جھارکھنڈ کے ڈی جی پی پر لگا فرضی انکاؤنٹر کا الزام

تقریباً ڈھائی سال قبل 5 جون 2015 کو پولیس نے ایک فرضی مڈبھیڑ میں 12 بے قصور لوگوںکو نکسلی بناکر مار گرایا تھا۔ اس مڈبھیڑ میںمارے گئے لوگوں میںصرف ایک اروند جی ہی ہارڈ کور نکسلی تھا لیکن پولیس نے واہ واہی لوٹنے کے لیے 12 لوگوںکو مڈبھیڑ میںمار گراکر ایک کہانی گھڑ لی اور اس بات کا دعویٰ کرنے لگی کہ پولیس کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے اور 12 بدنام انتہا پسندوں کو مار گرایا ہے۔ اب بکوریا کیس میںمارے گئے لوگوںکا بھوت جاگ گیا ہے اور ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل ڈی کے پانڈے اس فرضی مڈبھیڑ معاملے میں پوری طرح گھر گئے ہیں۔
حقوق انسانی کمیشن میدان میںکودا
قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی اس مڈبھیڑ کو پوری طرح سے فرضی بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس نے واہ واہی لوٹنے کے لیے 11بے گناہوں کو مارگرایا۔ انسانی حقوق کمیشن نے پورے معاملے کی جانچ سی آئی ڈی سے کرانے کو کہا لیکن چونکہ اس معاملے میں سیدھے طور پر پولیس ڈائریکٹر جنرل کے پھنسنے کا امکان تھا، اس لیے مڈبھیڑ کی جانچ سی آئی ڈی سے نہیںکراکر ایس ٹی ایف کے آئی جی ڈی کے پردھان سے کرائی گئی۔ سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس بہادر پولیس افسر نے اس معاملے کی فائل کھولنے کی کوشش کی، اس کا آناً فاناً میں تبادلہ ہی کردیا گیا۔
سی آئی ڈی کے اپر پولیس ڈائریکٹر جنرل ایم وی راؤ نے تو سیدھے طور پر پولیس ڈائریکٹر جنرل ڈی کے پانڈے پر الزام لگاتے ہوئے ہوم سکریٹری کو خط لکھا کہ جب انھوں نے بکوریا کیس کی جانچ شروع کی تو پولیس ڈائریکٹر جنرل نے انھیںجانچ کی رفتار دھیمی کرنے کو کہا لیکن جب انھوں نے ایسا نہیںکیا تو ان کا تبادلہ کردیا گیا۔ایم وی راؤ کا کہنا تھا کہ 24 نومبر 2017 کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے مارے گئے انتہا پسندوں کے برآمد شدہ ہتھیاروں کی بیلسٹک جانچ رپورٹ پیش کرنے کو کہا ۔ کورٹ کی ہدایت پر کیس سے جڑے پولیس افسروں کا پھر سے بیان لیا گیاتو تھانہ انچارج ہریش پاٹھک اور اس وقت کے ڈی آئی جی ہیمنت ٹوپپو نے ایسی واردات سے صاف انکار کردیا۔ اس معاملے کی غیر جانبدار ی سے جانچ ہورہی تھی۔ تبھی پولیس ڈائریکٹر جنرل ڈی کے پانڈے نے جانچ کی رفتار دھیمی کرنے کو کہا۔ اس کے ساتھ ہی یہ صلاح بھی دی کہ عدالتوں کے احکام کی فکر نہ کریں۔ انھو ں نے اس سے صاف انکار کرتے ہوئے ڈی جی پی سے کہا کہ اس معاملے کی جانچ آگے بڑھے گی، کوئی ثبوت نہ تو دبایا جائے گا اور نہ ہی غلط ثبوت بنایا جائے گا۔ا س کے بعد ایم وی راؤ کا تبادلہ دہلی کردیا جائے گا۔ راؤ نے گورنر کو بھیجے گئے خط میںکہا کہ جس افسر نے بھی اس جانچ کو بڑھانے کی کوشش کی، اس کا آناً فاناً میں تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ایم ڈی جی ریجی ڈنگ ڈنگ اور ہیمنت ٹوپپوکا تبادلہ کردیا گیا تھا۔
ادھر داخلہ محکمہ کے چیف سکریٹری ایس کے جی رہاٹے نے کہا کہ ڈی جی پی ڈی کے پانڈے سے صورت حال کی جانکاری منگائی گئی ہے۔ ابھی ڈی جی پی نے جواب نہیںدیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

جھوٹی کہانی بنالی پولیس نے
اس فرضی مڈبھیڑ کی کہانی بھی پولیس نے جھوٹی ہی گھڑلی۔ سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس مڈبھیڑکی بات مقامی تھانہ انچارج اور اس علاقے کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کوبھی نہیںتھی۔اس مڈبھیڑ کی جانکاری ڈی جی پی ڈی کے پانڈے نے ہی ان افسروںکو دی۔ ڈی جی پی نے اس معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے اپنے قابل اعتماد سی آئی ڈی کے ایس پی سنیل بھاسکر کو دیا۔ سنیل بھاسکر نے کہا کہ ڈی آئی جی ہیمنت ٹوپپو اور تھانہ انچارج ہریش پاٹھک کا بیان اس لیے نہیںدرج کیا گیا تھا کیونکہ یہ لوگ مڈبھیڑ میںشامل نہیںتھے ۔
ہریش پاٹھک نے اس بارے میںایف آئی آر درج کرانے سے بھی انکار کردیا تھا۔ بعد میںاسی تھانے کے ایک افسر محمد رستم نے بیان درج کرایا۔ اس کی یہ دلیل دی کہ تھانہ انچارج ہریش پاٹھک کو مڈبھیڑ میںشامل نہیںکیا گیا تھا۔ اس ساری مڈبھیڑ کا آپریشن اسی تھانے کے آفیسر محمد رستم کررہے تھے۔ اس مڈبھیڑ کی جھوٹی کہانی بھی بڑے ہی تفریحی انداز سے بنائی گئی تھی۔ خود پلامو تھانہ کے انچارج ہریش پاٹھک نے کہا کہ پلامو کے سپرنٹنڈنٹ نے واقعہ کا وادی بننے کے لیے کہا۔ ا یس پی نے دھمکی دی کہ اگر اس نے انکار کیا تو اسے معطل کردیا جائے گا۔ بعد میںوادی نہیںبننے پر ہریش پاٹھک کا تبادلہ جامتاڑہ کردیا گیا۔
دراصل پولیس نے تو نکسلی اروند کو گھیرنے کی چال بنائی لیکن اس میںپولیس کے ذریعہ کھڑی کی گئی مبینہ نکسلی تنظیم جے جے ایم بی کا سہارالیا ۔ اس بات کو اس لیے بھی قوت مل رہی تھی کیونکہ انسانی حقوق کمیشن کو کچھ ویڈیو کلپ ملے ہیں، جس میںیہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ جے جے ایم پی کا زونل کمانڈر گوپال سنگھ نکسلی انوراگ سمیت 11 بے قصور لوگوں کی ہلاکت کے بارے میںجانکاری دے رہا ہے۔ ٹی پی سی کے انتہا پسند ہتھیار لے کر چہل قدمی کررہے ہیں اور گوپال سنگھ کے ہاتھ پیر باندھ کر عوامی عدالت میںمیڈیا کے سامنے بیان دلا رہے ہیں۔
ویسے مڈبھیڑ کی یہ کہانی شروع سے ہی تنازعوں میںہے۔ مارے گئے لوگوں میںسے ایک انوراگ کے نکسلی ہونے کا ثبوت تو پولیس کے پاس ہے لیکن دیگر کے بارے میں پولیس ابھی تک کچھ ثابت نہیں کرسکی۔ اس مڈبھیڑ میں مارے گئے دو لوگ تو نابالغ تھے اور چار کی پہچان ابھی تک نہیں ہوپائی ہے۔ اس مڈبھیڑ کی خبر کسی کو نہیں تھی۔
اس علاقے کے ڈی آئی جی سے لے کر تھانیدار تک کو اس کی خبر نہیںتھی۔ خود ڈی پی جی ڈی کے پانڈے نے رات ایک بجے اس مڈبھیڑ کی جانکاری ڈی آئی جی اور تھانیدار کو فون پر دی۔ ڈی آئی جی ہیمنت ٹوپپو نے جب یہ بیان دیا کہ اس مڈبھیڑ کی جانکاری انھیںنہیںتھی تو آناً فاناً میںان کا تبادلہ کردیاگیا ۔یہ بہت ہی حیران کن بات ہے کہ کسی پولیس افسر کے علاقے میںاتنی بڑی مڈبھیڑ کا واقعہ ہواور علاقے کے ڈی آئی جی اور تھانہ انچارج تک کو اس کی جانکاری نہیںہو جبکہ اس طرح کے واقعات میںپولیس اپنے سینئر افسروںکو منٹ منٹ کے موومنٹ کی خبریں اپنے اعلیٰ افسروں کو دیتی رہتی ہے۔ پولیس نے اس فرضی مڈبھیڑ کی کہانی بھی رچ لی اور اس آپریشن کو کیسے انجام دیا گیا، اسے بڑے درست انداز میںگھڑاگیا۔
سی آئی ڈی کی رپورٹ
سی آئی ڈی نے رپورٹ میں کہا کہ آئی بی نے نکسلی انوراگ اور اس کے دو ساتھیوں کے موومنٹ کی جانکاری اپنے دہلی کے دفتر کو دی، اس کے بعد اس آپریشن کو انجام دیا گیا۔ اس آپریشن میں209 کوبرا بٹالین کے دو ایسالٹ گروپ کو شامل کیا گیا۔ اس میں45 جوان شامل تھے۔ پولیس کو یہ اطلاع ملی کہ 14 نکسلی ستبروا علاقے میںہیں۔ اس کے بعد ایک جیپ کو تیزی سے آتے ہوئے دیکھا گیا۔ اسے رکنے کا اشارہ پولیس نے کیا لیکن وہ تیزی سے گاؤں کی طرف مڑ گئی۔ اس کے بعد جیپ سے پولیس پر فائرنگ ہوئی تو پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی، جس میں12 لوگ مارے گئے۔
پولیس کی اس جھوٹی کہانی نے ہی کئی سوال کھڑے کردیے ہیں۔ پولیس یہ بتا رہی ہے کہ وہاں گہرا اندھیرا تھا۔ یہ ایک سنگین سوال ہے کہ پولیس کے ساتھ یہ مڈبھیڑ ہوئی یا مبینہ نکسلی تنظیم جے جے ایم پی نے اس واقعہ کو انجام دیا۔ ویسے ابھی تک جو ثبوت مل رہے ہیں، اس سے یہ صاف ہے کہ اس واقعہ کو انجام جے جے ایم پی نے ہی دیا تھا۔
مبینہ مڈبھیڑ کے واقعہ کے ڈھائی سال گزر جانے کے بعد بھی سی آئی ڈی اس کی جانچ پوری نہیںکرسکی ہے۔ جانچ کی فائل اگر کوئی افسر کھولنا چاہتا ہے تو اس پر دباؤ بنایا جاتا ہے اور نہیںماننے پر اس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے۔ اگر جے جے ایم پی تنظیم کے انتہاپسندوں نے نکسلی انوراگ اور 11 بے قصور لوگوں کا بے رحمی سے قتل کیا تو پولیس نے اسے مڈبھیڑ کیوںبتایا؟ وہ بھی تب جب اس علاقے کے سینئر افسر ایسا کرنے کے حق میںنہیںتھے، کیا یہ سب ایک اعلیٰ سطح کی سازش کے تحت کیا گیا؟

 

 

 

 

 

 

 

 

ماؤنواز انوراگ کی داستان
دراصل ماؤوادی انوراگ ایم سی سی کے ڈیڑھ کروڑ اور کچھ انتہائی جدید ہتھیار لے کر بھاگ گیا تھا اور وہ ٹی پی سی میںشامل ہونے کی کوشش میں تھا۔ انوراگ جے جے ایم پی کے پپو لوہر کو ٹی پی سی کا سردار سمجھ رہا تھا اور اس سے باتیںکررہا تھا۔ پولیس محکمے کا کوئی افسر بھی تھا، جسے بھیا کہہ کر لو گ بلا رہے تھے۔ وہ بھی پپو لوہرا کے ساتھ تھا۔ انوراگ جب پپو لوہرا کے گھر پہنچا تو اسے احساس ہوا کہ یہ تو جے جے ایم پی کا ممبر ہے۔ انوراگ نے پپو اور اس کے ساتھ سادے لباس میںپولیس کے بھیا جی سے درخواست کی کہ مجھے مارئے گانہیں۔تو سب نے کہا کہ نہیںماریں گے لیکن ان لوگوں نے انوراگ اور اس کے ساتھ آئے لوگوں کو مارا گرایا اور ہتھیار و پیسہ لے کر بھاگ گئے۔ ان کے مرنے کے بعد جب پپو لوہرا چلا گیا تب پولیس کے لوگ جٹے اور یہ دعویٰ کرنے لگے کہ مڈبھیڑ میںنکسلی انوراگ کو مار گرایا ہے۔
اس فرضی مڈبھیڑ کو لے کر جب تھانہ انچارج ہریش پاٹھک کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تو پاٹھک نے صاف انکار کردیا۔ پاٹھک کو معطل کردیا گیا۔ اس کے بعدایف آئی آر درج کرانے کے لیے محمد رستم کو تیار کیا گیا تب داروغہ رستم نے فرضی مڈبھیڑ کی ایف آئی آر دج کرائی۔ ویسے اس معاملے کی جانچ کررہے اے ڈی جی ایم وی راؤ نے کہا کہ پولیس ڈائریکٹر جنرل ڈی کے پانڈے نے ڈیڑھ کروڑ وپے اور واہ واہی لوٹنے کے لیے اس فرضی مڈبھیڑ کو انجام دیا۔
مہوکین کے ورثاء کے الزامات
ادھر اس معاملے میںمارے گئے لوگوںکے متعلقین نے الزام لگایا کہ تھانہ انچارج نے کیس مینج کرنے کے لیے آدمی بھیجا تھا اور منہ بند کرنے کے عوض میں منہ مانگا پیسہ دینے کا لالچ دیاتھا۔ اودے کی ماں گیتا دیوی کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے دن اودے چھت پر نیرج یادو اور والد تشار کے ساتھ سویا ہوا تھا۔ رات قریب نو بجے دو موٹر سائیکل پر چار لوگ آئے اور تینوں کو یہ کہتے ہوئے لے گئے کہ پوچھ تاچھ کرنے کے بعد سبھی کو چھوڑ دیا جائے گا۔ صبح پتہ چلا کہ تینوں کا قتل کردیا گیا ہے۔ ایک دیگر نیرج یادو کے والد ایشور یادو کا کہنا ہے کہ نیرج سامان خریدنے منیکا گیا ہوا تھا۔ رات ہونے پر وہ اپنے رشتہ دار اتم یادو کے یہاں رک گیا تھاجہاں سے کچھ لوگ جبراً اسے اٹھاکر لے گئے اور اس کا قتل کردیا۔ بعد میںیہ کہا گیا کہ پولیس مڈبھیڑ میںاسے مار دیا گیا ہے۔
فرضی مڈبھیڑ میں11 بے قصور لوگوں کا قتل کردیاگیا اور پولیس واہ واہی لوٹ رہی ہے ۔ اس معاملے کی جانچ بھی ڈی جی پی ڈی کے پانڈے نہیںہونے دے رہے ہیں۔ اگر اس معاملے کی جانچ ہوئی تو اس مڈبھیڑے کے خو ن کے چھینٹے ڈی جی پی ڈی کے پانڈے پر بھی پڑیں گے۔ اس سے پہلے بھی ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل جب سی آر پی ایف کے عہدے پر تھے تو انھوں نے طلبہ کو فرضی نکسلی بتا کر سرینڈ ر کرایا تھا۔ اس فرضی سرینڈر کی بھی جانچ چل رہی تھی۔
اس سرینڈر کی کہانی بھی عجیب و غریب ہے ۔ دگ درشن کوچنگ میںپڑھانے کے بہانے دیہاتوں سے نوجوانوںکو لایا گیا ہے۔نئی دشا سرینڈر پالیسی کے تحت نوجوانوںسے یہ وعدہ کیا گیا کہ باز آبادکاری کے تحت انھیںنوکری اور دس دس لاکھ روپے ملیںگے۔ طلبہ سے پیسے لے کر ہتھیار خریدے گئے اور 514 طلبہ کو نکسلی بتاکر سرینڈر کرایا گیا۔ اس فرضی سرینڈر کا معاملہ جب طول پکڑنے لگا تو اس کی جانچ سی آئی ڈی کو سونپی گئی جو ابھی فائلوں میںہی بند ہے۔ اس معاملے میں ریاست کے ڈی جی پی بری طرح سے گھرے ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ فائلوں سے نکلتا ہے یا نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *