سعودی شہزادوں کی رہائی کے پیچھے کی حقیقت ؟

سعودی عر ب کی سیاست میں دو سو شہزادوں کا معاملہ گرمایا ہوا ہے۔ گزشتہ نومبر میں شروع کی گئی انسداد بدعنوانی کی مہم میں گرفتار کیے گئے 200 سے زیادہ شہزادے، امراء اور اعلیٰ حکام میں سے بہتوںکو سعودی حکام نے مالی سمجھوتے کے بعد رہا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس رہائی کے بعد اب رٹز کارلٹن ہوٹل کو جہاں یہ سب شہزادے قید تھے، عوام کے لئے 14فروری سے کھول دیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ اب بھی درجنوں شہزادے، اعلیٰ حکام اور بڑی کارروباری شخصیات بشمول کابینہ کے کئی اراکین اور ارب پتی لوگ اس وقت کرپشن کو ختم کرنے کے نام پر شروع کی گئی مہم کے تحت حراست میں ہیں۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے خیال میں اس مہم کا اصل مقصد شہزادہ محمد بن سلمان کی تخت تک پہنچنے کی راہ کو ہموار کیا جانا بھی ہے۔زیر حراست ارب پتی شہزادوں میں پرنس ولید بن طلال بھی تھے جن کے مغربی ممالک اور امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیوں میں حصص ہیں۔
بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کے ساتھ مالی سمجھوتے سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ سعودی سرکاری خزانے میں کم از کم ایک سو بلین ڈالر آئیں گے۔ ابھی حال ہی میں نجی عرب سیٹیلائٹ ٹی وی نیٹ ورک ایم بی سی کے بانی ولید الابراہیم کو حال ہی میں رہا کیا گیا ہے۔وہ رہا ہو کر ریاض میں اپنے اہل خانہ کے پاس جا چکے ہیں۔اگرچہ سعودی حکام نے ولید الابراہیم کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے حوالے سے معلومات ظاہر نہیں کیں تاہم اطلاعات کے مطابق ان کو ایم بی سی پر اپنا کنٹرول کھونا پڑے گا۔اب دیکھنا ہے کہ اس خبر میں کتنی سچائی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ولید الابراہیم کے علاوہ کم از کم تین دیگر اہم سعودی شخصیات نے سمجھوتے کر کے رہائی پائی ہے۔ان میں ایک خالد التویجری ہیں جو شاہ عبداللہ کے وقت میں شاہی کورٹ کے سربراہ ہوتے تھے۔
البتہ جن افراد کے ساتھ سمجھوتہ نہیں ہو سکا، وہ جیل منتقل کر دیے جائیں گے۔جن کے ساتھ ابتدا میںسمجھوتہ نہیں ہو سکا ان میں کھرب پتی شہزادہ الولید بن طلال شامل تھے ۔دراصل ان سے جو سمجھوتے میں رہائی کے لیے رقم مانگی جا رہی تھی، وہ اس پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے لیکن بعد کی خبروں میں بتایا گیا کہ انہیں بھی رہا کردیا گیا ہے۔ولید بن طلال کے مغربی ممالک اور ایپل اور ٹوئٹر سمیت امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیوں میں حصص ہیں۔ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کے ساتھ مالی سمجھوتے سے سعودی حکام کا خیال ہے کہ سرکاری خزانے میں زبردست اضافہ ہوگا۔التویجری تو اپنی سٹلائٹ سے محروم ہوگئے جیسا کہ خبروں میں بتایا جارہا ہے مگر طلال کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی کمپنی کنگڈم ہولڈنگ کے سربراہ برقرار رہیں گے۔

 

 

 

 

 

 

 

بتایا جاتا ہے کہ بدعنوانی کی مہم کے پیچھے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں اور انھوں نے ذاتی طور پر رٹز کارلٹن میں ہونے والے سمجھوتوں میں دلچسپی لی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ولید بن طلال کے علاوہ کم از کم چار دیگر اہم سعودی شخصیات نے سمجھوتے کر کے رہائی پائی ہے۔بقیہ رہائی پانے والے امراء یا پھر تجارت پیشہ افراد ہیں۔
یاد رہے کہ بدعنوانی کی مہم کے پیچھے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ذاتی طور پر رٹز کارلٹن میں ہونے والے سمجھوتوں میں دلچسپی لی ہے۔وہ اس گرفتاری میں بہت پیش پیش تھے ۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ محمد بن سلمان ذاتی طورپر اس میں اس لئے دلچسپی لے رہے تھے کیونکہ انہوں نے آئندہ کے لئے اپنا راستہ صاف کرنا ہے۔ ہر اس شہزادے کو گرفتار کیا جن سے انہیں کسی نہ کسی طرح خوف طاری تھا کہ وہ ان کے اقتدار کی راہ میں حائل ہوسکتے ہیں۔ خاص طورپر وہ شہزادے جنہوں نے انہیں ولی عہد بننے میں اختلاف کیا تھا یا پھر ان کا تعلق سابق فرمانروا شاہ عبد اللہ کے کیمپ سے تھا۔ اب جبکہ سلمان بن عبد العزیز وہاںکے فرمانرواں ہیں اور ان کے بیٹے محمد بن سلمان ولی عہد ہیں تو انہوں نے عبداللہ خیمہ کو بالکل ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کرلیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے بڑے بیٹے متعب بن عبداللہ کو جو کہ ملک کے کئی اہم عہدوںپر فائز رہ چکے ہیں ،بھی ان گرفتار شدگان میں شامل تھے۔ رہائی پانے والوں میں متعب بھی شامل ہیں مگر ابھی یہ نہیں پتہ چل سکا ہے کہ رہائی کے بدلے ان سے کتنا تاوان لیا گیا ہے۔ بہر کیف اس وقت سعودی عرب کی سیاست میں ان شہزادوں کو لے کر ایک اتھل پتھل سی مچی ہوئی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ سعودی عوام کھلے عام اس کا تذکرہ کرنے سے کتراتے ہیں۔شاید ان پر ایک انجانا خوف طاری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *