرٹی ملیں، جن پر دہائیوں سے مشکوک لوگوں کا قبضہ ہے۔ ایسی جائیدادیں اب سرکار اپنے قبضے میں لے کر نیلام کرے گی یا سرکاری استعمال میں لائے گی ۔اس کے لئے مرکزی سرکار نے دسمبر 2016 میں ہی اینمی پراپرٹی آرڈیننس لاکر اپنا قانونی پہلو مضبوط کرلیا تھا۔ اینمی پراپرٹی پر سرکار کے ایکوائر یا اس کی نیلامی کے عمل میں نچلی عدالتیں مداخلت نہیں کر سکتیں۔ اینمی پراپرٹی کا پتہ لگانے کا کام پہلے سے چل رہاتھا۔ تازہ جانچ کے بعد پایا گیا کہ اینمی پراپرٹی جتنی اب تک بتائی جارہی تھی ،اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مرکزی خفیہ ایجنسی کے ایک آفیسر نے کہا کہ کئی ریاستی سرکاروں نے اینمی پراپرٹی کا پتہ لگانے میں دلچسپی نہیں لی۔ ان میںمغربی بنگال سرکار اول ہے۔ جبکہ سبھی متعلقہ ریاستوں کے کلکٹروں کو وزارت داخلہ کی طرف سے پہلے ہی حکم بھیجا گیا تھا کہ وہ اپنے اپنے ضلع کی اینمی پراپرٹی پر قابض لوگوں سے قبضے کی قانونی ثبوت حاصل کریں۔ جو قبضے قانون کے مطابق پائے گئے ان کا کرایہ بازار ریٹ اور مقررہ سرکاری شرطوں پر لاگو کیا جائے گا اور جن قبضوںکو کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی ، انہیں ضبط کر لیا جائے گا۔
اسی چھان بین کے سلسلہ میں اترپردیش میں 4991 اینمی پراپرٹی کا پتہ چلا جن پر طرح طرح کے لوگ قابض تھے، انہیں سرکاری نوٹس دی گئی تھی اور قبضے کا قانونی ثبوت مانگا گیا تھا۔ ان میں لکھنو کے حضرت گنج جیسے بیش قیمتی علاقے میں موجود لاری بلڈنگ، محمود آباد منشن، مولوی گنج میں لال کوٹھی، چار باغ گنگا پرساد روڈ پر صدیقی بلڈنگ، گولا گنج امام باڑہ میں ملکا جمانیا جیسی کچھ اہم پراپرٹیز شامل ہیںجس پر لوگ دہائیوں سے قابض ہیں۔ زیادہ تر لوگ کرایہ نہیں دے رہے تھے ۔جو کبھی کبھار کرایہ دے بھی رہے تھے وہ سب چالیس کی دہائی کے ریٹ پر مبنی سستے کے زمانے کے کرائے تھے۔
بیش قیمتی علاقوں میں موجود ان اینمی پراپرٹی پر قابض لوگوں کو کوڑیوں کا کرایہ جمع کرنے میںبھی تکلیف ہو رہی تھی۔ ان میں حضرت محل کے مشہور کپور ہوٹل ، مشہور کاروباری ادارہ ہلواسیا گروپ، دھنشیام آپٹیکل، شرما ایسوسی ایٹس ، میسرس اورینٹ موٹرکار، کوہلی برادرس جیسے ادارے کے پونجی پتی مالکوں کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے کئی لوگوں نے تو کبھی کرایہ دیاہی نہیں۔ اب انہیں بقایہ کے کرایہ تو جمع کرنا ضروری ہے ہی ،یہ بھی بتانا پڑا کہ اینمی پراپرٹی پر ان کے قبضے کا قانونی ثبوت کیا ہے۔ اس طرح کی نوٹسیں پورے ملک میں دیئے گئے تھے۔ اس عمل کے بعد ابھی مرکز کی طرف سے وہ لسٹ جاری نہیں ہوئی ہے کہ ان میں سے کون کون سی پراپرٹی ضبط کر کے نیلامی کے لئے چڑھائی جانے والی ہے اور کن پراپرٹی پر بازار بھائو سے کرایہ لے کر ان کا قبضہ جاری رکھنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔
اینمی پراپرٹی کے دائرے میں رہائشی عمارتیں، کاروباری عمارتیں، زرعی زمین وغیرہ آتی ہیں۔ لکھنو ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ راجدھانی میں اینمی پراپرٹی پر قابض 35اہم ڈیفالٹروں کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ پختہ قانونی ثبوت پائے جانے کے بعد ان کا سارا بقایہ کرایہ وصول کئے جانے کی کارروائی ہوگی ۔ اگر پورا کرایہ نہیں جمع ہوا تو جائیداد ضبط کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔ جن قبضوں کا کوئی قانونی ثبوت نہیں پایا گیا ،انہیں ضبط کیاجا رہا ہے۔ لکھنو ضلع انتظامیہ نے لکھنو کے صدر تحصیل کی قریب ڈیڑھ سو سے بھی زیادہ اینمی پراپرٹی کی جانچ کرائی اور قابض لوگوں کے خلاف نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

 

 

 

 

 

 

 

اترپردیش میں سب سے زیادہ تعداد
ملک بھر میں سب سے زیادہ اینمی پراپرٹی اترپردیش میں ہیں۔ لکھنو میں اینمی پراپرٹی کی تعداد 167 کے قریب ہے۔ اس میں راجا محمود آباد کی 40پراپرٹی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ 112 پراپرٹی صدر میں ، 29اینمی پراپرٹی ملیح آباد میں، 17 موہن لال گنج میں اور 9 بخشی کا تالاب تحصیل علاقے میں ہیں۔ لکھنو میں بٹلر پیلس، حضرت گنج میں محمود آباد منشن، ہلواسیا کورٹ، لاری بلڈنگ، گولا گنج میں ملکہ جمانیا محمود آبا د کی ہیں۔ سیتا پور میں ایس پی رہائش، ڈی ایم رہائش، سی ایم او رہائش اور لکھیم پور کھیری کا ایس پی بنگلہ بھی اینمی پراپرٹی ہے۔ اس کے علاوہ لکھنو کا پرانا ایس ایس پی دفتر بھون، قیصر باغ ہاتا، امین آباد کی وارسی بلڈنگ ، چوک علاقے کی کنیز سعیدہ بیگم پرنالی بڑی کھانا کوٹھی، اور حیدری بیگم کوٹھی بھی اینمی پراپرٹی میں شامل ہے۔
اینمی پراپرٹی کا بیورا جمع کرنے میں فوج بھی لگی ہوئی تھی۔ فوج کے کمانڈ کے دائرے میں آنے والے سات ریاستوںاترپردیش،اتراکھنڈ ،مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، بہار ، جھارکھنڈ اور اڑیسہ میں سے یوپی ، ایم پی اور اتراکھنڈ میں سب سے زیادہ اینمی پراپرٹی ہیں۔ فوج کے ذریعہ کمان کا دفتر لکھنو میں ہے۔ یوپی میں لکھنو ، فیض آباد، بریلی، سیتا پور، کان پور ، فتح گڑھ، رام پور ، کاس گنج، مراد آباد ،میرٹھ جھانسی ، جیسے علاقوں ، اترا کھنڈ میں دہرادون، نینی تال، ہلدوانی ،مسوری اور مدھیہ پردیش میں بھوپال ، موہ ، جبل پوراور اندور جیسے علاقوں میں اینمی پراپرٹی کا بیورا اکٹھا کرنے میں فوج خاص طور پر لگی تھی۔ بھوپال کے نواب کی پراپرٹی بھی اینمی پراپرٹی قرار دی گئی ہے۔
وزارت داخلہ نے ان جائدادوںکو قبضے میں کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ بھوپال میں ایسی تقریباً ڈیڑھ سو اینمی پراپرٹیوں کو ضبط کرنے کی کارروائی چل رہی ہے۔ وزارت داخلہ کے دستاویز بتاتے ہیں کہ ملک میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ قیمت کی ریئل اینمی پراپرٹی ہیں۔تقریباً تین ہزار کروڑ روپے کی ریئل پراپرٹی کے ہونے کا اب تک ثبوت ملا ہے۔ آغاز میں 2188 اینمی پراپرٹی کا ہی پتہ لگا تھا جو اب 16 ہزار سے زیادہ کے عدد کوپار کر چکی ہے۔
دیگر ریاستوں کی حالت
اینمی پراپرٹی کا پتہ لگانے میں کئی ریاستوںنے مرکز کا تعاون نہیں کیا۔ ان میں مغربی بنگال اول نمبر پر ہے۔ اس کے بعد بہار کا نمبر تھا۔ حالانکہ بہار سرکار نے بعد میں اس کام کو شروع کیا لیکن وہ بھی دھیمی رفتا ر سے ۔ اینمی پراپرٹی کے پانچ ہزار سے زیادہ معاملے مغربی بنگال سرکار کی فائل میں بند پڑے ہوئے ہیں۔ اینمی پراپرٹی پہلے والے عدد یعنی کل 2186 اینمی پراپرٹی میں سے 1468 پراپرٹی اکیلے اترپردیش میں تھی جو بڑھ کر 4991 ہو گئی ہے۔ دیگر ریاستوں میں مثلاً مغربی بنگال میں 351 ،دہلی میں 66، گجرات میں 63، بہار میں 40، گوا میں 35، مہاراشٹر میں 25 کیرل میں 24 اور بقیہ اینمی پراپرٹی کچھ دیگر ریاستوں میں تھیں لیکن چھان بین کے بعد اس کی تعداد 16 ہزار کے پار چلی گئی ہیں۔
اب موجودہ اعددو شمار کے مطابق مغربی بنگال میں 2735 اینمی پراپرٹی اور ملک کی راجدھانی دہلی میں 487 پراپرٹی ہیں۔ پاکستان میں جاکر بس جانے والے لوگوںکی 9280 جائیدادیں اینمی پراپرٹی کے دائرے میں ہیں۔اسی طرح چین جاکر بسنے والے لوگوںکی 126 پراپرٹی اینمی پراپرٹی کے دائرے میں ہیں۔ ملک کی 31 اینمی پراپرٹی کا استعمال مرکزی سیکورٹی فورس کررہے ہیں۔ ان میں سے 12 کا استعمال سی آئی ایس ایف ،7 کا استعمال نیشنل سیکورٹی گارڈ،6 کا استعمال سی آر پی ایف، 4 کا استعمال ایس ایس بی اور2 اینمی پراپرٹی کا استعمال این ڈی آر ایف کررہاہے۔
دائو د ابراہیم کی جائیداد اینمی پراپرٹی
جہاںتک مافیا اور دہشت گردسرغنہ دائود ابراہیم کی ہندوستان میں غیر قانونی جائیداد کا مسئلہ ہے،اسے بھی اینمی پراپرٹی کے دائرے میں رکھا جارہاہے۔ ہندوستان میں ریئل اسٹیٹ کے دھندے میں کئی اہم اور مشہور کمپنیوں میںدائود کا پیسہ لگا ہوا ہے۔ مرکزی خفیہ ایجنسی اور ٹرانزٹ ڈائریکٹر نے دائود ابراہیم کی ایسی 9 بڑی پراپرٹی کا پتہ لگایا تھا جسے بیچنے کا چکر چل رہا تھا ۔حالانکہ دائود نے مرکز کے متنبہ ہونے کے پہلے اپنی کئی پراپرٹی بیچ بھی ڈالی۔ یہ پراپرٹی ممبئی، پونے، میسور، مسوری ،لکھنو ،دہلی اور کولکتاہ شہر میں ہیں۔
اتراکھنڈ کے مسوری میں ہوٹل ،لکھنو میں ہوٹل اور ریئل اسٹیٹ کے ساتھ ساتھ کئی فارم ہائوس اور یجارٹس میں بھی دائود کا پیسہ لگا ہوا ہے جسے باہر سے سفید پوش چلا رہے ہیں۔ 2015 کے دسمبر مہینے میں ہی سرکار نے ممبئی کے ناگ پاڑہ میں دائود کے ایک ہوٹل ’دہلی ذائقہ ‘ کو ضبط کر کے اسے نیلام کر دیا تھا۔ دہلی کے صدر بازار میں بیلی رام مارکیٹ کی لگ بھگ 200 دکانوں کو لے کر بھی اینمی پراپرٹی کا تنازع چل رہا ہے۔ دہلی کے بلی ماران میں مسلم مسافر خانہ بھی لمبے عرصے تک اینمی پراپرٹی تنازع میں پھنسا رہاتھا۔ اینمی پراپرٹی آردیننس کے تحت بھوپال میں سابق نواب کی اربوں روپے کی جائیداد بھی اینمی پراپرٹی میں شامل ہیں۔ بھوپال نواب خاندان کی جائیدادیں بھوپال اور اسکے آس پاس کے تین اسمبلی حلقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بھوپال شہر کے کئی محلے نواب کی پراپرٹی پر ہی بسے ہوئے ہیں۔
اینمی پراپرٹی سے ریونیو ندارد
اتر پردیش کے راجا محمود آباد عرف امیر محمد خاں کی لکھنو سمیت اترپردیش کے کچھ دیگر ضلعوںاور اتراکھنڈ ریاست میں بہت سی جائیدادیں اینمی پراپرٹی کی شکل میں اعلان کئے گئے ہیں۔ اینمی پراپرٹی آرڈیننس کے بموجب اینمی پراپرٹی کا مالکانہ حق مرکزی سرکار کو تو مل گیا لیکن زیادہ تر جائدادیں غیر قانونی قبضے میں ہیں اور اس سے سرکار انکم ٹیکس کچھ بھی نہیں حاصل کرپارہی ہے ۔یہی حال ریاست کی دیگر تمام اینمی پراپرٹی کا بھی ہے۔ جہاں لوگ قبضہ جمائے بیٹھے ہیں اور سرکاری ذریعہ آمدنی کو زبردست نقصان پہنچا رہے ہیں۔
محمود آباد ( لکھنو کے نزدیک سیتا پور ضلع کی تحصیل کا نام ہے )کی ایسی جائیدادوں کی کل تعداد 936 ہے۔ محمود آباد کی جائیداد لکھنو، سیتا وپر اور نینی تال میں ہیں۔ جو اینمی پراپرٹی کے طور پر اعلان ہوئے ہیں۔ لکھنو میں محمود آباد کی جائیدادوں میں مشہور بٹلر پیلس، محمود آباد ہائوس اورحضرت گنج کی عالی شان دکانیں اور ہوٹلس ہیں۔ سیتا پور کے کلکٹر ، ایس ایس پی اور سی ایم کی رہائش گاہ بھی محمود آباد کی جائیدادوں کا ہی حصہ ہے۔
محمد عامر احمد خان ہندوستان تقسیم کے بعد عراق میں رہ رہے تھے۔ 1957 میںانہوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ کر پاکستانی شہریت لے لی۔ ہندوستان نے ملک چھوڑ کر پاکستان جا بسے لوگوں کی جائیدادیں ہندوستان کے سیکورٹی قانون (ڈیفنس آف انڈین رولس (1962) کے تحت اپنی جانچ میں لے لی تھی۔ ہندوستان سرکار نے یہ کارروائی 1965 کے ہند -پاکستان جنگ کے بعد کی جبکہ پاکستان یہ کام پہلے ہی کر چکا تھا۔ محمد عامر احمد خاں کی 1973 میں لندن میں موت ہو گئی۔ ان کے بیٹے محمد عامر محمد خاں نے والد کی جائیداد پر وراثت کا دعویٰ پیش کیا تھا لکھنو سول کورٹ نے انہیں جائیداد کاوارث مانا تھا۔ ممبئی ہائی کورٹ نے بھی محمدد آباد کے حق میں فیصلہ دیاتھا۔ سرکار نے اسکے خلاف سپریم کور ٹ میں اپیل دائر کی ۔سپریم کورٹ کے حکم پر محمود آباد کے وارث کو جائیداد کا حق مل گیا ۔2010 میں کانگریس سرکار اینمی پراپرٹی قانون میں ترمیم کا بل لائی اور سبھی جائیدادوںکو پھر سے قبضے میں لے لیا۔
بیشتر اینمی پراپرٹی مافیا کے قبضہ میں
وزارت داخلہ کے ایک آفیسر نے کہا کہ زیادہ تر اینمی پراپرٹی پر زمین مافیااور مشکوک عناصر کا قبضہ ہے۔ کئی جگہوں پر زمین مافیا کے ذریعہ اینمی پراپرٹی بیچی جارہی ہیں۔ لکھنو سمیت فیض آباد، کاس گنج،بریلی، رام پور جیسے کئی ضلعوں میں ایسے معاملے سامنے آئے ہیں۔ سیاسی پناہ والے مافیائوںکے خلاف انتظامیہ کچھ نہیں کر پا رہاہے۔ اینمی پراپرٹی پر قابض لوگ سرکاری آمدنی کے بھی دشمن بن گے ہیں اور سرکاری ٹیکس جمع نہیں کررہے ہیں۔ ریاست کے ریونیو محکمہ کے آفیسر نے کاس گنج ضلع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں 152 اینمی پراپرٹی نشان زد کی گئی تھیں، ان پر کروڑوں کا ٹیکس بقایا ہے۔ ان اینمی پراپرٹی پر غیر قانونی قبضہ ہے ۔
کاس گنج تحصیل کے کناوا میں 1 ، واحد پور معافی میں 1، ڈھولنا میں3، کھیڑیا میں 6، رحمت پور معافی میں6، ویرہرا میں1، تالک پور سرائے میں 10، نارائنی میں 7، مبارک پور میں 4، بھٹونا میں 19 اور ٹنڈولی معافی میں 50 اینمی پراپرٹی نشان زد ہیں۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر جائیدادیں اناپ شناپ لوگوں کو بیچ ڈالی گئیں۔ خرید و فروخت بھی غیر قانونی طریقے سے ہوئی جس کاکوئی ٹیکس ریکارڈ نہیں ہے۔ اب سرکار کے سامنے ان جائیدادوں کے مالکانہ حق کی پہچان کرنے کا بھاری مسئلہ ہے ۔ اسے ضبط کرنے اور نیلام کرنے کے علاوہ انتظامیہ کے پاس دوسرا متبادل نہیں ہے۔
ایسا ہی حال نینی تال میں محمود آباد کی جائیداد کا بھی ہوا۔ نینی تال میں میٹرو پول ہوٹل بھی اینمی پراپرٹی قرارد دیا گیا ہے لیکن اربوں کی اس جائیداد پر ہوئے قبضے کے خلاف نینی تال ضلع انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا۔ نینی تال کوتوالی میں ایک ایف آئی آر درج کر کے ضلع انتظامیہ مست ہو گیا۔ میٹروپول ہوٹل اپنے زمانے میں نینی تال کا سب سے بڑا ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ 41 کمروں کے اس ہوٹل کا آغاز ایک انگریز مسٹر رینڈل نے کیا تھا۔ بعد میں یہ محمد عامر احمد خاں محمود آباد کی جائیداد ہو گئی۔ اس پر متعدد لوگوں کا قبضہ رہا۔ 1995 تک یہ ہوٹل کی شکل میں چلتا رہا، پھر 2010 میں عدالت کے حکم پر ضلع انتظامیہ نے بطور کسٹوڈین قبضے میں لے لیا۔ ضلع انتظامیہ نے اس پر قبضہ تو جما لیا لیکن اس کی دیکھ ریکھ میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ زمین مافیائوں نے ہوٹل میں آگ لگوا دی، جس میں بائلر روم، بیڈ منٹن کورٹ اور 14 کمروں والا حصہ خاک ہو گیا۔ جائیداد پر قبضے کے ارادے سے ہی یہ آگ لگوائی گئی تھی۔ اس میں زمین مافیا کے شبہات سے بھی انکا ر نہیں کیا جا سکتا۔ اینمی پراپرٹی کا قانونی محافظ ضلع انتظامیہ ہی ہوتاہے لیکن جائیدادوں کے نام جوڑنے گھٹانے کا بھی کھیل انتظامیہ ہی کرتا رہتاہے۔ مضبوط لوگ اینمی پراپرٹی کی لسٹ سے اپنی جائیداد ہٹوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایسی کئی مثال سامنے آئی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

برطانوی بینک میں کروڑوں روپے
اینمی پراپرٹی تنازع میں بنیادی طور سے محمود آباد ریاست، بھوپال نواب، ممبئی میں محمد علی جناح کا گھر اور لندن کے ایک بینک میں جمع حیدرآباد فنڈ کا مسئلہ شامل ہے۔ برطانیہ کے رائل بینک آف اسکاٹ لینڈ (جو پہلے نیشنل وینس منسٹر بینک کے نام سے جانا جاتاتھا )میں تین سو کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم 1948 سے ہی جمع ہے ۔ اس پر پاکستان بھی دعویٰ کرتا رہا ہے لیکن برطانیہ کی عدالت نے پاکستانی دعوے کو نامناسب قرار دیاہے۔
حیدر آباد کے الحاق کے وقت اس وقت کے نظام کے وزیر خزانہ نے برطانیہ کے نیشنل ویسٹ منسٹر بینک میں 1,007,940 پونڈ اور 9 شلنگ پاکستانی ہائی کمشنر حبیب ابراہیم رحمت اللہ کے کھاتے میں جمع کروا دیئے تھے۔ اس کی اطلاع ملتے ہی نظام نے بینک کو وہ رقم واپس ان کے کھاتے میں ٹرانسفر کرنے کا حکم بھیجا لیکن بینک نے منع کر دیا۔ نظام نے عدالت کی پناہ لی تو پاکستان نے بھی دعویٰ ٹھونک دیا۔ معاملہ انگلینڈ کے عدلیہ کے ٹریبونیل میں چلا گیا۔ ہندوستان بھی دعویدار تھا۔ عدالتی کارروائی کے سبب کھاتا فریج کر دیا گیا تھا۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد فنڈ حیدرآباد کے عوام کا پیسہ ہے اور ریاست کا ہندوستان میں الحاق ہو جانے کے بعد پوری رقم ہندوستان کو ملنی چاہئے ۔
2008 میں ہندوستانی سرکا رنے فنڈ کی تقسیم پر رضامندی قائم کرنے کی تجویز دی لیکن پاکستان نے انکار کر دیا اور 2013 میں خاموش طریقے سے پھر قانونی پہل شروع کر دی لیکن تب تک پاکستان کو حیدرآباد فنڈ کی سیکورٹی کے حق سے محروم کیا جاچکا تھا ۔ پاکستان سرکار اپنے یہاں جاری اینمی پراپرٹی ضبط کر چکی ہے، جبکہ ہندوستان میں اینمی پراپرٹی کے مسئلے میں بھی سیاست ہی ہوتی رہی ہے۔
جلد ہی ہوگی بے نامی پراپرٹی ضبط
بے نامی جائیدادوں پر مرکزی سرکار کی نگاہ 2015 سے ہی تھی۔ سرکار نے 13 مئی 2015 کو لوک سبھامیں بے نامی ٹرانجکشن ایکٹ پیش کیاتھا۔ ایک نومبر 2016 سے ملک میں بے نامی پراپرٹی پراہیبی ٹیشن لاء نافذ ہو گیا تھا۔ اس قانون کے ذریعہ منقولہ و غیر منقولہ جائیدایں سبھی خرید فروخت آدھار کارڈ اور پین کارڈ ے جوڑ دیئے گئے۔ساتھ ہی زمین کی خرید و فروخت کرنے والوں کو اس کا پورا بیورا انکم ٹیکس محکمہ کو دینا پڑ رہاہے۔ قانون کے مطابق بے نامی جائیداد جسے کسی دوسرے کے نام پر لیا جائے اور اسکی قیمت کی ادائیگی کوئی اور کرے۔ لہٰذا ان ساری جائیدادوں کو بے نامی مانا جارہاہے۔ جو کسی فرضی نام سے خریدی گئی اور جس کے اصلی مالک کا پتہ نہیں ہے۔
اس کے علاوہ دوسرے ناموں سے بینک کھاتوں میں کئے جانے والے فکسڈ ڈپازٹ بھی کالا دھن کے دائرے میں آگئے ۔اب مرکزی سرکار کو ایسی ساری جائیدادیں ضبط کر لینے اور بے نامی جائیداد کے تحت ٹرانجکشن کرنے والے لوگوں پر سخت قانونی کارروائی کرنے کا حق ہے۔ بے نامی جائیداد کے خلاف کارروائی میں انکم ٹیکس محکمہ نے پچھلے سال 3.185 کروڑ روپے کی غیر اعلانیہ آمدنی کا پتہ لگایا تھا۔ اس کے علاوہ 428 کروڑ روپے کی نقدی اور زیورات ضبط کئے گئے تھے۔
اینمی پراپرٹی قانون سے گھبرایا چین
اینمی پراپرٹی کو ضبط کرنے کے قانون سے چین میں گھبراہٹ ہے۔ اسے یہ فکر ہے کہ اگر ہندوستان کے ساتھ جنگ جیسی کوئی بات ہوئی تو بھاری تعداد میں اس کے کاروباریوں کے کاروباری سرمایہ کے ضبط کر لئے جانے کا خطرہ رہے گا۔ پچھلے کچھ برسوں میں چین نے ہندوستان میں کافی سرمایہ کاری کی ہے۔شائومی اور لینے او جیسی تمام کمپنیاں ہندوستان میں پیسہ کما رہی ہیں۔اس کے علاوہ وپرو، سپلا ، اے سی سی ، ٹاٹا اور ڈی سی ایم گروپ کمپنی، بامبے بومرا ٹرینڈنگ کمپنی، بلارپور انڈسٹریز ، ڈی ایل ایف، ہندوستان یونی لیور، آئی ٹی سی، بجاج الکٹریکلس ، انڈیا سیمنٹ اور آدتیہ بڑلا نواو جیسی کمپنیوں میں بھی چین کے شیئر ہیں۔
چینی شہریوں کی 149 ریئل پراپرٹی مغربی بنگال ، آسام ، میگھالیہ ،تمل ناڈو ، مدھیہ پردیش، راجستھان، کرناٹک اور دہلی کے تحت ہیں۔ فطری بات ہے کہ جنگ کی حالت میں ان جائیدادوں کو ہندوستانی سرکار کے ذریعہ قبضہ کرنے کا امکان رہے گا۔دونوں ملکوں کے رشتوں کی تلخی دنیا جانتی ہے۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمس نے لکھا بھی کہ اگر چینی اور ہندوستانی افواج لڑائی میں الجھتی ہیں تو ہندوستان میں کاروبار کر رہی چینی کمپنیوںپر قبضہ ہو سکتاہے۔
آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کی معاشی اصلاحات کی وجہ سے ہندوستان سرمایاکاری کے لحاظ سے پرکشش بن گیاہے لیکن اینمی پراپرٹی قانون میں ترمیم سے چینی سرمایہ کاروں میں ڈر کا احساس پنپ رہاہے۔ گلوبل ٹائمس میں چھپے آرٹیکل میں کہا گیاہے کہ اگر اینمی پراپرٹی قانون چینی سرمایہ کاروں میں ڈر پیدا کرتاہے اور خود کو سرمایہ کاری کی پر کشش جگہ بنانے کے ہندوستان کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو دوسری چیزیں بھی بیکار ثابت ہوںگی۔ سرمایاکاروں کا بھروسہ دوبارہ جیتنے کے لئے ہندوستان کو قانونی سدھار کی ضرورت ہے۔
چین کی شہریت لینے والے لوگوں کی ہندوستان میں چھوٹ گئی جائیدایں ضبط کرنے کی کارروائی کو لوگ چین کے خلاف ہندوستان کی دشمن جیسی کارروائی سمجھیںگے۔ اس سے ہندوستان میں چینی سرمایا کار کو نقصان پہنچے گا۔ حال کے برسوں میں اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی شئومی اور کمپیوٹر بنانے والاے لینو او سمیت کئی چینی کمپنیوں نے ہندوستان میں خوب سرمایا کاری کی ہیں۔ 2016 میں چین کی ہندوستان میں بالواسطہ سرمایہ کاری پچھلے سال کے مقابلے کئی گنا بڑھگئی ہے۔ اس سرمایا کاری سے روزگار کا بحران جھیل رہے ہندوستان کے نوجوانوں کو نوکریاں بھی ملی ہیں۔ جبکہ سرمایا کاری بڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چینی کمپنیاں جوکھم سے آگاہ نہیں تھی۔ چین کے کچھ لوگ سرحدی تنازع کے وقت بھی ڈر گئے تھے۔ ہندوستان اگر چینی سرمایا کاروں کی جائیداد اور ان کے لوگوں کی سیکورٹی حتمی کر کے ان میں پھرسے بھروسہ پیدا نہیں کر سکا تو اینمی پراپرٹی قانون سے سرمایا کاروں کا بھروسہ ہلے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *