کیندریہ ودیالیوں میں ہندی اورسنسکرت میں پرارتھناکیوں؟، سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا

school-prarthana
ملک میں ایک ہزارسے زیادہ کیندریہ ودیالوں میں بچوں کے ذریعہ صبح ہونے والی پرارتھناسبھامیں گائی جانے والی پرارتھناکیاکسی خاص مذہب کی تشہیرہے ؟یہ سوال ملک کی سب سے بڑی عدالت میں سپریم کورٹ میں اٹھاہے۔اس سے متعلق ایک عرضی پرسنوائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اسے سنجیدگی سے لیااورآئینی معاملہ مانتے ہوئے کہاکہ اس پرغوروفکرضروری ہے۔عدالت نے اس سلسلے میں مرکزی سرکاراورکیندریہ ودیالوں کونوٹس جاری کرکے جواب مانگاہے۔کیندریہ ودیالوں میں پرارتھناکے ذریعہ خاص مذہب کوفروغ دینے کی عرضی پرسپریم کورٹ نے مرکزی سرکارکونوٹس جاری کیاہے۔آج 10جنوری کوجاری نوٹس کے بعداب سرکارکوعدالت میں چارہفتوں کے اندرجواب داخل کرنے کیلئے کہاگیاہے۔
دراصل ایک ٹیچر کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی ایک عرضی میں سوال کیا گیا ہے کہ سرکاری فنڈ پر چلنے والے اسکولوں میں کسی خاص مذہب کو مشتہر کرنا مناسب نہیں ہے۔ جسٹس روہنگٹن ایف نریمن کی سربراہی والی بینچ نے مرکز اور کیندریہ ودیالیہ اسکول انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ بینچ نے کہا کہ کیندریہ ودیالیوں میں بچوں کو ہاتھ جوڑ کر اور آنکھ بند کرکے پرارتھنا کیوں کرائی جاتی ہے؟۔ بینچ نے کہا کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے۔
دراصل ایک وکیل نے عرضی داخل کرکے کہاہے کہ کیندریہ ودیالوں میں 1964سے ہندی اورسنسکرت میں صبح کی پرارتھناہورہی ہے جوکہ پوری طرح غیرآئینی ہے۔عرضی دہندہ نے اسے آئین کے دفعات 25اور28کے خلاف بتاتے ہوئے کہاکہ اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ان کی دلیل ہے کہ سرکاری اسکولوں میں مذہبی عقائداوراور تعلیم کو مشتہر کرنے کی بجائے سائنٹفک ٹیمپرامنٹ کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ساتھ ہی آئین کے آرٹیکل 28 (1) اور آرٹیکل 19 (بنیادی حقوق) کو تحفظ بھی فراہم کیا جانا چاہئے۔ پی آئی ایل میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 19 شہریوں کو بنیادی حقوق کے تحت شخصی آزادی کا حق دیتا ہے، ایسے میں طالب علموں کو کسی ایک چیز کیلئے پابند نہیں بنایا جانا چاہئے۔
در اصل اس پی آئی ایل میں آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت ریوائزڈ ایجوکیشن کوڈ آف کیندریہ ودیالیہ آرگنائزیشن کی ویلڈیٹی کو چیلنج کیا گیاہے۔ آرٹیکل 92 کے مطابق اسکولوں میں پڑھائی کی شروعات صبح کی پرارتھنا سے ہوگی، سبھی بچے، ٹیچرس اور پرنسپل اس پرارتھنا میں حصہ لیں گے۔ اس آرٹیکل میں کیندریہ ودیالیوں میں ہونے والی صبح کی پرارتھنا کے عمل کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *