لائن آف کنٹرول پر جنگ کا سماں کیوں؟

جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پران دنوں ہندوستان اور پاکستان کی افواج ایک دوسرے پر گولہ بارود کی برسات کررہے ہیں۔ 23دسمبر کو راجوری کے کیری سیکٹر میں پاکستانی رینجرس کی فائرنگ کے نتیجے میں ہندوستانی فوج کے ایک میجر سمیت چار جوان مارے گئے ۔ دو دن بعد یعنی 25دسمبر کو بھارتی سپاہیوں نے پونچھ ضلع میں کنٹرول لائن کے شاہ پور سیکٹر میں تین پاکستانی فوجیوں کو مار گرایا۔ رواں ہفتے میں پونچھ اور راجوری کے علاقوں میں کنٹرول لائن پر ہندو پاک افواج کے درمیان تصادم آرائیاں وقفے وقفے سے جاری ہیں، جس کی وجہ سے کنٹرول لائن پر جنگ کا سا سماں بندھ گیا ہے اور سرحدی آبادیاں خود و دہشت کا شکار ہوگئی ہیں۔ جموں کشمیر ریاست میں یہ کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں ہے۔ اس ریاست میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 740کلو میٹر طویل لائن آف کنٹرول پر ہندو پاک کی فوجیں گزشتہ تین دہائیوں سے ایک دوسرے کی سرحدی چوکیوں کو ہدف بناتے ہوئے آگ کے گولے برساتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ ریاست میں 1989میںملی ٹنسی بپا ہوجانے کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا۔ اسکے نتیجے میں سرحدوں کے قریب رہنے والی آبادیاں مسلسل مصیبتوں کا شکار رہی ہیں۔ ہندو پاک افواج کی ان تصادم آرائیوں میںکنٹرول لائن کے دونوں طرف رہنے والے سینکڑوں عام لوگ مارے جاچکے ہیں۔ سینکڑوں کنبے ہجرت کرچکے ہیں۔حیران کن طور پر دونوں طرف کے فوجی حکام ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے اور بلا اشتعال فائرنگ کا الزام عائد کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

گزشہ تین دہائیوں کے دوران پہلی بار سرحدی آبادیوں کو اُس وقت راحت نصیب ہوئی تھی ، جب وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورن میں ہندو پاک کے درمیان سرحدوں پر جنگ بندی کا معاہدہ کیا گیا تھا۔ اگلے ایک سال تک کنٹرول لائن پر دونوں جانب سے ایک بھی گولی نہیں چلی۔ پھر کبھی کبھار اس طرح کا کوئی واقعہ سننے کو ملتا تھا۔ یہ پر امن صورتحال سال 2010تک جاری رہی۔ پچھلے سات سال میں سرحدوں پر دونوں ملکوں کے افواج کی جھڑپوں میں پھر اضافہ ہوگیا ہے۔وزات داخلہ نے 19دسمبر کو لوک سبھا میں ایک سوال کو تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اس سال 10دسمبر تک پاکستان نے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر 881بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ اور گولہ باری کی۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے 771واقعات کنٹرول لائن پر اور110واقعات بین الاقوامی سرحد پر رونما ہوئے۔ان واقعات میں کل 30افراد مارے گئے جن میں 14فوجی جوان،4بی ایس ایف اہلکار اور 12عام شہری شامل ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سات سال میں یعنی سال 2010کے بعد اب تک کنٹرول لائن جنگ بندی کی خلاف ورزی کے سب سے زیادہ واقعات ہیں۔یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب صورتحال وہیں پہنچی ہے ، جہاں 2003کی جنگ بندی سے پہلے تھی اور اس صورتحال کی وجہ سے سب سے زیادہ مصیبتیں سرحدی آبادی جھیلنی پڑتی ہیں۔ سرحد کے قریب رہنے والے لوگوں کو ماضی میں جو مصیبتیں اٹھانی پڑی ہیں، اس کا درد وہ ابھی تک محسوس کررہے ہیں۔سرحدی ضلع کپوارہ کے کرناہ میں کنٹرول لائن کے قریب کے رہنے والے محمد رفیع خان ایسے ستم ذدگان میں ایک ہیں۔ اس شخص نے لگ بھگ20سال پہلے یعنی 1998ء میں پاکستانی فائرنگ کھے نتیجے میں اپنی ماں ، بیوی ، بیٹی اور بیٹے کو کھودیا تھا۔ اس حادثے نے رفیع کی زندگی موت سے بد تر بنادی ہے۔ ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں اس نے بتایا کہ ’’ ہندوستان اور پاکستان کی فوجیوں کی تصادم آرائیوں نے اب تک میرے کنبے سمیت سینکڑوں کنبوں پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے ہیں۔اب تک سینکڑوں کنبے اپنے گھر بار ، کھیت کھلیان چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرچکے ہیں۔ لیکن ہر کوئی ایسا نہیں کرسکتا ہے۔کاش دونوں ملکوں کے لیڈر اس ریاست میں لاکھوں نفوس پر مشتمل سرحدی آبادیوں کو در د سمجھ پاتے اور ایک بار پھر سال 2003کی طرح جنگ بندی کا اعلان کرتے ۔‘‘ حالانکہ دونوں ملکوں کو جنگ بندی کا کوئی نیا معاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، صرف پہلے سے طے شدہ معاہدے پر عمل در آمد کرنے کے عزم کی ضرورت ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

واجپئی اور مودی کے ادوار میں فرق
چونکہ دونوں ملکو ں کے درمیان فی الوقت بات چیت کا سلسلہ رکا ہوا ہے ، اس لئے جنگ بندی معاہدے پر عمل در آمدیقینی بنانے کے لئے حکومت کی سطحوں پر مداخلت کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔ ویسے بھی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ واجپائی کی شخصیت کا ہی کرشمہ تھا کہ بدترین حالات میں انہوں نے پہل کرکے 2003میں کشمیریوں کو کئی مصیبتوں سے نجات دلائی تھی۔ 1989میں کشمیر میں ملی ٹنسی شروع ہوجانے کے بعد سال 2003تک کوئی وزیر اعظم کشمیر نہیں آیا۔ واجپائی پہلے وزیر اعظم تھے ، جنہوں نے اپریل 2003میں وادی کا دورہ کیا۔ سرینگر کے شیر کشمیر کرکٹ سٹیڈیم میں اپنے 12منٹ کی مختصر تقریر میں انہوں نے ایک درجن سے زائد بار ’’امن اور مصالحت‘‘ کے الفاظ استعمال کئے۔ انہوں نے اسی تقریر میں پاکستان کے طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا اور جس کا پاکستان نے مثبت جواب دیا اور دونوں ملکوں کے درمیان نہ صرف تعلقات بہتر ہوئے بلکہ ’’جامع مذاکرات ‘‘ کا سلسلہ بھی چل پڑا۔ اس دورے کے دوران جب سرینگر میں کسی صحافی نے واجپائی سے سوال کیا کہ کیا کشمیری کے ساتھ بات چیت آئین ہند کے دائرے کے اندر ہوگی یا اس سے باہر ۔ تو واجپائی نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر کہا کہ یہ بات چیت انسانیت کے دائرے میں رہ کر ہوگی۔ واجپائی کی مثبت سوچ اور ان کی اس وسعت قلبی کی وجہ سے ہی آج بھی کشمیر میں لوگ ان کا نام عزت و احترام سے لیتے ہیں۔ لیکن موجود ہ سرکار اپنے بیانات اور حرکتوں کی وجہ سے صاف طور پر واضح کرچکی ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے میں سخت گیر رویہ تبدیل نہیں کرے گی۔ ایسے حالات میں کہا جاسکتا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جاری تصادم آرائیاں فی الحال بند ہوجانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کی فوجیں تو بہرحال مسلح ہیں اور ایک دوسرے سے بدلہ لیتی رہتی ہیں ، لیکن اس چکی میں وہ عام لوگ پسے جارہے ہیں، جو صدیوں سے ان مقامات پر رہتے آئے ہیں، جسے پچھلے 70سال سے لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1948میں جموں کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہوجانے کے بعد اسے ’’جنگ بندی لائن ‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ 1972میں بھارت اور پاکستان نے شملہ سمجھوتے میں اسے ’’لائن آف کنٹرول ‘‘ قرار دیا۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے لائن آف کنٹرول کو دو ملکوں کے درمیان سرحد تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔بلکہ اسے امن و قانون بنائے رکھنے کے لئے محض ایک لکیر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس منحوس لکیر نے نہ صر ف اس ریاست کے ہزاروں خاندانوں کو جدا کر رکھا ہے بلکہ اسکی وجہ سے اسکے دونوں طرف رہنے والے لاکھوں لوگوں پر ہمیشہ خطرے کے تلوار لٹکتی رہتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کو ’’خونی لکیر ‘‘ پکارا جاتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *